آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک انصاف کی آج پھر احتجاج کی کال، حکومت نے عمران خان سے شواہد مانگ لیے
سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور ثبوت فراہم کریں۔
لائیو کوریج
تحریک انصاف کا نماز جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاج کا اعلان، عمران خان کے مطالبے کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ’آج نماز جمعہ کے بعد تمام ملک میں احتجاج ہوگا‘۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں مزید لکھا کہ ’جب تک عمران خان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، ملک گیر احتجاج جاری رہے گا‘۔
تفتیش کاروں کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک تحریک انصاف کو جائے وقوعہ پر سیل شدہ اس کنٹینر کو ابھی واپس نہیں دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف نے جلد انتخابات کا مطالبہ کر رکھا ہے اور اس مطالبے کے لیے یہ لانگ مارچ ہو رہا تھا جس پر گذشتہ روز حملہ کیا گیا۔
تحریک انصاف آج اس لانگ مارچ کے آئندہ کے لائحہ عمل دے گی۔ سابق وزیراعظم عمران خان ابھی زیرعلاج ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کتنی دیر بعد پھر اس احتجاج کا حصہ بن سکیں گے۔
لانگ مارچ کے دوران فائرنگ: ’عمران خان پر حملہ کرنے والے بظاہر ایک نہیں، دو بندے ہیں‘, ترہب اصغر بی بی سی اردو
تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے دوران صوبہ پنجاب کے شہر وزیر آباد میں فائرنگ کے واقعے میں سابق وزیر اعظم عمران خان زخمی ہوئے ہیں تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
یہ لانگ مارچ کا ساتواں روز تھا جس کے آغاز پر عمران خان صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ سے ساڑھے بارہ بجے روانہ ہوئے۔ لیکن قریب پانچ گھنٹے بعد ہی ان کے کنٹینر پر فائرنگ کر دی گئی۔
فائرنگ کے اس واقعے، جسے تحریک انصاف کی قیادت نے قاتلانہ حملہ قرار دیا ہے، میں عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت کم از کم پانچ افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص ہلاک ہوا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے مگر ’بظاہر حملہ کرنے والے ایک نہیں، دو بندے ہیں۔‘
’عمران خان کو گولیاں سامنے سے ٹانگ پر لگیں جبکہ مبینہ حملہ آور تو دائیں طرف تھا‘
اسی کنٹینر پر موجود تحریک انصاف کے کارکن معیزالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ کنٹینر پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ ’ہم نے دیکھا حملہ آور پورا ایک میگزین خالی کر چکا تھا، وہ بھی کنٹینر کے دائیں جانب تھا۔ ہم اسے دیکھ سکتے تھے۔ ہماری نظر اس وقت اس پر پڑی جب اس نے فواد چوہدری کی طرف پستول کی۔ ہم نیچے ہو گئے۔‘
معیزالدین نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور نے ’اس وقت دوسرا میگزین لوڈ کیا جب اسے پیچھے سے آکر لڑکے نے پکڑا۔ ہم یہ سمجھ نہیں پائے کہ عمران خان کو گولیاں سامنے سے ٹانگ پر لگی ہیں جبکہ حملہ آور تو ہمارے دائیں طرف تھا۔‘
عمران خان پر قاتلانہ حملے میں ملوث مبینہ حملہ آور نوید احمد کون ہیں؟, احمد اعجاز، صحافی
سوہدرہ کے محلہ مسلم آباد کی گلی مسجد رضا والی میں ایک چار مرلے کا گھر ہے، جو اندر اور باہر سے ابھی پلستر نہیں ہوا۔ اس کی سیمنٹ سے محض چُنائی ہوئی ہے، گویا یہ گھر ابھی زیرِ تعمیر ہے۔ اس زیرِ تعمیر گھر میں اپنے دو ننھے بیٹوں، بوڑھی والدہ اور اہلیہ کے ہمراہ نوید احمد رہائش پذیر تھے۔
عمران خان کے لانگ مارچ پر فائرنگ کے بعد سے وزیر آباد کا یہ علاقہ خبروں میں ہے کیونکہ پولیس کی حراست میں موجود ایک مبینہ حملہ آور نوید احمد کا تعلق اسے علاقے سے بتایا جا رہا ہے۔
وزیر آباد میں اللہ والا چوک کے مقام پر جب تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا کنٹینر پہنچا تو وہاں اچانک فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سمیت بعض دیگر لوگ زخمی ہوئے۔
اس کے فوراً بعد تحریک انصاف کے کارکنان مبینہ حملہ آور نوید احمد کے پیچھے بھاگے جنھیں انھوں نے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا تھا اور ایک کارکن نے تو انھیں فائرنگ کے دوران روکنے کی بھی کوشش کی تھی۔
نوید احمد ’زیادہ تر خاموش رہتا تھا‘
سوہدرہ دریائے چناب کے کنارے پر آباد ہے۔ یہ گنجان آبادی کا قصبہ ہے۔ خیال ہے کہ اس قصبے میں قریب ہر خاندان میں سے کم از کم ایک فرد ملک سے باہر روزگار کی خاطر مقیم ہے۔
نوید احمد کا بڑا بیٹا لگ بھگ ڈیڑھ برس کا ہے جبکہ چھوٹا بیٹا محض دس دن پہلے پیدا ہوا تھا۔
یہ جس گھر میں رہائش پذیر ہیں، وہ اُن کے والدہ کا وراثتی گھر ہے جو نوید کے حصے میں آیا۔ مقامی صحافی عقیل احمد لودھی کے مطابق ’ملزم نے اپنے بھائیوں کو حصہ دے کر، یہ گھر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔‘
نوید احمد کے والد محمد بشیر کی لگ بھگ پندرہ سال پہلے وفات ہوگئی تھی۔ نوید احمد آرائیں فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد نلکے لگانے (بورنگ) اور کباڑ کا کام کرتے تھے۔
نوید احمد چار، ساڑھے چار سال سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتے رہے اور چند ماہ قبل ہی واپس آئے۔
ان کے ایک ہمسائے عبداللہ کے مطابق ’یہ چار، پانچ سال سعودی عرب میں مقیم رہا، وہاں محنت مزدوری کرتا تھا۔ واپس آ کر کوئی خاص کام نہیں کر رہا تھا۔ البتہ اپنے بھائی کے ساتھ بورنگ کے کام میں ہاتھ بٹاتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ کاٹھ کباڑ کا کام بھی کر لیتا تھا۔‘
مزید تفصیلات بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر
زندگی کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ کر کھڑے رہیں: اسد عمر کے بیٹے کا اپنے والد کے نام پیغام
تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسدعمر نے ٹوئٹر پر بتایا کہ گذشتہ رات ان کے بیٹے نے انھیں یہ پیغام بھیجا ہے کہ ’چاہے کچھ بھی ہو جائے، ڈٹ کر کھڑے رہیں۔ اس کارخانہ قدرت میں اصل زندگی تو موت کے بعد ہی کی ہے، جو اہمیت کی حامل ہے، جہاں آپ خدا کا بغیر پچھتاوے کے سامنا کر سکیں گے۔
باقی کسی کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں اور بالآخر انصاف اس دنیا یا اگلے جہان میں ضرور ہوگا‘۔
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے صوبائی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا, ترہب اصغر بی بی سی اردو
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے صوبائی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ پنجاب کابینہ کے تیسرے اجلاس میں 84 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس آج سہ پہر وزیراعلیٰ آفس میں منعقد ہوگا۔ صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری اور متعلقہ حکام اجلاس میں شریک ہوں گے۔
لانگ مارچ: تحریک انصاف آج آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی, ترہب اصغر بی بی سی اردو
تحریک انصاف کا لانگ مارچ میں عمران خان کے کنٹینر پر حملے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تحریک انصاف آج مشاورت کرے گی۔
گذشتہ روز وزیر آباد میں عمران خان پر حملے کے بعد یہ مارچ روک دیا گیا تھا۔ سیاسی صورتحال اور عمران خان کی صحت کو دیکھتے ہوئے لانگ مارچ کے حوالے سے آج فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کا یہ لانگ مارچ لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہوا تھا اور اپنے ساتویں روز اس مارچ کا آغاز وزیرآباد سے ہوا تھا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ صاف اور شفاف الیکشن تک اسلام آباد میں احتجاج کرتے رہیں گے اور ان کا یہ مارچ جاری رہے گا۔
تحریک انصاف کے پلان کے تحت اس مارچ نے اسلام آباد کا رخ کرنا تھا۔ اس حوالے سے تحریک انصاف نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے اجازت بھی مانگی مگر جب انتظامیہ نے این او سی جاری نہیں کیا تو اس کے بعد تحریک انصاف انتظامیہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ چلی گئی۔ عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد گذشتہ روز ہی فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
تحریک انصاف کے اس لانگ مارچ کو آج اسلام آباد میں پہنچنا تھا مگر پھر اسلام آباد تک پہنچنے کی تاریخ 10 نومبر دی گئی۔ تاہم تحریک انصاف کے رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ اسلام آباد تک پہنچنے میں مزید وقت بھی لے سکتے ہیں۔
جائے وقوعہ سیل، تفتیش کار عمران خان پر حملے سے متعلق شواہد اکھٹے کر رہے ہیں, احتشام شامی، صحافی
وزیر آباد میں لانگ مارچ کے کنٹینر اور اس کے گردونواح کے علاقے کو کرائم سین انویسٹیگیشن اور پولیس کی طرف سے قناتیں لگا کر سیل کردیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کو جائے وقوعہ سے 11 گولیوں کے خول ملے ہیں اور انھوں نے اس جگہ سے خون کے نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں۔ نقشہ نویس نے جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کر لیا ہے۔
کسی پرائیویٹ شخص یا میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔ یہ دوطرفہ سڑک ہے جس کا کنٹینر والے حصے کو تو مکمل طور پر بند ہے جبکہ دوسرے حصے پر ٹریفک چل رہی ہے۔
کنٹینر کے اندر دو ٹیمیں اپنا کام کررہی ہیں جن میں کرائم سین انویسٹیگیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم شامل ہے، کنٹینر کی چھت پر اس وقت چھ پولیس اہلکاران تعینات ہیں۔
تحقیقات کرنے والی ایک ٹیم نے کنٹینر کے فرنٹ اور بائیں حصہ کے کچھ آہنی شیٹس کو آری اور ہتھوڑے کی مدد سے کاٹا ہے۔ آہنی شیٹس کاٹنے سے متعلق وہاں موجود اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اس جگہ سے گولیاں آرپار ہوئی تھیں، اب ان کا فارنزک ٹیسٹ ہوگا کہ گولیاں کس ہتھیاراور اسلحہ کی تھیں اور یہ کہ جو ملزم گرفتار ہوا تھا اور اس کے قبضے سے جو اسلحہ برآمد ہوا تھا یہ گولیاں اسی اسلحہ کی تھیں یا کوئی اور ویپن بھی استعمال ہوا ہے۔
ان کے مطابق یہ سب فارنزک ٹیسٹ میں واضح ہو جائے گا۔ سڑک سے آتے جاتے ہوئے لوگ رک کر کنٹینر کو دیکھتے ہیں اور اس پر آپس میں بات چیت کرتے نظر آتے ہیں، لیکن وقوعہ کے بارے میں کوئی میڈیا سے بات چیت کرنے کو تیار نظر نہیں آتا ہے۔
عمران خان کا آپریشن ہو گیا، وہ تندرست ہیں: فیصل جاوید
سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ ’اب سے کچھ دیر پہلے عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی!
’الحمدللہ ان کا آپریشن ہو گیا اور وہ اللہ کے فضل سے تندرست ہیں! ان کے جذبے کو سلام! انھوں نے کہا کہ وہ آخری سانس تک اس قوم کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے! پوری قوم کی دعاؤں کا شکریہ! اللّٰہ پر ایمان۔۔ مشکلات سے نکلے گا پاکستان۔‘
سوچے سمجھے بغیر الزامات لگانا بُری بات ہے: مریم نواز
عمران خان پر فائرنگ کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس کا ذمہ دار وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور میجر جنرل فیصل کو قرار دیا ہے۔ تاہم لندن میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اس پر ردعمل دیا کہ ’سوچے سمجھے بغیر الزامات لگانا بُری بات ہے۔‘
امریکہ کی عمران خان پر فائرنگ کی مذمت
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ’امریکہ ایک سیاسی ریلی کے دوران عمران خان پر فائرنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
’ہم ان (عمران خان) کی اور دیگر زخمیوں کی فوری صحتیابی کی امید کرتے ہیں۔۔۔ تمام جماعتوں کو پُرامن رہنا چاہیے۔
’سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔‘
حملہ آور کی گرفتاری اور بیان کے بعد ادارے پر الزامات بلاجواز ہیں: رانا ثنا اللہ
تحریک انصاف کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری، اعترافی بیان کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم، مجھ پر اور ادارے پر الزامات بلاجواز ہیں۔‘
انھوں نے اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے سینیئر افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میجر جنرل فیصل اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کررہے ہیں، ان (تحریک انصاف) کی مرضی ہے جس کو نشانہ بنا لیں اور بغیر کسی شواہد کے پراپیگنڈا شروع ہوجاتا ہے۔‘
’ایک ادارہ جو سیاسی طور پر آپ کے کام نہیں آرہا، دوبارہ برسراقتدار لانے سے انکار کیا اور آپ کی سیاسی خواہشات کو پورا کرنے سے معذرت کر دی ہے تو ہر معاملے میں اسے کیوں گھسیٹ رہے ہیں، وہ ادارہ اس ملک کی بقا، دفاع ، سرحدوں کا محافظ ہے ، اس ادارے کے خلاف ایسی مہم جوئی کر رہے ہیں جو دشمن ملک کو پسند آرہی ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ’سکیورٹی ادارے پہلے بھی (عمران خان کو) فول پروف سکیورٹی دے رہے ہیں، ان کی سکیورٹی کے لیے فکر مند بھی ہیں، آنے والے دنوں میں جو اقدامات لینے ہوئے وہ لیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی واقعے پر پہلے اطلاع اہم ہوتی ہے۔ پولیس نے (حملہ آور کی) ویڈیو ریکارڈ کر کے درست اقدام کیا مگر یہ میڈیا تک نہیں جانی چاہیے تھی۔‘
’ویڈیو لیک ہونے اور سکیورٹی کے مناسب اقدامات نہ ہونے پر وزیر اعظم کے بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کا استعفی مانگیں۔‘
اللہ والا چوک پر جائے وقوعہ سیل، شواہد جمع کرنے کا کام شروع, احتشام شامی، صحافی
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملے کے بعد وزیر آباد میں اللہ والا چوک پر اس جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔
اس مقام پر سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں اور یہاں کسی غیر متعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں۔
دریں اثنا فرانزک لیب کی ٹیم اور اعلیٰ پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیا ہے اور شواہد اکٹھے کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈان نیوز کے رپورٹر عرفان رضا کا گھر والوں سے رابطہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
اب سے کچھ دیر قبل لاپتہ ہونے والے ڈان نیوز کے صحافی عرفان رضا کا گھر والوں سے رابطہ ہو گیا ہے۔ ان کے بھائی شہزاد رضا کے مطابق ان کے بھائی کو چکری کے قریب چھوڑ دیا گیا تھا اور چونکہ قریب ہی پولیس چیک پوسٹ تھی اس لیے عرفان رضا نے وہاں پہنچ کر اہلخانہ کو فون کیا ہے۔
ڈان نیوز کے رپورٹر عرفان رضا کی گمشدگی کے معاملے پر کمیٹی قائم
ڈان نیوز کے رپورٹر عرفان رضا کی گمشدگی کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ایس ایس پی انوسٹی گیشن سمیت سینیئر افسران پر مشتمل کمیٹی نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور کمیٹی تمام پہلوؤں پر وقوعہ کے متعلق تفتیش عمل میں لائے گی، جبکہ ان کی فیملی کی طرف سے رپورٹ پر ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی وکیل احتجاج کی تاریخ، وقت کے متعلق ہدایات لے کر آگاہ کریں: اسلام آباد ہائی کورٹ
پی ٹی آئی کی اسلام آباد میں احتجاج کے لیے اجازت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتجاج کی تاریخ اور وقت کے حوالے سے پی ٹی آئی وکیل کو ہدایات لینے کی مہلت دے دی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی وکیل تاریخ اور وقت کے علاوہ بیان حلفی پر بھی ہدایات لے لیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق پی ٹی آئی نے احتجاج کی تاریخ نہیں بتائی جبکہ پی ٹی آئی وکیل نے کہا تاریخ پر ہدایات لے کر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت سے پہلے معاملہ طے کرنے کا حکم دے کر کیس کو سات نومبر کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کا اجلاس کل طلب کر لیا
سپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کا اجلاس جمعے کو دوپہر تین بجے طلب کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہ اجلاس 16 نومبر کو دوپہر دو بجے کے لیے طے شدہ تھا۔
عمران خان کے قافلے پر فائرنگ، وفاق نے پنجاب حکومت کو جے آئی ٹی بنانے کا مراسلہ لکھ دیا
وزیر آباد میں عمران خان کے قافلے پر فائرنگ کے واقعے کے بعد وفاق نے پنجاب حکومت کو جے آئی ٹی بنانے کا مراسلہ لکھ دیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی میں سینیئر پولیس افسران اور خفیہ اداروں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ واقعے کی شفاف انکوائری عمل میں لائی جا سکے۔
وزارت داخلہ نے مراسلہ چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو ارسال کر دیا ہے۔
تحریک انصاف اس واقعے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، رانا ثنا اللہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا نے عمران خان کے قافلے پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا نے کہا کہ ہم تشدد کی ہر شکل و صورت کی مذمت کرتے ہیں اور انھیں اس واقعے پر دلی افسوس ہے تاہم تحریک انصاف اس واقعے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان میرے اور وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے کی بجائے پنجاب حکومت سے استعفیٰ مانگیں۔
عمران خان پر حملے کے ملزم کا بیان لیک، وزیراعلیٰ کے حکم پر ایس ایچ و سمیت سارا عملہ معطل
پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے ملزم کا ویڈیو بیان لیک کرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سمیت سارے عملے کو معطل کر دیا۔
پنجاب حکومت کے مطابق متعلقہ پولیس سٹیشن کے افسران اور تمام عملے کے موبائل فونز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا۔
جمعرات کو وزیراعلی کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں پرویز الٰہی نے بیان لیک ہونے کے واقعے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے پنجاب کے آئی جی پولیس کو غیر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
پرویز الٰہی نے آئی جی پنجاب کو ہد ایت کی کہ تحقیقات کر کے اس واقعے کے محرکات سامنے لائے جائیں۔