عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران مزید کہا کہ ’اگر انھوں نے چوری کے پیسوں سے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا تو سارے اداروں کو وارننگ دے رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے خلاف ’آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان اکٹھے ہوگئے ہیں۔
’سب کو معلوم ہے کہ وزیر اعلیٰ تحریک انصاف کا بنے گا کیونکہ ہمارے نمبر پورے ہیں۔ انھوں نے ہمارے لوگوں کو خریدا جنھوں نے اپنے ضمیروں کا سودا کیا۔‘
’اتحادیوں کو جہاں سے بھی حکم ملا انھوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا۔ جاوید لطیف نے بھی کہہ دیا کہ ہینڈلرز نے ہمیں یہاں دھکیلا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ساڑھے تین سال سے میں احتساب کا کہتا رہا (لیکن) جن کے پاس پاور تھی وہ انھیں بچاتے رہے۔۔۔ ہم بے بس بیٹھے تھے۔ کون ڈیل کر رہا تھا، ہم نہیں جانتے۔
عمران خان نے کہا کہ ’ہماری ساری جدوجہد آئین کے دائرے میں اور قانون کے مطابق رہی ہے۔ 25 مئی کو جو ہوا وہ کبھی نہیں بھولوں گا۔ ہماری پنجاب میں حکومت آئے گی تو ان افسران کے نام ہمارے ذہن میں ہیں جنھوں نے ملک کا قانون توڑا۔
’ہم جمہوری لوگ ہیں لیکن اگر پیسے لے کر ایسا کیا گیا تو یہ ملک سری لنکا کی طرف جائے گا۔ پھر کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پُرامن احتجاج ہمارا حق ہے۔ اگر عوام کا مینڈیٹ چوری کیا تو میں آج کہہ رہا ہوں کہ میں ذمہ دار نہیں پھر کیا ہوتا ہے، میرے کنٹرول میں لوگ نہیں رہیں گے۔ یہ جاگی ہوئی قوم ہے۔
’قوم کنٹرول نہیں ہوگی، زرداری اور یہ سب چھپتے پھریں گے۔ ڈالر 250 روپے کا ہوگیا ہے۔ نیوٹرلز کو کہا تھا کہ معیشت کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔ قوم کو تکلیف ہے لیکن یہ دانت نکال رہے ہیں۔‘
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ’ساری قوم کو کہہ رہا ہوں، اگر انھوں نے مینڈیٹ چوری کیا تو آپ نے چُپ کر کے نہیں بیٹھنا۔۔۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے۔
’اگر پیسے دے کر لوگوں کو خریدا گیا تو میں آپ سے کل پھر مخاطب ہوں گا اور کل کسی اور قسم کا احتجاج ہوگا۔‘