عمران خان کا فوری الیکشن کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ، جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا، مریم اورنگزیب کا جواب
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے مطالبے پر لانگ مارچ کے لیے 25 مئی کی تاریخ دی ہے اور فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے۔
لائیو کوریج
انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 200 روپے تک جا پہنچی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں انٹر بینک میں ڈالر نے جمعرات کے روز ڈبل سنچری بنا لی جب ایک ڈالر کی قیمت 200 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ ملک میں ڈالر کی یہ بلند ترین سطح ہے اور ملکی تاریخ میں ڈالر نے کبھی بھی 200 روپے کی سطح عبور نہ کی۔
گذشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 198.39 پر بند ہوئی تھی جس میں جمعرات کے روز ایک روپے اکسٹھ پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اگرچہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت نے گذشتہ روز ہی دو سو روپے کی حد عبور کر لی تھی تاہم انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت ہی اصل قیمت ہے جس کا نمبر سٹیٹ بینک آف پاکستان جاری کرتا ہے۔
سٹیٹ بینک نے جمعرات کے روز ایک ڈالر کی قیمت دو سو روپے کی حد تک پہنچنے کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں اس کمی کی وجہ ملک کے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی فنڈنگ میں کسی پیشرفت کا نہ ہونا اور درآمدات و قرضوں کی ادائیگیاں ہیں۔
بریکنگ, ایف آئی اے میں افسران کو ہٹانے، تحقیقاتی اور پراسیکوشن برانچ میں تبدیلیوں پر جواب دیا جائے: چیف جسٹس
پاکستان کی
سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس
کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں ٹرانسفر پوسٹنگ افسران کو ہٹانے، تحقیقاتی
اور پراسیکوشن برانچ میں تبدیلیوں پر جواب دیا جائے۔
سپریم کورٹ
نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ نیب کی تحقیقاتی اور پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ میں ٹرانسفر
پوسٹنگ پر جواب دیا جائے۔
عدالت نے
ماضی کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر اٹارنی جنرل کو خود سے جواب دینے کی اجازت دے دی۔ عدالت
نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ نیب ایف آئی اے کی تحقیقات کی اور پراسیکوشن برانچز
میں کس کو تبدیل کیا۔ اس کی جگہ پر کون آئے اس کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے۔
عدالت نےگذشتہ
چھ ہفتوں کا ریکارڈ فراہمکرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ
نے مقدمات کی نامکمل دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ بنانے کے لیے اقدامات سے آگاہ کرنے
کا بھی حکم دیا کیا جائے۔
عدالت کا
کہنا تھا کہ ’ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ ایف آئی اے اور نیب میں چیک کیا جائے
اور ریکارڈ کو چیک کرنے کے بعد سیل کیا جائے۔ اور ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ
چیک کر کے مجاز اتھارٹی کو رپورٹ پیش کریں۔‘
اٹارنی جنرل
کا کہنا تھا کہ ریکارڈ سیل کرنے سے ٹرائل رک جائے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے
کہ زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ سیل نہیں کر رہے ہیں بلکہ پراسیکیوشن کے ریکارڈ کو
سیل کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس کا
کہنا تھا کہ عدالت کا مقصد آرٹیکل 10/A4 اور 25 کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔
انھوں نے کہا
کہ کریمنل جسٹس سسٹم کی شفافیت اور ساکھ کو
برقرار رکھا جائے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کا مقصد صرف اسی
حد تک ہے۔ عدالت نے تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے اس ازخود نوٹس کی سماعت آئندہ جمعے
تک ملتوی کردی ہے۔
بریکنگ, ’ہم یہ پوائنٹ سکورنگ کے لیے نہیں کر رہے، نہ ہم کسی تنقید سے متاثر ہوں گے:‘ چیف جسٹس
چیف جسٹس نے
ریمارکس دیے کہ ہماری تشویش صرف انصاف فراہمی کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم
تحقیقاتی عمل کے وقار, عزت اور تکریم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے
ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ ’ہم یہ پوائنٹ سکورنگ کے لیے نہیں کر رہے اور نہ ہم کسی
قسم کی تنقید سے متاثر نہیں ہوں گے۔
انھوں نے کہا
کہ ہم آئین اور اللہ کو جوابدہ ہیں اور ہمیں تعریف کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی ہمیں
تنقید کا بھی کوئی خوف نہیں۔
چیف جسٹس کا
کہنا تھا کہ صرف انصاف کی فراہمی چاہتے ہیں جو اندراج مقدمہ سے فیصلہ پر ختم ہوتی
ہے۔
انھوں نے
مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل بہت مضبوط ہیں اور ہم خاموش تماشائی
بن کر یہ چیزیں نوٹ کرتے رہے۔
چیف جسٹس عمر
عطا بندیال کا کہنا تھا کہ اس سال مئی سے یہ اقدامات ہونا شروع ہوئے ہم ان اقدامات
کو دیکھتے رہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مقدمات کے ملزم کو ابھی مجرم قرار نہیں دیا
گیا، مقدمات کے ملزمان کو عدالت نے سزائیں نہیں سنائیں۔ انھوں نے کہا کہ انصاف کے
نظام سے کوئی بھی کھلواڑ نہ کرے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا
کہ ہم عدالتی کارروائی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور کراچی کی
خصوصی عدالتیں ججز سے خالی پڑی ہیں، اسلام آباد کی تین احتساب عدالتیں بھی خالی
ہیں۔
’بظاہر یہ ٹارگٹڈ ٹرانفسر پوسٹنگ کیے گئے ہیں‘: جسٹس منیب اختر
ازخود کیس کی
سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیے کہ
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انھیں پیش نہ ہونے کا کہا گیا ہے۔
جسٹس مظاہر
نقوی کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر کو کہا گیا جو بندہ وزیر اعلیٰ یا وزیراعظم بننے
والا ہے اس کے مقدمہ میں پیش نہ ہو۔
سماعت کے
دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’بظاہر یہ ٹارگٹڈ ٹرانسفر پوسٹنگ کیے گئے
ہیں۔‘
جس پر اٹارنی
جنرل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے پاس ان تبدیلیوں کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔
جسٹس منیب
اختر کا کہنا تھا کہ اس پر تشویش ہے, اس لیے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا آپ تعاون
کریں۔
جسٹس مظاہر
نقوی کا کہنا تھا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے درخواست دینا پڑتی ہے اور سینکڑوں
لوگوں کی درخواستیں التوا میں پڑی رہتی ہیں۔
پانچ رکنی
بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے کیا
طریقہ کار اختیار کیا گیا؟
بریکنگ, سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل کیسز، خصوصی عدالت اور نیب کیسز میں تاحکم ثانی پراسیکوشن میں تقرری و تبادلوں سے روک دیا
سپریم کورٹ
نے ہائی پروفائل کیسز، خصوصی عدالت اور نیب کیسز میں تاحکم ثانی پراسیکوشن میں
تقرری و تبادلوں سے روک دیا ہے۔
اس کے علاوہ عدالت نے نیب ایف آئی اے کو تاحکم ثانی کوئی بھی مقدمہ عدالتی فورم سے واپس لینے سے بھی روک دیا ہے۔
بریکنگ, یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے: چیف جسٹس
چیف جسٹس عمر
عطا بندیال کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے
کے لیے نہیں ہے۔
پاکستان
کی سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر ازخود
نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی
حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے۔
چیف جسٹس عمر
عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت صرف یہ چاہتی ہے کہ آرٹیکل 10/A4 اور 25 پر
عمل کیا جائے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم متعلقہ فریقین کو نوٹس
جاری کر رہے ہیں۔ جس پر عدالت نے چیرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے، اور سیکرٹری داخلہ
کو نوٹس جاری کردیے۔
نوٹسز میں کہا گیا
کہ وہ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہو رہی ہے؟ عدالت کا کہنا تھا
کہ ایف آئی اےکے پراسیکوٹر نے مداخلت پر
بیان دیا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
’پراسیکیوشن برانچ اور پراسیکیوشن کے عمل میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے‘: چیف جسٹس سپریم کورٹ
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
پاکستان کی
سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس
کی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پراسیکیوشن برانچ اور پراسیکیوشن کے عمل میں
مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
جمعرات کو سماعت
کے آغاز پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن کو ہٹانے کا جاننا
چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا
کہ ایف آئی اے کے لاہور کی عدالت میں پراسیکیوٹر کو تبدیل کر دیا گیا اس کے علاوہ ڈی
جی ایف آئی اے اور ڈائریکٹر رضوان کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔
چیف جسٹس کا
کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے ایک تفتیشی کو پیش ہونے سے منع کیا۔
چیف جسٹس عمر
عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ اچھا کام کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا
کہ کے پی کے میں بے ان کی کارکردگی اچھی تھی, انھوں نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف
آئی اے ثنااللہ عباسی اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں۔
چیف جسٹس نے
اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’ کیا آپ نے سو موٹو کیس کی پیپر بک پڑھی ہے؟‘ جس
پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انھوں نے پیپر بک نہیں پڑھی۔
بینچ کی طرف
سے اٹارنی جنرل کو از حود نوٹس کی پیپر بک پڑھنے کے لیے دی گئی ہے۔
چیف جسٹس کا
کہنا تھا کہ پیپر بک کا پیراگراف 2/3 پڑھ لیں۔
بریکنگ, حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت، ’مجھے کوئی نوٹس ملا نہ ہدایات‘: اٹارنی جنرل
پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجز بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
بینچ میں چیف جسٹس کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں ہیش ہوئے اور انھوں نے کہا ہے کہ انھیں عدالت کی طرف سے لیے گئے از خود نوٹس کا علم ایک پریس ریلیز کے ذریعے ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں مجھے نہ کوئی نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی ہدایات ملی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میں اپنے طور پر عدالتی کاروائی کو دیکھنے آیا ہوں۔
بریکنگ, عمران خان کو کچھ ہوا تو حالات قابو نہیں کر سکیں گے، لانگ مارچ کے وقت کا صرف انھیں پتا ہے: اسد عمر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ
کے وقت کا صرف چیئرمین عمران خان کو علم ہے اور اگر لانگ مارچ میں عمران خان کو
کچھ ہوا تو حالات قابو نہیں کر سکیں گے۔
اسلام آباد
میں پارٹی رہنماؤں علی زیدی اور عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر
کا کہنا تھا کہ فیصلوں کا وقت آ گیا ہے اگر آپ فیصلہ نہیں کریں گے تو تاریخ آپ کو
معاف نہیں کرے گی۔
لانگ مارچ کی
تاریخ کے اعلان کا صرف عمران خان کو پتا ہے، اس کی کال کے وقت کا صرف انھیں علم
ہے۔ حکومت عمران خان کی سیکورٹی اور لانگ مارچ کے شرکا کی سکیورٹی کی مکمل طور پر
ذمہ دار ہے۔
’اگرعمران
خان کو کچھ ہوا یا انھیں حراست میں لینے کی کوشش کی گئی تو حالات قابو میں رکھنا
کسی کے بس میں نہیں رہیں گے۔‘
انھوں نے
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالتوں کے سزا یافتہ افراد کی سکیورٹی کی ذمہ دار
حکومت ہے اور ملک کے سابق اور مستقبل کے وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کے
لیڈر کو حکومت سکیورٹی نہیں دے سکتی۔‘
لانگ مارچ کے
متعلق پلان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کے پی، گلگت
بلتستان اور مظفر آباد سے لوگ اسلام آباد آئیں گے اور سندھ اور بلوچستان کیونکہ
اسلام آباد سے دور ہیں تو یہاں ان کی نمائندگی تو ہو گی لیکن جس دن لانگ مارچ کیا
جائے گا تو ان صوبوں کے تمام بڑے شہروں کی سڑکوں پر لوگ نکلیں گے اور عوامی یکجہتی
کا اظہار کیا جائے گا۔
ان کا کہنا
تھا کہ ہماری حکومت جانے کے بعد سے روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر گرنے سے پاکستان
کے قرض میں اب تک دو ہزار آٹھ سو ارب سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فیصلے کرنے والے کان کھول کر سن لیں، تاریخ معاف
نہیں کرتی۔
انھوں نے کہا
کہ معاشی حالات کو قابو کرنا مفتاح اسماعیل کے بس کی بات نہیں، ان کے باس کو پیغام
دیتا ہوں ان پر رحم کریں۔
اسد عمر کا
کہنا تھا کہ موجودہ الیکشن کمیشن پر ہمیں صفر اعتماد ہے، اب صرف الیکشن نہیں ہونا
بلکہ صاف اور شفاف الیکشن ہونا ضروری ہے۔ جو الیکشن کروائے اس پر تمام سیاسی
جماعتوں کا اعتماد ہونا ضروری ہے۔
اس موقعے پر پی
ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ 63 اے کا فیصلہ
بھی اس رات بارہ بجے سنا دیا جاتا تو حالات ٹھیک رہتے۔
بلاول بھٹو پر
تنقید کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ ’ان کے دورۂ امریکہ کا موازنہ عمران خان یا شاہ
محمود کے دورے سے کر لیں، وہ کل کے بچے ہاتھ باندھے انٹونی بلنکن کے سامنے کھڑے نظر
آئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بچہ کیا مذاکرات کرے گا،
کیا دو طرفہ بات چیت ہو گی اور یہ کیا بھیک مانگیں گے۔‘
بریکنگ, سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا اعتراض
،تصویر کا ذریعہTwitter
سابق گورنر
پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے عہدے سے برطرفی کے نوٹیفکیشن
کو کالعدم قرار دینے کی دائر درخواست پر عدالت نے اعتراض لگا دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائری برانچ کے اسٹنٹ رجسٹرار اسد خان نے سابق گورنر کی
درخواست پراعتراض عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ پنجاب کا ہے اور اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ کار نہیں بنتا۔
رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست میں بنائے دو فریقین کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ اس درخواست میں صدر اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو فریق
بنانے پراعتراض کیا گیا۔
واضح رہے کہ 19 مئی کوسابق گورنر پنجاب
عمر سرفراز چیمہ نے بابر اعوان ایڈووکیٹ کے ذریعے برطرفی نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار
دے کر عہدے پر بحالی کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں
استدعا کی گئی ہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانا غیر قانونی ہے۔
پنجاب میں ایک شخص جو اختیارات استعمال کررہا ہے وہ غیرقانونی ہے۔
درخواست میں
موقف اپنایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے بیٹے کو فائدہ دینے کے لیے غیر قانونی
طور پر گورنر کے عہدے سے ہٹایا۔ آئین کے مطابق گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہے
اور گورنر پنجاب کا عہدہ ایگزیکٹو کا حصہ
نہیں ہوتا۔
عمر سرفراز
چیمہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ صدر کی خوشنودی پر گورنر عہدے پر
قائم رہ سکتا ہے، انھیں عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن بلا اختیار ہے اور ماورائے
آئین ہے۔
درخواست گزار
عمر سرفراز چیمہ نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق
صدر کے اختیارات کو رولز کے تحت ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اور پنجاب میں آئینی بحران
پیدا کر دیا گیا۔
درخواست میں
استدعا کی گئی ہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کا آرڈر کالعدم قرار
دیا جائے۔ اور کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن جاری کروانے والوں کے خلاف بھی کارروائی
کریں۔
10 کلو کے آٹے کے تھیلے کو 650 سے 490 پر کر دیا ہے: حمزہ شہباز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حمزہ شہباز نے پنجاب میں آٹے کے 10 کلو تھیلے کی قیمت میں 160 روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔
حمزہ شہباز نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آج پنجاب حکومت نے 10 کلو کے آٹے کے تھیلے کو 650 سے 490 روپے کر دیا ہے، یعنی 160 روپے سستا کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’17 ارب ایک ماہ کی سبسڈی ہے، اور 200 ارب کی سبسڈی آٹے کی مد میں دینا چاہتے ہیں۔‘
حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آج کے دن میں 45 لاکھ من گندم حاصل کر لی ہے۔ آج بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 500 ڈالر فی من ہے، یعنی چار ہزار روپے فی من۔ ہم نے 45 لاکھ من اپنے کسانوں سے حاصل کی ہے وہ 2200 روپے فی من ہے۔
عمران خان افراتفری اور انتشار چاہتا ہے، اداروں اور عوام کو اس کا نوٹس لینا پڑے گا: حمزہ شہباز
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ آپ لاکھ میرے راستے میں خاردار تاریں بچھائیں لیکن ایک منٹ ضائع کیے بغیر عوام کی خدمت کے جذبے سے آگے بڑھتا رہوں گا۔
حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ’چار سال میں اس صوبے کے ساتھ زیادتی کی گئی، ایسا صوبہ جو گندم دوسرے صوبوں کو دیتا تھا، وہاں گندم کے لیے غریبوں کو لائن میں لگایا گیا۔‘
حمزہ شہباز نے کہا کہ ’یہ آدمی (عمران خان) افراتفری اور انتشار چاہتا ہے، یہ سیاست نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میرے لانگ مارچ میں فوج کے خاندان بھی ہوں گے، یہ سنگین بات ہے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔‘
’یہ فوج کو تقسیم کرنے کی کسی سازش سے پیچھے نہیں ہٹ، کرنا کیا چاہتا ہے یہ اس ملک کے ساتھ۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اداروں کو سوچنا پڑے گا کہ ملک کی کیا ڈگر ہے۔ نہ میں نے وزیرِ اعلیٰ ہمیشہ رہنا ہے لیکن یہ شخص پاکستان کے ساتھ دشمنی کر رہا ہے۔‘
’اداروں اور عوام کو اس کا نوٹس لینا پڑے گا، ورنہ اگلے آنے والے سالوں میں پاکستان کو قیمت چکانا پڑے گی۔‘
بریکنگ, سپریم کورٹ کا از خود نوٹس: تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت پر سماعت آج ہو گی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں مبینہ طور پر حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کی سماعت (آج) انیس مئی کو کرنے کا کہا ہے۔ اس ازخود کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا پانچ لارجر بینچ دن ایک بجے کرے گا۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق چیف جسٹس نے یہ از خود نوٹس سپریم کورٹ کے جج مظاہر علی نقوی کے نوٹ پر لیا ہے۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسران کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور انھیں ٹرانسفر کرنے سے متعلق جج نے نوٹ میں نشاندہی کی تھی۔
جج کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز افراد مبینہ طور پر فوجداری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور اس مداخلت سے پراسیکیوشن کے معاملات پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ ثبوتوں میں ردوبدل اور شہادتیں غائب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
جسٹس مظاہر علی نقوی نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس مبینہ مداخلت سے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور عوام کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ انھوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت کے اعلی حکام کی جانب سے پراسیکوشن کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے جس سے حکومتی شخصیات کے خلاف تحقیقات میں پراسکیوشن کی کارکردگی متاثر ہو گی۔
اس پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر،جسٹس میاں مظہر عالم اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہیں۔
چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز آلااحسن اور جسٹس منیب اختر اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق رائے دی تھی کہ کسی بھی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔
جسٹس اعجاز الااحسن کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف پاناما سکنڈل کے حوالے سے بنائے گئے ریفرنس کی احتساب عدالتوں میں سماعت کا نگراں جج مقرر کیا گیا تھا۔
بریکنگ, پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہ@BBhuttoZardari
پاکستان کے وزیر
خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے نیویارک کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران امریکی
وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات کی ہے۔ جہاں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ
تعلقات، علاقائی صورت حال اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ
بلاول بھٹو نے یوکرین پر روسی حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر عالمی
غذائی تحفظ کو درپیش خطرات سے متعلق دو روزہ وزارتی کانفرنس میں شرکت کے لیےانٹونی
بلنکن کی دعوت پر گذشتہ روز امریکہ پہنچے ہیں۔
پاکستان کی
وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ اور سیکرٹری بلنکن
کے درمیان اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی۔ چھ مئی کو
ان کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطے کے بعد یہ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
بیان میں کہا
گیا ہے کہ دونوں فریقین نے تجارت اور سرمایہ کاری، آب و ہوا، توانائی، صحت اور
تعلیم کے شعبوں میں جاری دوطرفہ پراجیکٹس پر اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ سطح
پر بات چیت اور فیصلوں کے ذریعے تعاون کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کے اہم نکات سے متعلق آگاہ کیا۔
ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ہم نے پاک-امریکہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اہم وسیع البنیاد اور جامع تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی عزم کا اعادہ کیا۔‘
وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے لکھا کہ انھوں نے ملاقات کے دوران افغانستان سمیت علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع, محمد کاظم، بی بی سی اردو
بلوچستان اسمبلی میں 14 ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔
تحریک عدم اعتماد سابق وزیر اعلیٰ جام کمال، تحریک انصاف کے ناراض رکن سردار یارمحمد رند، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما اصغر اچکزئی اور سابق وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی اسمبلی نے اسمبلی اسٹاف کے حوالے کی۔
اس تحریک پر بلوچستان عوامی پارٹی کے آٹھ، تحریک انصاف کے چار اور عوامی نیشنل پارٹی کے تین اراکین کے دستخط ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر جن اراکین کے دستخط ہیں وہ ان جماعتوں کا حصہ ہیں جو کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل ہیں۔
تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد جام کمال نے کہا کہ وفاق میں جب عدم اعتماد کی تحریک چلی تو اس میں بلوچستان عوامی پارٹی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ ’اس موقع پر اگرچہ ہم نے وفاق میں پی ڈی ایم کے جماعتوں کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ تو نہیں کیا تھا لیکن ہم نے انھیں کہا تھا کہ بلوچستان میں جو ہورہا ہے اس پر ہم خاموشی اختیار نہیں کرسکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم کی جماعتوں سے کہا تھا کہ جب ہم بلوچستان میں تبدیلی کے لیے قدم اٹھائیں گے تو آپ لوگوں سے مشاورت کریں گے۔ جام کمال کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے لوگوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں مشاورت کریں گے اس لیے ہم دوستوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وقت ہے کہ تبدیلی کے لیے قدم بڑھائیں۔
انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پلیٹ فارم سے وعدہ کیا گیا کہ وہ دوست بھی آئیں گے اور پھر آئندہ کے وزیر اعلیٰ سمیت باقی تمام معاملات کے حوالے سے مشاورت کریں گے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے ناراض رکن سردار یار محمد رند نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ قدوس بزنجو جب وزیر اعلیٰ بنیں گے تو یہاں ایک تبدیلی آئے گی لیکن بعد میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ اب جو صورتحال ہے اس میں ہمیں قدوس بزنجو کے مقابلے میں جام کمال فرشتہ نظر آرہے ہیں ۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں 2018ء کے عام انتخابات کے بعد یہ دوسری تحریک عدم اعتماد ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں جام کمال کو استعفیٰ دینا پڑا تھا اور ان کے بعد میر عبد القدوس بزنجو وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
گذشتہ مہینوں کے دوران پاکستان کی سیاسی صورتحال تیزی تبدیل ہوئی ہے اور سنہ 2018 کے الیکشن کے بعد برسرِاقتدار آنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اب پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں۔
اس بدلتی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید !
ملک کی سیاست اور دن بھر پیش آنے والے اہم واقعات کے بارے میں آپ یہاں تازہ ترین خبریں دیکھ سکیں گے۔
اٹھارہ مئی تک ملکی
سیاسی صورتحال اوراس متعلق سرگرمیوں کے متعلق جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔