عمران خان کا فوری الیکشن کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ، جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا، مریم اورنگزیب کا جواب
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے مطالبے پر لانگ مارچ کے لیے 25 مئی کی تاریخ دی ہے اور فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے۔
لائیو کوریج
`الیکشن کی تاریخ دو اور اسمبلیاں تحلیل کرو‘
ملتان جلسے سے خطاب میں عمران خان نے ملک کے معاشی حالات پر تنقید کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ الیکشن کی تاریخ دیں اور اسمبلیاں تحلیل کریں۔
انھوں نے ملکی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان کو حکومت ملی ہے لیکن ان سے ملک کیوں نہیں سنبھل رہا، قوم کو یہ بتاتے تھے کہ یہ بہت تجربہ کار ہیں۔
’شکر ہے آج منحرف ارکان کی رکنیت ختم ہوگئی‘, عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سے پوچھا ہے کہ ’کیا کبھی کوئی گیدڑ بھی لیڈر بن سکتا ہے؟‘
ملتان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا عمران خان تمھاری جان کو خطرہ ہے، آگے شیشہ لگوا لو۔ آج تک کسی فوجی نے بڑے تمغے نہیں لیے جو موت سے ڈرتا ہو۔ جس بلے باز کو تیز بولر کی گیند لگنے کا ڈر ہو وہ بڑا بلے باز نہیں بن سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کرپٹ اور بزدل حکمرانوں نے خوف دلایا ہے جب تک امریکہ کے جوتے پالش نہیں کریں گے، آپ آگے نہیں بڑھیں گے۔ (مگر میں) کبھی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا۔‘
’انھوں نے پوری کوشش کی کہ میں انھیں این آر او دے دو، ان کے کرپشن کے کیسز معاف کر دوں۔ اگر میں ایسا کرتا تو مطلب ہوتا میں کرسی کی سیاست کرنے آیا تھا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ والو! میں پوچھتا ہوں کیا کبھی کوئی گیدڑ بھی لیڈر بن سکتا ہے؟ شکر ادا کرتے ہیں آج سب (منحرف ارکان) کی رکنیت ختم ہوگئی۔‘
10 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جائے گا، نوٹیفیکیشن جاری
،تصویر کا ذریعہFinance Ministry
اتحادیوں کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہPUNJAB ASSEMBLY
رہنما مسلم لیگ ن عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے باوجود پنجاب اسمبلی میں اس وقت اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے۔
جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پانچ ارکان منحرف ہوئے مگر ’اس وقت 165 مسلم لیگ ن، سات پیپلز پارٹی، چار آزاد ارکان کی حمایت (اتحادیوں کو) حاصل ہے جس سے 178 کی تعداد بنتی ہے۔
’لیکن وہ 168 ارکان پر ہیں۔ اتحادیوں کے پاس 11 ارکان کی واضح عددی اکثریت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی بار ممبران آرٹیکل 63 اے پر ڈی سیٹ ہوئے۔ 25 ارکان کی کمی کے بعد موجودہ نمائندوں کی تعداد کے مطابق ریزو سیٹس ملیں گی۔ اس کیس میں پارٹی کی ہدایت موجود نہیں تھی، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے ’منحرف ارکان کا دفاع کرتے رہیں گے۔‘
مریم نواز: پاکستان کو شہباز شریف جیسے رہنما کی ہی ضرورت ہے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے وزیر اعظم شہباز شریف کی کراچی میں تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایسے ہی رہنما کی ضرورت ہے۔
’مقتدر ادارے کی ایسی حمایت ہمیں ملی ہوتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جا رہا ہوتا‘, وزیر اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہEPA
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جب عمران خان کو حکومت ملی تو اس وقت کوئی سیاسی افراتفری نہیں تھی اور ’اس وقت تو لاڈلی حکومت اور لاڈلے کو مقتدر ادارے کی وہ حمایت ملی جو 75 سالہ تاریخ میں کسی کو ملی نہ آئندہ کبھی ملے گی۔‘
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی حمایت کا 30 فیصد بھی ہمیں ملا ہوتا تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جا رہا ہوتا۔‘
پیٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری سیاسی مجبوری تھی (مگر) انھوں نے ساڑھے تین سال میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔‘
’جب لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی تھی تو دوبارہ کیسے شروع ہوئی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ قریب چار سال میں ڈالر 115 سے 185 روپے تک پہنچا جس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔
شہباز شریف نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی میں وہ 200 ارب ڈالر کو چھو رہے ہیں اور پاکستان صرف ڈیڑھ ارب ڈالر پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو برآمدات کی طرف جانا ہوگا اور چاروں صوبے شفاف پالیسی بنا کر سرمایہ کاروں کے لیے صنعتی زون بنائیں۔ انھوں نے صنعتی، زرعی اور برآمدات کی پالیسی بنانے پر زور دیا۔
دریں اثنا وزیر اعظم نے سولر ٹیکنالوجی پر 17 فیصد ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تحریک انصاف کے منحرف رکن راجہ ریاض قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر
پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشین کے مطابق انھیں اسمبلی رولز کے رول 39 کے تحت اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل تحریک انصاف کے ایم این اے راجہ ریاض نے اپوزیشن لیڈر کے لیے درخواست اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی تھی جس پر 17 ارکان اسمبلی کے دستخط تھے۔
سترہ ارکان قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے راجہ ریاض کے نام کی حمایت کی تھی۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے جمعہ کے دن دو بجے تک اپوزیشن لیڈر کے لیے حامی ارکان کے دستخطوں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔
درخواستوں کی سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے راجہ ریاض کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔
،تصویر کا ذریعہNational Assembly
آج ملتان میں اہم اعلان کروں گا: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ آج ملتان میں ہونے والے جلسے میں ایک اہم اعلان کریں گے جس میں مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل دیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پرویز الہی: پنجاب میں نیا الیکشن ہوگا، وزارت اعلیٰ کا امیدوار ہوں
،تصویر کا ذریعہTWITTER
رہنما مسلم لیگ ق پرویز الہی نے کہا ہے کہ وہ وزارت اعلیٰ کے لیے عمران خان کے امیدوار ہیں اور حلف لینے کے بعد ’اگر عمران خان کہیں گے کہ اسمبلی توڑ دو تو میں آدھے گھنٹے میں اسمبلی توڑ دوں گا۔‘
انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج کا فیصلہ تاریخی ہے اور میں الیکشن کمیشن کو مبارکبار پیش کرتا ہوں۔ ’اس سے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے دیر پا اثرات ہوں گے، یہ تاریخ ساز کام ہوا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں نیا الیکشن ہو گا۔۔۔ الیکشن کمیشن ہمارے پانچ نئے ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ان ارکان کو صرف ڈی سیٹ نہیں کیا بلکہ نااہل کر دیا ہے۔ ’ان ارکان کی سیاست اب ختم ہو گئی ہے۔‘
پرویز الہی نے یہ بھی کہا کہ وہ پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس کی حکمت عملی بنائیں گے اور پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں الیکشن بھی کرائیں گے۔
رہنما مسلم لیگ ق نے کہا کہ ن لیگ کے سات سے آٹھ لوگ ’ابھی ہمارے ساتھ ہیں۔‘
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبرز گیم کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہSocial Media
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے 25 منحرف ممبران صوبائی اسمبلی کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں منحرف اراکین کے ووٹوں کی مدد سے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکیں یا پھر انھیں دوبارہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔
یاد رہے کہ حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کر کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، جس میں تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے جو اب ڈی سیٹ کر دیے گئے ہیں۔
اگر حمزہ شہباز کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنی پڑتی ہے تو اسی صورت میں صورتحال کافی دلچسپ ہو چکی ہے کیونکہ بظاہر راہ حق پارٹی کے منتخب ایک رکن صوبائی اسمبلی اور اسمبلی میں موجود چار دیگر آزاد اراکین کے ووٹ موجودہ صورتحال میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPML-N
مسلم لیگ نواز اور اتحادی جماعتیں
پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت ایوان میں مسلم لیگ نواز کے ممبران کی تعداد 166 (بشمول جگنو محسن جنھوں نے حال ہی میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے) ہے مگر ان میں سے چار اراکین ایسے ہیں جو پارٹی سے ناراض ہیں اور انھوں نے حال ہی میں ہونے والے وزیراعلی کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دیا تھا۔
ان چار ممبران کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ کے اراکین کی کُل تعداد 162 رہ جاتی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی کُل تعداد سات ہے۔ یہ وہ اراکین ہیں جنھوں نے حالیہ الیکشن میں بھی حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا۔
اس طرح مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی مجموعی تعداد 169 بن جاتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPunjab Assembly
پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتیں
الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 183 تھی تاہم 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہو جانے کے بعد یہ تعداد گھٹ کر اب 158 رہ گئی ہے۔
اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ق کے اراکین کی تعداد دس ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ان اتحادیوں کی تعداد 168 بنتی ہے۔ راہ حق پارٹی کا ایک رکن اور چار آزاد امیدوار ایسی صورتحال میں اسمبلی میں موجود چار آزاد اراکین اور راہ حق پارٹی کا ایک رکن فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔
یاد رہے کہ راہ حق پارٹی کے ایک رکن نے حالیہ الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ پارٹی مستقبل کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی کُل تعداد 168 جبکہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی مجموعی تعداد 169 ہے۔ اور فی الحال ایسے ہی لگتا ہے کہ آزاد امیدواروں کا رخ جس جانب ہو گا پلڑہ ادھر کا ہی بھاری ثابت ہو گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے اور کوئی امیدوار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر اسی وقت ’رن آف الیکشن‘ ہو گا، جس میں کسی امیدوار کا ایک بھی ووٹ زیادہ ہو گا تو وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائے گا۔
’الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پنجاب حکومت کو فرق نہیں پڑے گا‘, مریم اورنگزیب
،تصویر کا ذریعہtwitter
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مسلم لیگ ن یا پنجاب حکومت کو فرق نہیں پڑے گا۔
پریس ٹاک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’جس اسمبلی میں بھی عدم اعتماد کی تحریک چلائی گئی تو اس میں آپ کو اٹھا کر باہر پھینکا جائے گا۔‘
’آج جو تمام ارکان ڈی سیٹ ہوئے ہیں انھوں نے تحریک انصاف کی پالیسی اور جھوٹوں کے خلاف ووٹ دیا۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال سے زیر التوی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں اتحادیوں کی تعداد 177 اور مخالفین کی 172 ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن ہوگا تو انھیں ٹکٹ دینے کے لیے کوئی بندہ نہیں ملے گا۔‘
دو درجن سے زائد ارکان کی نااہلی کے بعد اکثریت کیسے ثابت کی جائے گی؟
،تصویر کا ذریعہAFP
الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پی ٹی آئی کے 25 ووٹ ختم ہوگئے ہیں اور اب اگر دوبارہ سے وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے تو پھر پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس اکثریت نہیں ہوگی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن دوبارہ ہوتا ہے اور کوئی امیدوار 186 ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر اسی وقت ’رن آف الیکشن‘ ہو گا، جس میں کسی امیدوار کا ایک بھی ووٹ زیادہ ہو گا تو وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائے گا۔
یہاں یہ بات بھی زیر غور ہے کہ ابھی تک پنجاب میں باقاعدہ طور پر کوئی گورنر موجود نہیں ہے۔ عمر چیمہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی قائم مقام گورنر بن گئے مگر انھوں نے ابھی تک گورنر کا حلف نہیں اٹھایا۔
ماہرین کے تجزیے کے مطابق انھیں یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ گورنر کا حلف اٹھائیں گے تو ڈپٹی سپیکر، قائم مقام سیپکر مقرر ہو جائیں گے، جس کے بعد پرویز الہیٰ کے خلاف بطور سپیکر پنجاب اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد وہ اپنا سپیکر کا عہدہ کھو سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان کا تعلق کس گروہ سے ہے؟
،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
،تصویر کا کیپشنپنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے وہ ارکان جنھوں نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیے تھے
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا ہے یعنی ان کی پنجاب اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان 25 ارکان میں سے 16 ارکان صوبائی اسمبلی کا تعلق ترین گروپ سے، پانچ کا علیم خان گروپ سے اور چار کا اسد کھوکھر گروپ سے ہے۔
371 کے ایوان میں حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ بننے کے لیے کل 197 ووٹ حاصل کیے تھے۔ انھیں وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے سادھ اکثریت یعنی 186 ووٹ درکار تھے۔
’وہ واحد احسان بھی میرے سر سے اتر گیا‘: علیم خان کا ردعمل
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
تحریک انصاف کے منحرف رہنما علیم خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’اللہ کا شکر ہے آج وہ واحد احسان بھی میرے سر سے اتر گیا جو صوبائی اسمبلی کی سیٹ کی صورت میں مجھ پر کیا گیا تھا۔
’باقی رہا وہ 10 سال کے احسانات کا معاملہ جو میں نے عمران خان کی ذات اور پی ٹی آئی پر کئے اُس کو میں نے اللہ پہ چھوڑ دیا ہے کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ تحریک انصاف کچھ بھی کر لے مگر ’شیر سے پنجاب چھیننے کا خواب چکنا چور ہوگا۔‘
اپنے ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’پنجابیوں کو اپنے صوبے کو فرح گوگی کی لوٹ مار اور تباہی کے حوالے کر دینے پر شدید غصہ ہے جس کا حساب وہ انتخابات میں چکتا کر دیں گے۔
’الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دن رات گالیاں دینے والے عمران خان کو آج تھوڑی شرم تو آئی ہو گی مگر کہاں!‘
تحریک انصاف کا حمزہ شہباز کے استعفے کا مطالبہ
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’آج پنجاب کی امپورٹڈ حکومت اب عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔
’نام نہاد وزیرِاعلیٰ حمزہ شہباز کوئی شرم کریں اور آج الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد فوری استعفیٰ دیں۔ کوئی ایک ایسی روایت چھوڑیں جس پر انھیں کوئی تو مثبت کمنٹ دیا جا سکے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
’فکر نہ کریں، حمزہ شہباز ہی وزیر اعلی رہیں گے‘
ادھر رہنما مسلم لیگ ن مائزہ حمید گجر کہتی ہیں کہ ’تحریک انصاف کی جہالت دیکھیے اپنے 25 ارکان ڈی سیٹ کروا کے جشن منا رہے ہیں۔ ان احمقوں کو بتائیں وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز ہی رہے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
جبکہ حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ ’فکر نہ کریں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز ہی رہیں گے۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی امیدوں پر پھر پانی پھرے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
’حکومت کا قانونی جواز بھی ختم‘
رہنما تحریک انصاف بابر اعوان کہتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امپورٹڈ شوباز اور ابنِ شوباز کا اخلاقی جواز ختم ہوا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے بعد قانونی جواز بھی ختم۔۔۔ اگر کوئی تھوڑی بہت بھی شرم یا حیا ہے تو فوری استعفٰی دے کر، الیکشن میں آئیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
پنجاب اسمبلی کے 25 منحرف اراکین کی رکنیت ختم ہونے کے بعد اب آگے کیا ہوگا؟, بی بی سی اردو کا خصوصی فیس بک لائیو
بریکنگ, الیکشن کمیشن نے 25 منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کر دیا
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انھیں ڈی سیٹ کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتےہوئے انھیں ڈی سیٹ قرار دے دیا ہے۔
منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے پاس فیصلہ سنانے کے لیے آج آخری دن تھا کیونکہ الیکشن کمیشن ارکان کے خلاف ریفرنس پر 30 روز میں فیصلہ سنانے کا پابند ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے 25 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے اس ریفرنس کا فیصلہ 17 مئی کو محفوظ کیا تھا اور فیصلہ آج دوپہر سنائے جانے کا اعلان کر رکھا تھا۔
بریکنگ, قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے راجہ ریاض نے درخواست جمع کروا دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک
انصاف کے منحرف ایم این اے راجہ ریاض نے اپوزیشن لیڈر کے لیے درخواست اسمبلی سیکرٹریٹ
میں جمع کروا دی
سترہ
منحرف ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کرائی گئی
ہے۔
سترہ
ارکان قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے راجہ ریاض کے نام کی حمایت کی ہے۔
ڈپٹی
اسپیکر نے دو بجے تک اپوزیشن لیڈر کے لیے حامی ارکان کے دستخطوں سے درخواستیں مانگی
ہیں۔ اس عمل کے لیے دو سے تین بجے سکروٹنی ہوگی۔ جس کے بعد اکثریت کی حمایت رکھنے والے
کو اپوزیشن لیڈر قرار دیا جائے گا۔
لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواستوں پر سماعت
،تصویر کا ذریعہTWITTER/PMLN
پاکستان
کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق لاہور ہائی
کورٹ میں درخواستوں پر سماعت ہوئی ہے۔
لاہور
ہائی کورٹ نے درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے پنجاب حکومت سمیت دیگر کو
نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔
چیف
جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے سبطین خان سمیت دیگرفریقین کی درخواستوں پر سماعت کی۔
پاکستان
تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ سپریم
کورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز اکثریت کھو چکے ہیں, اور آرٹیکل 134 کے تحت قائد ایوان
منتخب ہونے کے لیے 186 ووٹ لینا ضروری ہیں۔
چیف
جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ سپریم کورٹ کے منحرف اراکین
سے متعلق فیصلے کا اطلاق کب سے ہو گا۔