عمران خان کا فوری الیکشن کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ، جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا، مریم اورنگزیب کا جواب

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے مطالبے پر لانگ مارچ کے لیے 25 مئی کی تاریخ دی ہے اور فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے۔

لائیو کوریج

  1. شیریں مزاری کا راہداری ریمانڈ جاری، ڈی جی خان لے جایا جا رہا ہے

    مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے اہلکار مقامی عدالت سے شیریں مزاری کا راہداری ریمانڈ لے کر ڈی جی خان روانہ ہو گئے ہیں۔

  2. ایمان مزاری: والدہ کو اغوا کیا گیا ہے، گرفتاری کا لفظ استعمال نہیں کروں گی

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے اب سے کچھ دیر قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری کو ’غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے اغوا‘ کیا گیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کی حراست کے لیے گرفتاری کا لفظ استعمال نہیں کریں گی کیونکہ گرفتاری کی صورت میں گھر والوں کو بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کا کیا جرم ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک اُنھیں نہیں پتا کہ اُن کی والدہ کہاں ہیں۔

    ایمان مزاری نے کہا کہ اس حکومت کی جانب سے اُنھیں جبراً لاپتہ کیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, ’شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن پنجاب نے حراست میں لیا‘

    اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رہنما تحریک انصاف شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن پنجاب نے حراست میں لیا ہے اور انھیں ڈی جی خان لے جایا جا رہا ہے۔

    تاہم انھوں نے شیریں مزاری کے خلاف کسی تحقیقات یا کیس کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں۔

  4. تحریک انصاف کے تمام ورکر تھانہ کوہسار پہنچیں: شہباز گل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف شہباز گل نے کہا ہے کہ ’تمام ورکر تھانہ کوہسار پہنچیں۔

    ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ ’شریں مزاری کو ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔‘

  5. بریکنگ, ایمان مزاری: ’مرد پولیس افسران نے میری والدہ پر تشدد کیا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ مرد پولیس افسران نے ان کی والدہ پر تشدد کیا اور انھیں گھر سے حراست میں لے کر چلے گئے۔

    وہ ٹوئٹر پر کہتی ہیں کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ونگ لاہور نے انھیں حراست میں لیا ہے۔‘

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ شیریں مزاری کو ڈیرہ غازی خان لے جایا جا رہا ہے۔

  6. بریکنگ, شیریں مزاری کو گھر سے حراست میں لیا گیا: پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی کا دعویٰ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف افتخار درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو کچھ دیر قبل ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے یہ نہیں لکھا کہ اس کے پیچھے کون تھا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ سب کو ’فوراً (وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے) کوہسار تھانے پہنچنا چاہیے۔‘

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے تصدیق کی ہے کہ ان کی والدہ کو گھر حراست میں لیا گیا ہے۔

  7. بریکنگ, شہباز شریف، حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 28 مئی تک توسیع، سلمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ایف آئی اے کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کر دی ہے۔

    دوسری جانب سپیشل سینٹرل کورٹ نے سلمان شہباز ، طاہر نقوی اور ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔

  8. عدالت نے شہباز شریف کو جانے کی اجازت دے دی، سماعت میں وقفہ

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی عدالت میں وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت میں دن ساڑھے بارہ بجے تھا وقفہ ہو گیا ہے۔ عدالت نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں کو عدالت سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔

    سماعت میں وقفے کے بعد ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر دلائل دیں گے۔

  9. عمران خان نے انتہائی نازیبا نہیں، انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی: وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان کے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ الفاظ نہیں ہیں، اس گندی ذہنیت کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے۔

    لاہور میں ایف آئی اے کی ایک عدالت میں منی لانڈرنگ مقدمے میں پیشی کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ہماری مائیں اور بہنیں کیا سوچ رہی ہوں گے کہ ایک ایسا شخص جو تحریک انصاف کا لیڈر بنتا ہے اور قوم کی بیٹی مریم نواز سے متعلق عمران خان نے انتہائی نازیبا نہیں انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی۔

  10. لگتا ہے وزیراعظم کے خلاف ایف آئی آر نیٹ فلیکس کی کسی فلم سے متاثر ہو کر لکھی گئی: وکیل شہباز شریف

    لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ایک سپیشل کورٹ سنٹرل میں وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کے لیے دنیا جہان کو ہراساں کیا گیا، لوگوں کے بازو مروڑے گئے کہ کوئی بیان دے دیں، لیکن کچھ نہیں ملا۔

    امحد پرویز کے مطابق نیٹ فلیکس پر بڑی فلمیں آتی ہیں، لگتا ہے یہ ایف آئی آر کسی فلم سے متاثر ہو کر لکھی گئی۔

  11. وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف منشیات کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور کی انسداد منشیات کی ایک خصوصی عدالت نے رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر اے این ایف کی جانب سے منجمد پراپرٹی اور اکاؤنٹس بحال کرنے کی درخواست دائر کردی۔

    اے این ایف کا مؤقف ہے رانا ثناءاللہ دس سال سے منشیات کا کاروبار کررہا ہے اور بنک اکاونٹس اور پراپرٹی دس سال پہلے کے ہیں۔

    وزیرداخلہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اے این ایف نے حقائق کے برعکس ان کو منجمد کررکھے ہیں۔ انھوں نے استدعا کی کہ عدالت پراپرٹی اور بنک اکاونٹس بحال کرنے کا حکم دے۔

    عدالت نے اے این ایف سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 25 جون تک ملتوی کردی۔

  12. سائل شہباز شریف نے تنخواہ نہیں لی، مراعات کا جائزہ لیا جائے تو الزام زیرو ثابت ہوگا: وکیل شہباز شریف

    منی لانڈرنگ ریفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے ایف آئی اے کی خصوصی عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف ریکارڈ پر ایک بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔

    امجد پرویز نے کہا کہ بینکرز کے بیانات بے بنیاد اور سیاسی بنیاد پر دلوائے گئے ہیں۔ یہ ان کی خواہش تھی، یہ خواب تھے کہ یا اللہ کوئی بیان آجائے۔

    مجد پرویز نے مزید کہا کہ شہباز شریف کو تخیل کی بنیاد پر نامزد کیا گیا، ہر آنے والے خواب کو یہ کیس کا حصہ بنا دیتے تھے، تخیل کی تائید میں سرکار کے سارے وسائل استعمال کیے گئے، لیکن ریکارڈ پر ثبوت نہیں لا سکے۔

    سائل شہباز شریف نے تنخواہ نہیں لی، مراعات کا جائزہ لیا جائے تو الزام زیرہ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق شہباز شریف نے کروڑوں کے سرکاری دورے کیے لیکن ٹی اے ڈی نہیں لیے۔

    ان کے مطابق چار سال تمام سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر کے ایک پائی کی کرپشن بھی نہیں ڈھونڈ سکے۔ امجد پرویز کے مطابق سیاسی بیانیہ ضرور ہے لیکن (شہباز شریف کے خلاف) صفحہ مثل پر کوئی ثبوت نہیں لا سکے۔

  13. برطانیہ میں ہونے والی تفتیش میں بھی بے گناہ ثابت ہوا: وزیراعظم شہباز شریف کے عدالت میں دلائل جاری, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    shahbaz

    لاہور میں ایف آئی اے کی خصوصی عدالت میں اپنے خلاف جاری منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف خود روسٹرم پرآ کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دلائل دے رہے ہیں۔

    ان کے مطابق سابق وزیراعظم کے کہنے پر برطانیہ کی ٹیم نے تفتیش کی. شہباز شریف برطانیہ میں ہونے والی تفتیش میں بھی بے گناہ ثابت ہوا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میں 2004 میں پاکستان آیا تھا، اگر میرے پاس حرام کا پیسہ ہوتا تو پاکستان کیوں آتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اس قوم کے اربوں روپے بچائے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کک بیکس اور کرپشن کے الزامات پر ایسٹ ریکوری یونٹ، نیب اور برطانوی تحقیقاتی ادارے این سی اے نے بھی تفتیش کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ این سی اے نے پونے دو سال تحقیقات کیں مگر انھیں میرے خلاف کچھ بھی نہیں ملا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میں ان کا رشتہ دار تو نہیں تھا۔ وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ این سی اے نے پونے دو سال کی تحقیقات میں ایک دھیلے کی کرپشن نہیں نکالی ۔شہباز شریف نے کہا کہ خدانخواستہ میں نے کرپشن کی ہوتی تو میں اس عدالت کے سامنے نہ ہوتا۔

  14. منی لانڈّرنگ ریفرنس: سلمان شہباز سمیت دیگر دو ملزمان کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق فیصلہ محفوظ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ایک خصوصی عدالت وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت کر رہی ہے۔ دوران سماعت عدالت نے عدالت میں عدم پیشی کی بنا پر وزیراعظم کے بیٹے سلمان شہباز سمیت دیگر دو ایسے ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے دلائل دیے کہ عدالت نے تاحال چالان میں اشتہاری ملزموں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد اشتہاری نہیں قرار دیا ہے۔ جج اعجاز حسن اعوان نے ریمارکس دیے کہ میں نے تو اشتہاری قرار دینے کا آرڈر جاری کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے چالان میں سرخ رنگ سے تحریر کیے گئے اشتہاری ملزموں کے مطابق آرڈر جاری کیا۔

    تاہم ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے مؤقف اختیار کہ کوئی بھی ایسا قانونی نکتہ چھوڑنے پر ملزم فائدہ لے سکتے ہیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ چار مہینے پراسکیوشن کیوں خاموش رہی ہے۔ فاروق باجوہ نے بتایا کہ پراسکیوشن کی طرف سے پیش ہوا ہوں یہی گزارش ہے کہ چالان میں اشتہاری ملزموں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ اس کے بعد عدالت نے سلمان شہباز سمیت دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  15. آپ یہاں بھی وزیر اعظم ہیں، یہیں سے حکم جاری کریں: جج کا شہباز شریف سے عدالت کی سیکیورٹی سے متعلق مکالمہ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ایک عدالت میں اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت جاری ہے۔

    جب کمرہ عدالت میں ملزمان کی حاضری لگ رہی تھی تو جج سپیشل کورٹ سنٹرل نے ریمارکس دیے کہ جن ملزمان کو سیکیورٹی اہلکار اندر نہیں آنے دے رہے ان کی طرف سے وکلا درخواست دے دیں۔

    جج نے کہا کہ جب سیکیورٹی والے اندر نہیں آنے دے رہے میں کیس کی کارروائی کیسے کروں۔ اس کے بعد جج اور وزیراعظم کے درمیان ایک دلچسپ مکالمہ بھی ہوا، جب جج نے شہباز شریف سے کہا کہ آپ یہاں بھی وزیر اعظم ہیں. یہاں حکم جاری کریں۔

    ایس پی سول لائن نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ نہیں ہوگا، جس پر عدالت نے کہا کہ آج کی بات کریں، آج جس نے یہ سب خراب کیا اس کے خلاف کارروائی کرکے بتائیں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ میں اس میں باقاعدہ حکم جاری کروں گا، سیکیورٹی کا یہ مطلب ہے کہ آپ کام میں رکاوٹ ڈالیں۔

    پولیس افسر نے کہا کہ آج مس کوآرڈینیشن ہوئی ہے، عدالت کا مکمل احترام ہو گا، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ عدالت کا احترام ہو رہا ہے؟ تحریری طور پر لکھ کر دیں کس نے جج کی گاڑی روکی۔

  16. وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر ایف آئی اے عدالت میں سماعت شروع

    Tarar

    وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ دوران سماعت ایف آئی اے کے سپیشل پراسکیوٹر فاروق باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں تین ملزمان اشتہاری ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز سمیت اس مقدمے میں دیگر ملزمان ملک مقصود اور طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی جائے۔

    جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ یہ ملزمان تو مجسٹریٹ کی عدالت سے اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔ فاروق باجوہ نے درخوسات کی کہ یہ درخواست ریکارڈ پر آ گئی ہے عدالت مناسب حکم جاری کر دے۔

    اس وقت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز دلائل دے رہے ہیں۔

  17. وزیراعظم شہباز شریف منی لانڈرنگ ریفرنس میں ایف آئی اے کی عدالت پہنچ گئے

    shahbaz sharif

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اپنے خلاف منی لانڈرنگ مقدمے میں لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ایک خصوصی عدالت پہنچ چکے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق جب شہاز شریف عدالت کے دروازے پر پہنچے تو سیکیورٹی اہلکاروں نے اندر سے اسے بند کر رکھا جس کی وجہ سے انھیں اپنے وکلا اور دیگر ملزمان سمیت باہر انتطآر کرنا پڑا۔

    وکیلوں کو صحافیوں کو اندر نہیں دیا جا رہا تھا، جنھیں شہباز شریف نے یہ تسلی دی کہ وہ عدالت میں پہنچ کر جج صاحب سے اس حوالے سے درخواست کریں گے۔

    جج کے ریماکس کہ ملزمان کو روک رہے ہیں، ایف آئی کے وکیل نے کہا کہ میرا بھی راستہ روکا گیا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اگر اسے سیکورٹی کہتے ہیں تو اللہ ہی حافظ ہے۔

  18. نفیسہ شاہ کا عمران خان سے مریم نواز کے بارے میں نامناسب بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ

    پیپلزپارٹی کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے عمران خان سے گذشتہ روز جلسے کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے بارے میں نامناسب بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    نفیسہ شاہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عمران خان کی مریم نواز کے خلاف الفاظ انتہائی قابل مذمت اور باعث شرم ہیں۔ چوک، چوراہوں پر کھڑے ہو کر ماؤں بہنوں پر ذاتی حملے کر کے انھیں سیاست میں گھسیٹنا ایک گری ہوئی حرکت ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز جلسے میں اپنے خطاب کے دوران عمران خان نے مریم نواز کے بارے میں کہا تھا کہ ’مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو، تمھارا شوہر ہی ناراض نہ ہو جائے۔ جس طرح تم میرا نام لیتی ہو۔‘

    نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان فوری طور پر استعمال کئے الفاظ واپس لیں اور خواتین سے معافی مانگیں۔‘ اس سے قبل پیپلز پارٹی رہنما سلیم مانڈوی والا ملک کی تمام خواتین کو تحریک انصاف کے جلسوں کے بائیکاٹ کا مشورہ دے دیا ہے۔

  19. وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز آج منی لانڈرنگ ریفرنس میں ایف آئی اے کی عدالت میں پیش ہوں گے

    ایف آئی اے

    وزیراعظم شہباز شریف سنیچر کو اپنے خلاف قائم منی لانڈرنگ ریفرنس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش ہوں گے اور وہ اپنے خلاف بنائے گئے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ریفرنس میں نیب کی ایک احتساب عدالت کے سامنے بھی پیش ہوں گے۔

    ایف آئی اے کے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف پر الزام ہے کہ انھوں نے 2008 سے لے کر 2018 تک 16 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے خاندان اور خاندانی کاروبار سے منسلک کم آمدن والے ملازمین کے اکاؤنٹس بھی استعمال کیے ہیں۔

    FIA

    ان کے علاوہ اس مقدمے میں ان کے بیٹے سلمان شہباز اور پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف بھی اس ریفرنس میں ملزم ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر بیرسٹر شہزاد اکبر نے شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملے پر متعدد پریس کانفرنسز کے ذریعے الزامات کو دہرایا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کو ناقابل تردید شواہد بھی حاصل ہو چکے ہیں، جو لندن کے اداروں سے بھی شیئر کیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ لندن کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے شہبازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیں مگر پھر عدم ثبوت کی وجہ سے انھیں کلین چٹ تھما دی۔

  20. اسلام آباد مارچ کا اعلان 25 سے 29 مئی کے درمیان ہو گا: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اتوار کو کمیٹی کے اجلاس میں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ اسلام آباد مارچ کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

    انھوں نے ملتان میں اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ 25 سے 29 مئی کے درمیان مارچ ہو گا۔

    خیال رہے کہ توقع کی جا رہی تھی کہ عمران خان آج ملتان جلسے میں اسلام آباد مارچ کا اعلان کرنا تھا۔