عمران خان کا فوری الیکشن کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ، جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا، مریم اورنگزیب کا جواب

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے مطالبے پر لانگ مارچ کے لیے 25 مئی کی تاریخ دی ہے اور فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے۔

لائیو کوریج

  1. حلیم عادل شیخ کا حفاظتی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع

    پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے ممکنہ طور پر ہراساں کرنے اور حفاظتی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کے بعد پی ٹی آئی کو ہدف کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    انھوں نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ’باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت ان سمیت دیگر پارٹی ممبرز کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب میں مسجد نبوی کے واقعے پر درج ایف آئی آرز میں نامزد نہیں مگر نامعلوم افراد میں شامل کر کے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔‘

    انھوں نے اس ضمن میں دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ ’غیر قانونی ہراساں کرنے کو روکا جائے اور ملک بھر میں درج تمام ایف آئی آرز کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ متعلقہ کورٹ کے سامنے پیش ہو سکے۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی درخواست پر حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

  2. وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سنیچر کو چین کے دورے پر روانہ ہوں گے

    Bilawal Bhutto

    پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سنیچر کو چین کے پہلے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی خصوصی دعوت پر 21-22 مئی کو چین کا دورہ کریں گے۔

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور اور اعلیٰ حکام وزیر خارجہ کے وفد کا حصہ ہوں گے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو دورے کے دوران چینی سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ وسیع مشاورت کریں گے۔ دونوں رہنما پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تجارتی اور اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری پر پیش رفت، چین کے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ بھی بات چیت میں نمایاں ہوگا۔

    ملاقات میں دو طرفہ تجارت کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔

  3. بریکنگ, قومی احتساب بیورو میں تقرریوں و تبادلوں پر فوری پابندی عائد

    NAB

    ،تصویر کا ذریعہNAB Website

    قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے تقرری و تبادلوں پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔

    قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت پر ازخود نوٹس کے بعد جاری عدالتی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں کی جانے والی تمام تقرریوں و تبادلوں پر بھی عملدرآمد کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں ٹرانسفر پوسٹنگت افسران کو ہٹانے، تحقیقاتی اور پراسیکوشن برانچ میں تبدیلیوں پر جواب دیا جائے۔

    سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ نیب کی تحقیقاتی اور پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر جواب دیا جائے۔

  4. پاکستان میں امن و امان اور چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس

    Meeting

    ،تصویر کا ذریعہInterior Ministry of Pakistan

    پاکستان میں امن و امان اور ملک میں موجود چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اجلاس ہو رہا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں وزارت داخلہ میں جاری اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کر رہے ہیں۔

    امن و امان کے حوالے سے یہ اہم اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر بلایا گیا ہے۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر سمیت وزارت داخلہ کے اعلی حکام اجلاس میں موجود ہیں۔

    چاروں صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اورگلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز اور آئی جی پولیس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

    اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، چیف کمشنر و آئی جی اسلام آباد اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔

    اجلاس کا مقصد ملک بھر میں امن وامان کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کو حتمی شکل ترتیب دینا ہے۔

  5. گورنر پنجاب کی برطرفی کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بنچ تشکیل

    Umar Cheema

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی درخواست پر اعتراضات ختم کرتے ہوئے سماعت کے لیے لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو وفاقی حکومت کا جاری کردہ نوٹیفکیشن ہے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ یہ ڈیموکریٹک فارم آف گورنمنٹ ہے، صدارتی طرز حکومت نہیں۔

    درخواست گزار عمر سرفراز چیمہ اپنے وکیل بابر اعوان کے ساتھ عدالت پیش ہوئے۔ بابر اعوان کا عدالت میں کہنا تھا کہ یہاں پر دو اعتراضات ہیں؟

    ایک واٹس ایپ کاپی اور دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

    عدالت عالیہ کا بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’جب آپ وزیر قانون تھے سب کچھ اس وقت صدر کے اختیارات بارے طے ہوگیا تھا۔‘

    جس پر بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ ’صدر کے اختیارات آرٹیکل 101 کو بالکل نہیں چھیڑا گیا۔‘

    عدالت نے کیس کی سماعت 24 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

  6. الیکشن کمیشن کا منحرف اراکین پنجاب اسمبلی پر فیصلہ آج، عمران خان کا اسلام آباد مارچ کا اعلان بھی متوقع

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی بدلتی سیاسی صورتحال کے لیے آج کا دن کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ آج سنائے گا۔

    تو دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرپرسن عمران خان کا ملتان جلسے میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سے متعلق لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔

    منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے پاس فیصلہ سنانے کے لیے آج آخری دن ہے کیونکہ الیکشن کمیشن ارکان کے خلاف ریفرنس پر 30 روز میں فیصلہ سنانےکا پابند ہے۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے 25 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن نے اس ریفرنس کا فیصلہ 17 مئی کو محفوظ کیا تھا اور فیصلہ آج دوپہر سنایا جائے گا۔

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف عوامی رابطہ مہم کے تحت آج اپنا اہم اور آخری جلسہ ملتان میں کر رہی ہے جہاں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان متوقع ہے۔

    سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں فوری انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری منزل قریب ہے، ہم الیکشن چاہتے ہیں، ہم امپورٹڈ حکومت نہیں چاہتے، ہم صاف شفاف الیکشن کے ذریعے آزادی چاہتے ہیں اور جب تک ہمیں صاف اور شفاف انتخابات کی تاریخ نہیں ملے گی، اس وقت تک عوام کا سمندر اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا۔

    خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اسلام آباد مارچ سے قبل ہونے والا آخری جلسہ 20 مئی کو ملتان میں ہوگا اور اس جلسے میں آپ سب کو میں وہ دن بتاؤں گا جس دن میری ساری قوم نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمارا اسلام آباد پہنچنے کا مقصد ملک کے لیے حقیقی آزادی حاصل کرنا ہے۔

  7. مشکل فیصلے نہیں کریں گے تو ملک کو نقصان ہوگا: خورشید شاہ

    خورشید شاہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت الیکشن میں جانے کے لیے تیار ہے مگر رواں سال اکتوبر تک اس حکومت کو چلنے دینا چاہیے۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے بہتر حل الیکشن ہے مگر اصلاحات نہیں ہوں گی تو الیکشن نہیں ہوسکے گا۔

    انھوں نے واضح کیا کہ مشکل فیصلہ نہیں کیے جائیں گے تو ملک کو نقصان ہوگا۔

    اس سے قبل اپنی میڈیا ٹاک کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے حکومت لے کر احسان کیا، ختم کی جاتی تو ہمارے اوپر احسان ہو گا۔‘

    ’ہم خوش ہوں گے اگر کہیں حکومت ختم ہوئی۔۔۔ حکومت ابھی ختم ہوتی تو نوے دن میں الیکشن کرانا بھی لازم ہوتا اور یہ ممکن بھی نہیں۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’صدارتی نظام کسی صورت نہیں آئے گا، ایک ہی طریقہ ہے مارشل لا لگاؤ، صدارتی نظام آ جائے گا۔ صدارتی نظام کا ایک ہی راستہ ہے کہ آئین کو ختم کریں اور آئین آرڈیننس سے ختم نہیں ہوتا۔‘

    خورشید شاہ نے آئندہ الیکشن میں عمران خان کے خلاف گرینڈ الیکشن الائنس کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ’اگر پی ٹی آئی کی اتنی سازش ہے تو ہمیں بھی مل کر الیکشن لڑنا ہوگا۔‘

    ’اگلا الیکشن آسان الیکشن نہیں ہو گا، لوگ کفن باندھ کر نکلیں گے۔‘

    خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ٹرانسفر پوسٹنگ عدلیہ کا کام نہیں۔ جس ملک میں تین تین حکومتیں بنائیں گے، کیسے چلے گا۔ آپ ایک آدمی کو ہٹا نہیں سکتے کہ سپریم کورٹ نے منع کیا، یہ کام آپ کا نہیں ہے۔ عدلیہ کا کام عوام کو انصاف دینا ہے۔‘

  8. ’مریم نواز کی تقریر شکست کا اعتراف ہے‘, فواد چوہدری

    فواد چوہدری

    مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ تقریر ’شکست کا اعتراف ہے۔‘

    اپنے جاری کردہ بیان میں وہ کہتے ہیں کہ ’چوری کی حکومت کتنے دن چل سکتی تھی، پھر بھی آپ اپنے خاندان سے مشورہ کر لیں ان کا دل ڈھل رہا ہے۔

    ’انتخابی میدان میں نکلنے کو تحریک انصاف تیار ہے۔ حقیقی آزادی کی عظیم مہم آپ لوگوں سے آزادی لے کر رہے گی۔‘

  9. مریم نواز: مہنگائی کا طوفان لانے سے بہتر ہے ایسی حکومت چھوڑ دی جائے

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں عوام پر مہنگائی کا طوفان لانے سے بہتر ایسی حکومت چھوڑ کر الیکشن میں عمران خان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

    سرگودھا میں جلسے سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت گرا کر ’ہم نے عمران خان کے 12 سال کے پلان کو ناکام کر دیا۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ان کی جماعت حکومت میں اس لیے آئی کیونکہ عمران خان اپنے شریک جرائم کے ساتھ اگلے الیکشن میں دھاندلی کی تیاری کر چکا تھا۔

    انھوں نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تمھیں کیا پتا عوام کے لیے مشکل فیصلے کرنا ایک درد دل رکھنے والے حکمران کے لیے کتنا مشکل ہے۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے لیے کسی بھی چیز کی قیمت ایک روپے بڑھانا بھی مشکل ہے۔ ’نواز شریف کہتا ہے حکومت چھوڑ دوں گا لیکن اپنے لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالوں گا۔‘

    ’مجھے ایک آواز ہو کر بتانا عمران خان کی تباہی و بربادی کا ٹوکرا مسلم لیگ ن کو اپنے سر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت میں رہنا چاہیے یا چھوڑ دینی چاہیے؟ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ میں کہتی ہوں ایسی حکومت کو، جس میں لوگوں پر مہنگائی کا طوفان ٹوٹے، اس حکومت کو خیراباد کہنا بہتر ہے۔ اور عوام کے میدان میں آکر مقابلہ کر لو۔‘

    انھوں نے شرکا سے پوچھا کہ ’نواز شریف اگر آپ کی خاطر حکومت چھوڑتا ہے تو کیا اسے دو تہائی اکثریت دو گے؟‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ایسی حکومت چھوڑ کر عمران خان کا میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اب عمران خان کا کھیل ختم ہوچکا ہے۔‘

    ’کہتا ہے اگر عدلیہ میرے حق میں فیصلہ نہ دے تو بکی ہوئی ہے، اسٹیبلشمنٹ میرا ساتھ نہ دے تو جانور ہے، الیکشن کمیشن کو جانبدار کہتا ہے۔ اتحادی جماعتوں کو کہتا ہے اگر وہ اپوزیشن کے ساتھ چلے جائیں تو وہ غدار، میڈیا میری حمایت نہیں کرتی تو غیر ملکی ایجنٹ۔‘

    ’سپریم کورٹ کو کہنا چاہتی ہوں، اگر شہباز شریف کے خلاف از خود نوٹس لیا ہے تو ایک از خود نوٹس ایف آئی اے (کے سابق) سربراہ بشیر ممین کے الزامات پر بھی ایک ازخود نوٹس لیں۔ شہزاد اکبر کے خلاف بھی ایک از خود نوٹس ہونا چاہیے اور ایک فارن فنڈنگ کیس کو دبانے کے خلاف بھی ہونا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک پاگل شخص کی خاطر عدلیہ کے ترازو کو جھکنے مت دیں۔۔۔ اداروں کو کہتا ہے تمھارے چہرے میں نے پہچان لیے اب تمھیں چھوڑوں گا نہیں۔‘

  10. ’مشکل فیصلوں میں قومی سلامتی کے تمام سٹیک ہولڈرز کو حصہ دار بننا ہوگا‘

    شاہد خاقان عباسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ درست فیصلے وقت پر نہ کیے تو ملک آگے نہیں بڑھے گا اور حالات اتنے تشویشناک ہیں کہ سب کو مشکل فیصلوں میں حصہ دار بننا ہوگا۔

    اے آر وائے نیوز پر اینکر کاشف عباسی کے ساتھ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ قومی سلامتی کمیٹی میں کیوں لے جایا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ معیشت سے بڑا کوئی قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’جب ملک کے حالات اتنے غیر معمولی ہیں، میں انھیں بے پناہ تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، سب اونرشپ لیں اور حکومت کو سب کی حمایت درکار ہے کیونکہ ان اقدامات کے اثرات عوام پر ہوں گے۔‘

    ’(ہم) صرف فوجی قیادت نہیں بلکہ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی حمایت چاہتے ہیں، بہت سے مشکل فیصلے کرنے ہیں۔‘

    رہنما مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ ملک مشکل میں ہے اور بہت غیر معمولی حالات ہیں۔ ’ملک کا صدر بیٹھے اسے علم ہو، سب کو ان فیصلوں میں شامل کیا جائے۔ حالات اتنے غیر معمولی ہیں کہ صدر کو بھی بیٹھنا پڑے گا، وزرا اعلیٰ کو بھی بیٹھنا پڑے گا۔

    ’اگر فوجی قیادت ان فیصلوں کا وزن نہیں اٹھاتی تو ہم بیٹھے ہیں، الیکشن سیاست سب پیچھے رہ جائیں گے۔‘

  11. عمران خان: جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی، انسانوں کا سمندر اسلام آباد سے نہیں جائے گا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کی تاریخ ملتان جلسے کے دوران کل دیں گے۔

    اسلام آباد میں یوتھ کنونشن سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مارچ سے پہلے آخری جلسہ ملتان میں ہوگا۔ ملتان جلسے میں اسلام آباد مارچ کی تاریخ کا اعلان کروں گا۔‘

    انھوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گے، عوام کا سمندر اسلام آباد سے نہیں جائے گا۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف نے 20 مئی تک جلسوں کا شیڈول جاری کیا تھا اور مئی کے آخری ہفتے میں اسلام آباد مارچ کی کال دی تھی۔ ان کا مطالبہ فوری انتخابات ہے۔

  12. ’لگژری سامان کی درآمد پر پابندی سے قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی‘, وزیر اعظم شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    لگژری سامان کی درآمد پر پابندی کے فیصلے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس سے ’قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی۔‘

    ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ ’ہم کفایت شعاری پر سختی سے عمل کریں گے۔ مالی طور پر آسودہ حال لوگوں کو اس قومی مہم میں ایک مثال بننا ہوگا تاکہ مالی مسائل کا شکار ہم وطنوں کو مہنگائی کی اس آگ سے بچایا جاسکے جو پی ٹی آئی حکومت جلا کر گئی ہے۔‘

  13. وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ’مقابلہ کرنے کے لیے تیار‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد سیاست کا حصہ ہے اور ’ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    کوئٹہ میں جمعرات کو ہزارگی کلچر ڈے کی مناسبت سے ایک تقریب کے موقع پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہو اور وہ یہ کہے کہ اس کے نمبر پورے نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے موقع پر تحریک عدم اعتماد لانا عجیب ہے لیکن وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن وزرا اور مشیروں نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں ان کو ایسا کرنے سے پہلے مستعفی ہونا چاہیے تھا۔

    خیال رہے کہ جن 14 اراکین نے میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں ان میں دو وزرا، تین مشیر اور تین پارلیمانی سیکریٹریز شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے وزرا، مشیروں اور پارلیمانی سیکریٹریز کو ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کہ ہدایت کی۔ ان میں سے تین پارلیمانی سیکریٹریز کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جن میں عوامی پارٹی کے ملک نعیم بازئی، شاہینہ کاکڑ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مٹھا خان کاکڑ شامل ہیں۔

  14. ’الیکشن کرانے کا اختیار عمران خان کے پاس نہیں، ہمارے پاس ہے‘

    مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب نے مزید اس پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’الیکشن کرانے اور ڈیڈ لائن دینے کا اختیار ہمارے پاس اور ہمارے اتحادیوں کے پاس ہے۔‘

    ’جب الیکشن کمیشن تیار ہوگا، جب حکومت و اتحادی چاہیں گے تب ہی الیکشن ہوگا۔ عمران خان ڈیڈلائن دینا بند کریں۔‘

  15. ’شہباز شریف ایک سے دو روز میں قوم سے خطاب کریں گے‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ایک سے دو روز میں قوم سے خطاب کریں گے۔

    اپنی پریس کانفرنس کے دوران وہ کہتی ہیں کہ غیر ضروری اشیا کی درآمدات پر پابندی کا فیصلہ آئندہ معاشی منصوبے کا حصہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پیٹرولیم بِل میں کمی، توانائی بحران کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے بھی کام ہو رہا ہے۔

  16. بریکنگ, موبائل فونز، گاڑیوں سمیت غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ

    پاکستان میں موبائل فونز، گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے گاڑیوں اور موبائل فونز سمیت غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ تمام امپورٹڈ گاڑیوں، موبائل فونز اور دیگر غیر ضروری لگژری اشیا پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایک ایمرجنسی صورتحال ہے، پاکستانیوں کو معاشی پلان کے تحت دو ماہ کے لیے قربانی دینا ہوگی۔ درآمدات کے اوپر انحصار کو کم کرنا ترجیح ہے، اس سے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا اور ترقی ملے گی۔ ملک میں مقامی صنعت کو فروغ دیا جائے گی۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان اقدامات سے روپے کی قدر میں استحکام آئے گا۔

    جن اشیا کی درآمد پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں موبائل فونز، ہوم اپلائنسز، کراکری، نجی ہتھیار، جوتے، لائٹنگ اور سجاوٹ کی اشیا، کھانے کی اشیا، سنٹری ویئر، فش اینڈ فروزن فوڈز، ٹشو پیپر، فرنیچر، امپورٹڈ میک اپ شامل ہے۔ لگژری میٹرس، سلیپنگ بیگز، ہیٹر، کچن ویئر، سگریٹ وغیرہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

  17. ’حکومت نے اپنے خلاف کیسز میں تفتیشی ٹیم تبدیل کی، سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی اقدام‘, فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک تاریخی اقدام ہے۔

    ایک ویڈیو پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت اپنے خلاف کیسز میں تفتیشی ٹیموں کو تبدیل کر رہی ہے، اپنی مرضی کے لوگ لگائے جارہے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. پرویز الہی: پنجاب میں سرپرائز دیں گے، شریفوں کی وفاق کی گیم ختم ہے

    پرویز الہٰی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رہنما مسلم لیگ ق پرویز الہی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ان کا اتحاد پنجاب میں سرپرائز دے گا اور وفاق میں بھی مقابلہ ہوگا۔

    اے آر وائے نیوز سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے مقابلے سے ہٹے نہیں ہیں کیونکہ وزارت اعلی کا انتخاب تو ابھی ہوا ہی نہیں۔

    ’عمران خان واحد آدمی ہے جس نے کہا آپ وزیراعلیٰ بنیں اور پھر قائم رہا، لوگوں کو تکلیف ہوئی مگر خان صاحب نے کہا (اور) میں نے کمٹمنٹ کر دی ہے۔‘

    ان کی جماعت کے اراکین سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ جنھوں نے نئی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ ان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اعتماد کے ووٹ سے پہلے ہم چیمہ اور سالک صاحب کو واپس لے کر آئیں گے۔‘

    پرویز الہی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت ’ایک ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی۔۔۔ شریفوں کی وفاق کی گیم ختم ہے، ان کو سمجھ ہی نہیں آ رہی۔ ن لیگ کی ٹکٹ اب فلم کی ٹکٹ بن گئی اور فلم بھی فیل ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اب صرف عمران خان کے ٹکٹ کی اہمیت ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ انھیں مکمل امید ہے عمران خان کے اداروں سے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

  19. عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر برطرفی کے خلاف درخواست کی سماعت کل ہوگی

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر پنجاب برطرفی کے خلاف دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وہ کل اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

  20. بریکنگ, پنجاب اسمبلی منحرف ارکان ریفرنس: الیکشن کمیشن کل تین بجے فیصلہ سنائے گا

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پنجاب اسمبلی منحرف ارکان سے متعلق ریفرنس پر الیکشن کمیشن کل تین بجے فیصلہ سنائے گا۔