’پراپیگنڈا اور جھوٹ‘ کو تعلقات کے آڑے نہیں آنے دیں گے: نیڈ پرائس
نیڈ پرائس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم اس صفحے کومزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
سری لنکا کا راجاپکشے خاندان کون ہے اور کیسے دہائیوں سے اقتدار میں ہے؟
’پراپیگنڈا اور جھوٹ‘ کو تعلقات کے آڑے نہیں آنے دیں گے: نیڈ پرائس

،تصویر کا ذریعہUS State Department
امریکی محکمہ خارجہ کی یومیہ پریس بریفنگ کے دوران اے آر وائے کے صحافی جہانزیب علی نے ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان امریکہ مخالف مہم چلا رہے ہیں اور حکومت سے بے دخلی کا الزام امریکہ پر عائد کر رہے ہیں، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے سفارتی تعلقات میں دراڑ آ رہی ہے؟
جواباً نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی قدر کرتا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نیڈ پرائس نے مزید بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اور پاکستان وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی چھ مئی کو فون پر بات چیت ہوئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس گفتگو میں پاکستان اور امریکہ کے 75 سالہ ’وسیع البنیاد‘ تعلقات پر بات ہوئی اور یہ کہ انھیں کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے اور آگے لے جایا جا سکتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت میں خاص طور پر امریکہ و پاکستان کے افغان استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اُن کے مطابق دہشتگردی کے مقابلے، اقتصادی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، موسمیات، توانائی اور تعلیم جیسے شعبوں پر بھی بات ہوئی۔
سب سے زیادہ شرم اس وقت آئی جب دوست ملکوں سے قرض مانگنا پڑا: عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہلم میں جلسے سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ روس پاکستان کو تیس فیصد کم قیمت پر تیل اور گندم بیچنے کو تیار تھا۔
انھوں نے شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’کیا روس سے تیس فیصد کم تیل خریدنے کی بات سکتے ہیں، نہیں! کیونکہ اس کے لیے اجازت لینی پڑی گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بھٹو کے خلاف بھی سازش ہوئی تھی ، یہی وہ لوگ ہیں جو بھٹو کے خلاف نکلے انہیں گرایا اور پھانسی دی گئی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ 20 تاریخ کے بعد اسلام آباد روانگی کی کال دیں گے۔
انھوں نے کہا ’حکومت کے ساڑھے تین سال میں سب سے زیادہ شرم اس وقت آئی جب دوست ملکوں سے قرض مانگنا پڑا، کیونکہ میں نے کبھی نے کبھی اپنے والد سے پیسے نہیں مانگے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا ’میں نے ہسپتال اور یونیورسٹیوں کے لیے صرف پاکستانیوں سے پیسے مانگے۔‘
’اس سے شرم ناک بات نہیں جب ایک ملک کا سربراہ باہر جا کر پیسے مانگتا ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا ’کس نے ہمیں مقروض کیا؟ دو خاندانوں نے تیس سال حکمرانی کر کے ملک کو مقروض کر دیا۔‘
شہباز شریف میں جو میر جعفر کا کہتا ہوں وہ تم ہو: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا جہلم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش کا ذکر کیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس ان کا کہنا تھا کہ کہ ’بڑا بھائی اور بھتیجی فوج کو برا بھلا کہتا ہے اور چھوٹا بھائی جوتے پالش کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان فوج کے خلاف بات کرتا ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے‘۔
عمران خان نے ایک بار پھر میر جعفر کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میں جو میر جعفر کا کہتا ہوں وہ تم ہو۔‘
انھوں نے آصف زرادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جلد سندھ آ رہا ہوں سندھ کو آصف زرداری سے آزادی کروانے۔‘
ائی ایم ایف سے حکومت کے معاہدے کے بعد مہنگائی اور بڑھے گی: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا جہلم میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کا خاتمے کے لیے مہنگائی اور عذر بنایا گیا تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہونے والا ہے۔
انھوں نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے رمضان میں اسرائیل کی جانب سے فلسیطینیوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی پاکستان میں پانی کی قلت کے باجود انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری پر اس سے کوئی احتجاج کیا۔
برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔
برطانوی ہائی کمشنر نے منصب سنبھالنے پر وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کو مبارکباد دی جبکہ وزیرداخلہ نے پاکستان میں صحت، تعلیم اور انسانی ترقی کے فروغ میں برطانوی حکومت کے کردار کی تعریف کی۔
ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ ابھرتی ہوئی جغرافیائی، سیاسی و علاقائی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔
وزیر داخلہ انا ثناءاللہ نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیاحت، تجارت اور کاروباری مواقع کا بہت پوٹینشل ہے۔
اس موقعے پر برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
بریکنگ, ڈالر کی اونچی اڑان، روپے کے مقابلے میں بلند ترین سطح 188.66 پر جا پہنچا, تنویر ملک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے منگل کے روز ڈالر کی قیمت ایک روپیہ تیرہ پیسے اضافے کے ساتھ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 188.66 روپے پر بند ہوا۔
انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل کئی روز سے اضافہ ہو رہا ہے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی گزشتہ بلند ترین سطح 188.16 سات اپریل 2022 کو ریکارڈ کی گئی تھی۔
انٹر بنک میں ایک ڈالر کی قیمت 188.66 روپے پر بند ہوئی جو گزشتہ روز 187.53 روپے تھی۔
ایک ڈالر کی قیمت 16 اپریل 2022 کو 181.75 روپے پر بند ہوئی تھی اس میں اب تک 19 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہےG
جنرل سیکرٹری ایکسچینج کمپنیز آف ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے ڈالر کی قیمت میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک پر اس وقت بیرونی ادائیگیوں کا بے تحاشا دباؤ ہے جن میں درآمدات کی ادائیگیوں کے ساتھ بیرونی قرضوں کی قسطیں بھی ادا کرنی ہیں جب کہ دوسری جانب ملک میں ڈالر کی آمد رکی ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قرضہ پروگرام پر پیش رفت نہیں ہو پا رہی تو دوسری جانب سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی جانب سے بھی مالی معاونت کے سلسلے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘
صدر وزیر اعظم کی سفارشات پر عمل نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں: خرم دستگیر
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ایک کمیشن بنایا جا رہا ہے جو آئین کے مطابق وزیر اعظم کے اختیار کا جائزہ لے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’صدر وزیر اعظم کی سفارشات پر عمل نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ صدر کو پسند نا پسند کا استتثنٰی حاصل نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’آئین کہتا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس اختیار ہے جو پاکستان کے عوام نے انہیں دیا ہے۔ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، یہ آئین کی عمل داری کا معاملہ ہے، ہم متانت اور خود اسلوبی کے ساتھ اس معاملے کو حل کریں گے۔‘
اس موقعے پر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد قوم سے خطاب کر کے عوام کو ملکی معاشی صورتحال اور مہنگائی سے ریلیف کے منصوبوں سے آگاہ کریں گے۔
بریکنگ, ’شہباز شریف مشاورت کے لیے لندن جائیں گے‘: پارٹی کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت پارٹی کے رہنما ایک ذاتی دورے پر نواز شریف سے ملنے لندن جا رہے ہیں۔
اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ملاقات سیاسی مشاورت کے لیے ہوگی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ پارٹی کا وفد ہے اور مسلم لیگ ن میں مشاورتی عمل جاری رہتا ہے۔ بلا وجہ تنقید جاری رکھیں ہم پاکستانی عوام کے لیے جو بہتر ہو گا وہ جاری رکھیں گے۔‘
گورنر پنجاب کی برطرفی پر سپریم کورٹ از خود نوٹس لے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے برطرف کیے جانے پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسے آئین و قانون کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے اور سپریم کورٹ سے سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اس کا نوٹس لے۔
اس سے پہلے صدر عارف علوی نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی سمری کی مسترد کردی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ ’امپورٹڈ حکومت آئینی افراتفری پھیلا کر پنجاب میں عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہے‘۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو معاملے کی حساسیت دیکھتے ہوئے ازخود نوٹس لینا چاہیے۔
میں آئینی طور پر اب بھی گورنر ہوں: عمر سرفراز چیمہ

،تصویر کا ذریعہ@OmarCheemaPTI
سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز کا کہنا ہے کہ حکومت کے اقدام نے آئینی اور قانونی لڑائی کی بنیاد ڈال دی ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قانون و آئین کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کی برطرفی کا نوٹیفکشن جاری کرنا غیر آئینی اقدام ہے اور اس سے قانونی اور آئینی لڑائی کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ وہ آئینی طور پر اب بھی گورنر پنجاب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ ان کی جماعت ملک بھر میں جلسے اور جلوس کر کے سیاسی محاذ آرائی کر رہی ہے مگر میری اس وقت توجہ قانونی اور آئینی لڑائی پر ہے اور میں اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہوں۔
گورنر ہاؤس جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ فی الحال میری ترجیح قانونی و آئینی طریقے سے اس مسئلے کو دیکھنا ہے اور اس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو سیاسی محاذ آرائی کے لیے سڑکوں پر آئیں گے۔
عمرسرفراز چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر گورنر ہاؤس جانا ہوا تو میں نے سب کو تیار رکھا ہے اور سب میری کال کے منتظر ہیں کہ وہ وہاں پہنچیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پچھلی مرتبہ بھی میں نے گورنر ہاؤس میں کوئی سیاسی محاذ آرائی سے اجتناب کیا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی تماشہ لگایاجائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں حالات خراب نہیں کرنا چاہتا، اگر حکومت بدمعاشی کر رہی ہے تو اس میں عوام کا کیا قصور ہے۔ہم عدالتوں کا کردار عوام کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ ایک ماہ سے پنجاب میں ایک آئینی بحران ہے جس کی چند وجوہات میں سے ایک سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا غیر آئینی طور پر استعفیٰ منظور کرنا۔ دوسرا حکومت کی جانب سے حقائق کو چھپا کر لاہور ہائیکورٹ سے اپنے حق میں فیصلے لینا اور تیسرا غنڈہ گردی کر کے وزیر اعلیٰ کے جبری انتخاب کروانا اور اس کے بعد غیر آئینی طور پر وزیر اعلیٰ کی سپیکر قومی اسمبلی سے حلف برداری کروانا شامل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان تمام غیر آئینی اقدامات کی بنیاد پر میں نے ایک رپورٹ صدر پاکستان کو بھجوائی تھی جسے بنیاد بنا کر انھوں نے پہلے بھی مجھے ہٹائے جانے کی سمری کو مسترد کیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان غیر آئینی اقدامات میں میری برطرفی کا نوٹیفیکشن بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@OmarCheemaPTI
انھوں نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تحفطات اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو غیر آئینی طور پر وزیر اعلیٰ کے استعفے کو منظور کیے جانے کی تحقیقات کرنی چاہیے تھیں لیکن وہ آگے بڑھ گئے۔‘
عمر سرفراز چیمہ نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف غیر آئینی وزیر اعلیٰ ہے اور انھوں نے بیوروکریسی اور پولیس کے زور پر صرف اس لیے حکومت بنائی کیونکہ ان کے والد وزیر اعظم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دن انھوں نے صوبے کے آئینی وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے عہدہ، گاڑی اور سیکورٹی واپس لی وہ اس وقت کابینہ اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے۔
پارٹی پالیسی سے انحراف ملک کے فائدے میں بھی ہو سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ اراکین کی خریدو فروخت کے ذریعے حکومت گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اختیارات لامحدود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آخری امید ہے اس کے بعد سڑکیں اور جلسے ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 'ایک کہتا ہے آزاد عدلیہ چاہئے دوسرا کہتا ہے آئین کے تابع عدلیہ چاہئے۔ آئین کے تابع پارلیمان, ایگزیکٹو اور عدلیہ ہونی چاہیے۔'
تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ عوام انصاف ہوتا بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ ق کے وکیل اظہر صدیق کی جانب سے دلائل کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کیا سیاسی جماعت میں شمولیت کے وقت حلف لیا جاتا ہے کہ پارٹی سربراہ کی ہر بات پر عمل کیا جائے گا؟‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اراکین کی خریدو فروخت کے ذریعے حکومت گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ق لیگ کے وکیل کی جانب سے میثاق جمہوریت کے ریفرنس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ میثاق جمہوریت پر پارلیمان کا اتفاق ہوتا تو آئین کا حصہ ہوتا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’پارٹی لیڈر کو کسی نے نہیں روکا کہ منحرف ارکان کو سزا نہ دے۔ پارٹی سربراہ نے صرف اتنا لکھنا ہے کہ رکن منحرف ہوگیا ہے۔‘
وکیل اظہر صدیق نے موقف اپنایا کہ کرپشن کرنے والوں کیخلاف محکمانہ کارروائی بھی ہوتی ہے اور فوجداری کارروائی بھی۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’مناسب نہیں ہوگا اگر ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن ثابت ہوجائے پھر کارروائی ہو؟‘
وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ کرپشن ثابت ہونا اور منحرف ہونا الگ چیزیں ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایسا ممکن نہیں کہ غلط کام کریں اور اس کا فائدہ بھی اٹھائیں۔ ’جرم کرنے والوں کو اس کا فائدہ لینے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟‘
وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ انحراف کی اجازت دینا مقصد ہوتا تو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’پارٹی پالیسی سے انحراف ملک کے فائدے میں بھی ہو سکتا ہے۔‘
ایبٹ آباد جلسے کی تقریر: حکومت عمران خان کے خلاف کیا کارروائی کر سکتی ہے؟
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت: ’آرٹیکل 63 اے کا آرٹیکل 62 ون ایف کے ساتھ تعلق کیسے بنتا ہے‘, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئین کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہآرٹیکل 63 اے کا آرٹیکل 62 ون ایف کے ساتھ تعلق کیسے بنتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں عدالت اعظمیٰ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے بذات خود منحرف رکن کو تاحیات ناہل کرتا ہے، اور انحراف کرنا بڑا سنگین جرم ہے۔
جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ’آپ کہتے ہیں منحرف ارکان کو تاحیات نااہل کریں۔‘
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے درمیان مکالمہ ہوا جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں نااہلی کی معیاد نہ ہونے پر تاحیات نااہلی ہوگی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تک نااہلی کا ڈکلیریشن عدالت ختم نہ کرے نااہلی برقرار رہے گی۔‘
جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ مدت کا تعین نہ ہوتو نااہلی تاحیات ہوگی اور کیا اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ 26 ارکان پارٹی چھوڑ جائیں، اس طرح تو اکثریتی جماعت اقلیت میں آجائے گی۔‘
جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی تاحیات نااہلی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ ہم نے آپ کا نقطہ نوٹ کر لیا ہے آپ چاہتے ہیں آرٹیکل 63 اے کو اتنا سخت بنایا جائے کہ کوئی انحراف نہ کر سکے۔‘
اپنے دلائل دیتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے پر کوئی ڈی سیٹ ہو اور پندرہ دن بعد دوبارہ پارلیمنٹ آجائے، اور ممکن ہے کہ دوبارہ منتخب ہوکر کوئی وزیر بھی بن جائے اور ایسا ہو جانا آرٹیکل 63 اے کے ساتھ مذاق ہے۔
جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ آپ قانونی اصلاحات کریں۔
بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ یوٹیلیٹی بلز ادا نہ کرنے والا بھی رکنیت کا اہل نہیں ہوتا۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ بل ادا کرنے کے بعد نااہلی ختم ہو جائے گی؟ یوٹیلیٹی بلز کی عدم ادائیگی پر نااہلی تاحیات نہیں ہوسکتی۔‘ جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’کوئی امیدوار آئندہ الیکشن سے پہلے بل ادا کردے تو کیا تب بھی نااہل ہوگا؟
سماعت کے دوران جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 (1) جی پڑھ لیں، میری نظر میں آرٹیکل 63(1)جی کی خلاف ورزی زیادہ سنگین جرم ہے، آرٹیکل 63(1)جی عدلیہ فوج کی تضحیک اور آئیڈیا لوجی آف پاکستان سے متعلق ہے۔
کشمیر فائلز: سنگاپور میں ہندو پنڈتوں پر بننے والی فلم کی نمائش پر پابندی
صوبہ سندھ میں پانی کی شدید کمی: ’ہمیں تو عملی طور پر قحط سالی کا سامنا ہے‘
پنجاب گورنر ہاؤس کے باہر کیا صورت حال ہے؟
حکومتِ پاکستان نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو رات گئے اُن کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفیکشن جاری کیا تھا جس کے بعد اس وقت گورنر ہاؤس کے مرکزی گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ اس بارے میں سے مزید جاننے کے لیے دیکھیے بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کا فیس بک لائیو
الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی پنجاب کے منحرف اراکین کو فوری طور پر معطل کرنے سے انکار
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پنجاب کے منحرف اراکین کی اسمبلی رکنیت فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تیرہ مئی کو دلائل دینے کا حکم دیا ہے۔
تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ قومی اسمبلی کے منحرف اراکین سے پہلے پنجاب اسمبلی کے 25 ایم پی ایز کی رکنیت معطل کی جائے۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے منگل کے دن پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنسز پر سماعت کی۔
پی ٹی آئی کیے وکیل فیصل چوہدری نے درخواست کی کہ الیکشن کمیشن پہلے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کا فیصلہ سنا دے، وہ 26 منٹ کا کیس ہے۔
ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں قانونی آئینی بحران چل رہا ہے اس لیے الیکشن کمیشن ووٹ ڈالنے والے25 ایم پی ایز پر فیصلہ سنا دے۔
چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کہا گیا کہ اونچا بول کر تاریخ نہیں لی جاسکتی جب کہ الیکشن کمیشن نے 13 مئی کو دلائل دینے کا حکم دیا۔
اس سے پہلے قومی اسمبلی کے منحرف پی ٹی آئی اراکین کے معاملے پر نور عالم خان کے وکیل کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ ریفرنس میں کہا گیا منحرف ارکان نے اپوزیشن جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی لیکن کونسی جماعت میں شمولیت اختیار کی نہیں بتایا گیا۔
نور عالم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریفرنسز بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں جن کے ساتھ شواہد جمع نہیں کرائے گئے۔
الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نے وکیل فیصد چوہدری سے سوال کیا کہ کیا منحرف ارکان نے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کی؟ جس پر فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ جی انہوں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کی جس پر شوکاز نوٹسز جاری کیے۔
فیصل چوہدری نے دعوی کیا کہ منحرف ارکان کو شوکاز دیکر جوابدہی کا موقعہ دیا گیا جس پر منحرف اراکین کے وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ریفرنس پر ارکان کو جواب دہی کا موقع نہیں دیا گیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ دینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وقت محدود ہے ہم روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنا چاہتے تھے۔ الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
