’پراپیگنڈا اور جھوٹ‘ کو تعلقات کے آڑے نہیں آنے دیں گے: نیڈ پرائس

نیڈ پرائس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔

لائیو کوریج

  1. انسان کی ذاتی ونجی زندگی اسکا اور اللّہ کا معاملہ ہے: مریم

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے پی ٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل سے جاری ہونے والی ایک ٹویٹ کے جواب میں ردِ عمل دیتے ہوئے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’مجھے علم نہیں یہ ڈرامہ آپ کیوں کر رہے ہیں مگر باوجود اسکے کہ عمران خان نے مجھے دو بار جیل میں ڈالا، سزائے موت کی چکی میں رکھا، میں نا کردار کُشی پر یقین رکھتی ہوں نا ذاتی انتقام پر۔انسان کی ذاتی ونجی زندگی اسکا اور اللّہ ربّ العزت کا معاملہ ہے۔ برائے مہربانی مجھے اس گند سے دور رکھیں۔‘

    جب ایک صارف نے کہا کہ آپ نے اس ٹویٹ کا جواب دیا ہے تو آپ کو اصولاٌ ان پر کیس بھی کرنا چاہیے، تو مریم نے لکھا کہ ہاں میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم کو لکھوں گی کہ وہ اس کا نوٹس لیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. ’سات برس سے ہر عید پر والد کے کپڑے تیار رکھتے ہیں کہ شاید وہ آ جائیں‘

  3. توشہ خانہ اور نریندر مودی: ’یقین ہے کہ عمران خان ان کی تعریف کریں گے‘

  4. آزادی صحافت: ’پریس کلب کے باہر آویزاں وزیراعظم کے بینر بہت کچھ کہتے ہیں‘

  5. شاری کی مجید بریگیڈ میں شمولیت اور فدائی مشن کے بارے میں جانتا تھا: ہیبتان بلوچ

  6. تحریک انصاف کی لانگ مارچ ریلی کو خونی بنانے کی سازش ہو رہی ہے: شیخ رشید

    س

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا مجوزہ لانگ مارچ خونی ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے حالات خوفناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے ذمہ داران سے اپیل کی کہ لانگ مارچ سے پہلے مسائل کا حل نکالا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ تمام ذمہ داران ایک، ایک قدم پیچھے ہو جائیں اور بات چیت کریں کیونکہ وقت بہت کم بچا ہے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ’پاکستان کے بدنام ترین چہرے، جنھیں عوام دیکھنا نہیں چاہتے تھے، اقتدار میں لائے گئے ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ خونی ہو گا جس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمارا کوئی اور مطالبہ نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی تاریخ پر متفق ہوں اور جلد از جلد نئے انتخابات کروائے جائیں کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔

    شیخ رشید نے الزام عائد کیا کہ ’ایک ایسے ملک میں کیسے امن ہو سکتا ہے جس ملک کے وزیر داخلہ پر قتل جیسے الزامات ہوں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ حالات کی بہتری کے لیے عمران خان سے بات کرنے اور رابطہ کاری کرنے کو تیار ہیں مگر اس کے لیے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا ہو گا۔

  7. گمشدہ لوگوں کی گمشدہ عیدیں: عاصمہ شیرازی کا کالم

  8. ’امریکی سازش کا ثبوت‘ فراہم کرنے والی تجزیہ کار ربیکا گرانٹ کون ہیں؟

  9. مسجد نبوی واقعہ: ’حکومت کا مقدمات سے کچھ لینا دینا نہیں، مگر شکایت کرنے والوں کی داد رسی ہمارا فرض ہے‘

    ببث

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مدینہ میں پیش آئے واقعے پر پنجاب میں تحریک انصاف کے لیڈروں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات نہ تو حکومت نے درج کروائے اور نہ ہی حکومت کا اُن سے کچھ لینا دینا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت اس میں نہ تو مدعی ہے، نہ فریق اور نہ ہی گواہ۔ مگر اگر کوئی دعویٰ کرے کہ اس اقدام سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو کیا حکومت ایسے شخص کو کہہ سکتی ہے کہ ہم کوئی کارروائی نہیں کریں گے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ایسے مقدمات کی میرٹ پر تفتیش ہونی چاہیے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا اس وقت مختلف تھانوں میں مدینہ واقعے کی بنیاد پر سینکڑوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس بات کی تائید کروں گا کہ اگر لوگ اپنے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے والی شکایات لے کر حکومت کے پاس آئیں بجائے خود قانون کو ہاتھ میں لینے کے یا فتوے دیں، اور یہ ایک صحت مند رجحان ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں اسی نوعیت کے معاملات کو لے کر پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے گھروں پر حملے ہوئے اور گھیراؤ ہوا، بلکہ چند واقعات میں تو لیگی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے ہوئے اور اس وقت موجودہ اپوزیشن کہتی تھی کہ جو ہوا ٹھیک ہوا۔

    انھوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مسجد نبوی کے واقعے کے پرزور مذمت کریں کیونکہ ان کے خلاف درخواستیں لانے والے کہہ رہے ہیں کہ اگر ہماری داد رسی نہ ہوئی تو حکومت ذمہ دار ہو گی۔

  10. منڈی بہاؤ الدین میں سوموار کو نماز عید کی ادائیگی، امام مسجد سمیت 14 افراد کے خلاف مقدمہ

  11. شیخ رشید: فوج سے صلح کا حامی ہوں، اگر جنگ ہو جاتی ہے تو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں

    شیخ رشید

    سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وہ فوج سے صلح کا حامی ہوں پر اگر صلح نہ ہو پائی اور اگر جنگ ہو جاتی ہے تو وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کو انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی فوج اور اداروں کو اپنا سمجھتے ہیں تاہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں عمران خان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

    جب اُن سے سوال کیا گیا کہ آپ کی حکومت اور فوج کے ساتھ سب اچھا چل رہا تھا مگر اب وہ سڑکوں پر ہیں، تو اس پر اُنھوں نے کہا کہ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں جو نہیں ہونی چاہیے تھیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج ہر منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے لیکن کچھ نہ کچھ ہوا کہ پوری باپ (بلوچستان عوامی پارٹی) ایم کیو ایم اور آدھی قاف لیگ چلی گئی۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ اُنھیں ایم کیو ایم پر پورا یقین تھا مگر جس دن اس جماعت نے حکومتی اتحاد چھوڑا تو اس دن اُنھوں نے بالآخر کہا کہ ’نہیں ہم ہار گئے۔‘

    شیخ رشید نے ایم کیو ایم کے حوالے سے کہا کہ وہ اس مرتبہ پھر غلطی کر گئے ہیں۔

    جب شیخ رشید سے پوچھا گیا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی اداروں کے سامنے کھڑی ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تو اس پر سابق وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ابھی ایسا لگتا ہی ہے مگر جب وقت آیا تو ٹھیک کریں گے اسے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اداروں کے آگے نہیں کھڑا ہونا چاہیے بلکہ اداروں کے ساتھ مل کر الیکشن کی تاریخ طے کرنی چاہیے۔

  12. پی ٹی آئی کو عمران کی ’کردار کشی‘ کا خطرہ اور ڈیپ فیک کا ذکر: یہ ڈیپ فیک کیا ہے؟

  13. عمران خان کے قریبی ساتھی کے قتل میں ملوث ملزمان کیسے فرار ہوئے؟

  14. عمران خان کا بائیڈن انتظامیہ سے سوال: ’کیا آپ نے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کم کیے یا بڑھائے؟‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    عمران خان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ ’22 کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک کے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کو ہٹا کر ایک کٹھ پتلی وزیر اعظم لانے کے لیے حکومت کی تبدیلی کی سازش میں ملوث ہو کر، کیا آپ کو لگتا ہے کہ کیا آپ نے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو کم کیا یا بڑھایا؟‘

    ٹوئٹر پر سابق وزیر نے کہا ہے کہ ’اگر کسی کو حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کے بارے میں کوئی شبہ ہے تو یہ ویڈیو تمام شکوک و شبہات دور کر دے گی کہ ایک جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو کیوں ہٹایا گیا۔‘

    ’واضح طور پر امریکہ ایک فرمانبردار کٹھ پتلی وزیر اعظم چاہتا ہے جو یورپی جنگ میں پاکستان کو غیر جانبداری کے انتخاب کی اجازت نہیں دے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    اپنے ٹویٹ میں عمران خان نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں فاکس نیوز کے ایک پروگرام کے دوران امریکہ کی قومی سلامتی کی ایک ماہر ڈاکٹر ریبیکا کہتی ہیں کہ پاکستان کو یوکرین جنگ میں یوکرین کا ساتھ دینے ہوگا اور روس کے ساتھ معاہدے نہیں کرنے چاہییں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’(پاکستان کو) چین سے تعلقات محدود کرنے ہوں گے اور امریکہ مخالف پالیسیاں روکنی ہوں گی جس کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان (تحریک عدم اعتماد میں) ووٹ آؤٹ ہوئے۔‘

  15. ’فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے‘, عدالت کے ریمارکس

    فواد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں پولیس کو ہدایت کی ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے۔

    صحافی اسد ملک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فواد چوہدری کی درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا کہ وہ یقینی بنائیں کہ فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے اور آئندہ سماعت تک ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہ کی جائے۔عدالتی حکم کی نقل سیکریٹری قومی اسمبلی کو بھی بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا فواد چوہدری تاحال ممبر قومی اسمبلی ہیں کیونکہ سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر تو گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

    وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے شیخ رشید سمیت ان کے ساتھیوں کا گھروں سے نکلنا مشکل کرنے کا بیان دیا ہے۔

    وکیل فیصل چوہدری نے وزیرداخلہ کی نیوز کانفرنس اور مریم نواز کے بیانات پڑھ کر سنائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ ہے کہ ایک واقعے کی ایک سے زیادہ ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتیں اور واقعہ مدینہ میں ہوا پھر یہاں مقدمات درج کر لیے گئے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم عدالت کے دائرہ اختیار تک پولیس کو ہدایات جاری کر دیتے ہیں۔۔۔ جب تک کوئی رکن قومی اسمبلی ڈی نوٹیفائی نہ ہو سپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔‘

    درخواست میں فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

  16. اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں شہباز گل کی گرفتاری روک دی

    شہباز گل

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی گرفتاری روک دی ہے۔

    وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ مسجد نبوی کے واقعے کے بعد حکومت نے سبق سیکھنے کے بجائے تحریک انصاف کے خلاف مہم چلائی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت 90 کی دہائی کی سیاست سے باہر نکل نہیں پا رہی۔ ’آتے ہی مقدمات درج ہوگئے۔ پاکستان کے آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’شہباز گل نے حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی جو عدالت نے منظور کی۔‘

    شہباز گل کے وکیل نے عدالت میں یہ موقف دیا کہ خدشہ ہے کہ شہباز گل کو امریکہ سے وطن واپسی پر گرفتار کیا جائے گا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’عدالت نے حکم دیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ عدالت کی طرف سے بڑا ریلیف ملا ہے۔‘

  17. ’ہمیں کیا پتا وہ کون ہیں‘ سے ’وہ بے قصور ہیں‘ تک: عمران خان کا فرح خان کا دفاع اور نیب کی وضاحت

  18. ’متحدہ عرب امارات کے معاشی ماہرین کا وفد پاکستان کا ہنگامی دورہ کرے گا‘, وزیر اعظم ہاؤس

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے بعد اب متحدہ عرب امارات کے معاشی ماہرین کا وفد پاکستان کا ہنگامی دورہ کرے گا۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای کا وفد وزیراعظم شہباز شریف سے 3 مئی کو لاہور میں ملاقات کرے گا۔

    ’پاکستان اور یو اے ای کے درمیان معاشی سرگرمیاں تیز کرنے سے متعلق تجاویز پر غور ہوگا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق بات چیت ہوگی۔‘

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق ماحول اور پالیسی سے آگاہ کیا جائے گا۔ توانائی، معاشیات، پٹرولیم انڈسٹری کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوگی۔‘

  19. مسجد نبوی میں سیاسی نعرے بازی: شیخ راشد شفیق کے ریمانڈ میں دو روز کی توسیع

    شیخ راشد شفیق

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    مسجد نبوی میں سیاسی نعرے بازی کے الزام میں گرفتار ایم این اے شیخ راشد شفیق کے ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کی گئی ہے۔

    شیخ راشد شفیق کو عمرے کی ادائیگی سے واپسی پر اسلام آباد ائیر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایم این اے شیخ راشد شفیق کو اٹک کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں عید کے دوسرے دن دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’بہت ہی حیران کن ہے کہ مجسٹریٹ نے شیخ راشد شفیق کو رہا کرنے کی بجائے دو دن کا ریمانڈ دے دیا۔ کیا عدلیہ ایسے مضحکہ خیز پرچوں میں بھی یہ رویہ رکھے گی؟ عجیب مذاق روا ہے یہاں نظام کے ساتھ۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. وزیر اعظم شہباز شریف کی پی کے ایل آئی کو ٹرسٹ بنانے کی ہدایت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا ہے جس میں مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

    جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے پی کے ایل آئی کے منصوبے کی تکمیل میں کوتاہی برتنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ’وزیراعظم نے پی کے ایل ائی کو مالی طور پر خود مختار بنانے کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ مکمل حکمت عملی مرتب کرکے تین دن میں پیش کریں۔ مالی وجوہات کی وجہ سے بھی مریض کو علاج سے محروم نہ رکھا جائے۔‘

    اس کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ ’پی کے ایل آئی کو ٹرسٹ بنایا جائے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ نرسنگ یونیورسٹی کے منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے اور پی کے ایل آئی کی صفائی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لئے اگر ضرورت پیش آئے تو صفائی کے نظام کو آوٹ سورس کر دیا جائے۔‘

    انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ پی کے ایل آئی میں مریضوں کو دیے جانے والی موجودہ سہولیات غیر تسلی بخش ہیں۔ ’وزیرِ اعظم نے ہسپتال میں سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے اور کم از کم پچاس فیصد غریب مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔‘