’پراپیگنڈا اور جھوٹ‘ کو تعلقات کے آڑے نہیں آنے دیں گے: نیڈ پرائس
نیڈ پرائس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔
لائیو کوریج
’حکومت نے آدھی رات کو آئین سے کھلواڑ کیا‘: شہباز گل
وفاقی حکومت
کی جانب سے گورنر پنجاب کو ہٹائے جانے پر پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے ردعمل
دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے صدر کی جانب سے گورنر کی برطرفی کی سمری کو
مسترد کرنے کے باوجود ان کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفیکشن جاری کر کے آئین سے کھلواڑ
کیا گیا۔
انھوں نے ٹویٹ
کرتے ہوئے لکھا کہ ’ آدھی رات آئین کے ساتھ ایک اور کھلواڑ کیا گیا اور صدر کی طرف
سے سمری مسترد ہونے کے باوجود گورنر کو غیر آئینی طریقے سے فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن
جاری کیا گیا
کیا آئین میں
یہ شق ڈال دی گئی ہے کہ ان سے کوئی بھی پوچھ گچھ کرنے کی جرات نہیں کرے گا؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گورنر پنجاب کی برطرفی، پنجاب میں آئینی بحران
،تصویر کا ذریعہTwitter
وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفیکشن
جاری کرنے کے بعد پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
وزیر
اعظم کی تجویز پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں گورنر پنجاب کو ہٹانے
اور نئے گورنر کی تعیناتی تک پنجاب اسمبلی کے سپیکر قائم مقام گورنر کے فرائض
انجام دینے کا کہا گیا ہے۔
واضح
رہے اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیر اعظم
شہباز شریف کی سمری کو مسترد کرتے ہوئے انھیں کام جاری رکھنے کا کہا تھا۔
وفاقی
حکومت کے اس اقدام کے بعد پنجاب میں ایک آئینی بحران کی صورت بن گئی ہے کیونکہ
گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ وہ صدر پاکستان کی ہدایت کے مطابق اپنا
کام جاری رکھیں گے۔
جبکہ
دوسری جانب صوبائی حکومت نے گورنر ہاؤس سے گورنر عمر سرفراز کی سکیورٹی کو ہٹاتے
ہوئے گورنر ہاؤس میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
واضح
رہے کہ گورنر عمر سرفراز چیمہ اس وقت گورنر ہاؤس میں موجود نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی
ذاتی رہائش گاہ پر ہیں۔
گورنر
پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے موجودہ صورتحال پر قانونی ماہرین سے مشاورت کا آغاز کر
دیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس وقت گورنر ہاؤس لاہور پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور اس کے مرکزی داخلی دروازوں پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔
گورنر ہاؤس لاہور کے باہر پولیس کی انٹی رائٹس فورس کی بھی بھاری نفری تعینات ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی رہنما مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ ’تاحال پارٹی لیڈرشپ کی جانب سے گورنر عمر سرفراز چیمہ کو گورنر ہاؤس جانے کے متعلق کوئی ہدایات نہیں دی گئیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج جہلم میں عمران خان کا جلسہ ہے ہم اس کی تیاری میں ہے تاہم اب تک گورنر ہاؤس کے باہر کسی قسم کے احتجاج یا مظاہرے کی ہدایات نہیں ملیں۔ ‘
دوسری جانب حکومت پنجاب نے وزیر اعلیٰ کی تجویز پر ایڈووکیٹ پنجاب احمد اویس کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور اس ضمن میں سمری گورنر پنجاب کو ارسال کر دی ہے۔
’سازش‘ کے بیانیے کے مقابلے میں حکومت کا ’بےدم‘ بیانیہ
صوبائی حکومت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کوعہدے سے ہٹا دیا، سمری گورنر کو ارسال
،تصویر کا ذریعہPUNJAB GOVERNMENT
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے ایڈوکیٹ جنرل
پنجاب احمد اویس کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے اس فیصلے کی سمری گورنر کو بھجوا دی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل احمد اویس کو ان کے
عہدے سے ہٹانے کے لیے تیار سمری میں کہا گیا ہے کہ ان کو فوری عہدے سے ہٹایا جائے
اور ان کی جگہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اختر جاوید کو اس وقت تک ذمہ داریاں سونپی
جائیں جب تک باقاعدہ طور پر نئے ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی نہیں ہوتی۔
دوسری طرف پنجاب کے برطرف کیے گئے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے جب تک گورنر انھیں ڈی نوٹیفائی نہیں کرتے۔
انھوں نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے اس اقدام کے خلاف عدالت میں تو نہیں جائیں گے البتہ وہ اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کریں گے۔
گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفیکیشن جاری
حکومتِ پاکستان نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔ نئے گورنر کی تعیناتی تک پنجاب اسمبلی کے سپیکر قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے۔
،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
’اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے‘ کی کوششوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈے اور عوام کو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی ’سازش‘ بے نقاب ہو چکی ہے۔
ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء اور ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہ کہ اُن کی حکومت کو ورثے میں انتظامی و معاشی مسائل، قرضے اور ’سیاست بچانے کی خاطر لیے گئے غلط فیصلوں‘ ک بدولت خطرناک معاشی مسائل ملے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اداروں کو ’سیاست میں گھسیٹنے‘ کی ان ’اشتعال انگیز کوششوں‘ پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دورے کے دوران میزبانوں نے موجودہ حکومت کی بین الاقوامی ساکھ کی تعریف کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ دوست ممالک میں موجودہ حکومت کی مضبوط ساکھ نواز شریف کی بے مثال قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شہباز شریف: سفیر کے خط سے غداری یا سازش کا عنصر کہاں سے نکلا؟
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں ’فلور آف دی ہاؤس پوری ذمہ داری سے‘ سے بات کر رہا ہوں کہ پاکستان کے امریکہ میں اس وقت کے جو سفیر تھے انھوں نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سامنے کہا کہ میں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’دھمکی آمیز گفتگو تھی لیکن یہ غداری یا سازش کا عنصر کہاں سے نکل آیا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ الفاظ اس سفیر کے ہیں جو اس وقت امریکہ میں موجود تھے اور جنھوں نے حکومت پاکستان کو یہ خط لکھا تھا۔
میر صادق اور میر جعفر کس کو بولا؟: ’چوہدری صاحب اب دیر ہو چکی ہے‘
پاکستان میں مرغی کا گوشت ایک دم اتنا مہنگا کیوں ہو گیا ہے؟
’عمران خان نے ابھی واضح کیا کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف ہیں‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری فواد کہا ہے کہ عمران خان نے میر صادق اور میر جعفر کی تشبیہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے استعمال کی تھی۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے ابھی واضح کیا کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف ہیں، غیرملکی طاقت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی گئی۔‘
یاد رہے کہ میر جعفر اور میر صادق بر صغیر کی تاریخ میں سپ سالار گزرے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ گویا مبینہ غیر ملکی سازش میں ان کرداروں کا حوالے دیتے ہوئے عمران خان کا اشارہ بھی موجودہ سپہ سالار کی جانب تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اپنے اپنے حلقوں میں جا کر عوام کو اسلام آباد مارچ کے لیے تیار کریں: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی جماعت کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں جا کر عوام کو اسلام آباد مارچ کے لیے تیار کریں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کسی صورت موجودہ حکومت اور اس کے سپیکرز کو تسلیم نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ (حکومت) چاہتے ہیں کہ کسی طرح چند لوگ اسمبلی میں آ جائیں اور یہ فراڈ اپوزیشن بنا کار کارروائی شروع کر سکیں۔‘
انھوں نے ایک بار پھر 20 تاریخ کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو عوام میں جا کر انھیں مجتمع کرنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے ایک بار پھر غیر ملکی سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہ کہتے ہیں ایسے خط آتے رہتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کِسے آتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے خود دنیا کے سامنے اپنے آپ کا مقام کم کیا، ہم نے خود انھیں کہا کہ ہمیں پیروں پر رکھو۔‘
انھوں نے ایک بار پھر عوامی نمائدوں پر ’بِکنے‘ کا الزام عائد کرے ہوئے اسے ’آئین ، جمہوریت اور ووٹ کا مذاق‘ قرار دیا۔
شہباز شریف کی میڈیا سے ملاقاتیں: ’وہ وزیر اعظم بننے کے بعد زیادہ خوش نظر آرہے ہیں‘
سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان، انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز شدید مندی کا رجحان برقرار رہا جب 100 انڈیکس میں 1400 پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کے رجحا ن کی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں کم دلچسپی تھی۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی بہت ساری وجوہات ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار حصص کی خریداری نہیں کر رہے۔
ڈارسن سکیوریٹیز میں کام کرنے والے تجزیہ کار شہر یار بٹ کے مطابق ’مندی کی سب سے بڑی وجہ تو آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی میں ہونے والی تاخیر ہے جو پروگرام کی بحالی سے پہلے تیل و بجلی کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ چاہتا ہے اس کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے بعد بھی ابھی تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو کتنی مالی معاونت دی جائے گی۔‘
شہر یار بٹ نے کہا کہ ’موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ریکارڈ تجارتی خسارے اور کم ہوتے زرمبادلہ ذخائر ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں جس کا منفی اثر اسٹاک مارکیٹ کے کاروبار پر پڑ رہا ہے‘۔
دوسری جانب روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا جب کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایک ڈالر کی قیمت میں نوے پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب اس کی قیمت 187.53 پر بند ہوئی۔
دوست ممالک عمران خان کی وجہ سے ناراض ہوئے، حمزہ شہباز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ’سفارتی محاذ پر پاکستان کے دوست ممالک عمران خان کی زبان کا نشانہ بننے کے بعد ناراض ہوئے۔‘
وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز پاکپتن میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان آئین شکنی کرنا چاہتے تھے، اسی لیے آئین کی پاسداری کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے کھلے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آج پاکستان میں آئین نہیں ہوتا۔‘
حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران خان کو عوام کی عدالت میں جواب دینا ہو گا۔ ’جاتے جاتے یہ پاکستان کے اداروں کے ساتھ مزاق کر رہے ہیں، بہت جلد ان کو حساب دینا ہو گا۔‘
حمزہ شہباز نے کہا کہ ’ہماری حکومت کی پہلی ترجیح لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ چند دن میں ایجنڈا سامنے لائیں گے۔‘
آرٹیکل 63 اے کی تشریح: ریفرنس پر تاخیر نہیں چاہتے، چیف جسٹس سپریم کورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ ریفرنس پر رائے میں تاخیر نہیں چاہتے۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 63 اے آئین کا حصہ ہے اور آئین کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔
’آئین کی تشریح سپریم کورٹ کر سکتی ہے اور کرے گی۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ازخود نوٹس کا اختیار کسی کی مرضی سے استعمال نہیں ہوتا۔ اسپیکر رولنگ سے متعلق 12 ججز نے کہا کہ آئینی معاملہ ہے تب ازخود نوٹس لیا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’تنقید کے باوجود مسکراہٹ کے ساتھ سب کو سنیں گے۔‘
بابر اعوان نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ’عدالت کا بڑا ادب اور احترام ہے۔‘ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کاش یہ ادب اور احترام عام لوگوں میں بھی پھیلاتے۔‘
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’بلوچستان ہائیکورٹ رات ڈھائی بجے بھی کھلی تھی۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان کے دلائل کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کیا الیکشن کمیشن انحراف پر کسی رکن کو جھوٹا اور بددیانت قرار دے سکتا ہے؟‘
اس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ کسی رکن کو بدیانت یا ایماندار قرار دے سکے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ ’اگر مخلوط حکومت میں اراکین دوسری جماعت کو ووٹ دیں تو وہ بھی انحراف ہو گا؟‘ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کیا نااہلی صرف ایک پارلیمانی جماعت سے دوسری میں جانے سے ہی ہوتی ہے؟ اگر کوئی ایک حلقے سے منتخب ہو اور قانون سازی سے اسی حلقے کا نقصان ہو تو کیا وہ رکن رو کر چپ ہو جائے؟‘
بابر اعوان نے موقف اپنایا کہ ’جو پارٹی کے نام پر جیت کر آئے اور لگے کہ غلط جگہ پھنس گیا ہے تو استعفیٰ دے سکتا ہے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’اگر اپنی جماعت کے خلاف جانا باضمیر ہونا ہے تو بھی استعفی ہی دینا چاہیے۔‘
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’سوال یہ ہے کہ انحراف پر ڈی سیٹ ہونے کے ساتھ نااہلی کی سزا ہونی چاہیے یا نہیں۔ انحراف پر ڈی سیٹ ہونے کا جو جرمانہ دیا گیا کیا عدالت اس کو بڑھا سکتی ہے؟‘
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’ہم نے آرٹیکل 63 سے کی تشریح آئندہ نسلوں کیلئے کرنی ہے۔ تحریک انصاف نے منحرف ارکان کے کیخلاف جو ریفرنس کیا اس سے ہمیں غرض نہیں۔‘
چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’سینیٹ الیکشن کیس میں آپکے موکل کی کوتاہی کا ذکر کریں گے۔ سینیٹ الیکشن کیس میں حکومت نے کارروائی کیوں نہیں کی؟‘
بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ سینیٹ الیکشن کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کی کوتاہی الیکشن کمیشن کی تھی۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’کیا حکومت نے سینٹ الیکشن کیس کے بعد درخواست دائر کی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی بے توقیری کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔ یاد رکھیں سب متاثرہ فریقین نے سپریم کورٹ ہی آنا ہے۔ جو فیصلہ پسند نہ آئے اس پر تنقید کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
بابر اعوان نے عدالت کے سامنے موقف اپنایا کہ ’تمام اداروں کی توقیر برقرار رہنی چاہئے۔ صدر مملکت سے متعلق سخت ریمارکس دیئے گئے۔ صدر مملکت پڑھے لکھے شخص ہیں، اس لیے خاموش رہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’صدر سے متعلق ریمارکس پر تحفظات ہیں تو درخواست دائر کریں۔ دیکھیں ہم صدر مملکت کے ریفرنس کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے بابر اعوان کو منگل کے دن دلائل ایک گھنٹے میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل صبح 11:30 تک ملتوی کر دی۔
وزیراعظم شہبازشریف کا چینی کی برآمد پر پابندی کا فیصلہ
وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان میں چینی کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ صحافی تنویر ملک کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے چینی کی برآمد پر پابندی کا فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا جب موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں پاکستان سے چینی کی برآمد کی ہی نہیں گئی اور کل برآمد صفر رہی۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق ملک میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے یہ فیصلہ اٹھایا گیا جس کے ساتھ ہی ساتھ سمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کا حکم بھی دیا گیا تاکہ ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے نمٹا جائے۔
وزیراعظم کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں کہ اس معاملے میں غفلت اور کوتاہی پر متعلقہ افسران اور عملے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کو عدالت پر اعتماد نہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آّباد ہائی کورٹ نے توہین مذہب کیس میں تحریک انصاف رہنماوں فواد چوہدری اور شہبازگل کی گرفتاری کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا تحریک انصاف اور عمران خان کو عدالتوں پر اعتماد نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب کیسز پر فواد چوہدری کی درخواست کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’چیئرمین تحریک انصاف عمران خان مسلسل عدالت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کو عدالت پر اعتماد نہیں؟ کیا عمران خان اور پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ عدالت آزاد نہیں؟‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’آج ہم کیس نہیں سنیں گے، پہلے چیئرمین تحریک انصاف سے پوچھیں کہ اعتماد ہے یا نہیں؟
اگر کسی کا عدالت پر اعتماد ہی نہیں اور وہ میسج دے رہا ہے کہ عدالتیں کمپرومائزڈ ہیں تو پھر ہم کیس نہیں سنیں گے۔‘
وکیل فیصل چوہدری سے مخاطب ہوتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ ہدایات لے کر بتائیں، وہ جہاں کمفرٹیبل ہیں، کیس کو ادھر بھجوا دیتے ہیں۔ اگر کسی فریق کو اس عدالت پر اعتماد ہی نہیں تو ہم کیس کسی اور بینچ کو بھجوا دیتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ان بیانیوں کی وجہ سے مسنگ پرسنز سمیت دیگر کیسز بھی متاثر ہوں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت کسی توہین آمیز مہم سے نہیں گھبراتی، فیصلہ قانون کے مطابق کرتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے فالورز سمجھتے ہیں کہ مانچسٹر میں میرا کوئی فلیٹ ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ تصویر کو غلط طریقے سے دکھایا گیا۔‘
عدالت نے فواد چودھری اور شہباز گل کی گرفتاری سے روکنے کے حکم امتناع میں 12مئی تک توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی وزیر اعظم کو حنیف عباسی کی تعیناتی پر نظر ثانی کی ہدایت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ہدایت کی ہے کہ حنیف عباسی کی بطور معاون خصوصی تعیناتی پر نظر ثانی کی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں حنیف عباسی کی تعیناتی کے خلاف شیخ رشید کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’جلسوں میں کہا جا رہا ہے کہ عدالتیں رات 12 بجے کیوں کھولی گئیں۔ پی ٹی آئی کا شاید عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے۔‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے شیخ رشید کو روسٹرم پر بلایا تو سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں یہاں اس لیے پیش ہوا ہو کہ مجھے اس عدالت پر اعتماد ہے۔ میں عمران خان سے بات کرونگا۔‘
اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’دل سے عدالتوں کا احترام ہونا چائیے۔ کل تک آپ سوچ لیجیے گا۔‘
شیخ رشید نے جواب دیا کہ ’میں سوچ کر یہاں آیا ہوں، 16 دفعہ وزیر بنا اس لیے عدالت میں پیش ہوا ہوں۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’چلیں آپ بتائیں کیوں عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟‘ تو شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ ’ایک سزا یافتہ مجرم کو وزیراعظم کا معاون خصوصی بنایا گیا ہے۔‘
چیف جسٹس کے سوال پر شیخ رشید کے وکیل نے جواب دیا کہ سزا معطل ہونے کے باوجود حنیف عباسی کو معاون خصوصی بنا دیا گیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاق کو بذریعہ سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور حنیف عباسی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو ہدایت دی کہ حنیف عباسی کی تعیناتی پر نظر ثانی کی جائے۔
مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے کا الزام: اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید بری
'سبز سونا': چرس کی گِرتی قیمتیں اور اجازت ناموں کے منتظر بھنگ کے پاکستانی کاشتکار