اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. ’قاتلانہ حملے کا منصوبہ سامنے آیا ہے، وزیر اعظم کی سکیورٹی میں اضافہ‘

    وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ قاتلانہ حملے کے منصوبے کی رپورٹس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

    ایک ٹویٹ میں وہ کہتے ہیں کہ ’سکیورٹی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

    ’ان رپورٹس کے بعد حکومتی فیصلے کے مطابق وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. عمران خان: ’عوام نے غداروں کو پوری شدت سے مسترد کیا‘

    وزیر اعظم عمران حان نے خیبر پختونخوا بلدیاتی الیکشن کے بعد اپنی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں فقیدالمثال کامیابی پر وزیراعلیٰ محمود خان + اپنی پی ٹی آئی کی ٹیم کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    ’کے پی کے عوام نے بیرونی آقاؤں کے حضور بِکنے والے غداروں کو پوری شدت سے مسترد کیا ہے۔ یہ تمام غداروں کیلئے ایک پیشگی تنبیہ ہے کہ ان کے حلقوں میں ان کے ساتھ ہونے کیا والا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. عمران خان کی زیرِ صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس آج

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان آج وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِ اعظم اس موقع پر خطاب بھی کریں گے. پاکستان ٹیلی ویژن تقریب کی کارروائی نشر کرے گا۔‘

    دوسری جانب آج وزیراعظم ہاوس میں پونے ایک بجے عمران خان کی زیرصدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

    خیال ہے کہ اسی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے متعلق حکمت عملی بنائی جائے گی اور حکمراں جماعت کی جانب سے شرکت کرنے والے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔

    اس سے قبل تحریک انصاف نے پارٹی اراکین کو خط لکھ کر ووٹنگ کے روز غیر حاضر رہنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں حکمت عملی طے کی جائے۔

  4. تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز اپوزیشن کے ’177 اراکین ہوں گے‘

    اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی حمایت میں 177 ارکان موجود ہوں گے۔

    خیال رہے کہ اتوار کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ متوقع ہے۔

    رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ ’اتوار کو ہمارے 177 اراکین ہوں گے: پی ٹی آئی اور جی ڈی اے ایک طرف۔ باقی تمام جماعتیں دوسری طرف ہیں۔‘

    ’وہ تمام جماعتیں ملک دشمن اور غدار ہیں؟ صرف یہی اکیلے ملک کے حامی ہیں؛ حلفاً کہتا ہوں کہ پیسہ کی نہ کسی نے ڈیمانڈ کی نہ ہم نے آفر کی ہے۔ عمران خان جھوٹ بولے جاتا ہےاور جانتا ہے کہ جھوٹ بول رہا ہوں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. ’عمران خان نے جان بوجھ کر امریکہ کا نام لیا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ قوم سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان کی زبان ’جان بوجھ کر‘ پھسلی اور انھوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش میں امریکہ ملوث ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی زبان پھسلنے کے بعد اس ملک نے وضاحت دی ہے اور کہا ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں۔ ’یعنی یہ سیاست ہے اور یہ قوم کے مفاد میں ہرگز نہیں۔‘

    خیال رہے کہ عمران خان نے جمعرات کو اس خطاب میں امریکہ کا نام لیا، پھر گویا اُنھیں احساس ہوا کہ اُنھیں نام نہیں لینا تھا اور پھر اسے ’ایک ملک‘ کہا۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میں آج آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ابھی ہمیں امریکہ نے ایک، باہر سے ایک ملک سے پیغام آتا ہے۔ یہ کسی آزاد ملک کے لیے جس طرح کا پیغام آیا، جو وزیر اعظم کے خلاف ہے، قوم کے خلاف ہے، کیوںکہ اس میں واضح لکھا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد آ رہی ہے، ان کو پہلے ہی پتا چل گیا۔‘

  6. ’قوم غیرت مند لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیر اسد عمر نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حکمراں جماعت کی بھاری کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’الیکشن میں تحریک انصاف کی بھاری کامیابی نے ثابت کر دیا کہ قوم اپنے غیرت مند لیڈر کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے۔

    ’اب فیصلہ عدم اعتماد تحریک کا نہیں ہونا۔ اب فیصلہ یہ ہونا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے یا چند ضمیر فروش سیاست دان اور ان کے بیرونی آقا۔‘

  7. پاکستان کی جانب سے امریکہ پر عائد الزامات میں کوئی حقیقت نہیں: امریکہ محکمہ خارجہ

    نیڈ پرائس

    ،تصویر کا ذریعہreu

    امریکی محکمہ خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ پر عائد ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔

    اس پریس بریفنگ کے دوران امریکی نمائندے سے پوچھا گیا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایک دھمکی آمیز خط ہے جو ان کی حکومت گرانے کے لیے بیرونی سازش کا ثبوت ہے۔ بظاہر زبان پھسلنے پر انھوں نے اس دھمکی کے حوالے سے امریکہ کا نام لیا۔ آپ کا اس پر کیا ردعمل ہے؟‘

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’ہم پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور پاکستان کے آئینی عمل کی حمایت اور احترام کرتے ہیں اور امریکہ پر عائد ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔‘

    یاد رہے کہ تنبیہی مراسلے کا معاملہ 27 مارچ کی شب پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا تھا جب اسلام آباد میں ایک جلسے سے خطاب میں عمران خان نے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ایک غیر ملک کی جانب سے ان کی حکومت گرانے کی سازش کے دستاویزی ثبوت ہیں۔

  8. ڈپلومیٹک کیبل کیا ہے اور یہ حساس پیغام کیسے بھیجا جاتا ہے؟

  9. پاکستان نے غیر ملکی تنبیہی پیغام پر سفارتی اقدامات اٹھا لیے: دفتر خارجہ

  10. ’یہ ہم ہیں، یہ ہماری اکثریت ہے اور نیازی دیکھ رہا ہے‘

  11. پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں مبینہ دھمکی آمیز خط پر غور

    قومی اسمبلی کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی کے صدارت میں ہوا جس میں شرکا کو ایک پاکستانی سفیر کے ساتھ ایک غیر ملکی عہدیدار کے درمیان ہونے والی گفتگو پر بریفنگ دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق یہ گفتگو بعد میں پاکستانی سفیر نے باضابطہ طور پر وزارتِ خارجہ تک پہنچائی۔ عمران خان اس بات چیت کو اپنی حکومت کے خلاف سازش قرار دے چکے ہیں۔

    قومی سلامتی کمیٹی نے عہدیدار اور سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سفارتی آداب کے منافی اور بے جا قرار دیا، اور اسے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا۔

    اس اجلاس میں اپوزیشن کے ارکان شامل نہیں تھے۔

  12. وزیر اعظم شکست نہیں مان رہے، تو مطلب یہ نہیں کہ وہ ہارے نہیں، وہ ہار چکے ہیں، بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ’اگر وزیر اعظم شکست نہیں مان رہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہارے نہیں، وہ ہار چکے ہیں، ان کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران وزیر اعظم کے خطاب پر رد عمل میں بلاول نے کہا کہ ’میں سابق وزیر اعظم کی تقریریں نہیں سنتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ثابت کر دیا کہ وزیر اعظم اکثریت کھو چکے ہیں، حکومت ختم ہو چکی ہے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’اب جب عمران خان کو شکست نظر آ رہی ہے تو اس قسم کی الزام تراشی کرنا نامناسب ہے۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’وزیر اعظم کو عزت دارانہ راستہ اپنانا چاہیے تھا کہ استعفے کا اعلان کرتے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے کچھ دن قبل ایک ناکام کوشش کی کہ وہ ایک بڑا جلسہ کر لیں۔ اس وقت وزیر اعظم کو جمہوری طریقے سے پارلیمان میں مقابلہ کرنا چاہیے تھا، ان کو لاکھوں نہیں 172 لوگ درکار ہیں۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’عمران خان نے پاکستان کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا، کشمیر پالیسی کو نقصان پپہنچایا، سی پیک کو سبوتاژ کیا، خارجہ پالیسی، معیشت اور جمہوریت سب کو نقصان پہنچایا۔‘

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ سلالہ معاملے پر پیپلز پارٹی نے نیٹو کی سپلائی لائن کو بند کیا، امریکہ کے دوروں میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جن کو امریکہ کے صدر نے فون تک نہیں کیا، ان کو دھمکی کون دے گا۔ وزیر اعظم نے ایک فون کال پر ملائیشیا کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔‘

  13. بڑی طاقتوں کے عالمی مفادات ہوتے ہیں، شمشاد احمد

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب شمشاد احمد نے مبینہ دھمکی آمیز خط کے معاملے پر کہا کہ وہ اپنے تجربے کی بنا پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات ہوتے رہتے ہیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے یہ بات واضح کی کہ اُنھوں نے عمران خان کی آج کی تقریر نہ سنی ہے اور نہ ہی اُنھیں براہِ راست اس خط کے مندرجات کا علم ہے۔

    تاہم اُنھوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے عالمی مفادات ہوتے ہیں اور وہ اپنی دلچسپی والے ممالک میں ایسی حکومت پسند نہیں کرتے جو ان کی بات نہ مانے اور وہ اسے بدلنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

    اُنھوں نے اس حوالے سے عرب بہار کا حوالہ بھی دیا جس میں پے در پے کئی عرب ممالک میں حکومتیں تبدیل ہوئی تھیں۔

  14. ’اگر اُس وقت عمران خان کی حکومت ہوتی تب بھی ڈرون حملے ہوتے‘، حنا ربانی کھر

    پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریر پر جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے عمران خان کی تقریر کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان دوسروں کو نقصان پہنچاتے پہنچاتے پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    حنا ربانی کھر نے عمران خان کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت داری اور ڈرون حملوں کے بارے میں کہا کہ اس وقت ڈرون حملے امریکی پالیسی کا حصہ تھے اور وہ اب نہیں ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر اس وقت عمران خان کی حکومت ہوتی تب بھی حملے ہوتے، اور اگر آج پی پی کی حکومت ہوتی تو آج یہ حملے نہ ہوتے۔

  15. ’لوگ نہ آپ کو بھولیں گے نہ اُن کو معاف کریں گے جو آپ کو ہینڈل کر رہے ہیں‘

    تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر منحرف ارکان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہ کہ ہم نوجوانوں کو کیا سبق دے رہے ہیں کہ عوامی نمائندوں کی قیمتیں لگی ہوئی ہیں؟

    عمران خان نے کہا کہ کوئی یہ نہیں مانے گا کہ ان تینوں کے پاس لوگ اس لیے جا رہے ہیں کہ آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان نظریاتی لوگ ہیں۔

    اُنھوں نے کہاکہ اُنھیں ابھی بھی امید ہے کہ جو لوگ سودا کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اُن پر ہمیشہ کے لیے مہر لگنے والی ہے، آپ کی اس بات کو لوگ کبھی نہیں بھولیں گے، اور نا ہی ان کو بھولیں گے اور معاف کریں گے جو آپ کو ہینڈل کر رہے ہیں کہ ایک ایسی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جس کی آزاد خارجہ پالیسی تھی۔

  16. بریکنگ, اتوار کو ووٹنگ ہو گی، ملک کی قسمت کا فیصلہ ہو گا، عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    عمران خان نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر اتوار کو ووٹ ہو گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اتوار کو ملک کا فیصلہ ہونے لگا ہے کہ ملک کس طرف جائے گا۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمارے انصاف کے نظام میں صلاحیت نہیں کہ اربوں روپے کے کیسز ہیں لیکن ان کے خلاف کچھ نہیں ہو رہا۔

    ’یہ کہتے ہیں ملک خراب ہو گیا، لیکن کیا یہ حالات ساڑھے تین سال میں ہو گئے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ ساڑھے تین سال میں جو ہم نے کیا، ان کے کسی دور میں نہیں ہوا۔‘

    عمران خان نے اپوزیشن سے مخاطب ہو کر کہا کہ 30 سال سے تو آپ باریاں لے رہے ہیں، ساڑھے تین سال میں ایسے کون سے معاملات خراب ہو گئے؟

    ’قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون کدھر جائے گا۔ مجھے لوگوں نے کہا کہ استعفی دے دیں۔ میں آخری گیند تک مقابلہ کرتا ہوں۔ میں نے زندگی میں کبھی ہار نہیں مانی۔ جو بھی رزلٹ ہوا، اس کے بعد میں اور تگڑا ہو جاؤں گا۔‘

  17. ’کیا یہ ہماری حیثیت ہے کہ ہم سے باہر کا کوئی ملک ایسی کوئی گفتگو کرے؟‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    مبینہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں اب سے کچھ دیر قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ یہ اس ملک میں پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو لکھا گیا خط تھا۔

    اس حوالے سے عمران خان نے کہا کہ یہ سرکاری دستاویز ہے، ہمارے سفیر نوٹس لے رہے تھے۔ میرا سوال ہے کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے کہ ہم سے باہر کا کوئی ملک ایسی کوئی گفتگو کرے؟

    اُنھوں نے کہا کہ اس غیر ملکی عہدیدار نے اعتراض کیا کہ عمران خان نے روس جانے کا فیصلہ کیا، حالانکہ اس وقت دفتر خارجہ، عسکری قیادت سے پوری مشاورت ہوئی، ہمارے سفیر نے بھی ان کو بتایا، لیکن انھوں نے کہا کہ نہیں، یہ صرف عمران خان کی وجہ سے ہوا۔

    اپوزیشن کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ ان کے رابطے ان لوگوں سے ہیں جن کے ذریعے سازش ہو رہی ہے۔ یہ ہیں تین سٹوجز۔ کیا یہ اپنے ملک میں اجازت دیں گے کسی کو قیادت میں آنے کی اجازت دیں گے جن پر اربوں روپے کے کرپشن کے مقدمے ہوں؟

    ’شہباز شریف نے کہا کہ یہ دستاویز ٹھیک نہیں۔ آج پارلیمنٹ کی کمیٹی میں جب یہ رکھی گئی تو آپ نے کیوں نہیں آ کر دیکھی۔ پہلے کابینہ کے سامنے رکھی، پھر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور فوجی سربراہان کے سامنے رکھی، پھر پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھی۔‘

  18. مبینہ دھمکی آمیز خط کا معاملہ، عمران خان کے لب پر امریکہ کا نام اور پھر تصحیح

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں بالآخر اس ملک کا نام لے لیا جس کے عہدیدار نے مبینہ طور پر پاکستانی سفیر سے دھمکی آمیز گفتگو کی۔

    پہلے اُنھوں نے امریکہ کا نام لیا، پھر گویا اُنھیں احساس ہوا کہ اُنھیں نام نہیں لینا تھا اور پھر اسے ’ایک ملک‘ کہا۔

    عمران خان نے کہا کہ میں آج آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ابھی ہمیں امریکہ نے ایک، باہر سے ایک ملک سے پیغام آتا ہے۔ یہ کسی آزاد ملک کے لیے جس طرح کا پیغام آیا، جو وزیر اعظم کے خلاف ہے، قوم کے خلاف ہے، کیوں کہ اس میں واضح لکھا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد آ رہی ہے، ان کو پہلے ہی پتہ چل گیا۔

    عمران خان نے کہا کہ یعنی ان کے باہر لوگوں سے رابطے تھے۔

    اُنھوں نے کہا کہ مزیدار چیز یہ ہے کہ یہ قیادت یا حکومت کے خلاف نہیں صرف عمران خان کے خلاف ہے۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ خط کے مطابق ہم معاف کر دیں گے پاکستان کو اگر عمران خان عدم اعتماد میں ہار جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ تحریک ناکام ہو جاتی ہے تو پاکستان کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  19. وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کے آغاز میں کہا کہ میں نے قوم کے مستقبل پر اہم بات کرنی ہے اسی لیے فیصلہ کیا کہ براہ راست بات کی جائے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دو راستے ہیں، اور ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون سا راستہ لینا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے پہلے وہ قوم سے دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو سیاست میں آنے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن میرے پاس شہرت، پیسہ، سب کچھ تھا، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان مجھ سے صرف پانچ سال بڑا ہے۔ ’میرے ماں باپ انگریز کے دور میں پیدا ہوئے تھے، مجھے وہ کہتے تھے تم خوش قسمت ہو کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ایک بات کہی کہ میں کسی خود جھکوں گا نا قوم کو کسی کی غلامی کرنے دوں گا۔ جب مجھے اقتدار ملا تو فیصلہ کیا کہ آزاد خارجہ پالیسی ہو گی، ہمارے مفادات کے لیے ہو گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کے خلاف ہوں گے، یا اینٹی امریکہ یا اینٹی انڈیا ہوں گے۔

    گیارہ ستمبر کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت پر اُنھوں نے کہا کہ میں پرویز مشرف کے دور میں اسی کمرے میں ایک میٹنگ میں ساری پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ تھا جب کہا گیا کہ اگر امریکہ کی حمایت نہیں کی تو وہ غصے میں ہمیں نا مار دے۔ میں نے بار بار کہا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

  20. وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب دوسرے دن بھی تاخیر کا شکار

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قوم سے خطاب جمعرات کے دن بھی مقررہ وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔

    واضح رہے کہ بدھ کے دن حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان شام کو قوم سے خطاب کریں گے۔

    تاہم بعد ازاں حکومتی وزرا کی جانب سے کہا گیا کہ خطاب موخر کر دیا گیا ہے۔

    جمعرات کی دوپہر کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے کہا گیا کہ وزیر اعظم شام سوا سات بجے قوم سے براہ راست خطاب کریں گے۔

    تاہم رات آٹھ بجے تک بھی وزیر اعظم عمران خان کا خطاب شروع نہیں ہو سکا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    اس کے علاوہ شہباز گل نے بتایا ہے کہ عمران خان کا خطاب سوشل میڈیا پر لائیو دکھایا جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام