اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔
لائیو کوریج
شہباز شریف کے پاس مہنگائی کے خلاف کیا حل ہے؟ عمران خان
عمران خان نے مہنگائی اور گورننس کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تیل ہم باہر سے حاصل کرتے ہیں تو شہباز شریف کے پاس اسے سستا رکھنے کے لیے کیا حل ہے؟
عمران خان نے کہا کہ پاکستان ترسیلاتِ زر، اضافی ٹیکس محصولات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم سے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دے رہا ہے۔
عمران خان: مشرف کی سب سے بڑی غداری مارشل لا نہیں، این آر او تھی
عمران خان نے کہا کہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے سیاستدانوں کو این آر او اپنی حکومت بچانے کے لیے دیا، ’مجھے کوئی ضرورت نیہں تھی کہ میں اپنی حکومت بچاؤں، مشرف نے سب سے بڑی غداری مارشل لا لگا کر نہیں بلکہ این آر او دے کر کی۔‘
اُنھوں نے کہا کہ مشرف کے ہاتھ میں پورے ملک کے ادارے تھے تب بھی اُنھوں نے ان لوگوں کو معاف کر دیا جو کہ ’سب سے بڑا ظلم‘ ہے۔
کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا، عمران خان
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان کو مضبوط فوج کی بہت ضرورت ہے۔
اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہ لوگ آئے فوج (کی مدد سے) تھے اور کسی نے پاکستان کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا (شریف برادران) نے پہنچایا۔
اُنھوں نے کہا کہ اور پھر آصف زرداری کے آنے کے بعد سے ان تینوں کے باعث پاکستان خطے میں سب سے پیچھے رہ گیا۔
عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز پاکستانی فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔
وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس میں اپوزیشن پر تنقید
اس وقت حکومت کے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور حماد اظہر اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی شہباز گل میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ عدام اعتماد میں 48 گھنٹے باقی ہیں اور ہر ایک منٹ اہم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اپوزیشن پاکستان کے خلاف سازش میں شامل ہے اسی لیے کل اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آئے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کسی کو باہر بیٹھ کر پاکستانی حکومت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
وفاقی وزیرِ توانائی حماد اظہر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اس وقت سے بہتر ہے جو مسلم لیگ (ن) کے دور کے اختتام پر تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار (ن) لیگ کی وجہ سے لٹکی ہے۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پچھلے دور کے مقابلے میں بڑھ رہے ہیں۔
’امید ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا‘، بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اُن کا سپیکر قومی اسمبلی اور تمام اداروں کو پیغام ہے کہ ہوش کے ناخن لیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے بعد فوراً انتخابات چاہتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہم معاشی استحکام اور خارجہ پالیسی میں استحکام چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ نئے مینڈیٹ کے ساتھ حکومت ان مسائل کا حل کرے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اتوار کو ووٹنگ ہے اور ہمیں امید ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس: ’جمہوری طریقہ کار کو متنازع نہ بنایا جائے‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد واحد پارلیمانی، جمہوری، آئینی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے وزیرِ اعظم کو ہٹایا جا سکتا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس جمہوری طریقہ کار کو متنازع نہ بنایا جائے۔
اُنھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شکست کھا چکے ہیں، اب اُن کے ایسا ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
شہباز شریف: کہا گیا کہ سعودی عرب کے بغیر کشمیر کا مقدمہ لڑ لیں گے
،تصویر کا ذریعہPMLN
خارجہ پالیسی معاملات پر مزید بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان کے محسن ملک سعودی عرب کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار نہیں رکھے۔
اُنھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے بغیر ہی کشمیر کا مقدمہ لڑ لیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگر امریکہ نے پاکستان کو دھمکی دی تھی تو پھر او آئی سی کے اجلاس میں امریکی عہدیدار کی آؤ بھگت کیوں کی گئی اور کہا گیا کہ او آئی سی ممالک اور امریکہ کے درمیان ایک اچھا تعلق قائم ہوا ہے۔
پی ٹی آئی نے سب سے پہلے سی پیک پر دشنام طرازی کی، شہباز شریف
شہباز شریف نے عمران خان کو خارجہ پالیسی کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک، اسد عمر وغیرہ نے سی پیک کے خلاف دشنام طرازی کی اور انھیں سرمایہ کاری کے بجائے قرضوں کی سکیم کہا۔
اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں سی پیک کے تحت شروع ہونے والے بجلی کے منصوبے چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری تھی جبکہ دیگر انفراسٹرکچر منصوبے دو فیصد سے کچھ اوپر کی شرح پر قرضوں سے بنائے گئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسد عمر نے بے بنیاد طور پر یہ دعویٰ کیا کہ یہ قرضے آٹھ فیصد کی شرح پر حاصل کیے گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اپوزیشن کے خلاف درجنوں مقدمات بنائے گئے، اپنے سکینڈلز پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، شہباز شریف
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن کے خلاف درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تاہم ایک میں بھی ٹھوس ثبوت عدالتوں کو مہیا نہیں کیے گئے۔
اُنھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں اپنے کئی سکینڈلز سامنے آئے جن میں مالم جبہ اور پشاور بی آر ٹی شامل ہیں مگر کوئی بھی معاملہ نیب کو نہیں بھیجا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بڑے بڑے سکینڈلز ہوئے اور ہر بار یہ کہا گیا کہ کمیشن بنا دیے گئے ہیں مگر کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پونے دو سال تک اُن کے اور اُن کے بیٹے کے خلاف پوری دنیا میں ثبوتوں کی تلاش کی گئی۔
سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اتنے برسوں پر محیط احتسابی عمل کے باوجود شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے معاملات ثابت نہیں ہوئے۔
بریکنگ, عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور، نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے سنیچر کو اجلاس طلب
گورنر پنجاب چوہدری سرور نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
اب سنیچر 2 اپریل کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہو گا جس میں نئے وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جگنو محسن کا مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان
رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
جگنو محسن، جن کا اصل نام سیدہ میمنت محسن ہے، 2018 میں اوکاڑہ سے آزاد حیثیت میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ بطور صحافی وہ ماضی میں مقامی ٹی وی چینلز پر بھی نظر آتی رہی ہیں۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا مسلم لیگ ن سے پرانا تعلق رہا ہے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے۔
شہباز شریف: ’مودی کی خارجہ پالیسی کی تعریف کشمیریوں کی قربانیوں کی توہین ہے‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’عمران خان نے جس طرح ملک کے عالمی مفادات کو خطرے میں ڈالا، اس پر حیران ہوں۔‘
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے ان کی بار بار تعریف کرنا ہندوتوا کے خلاف بہادر کشمیریوں کی قربانیوں کی توہین ہے۔
’ہماری خارجہ پالیسی کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا کوئی حساب نہیں لگایا جاسکتا۔‘
بظاہر شہباز شریف کا اشارہ وزیر اعظم کی جانب سے آج اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں دیے گئے خطاب کی طرف تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کو داد دوں گا کہ ان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ آزاد رہی ہے۔‘
’عمران خان نے کرسی بچانے کی خاطر خارجہ امور داؤ پر لگا دیے‘
،تصویر کا ذریعہTWITTER
ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک نے پاکستان کو دھمکی آمیز خط نہیں لکھا بلکہ یہ ایک سفارتی مراسلہ ہے۔ ’مراسلے کا جواب سفارتی طریقے سے دینے کے بجائے اسے کرسی بچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
جاری کردہ بیان انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے پارلیمان کو بے اثر کرکے شخصی آمریت قائم کی تھی۔ ’نالائق وزیراعظم کی وجہ سے ملک
عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’وزیر اعظم عمران خان نے کرسی بچانے کی خاطر ملک کے خارجہ امور داؤ پر لگا دیے ہیں۔‘
حکومتی وزرا کی جانب سے بیرونی سازش کے الزامات پر شازیہ مری
نے وضاحت دی کہ ’اپوزیشن آئینی اور جمہوری عمل کے
ذریعے نالائق وزیراعظم کو گھر بھیج رہی ہے۔‘
وزیر اعظم عمران خان کا تقریر میں امریکہ کا نام لینا، ’غلطی‘ یا ’شرارت‘؟
وفاق کے بعد پنجاب میں سیاسی ہلچل میں اضافہ، حکومت سازی کے لیے حکومت و اپوزیشن متحرک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا ہے وہیں پنجاب میں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعت ق لیگ حکومت سازی کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔
وزیرِ دفاع پرویز خٹک کے پنجاب میں سیاسی رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے رابطے ہوئے ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کے لیے صوبائی وزرا بھی چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔
تحریک انصاف کے ناراض ارکان کو منانے کے لیے صوبائی وزرا پر مشتمل کمیٹیاں آج اہم ملاقاتیں کریں گی جس میں ق لیگ کے رہنما اور موجودہ سپیکر صوبائی اسمبلی پرویز الٰہی کو وزیرِ اعلیٰ بنانے کے لیے کوششوں میں تیزی آئے گی۔
اسی سلسلے میں آج وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اسلام آباد جائیں گے۔
آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں ایک جانب تو وفاق میں تحریک عدم اعتماد کی نمبر گیم میں اپوزیشن کی خاصی مستحکم پوزیشن دکھائی دے رہی ہے، وہیں صوبہ پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ بنانے کے حوالے سے بھی ملاقاتوں میں تیزی آ رہی ہے۔
اسی سلسلے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج شام چھ بجے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہو گا اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری اجلاس کی صدارت کریں گے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پنجاب کے آئندہ سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے ٹیم تشکیل دے دی ہے جس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق گورنر مخدوم احمد محمود، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ، پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی سید حسن مرتضیٰ، سابق ایم این اے ندیم افضل چن اور ایم پی اے علی حیدر گیلانی شامل ہوں گے۔
عمران خان: ’جو ڈالر ہمیں ملے اس سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا‘
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ کے دوران قوم و ملک کی سکیورٹی کو ترقی میں مساوات، رول آف لا اور دوسرے ممالک پر انحصار سے جوڑا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’فوج سکیورٹی نہیں دے سکتی۔ عوام سکیورٹی دیتی ہے جب سب اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے کمزور طبقے کا خیال رکھتی ہے، اصل میں سکیورٹی وہ ہے۔ جب تک ہر انسان کا سٹیک نہیں ہوتا وہ غیر محفوظ رہیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انسکیورٹی میں سب سے بڑا ہاتھ ترقی میں عدم مساوات کا ہے۔‘
’رول آف لا دوسری بڑی وجہ ہے۔ جو معاشرا طاقتور مجرموں کو قانون کے اگے نہیں لاسکتا وہ ترقی نہیں کرسکتا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں پاکستان میں خارجی امور کے فیصلے قومی مفاد کے بجائے امداد کی بنیاد پر کیے گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہم نے افغان جہاد میں شرکت کی تو اس کا کبھی آزادانہ جائزہ نہیں ہوا۔ ڈالر اور ایڈ کی وجہ سے افغان جہاد میں شرکت کی۔ جو ڈالر ہمیں ملے اس سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ پناہ گزین، دہشتگردی اور فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں۔‘
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’قوم جتنی مزاحمت کرتی ہے وہ اتنی مضبوط ہوتی ہے۔۔۔ ہم نے امداد کی بنیاد پر فیصلہ کیا، لوگوں کی بہتری کا نہیں سوچا۔ جس ملک کی آزاد خارجہ پالیسی نہیں وہ اپنی قوم کا مفاد نہیں دیکھ سکتے۔‘
بریکنگ, ’انڈیا کی خارجہ پالیسی کو داد دوں گا‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ماضی میں آزادی اور خودداری نہ مل سکی مگر اپنے دور میں انھوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ہمسایہ ملک انڈیا کی خارجہ پالیسی کی تعریف کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا کو داد دوں گا کہ ان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ آزاد رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ساڑھے تین سالہ دور میں ’ہم نے سعودی عرب، ایران اور ترکی کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے امن عمل کو آگے بڑھایا۔ پرانے دوستوں کو بڑا غصہ چڑھا کہ روس کیوں چلے گئے۔‘
’یورپی کونسل کے صدر نے فون کر کے کہا کہ چین سے تنازع حل کرنے کی کوشش کریں۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے فون کر کے کہا کہ چین سے مل کر اس مسئلے کو حل کریں۔‘
وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ’(ماضی میں) ہم نے امداد کی بنیاد پر فیصلے کیے۔ لوگوں کی بہتری کا نہیں سوچا۔ جس ملک کی آزاد خارجہ پالیسی نہیں وہ اپنی قوم کا مفاد نہیں دیکھ سکتا۔
’ہم ساڑھے تین سال میں بلاکس کی سیاست سے بچے۔ 22 کروڑ لوگوں کے فائدہ میں کیا ہے، پالیسی اس بنیاد پر بنائی۔‘
بریکنگ, عمران خان: ’ایک طاقتور ملک نے کہا آپ روس کیوں چلے گئے‘
،تصویر کا ذریعہEPA
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی سطح پر عزت ملی ہے۔
اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بڑا ناراض ہو کر ایک طاقتور ملک نے کہا آپ روس کیوں چلے گئے۔ وہ غصہ ہوگئے۔
’انڈیا جو کواڈ میں ان کا اتحادی ہے اس کی پوری مدد کر رہے ہیں۔ انڈیا روس سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ میں آج بیان پڑھ رہا ہوں برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری کا کہ انڈیا کو کچھ نہیں کہہ سکتے وہ آزاد ریاست ہے۔ تو ہم کیا ہیں؟‘
عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جنھوں نے اچکنیں سلوائی ہوئی ہے وہ کہہ رہے ہیں امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کی وجہ سے یہاں پہنچے ہیں۔ قوم کے نہیں ایلیٹ کے مفاد میں قوم کو قربان کیا ہے۔ ساری دنیا میں پاکستان کو ذلیل کیا۔
’ان کے پیسے باہر پڑے ہیں۔ اس لیے ہمارے سارے ملک کی عزت کو داؤ پر لگا دیا۔ اس ملک کی عزت نہیں ہوتی جو اپنی عزت نہیں کرتا۔ ان کے اخباروں کو پتا چلے تو ان کی انتظامیہ کو اپنے اخباروں سے خوف آئے۔‘
’پاکستان کے ذمہ داران فوری انتخابات کا اعلان کریں‘
وزیر داخلہ شیخ رشید نے ’پاکستان کے ذمہ داران‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ ’روزوں کے بعد نہیں تو حج کے بعد فوری انتخابات کا اعلان کیا جائے تاکہ قوم فیصلہ کرے۔‘
انھوں نے راولپنڈی میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ ’پاکستان کے ذمہ داران سے کہتا ہوں کہ دنیا میں بحران ہے۔۔۔ دنیا میں ہم بہت اہم علاقائی جگہ پر واقع ہیں۔۔۔ آگے بڑھیں اور اس ملک میں روزوں کے بعد نہیں تو حج کے بعد الیکشن کا اعلان کریں۔‘
’فوری اعلان ہونا چاہیے تاکہ قوم فیصلہ کرے۔ منصفانہ انتخاب میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق ایسے لوگوں کو نہ لائیں جو پیسوں کی خاطر ضمیر فروشی کرتے ہوں۔‘
انھوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا ’پتا نہیں کل میں نے سیاست میں ہونا ہے یا کہاں ہونا ہے۔‘
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’آج سارے عمران خان کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں۔ میں چٹان کی طرح عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ ’راولپنڈی شہر غداروں کو پسند نہیں کرتا۔ لوگ نہیں چاہتے یہ غریبوں کی بستیاں ترقی کریں۔ غریب طبقہ مشکلات کا شکار ہے، بجلی مہنگی ہوئی ہے۔۔۔ اس کے باوجود وہ عمران خان کو پسند کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو چاہے عدم اعتماد کامیاب ہوجائے مگر ’ان سے وہ شکست نہیں مانے ہیں۔‘
’اگر چوک اور چوراہے کی سیاست ہوئی تو بچہ بچہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔‘