سپریم کورٹ میں آج صدارتی ریفرینس پر سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی نظام جمہوریت میں پارٹی پالیسی کی اپنی اہمیت ہے جس پر پاکستان مسلم لیگ نون کے وکیل کا کہنا تھا کہ وقت اور حالات کے تحت ہمیشہ ارتقائی عمل جاری رہتا ہے۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ آج جس چیز کو غیر آئینی کہا کل کو وہ آئینی ہوسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھیجا گیا صدارتی ریفرنس محض تصوراتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی اپنے شعور کے تحت ووٹ ڈال سکتا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی انتخابی نشان پر انتخاب لڑتا ہے اور پر پارٹی کا اپنا انتخابی نشان ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام پارٹیاں زیادہ تر الیکٹیبلز کو ہی ٹکٹ دیتی ہیں۔
اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ سیاست ہے پارٹی ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ ٹکٹ اس کو دیا جائے جو جیت سکے۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر کوئی آزاد امیدوار جیت جائے تو وہ تمام پارٹیوں کو شکست دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جیت کے بعد کسی کے ساتھ شامل ہو جائے تو یہی تصور کیا جاتا ہے کہ ووٹر سے بے وفائی کر لی۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو پارٹی پالیسی کا پابند ہوگا لیکن یہ ممکن ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر آرٹیکل 63 کا اطلاق نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ آزاد ممبر کی سیاسی پارٹی میں شمولیت کے بعد انحراف پر سیاسی نتائج ہوسکتے ہیں۔ بینچ کے سربراہ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ آپ اگلے نکتے پر دلائل دیں جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دلائل میں سیاسی سوالات سے متعلق عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات پیش کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت کہہ چکی ہے کہ سیاسی سوالات سے اجتناب کیا جائے اور عدالت صرف قانونی سوالات کے جوابات دینے کی پابند ہے۔
انھوں نے کہا کہ خارجہ امور، معاشی معاملات، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے معاملات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات عدالتی معیار پر پورے نہیں اترتے تو عدالت اُنھیں مسترد کرسکتی ہے۔
بعد میں اس صدارتی ریفرنس کی سماعت چار اپریل تک ملتوی کردی گئی۔