جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل
کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس عدالتی فیصلے کا جس فیصلے کا وہ حوالہ دے رہے ہیں وہ
الیکشن سے پہلے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو
کردیں۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل
کا کہنا تھا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل خالد
جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تواور
کیا چاہتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو
اور جب الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ آئے گا تو دیکھا جائے گا۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا
کہ اس صدارتی ریفرنس میں طریقہ کار سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا
گیا جبکہ سوال نااہلی کی مدت اور ووٹ شمار ہونے کا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی
جنرل سے سوال کیا کہ کیا وہ مستقبل
کے لیے ریفرنس لائےہیں ؟ ان کا کہنا تھا
کہ منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اگر تمام سیاسی جماعتوں کا نہیں ہے تو پھر
یہ معاملہ پارلیمنٹ سے حل کروائیں۔
سماعت کے آخر میں جسٹس منیب
اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ کافی پچیدہ معاملہ ہے اور اس کے لیے پورے متعلقہ آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا۔
دوسری جانب چیف جسٹس عمر بندیال
نے ریمارکس دیے کہ اگر 15 سے 20 اراکین ڈی سیٹ ہو جاتے ہیں تو وزیراعظم پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ
کیسے لیں گے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کم اکثریت پر بھی وزیراعظم برقرار رہ سکتے
ہیں؟
اس پر اٹارنی جنرل خالد
جاوید کا کہنا تھا کہ صدرمملکت وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔
اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کل
تک ملتوی کر دی گئی ہے۔