اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے درکار نمبرز دکھانے کے بعد اپوزیشن جیت چکی ہے اور اب وزیر اعظم اور سپیکر معاملہ لٹکا کر آئین شکنی کر رہے ہیں۔
شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیکر نے ایوان کے اندر پارلیمانی رواج کی دھجیاں اڑائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سپیکر کا اختیار ہے کہ وہ جس دن چاہیں ووٹنگ کروا لیں، لیکن آپ نے دیکھا کس طرح ڈپٹی سپیکر نے جب دیکھا کہ سب ووٹنگ چاہتے ہیں تو وہ اٹھ کر اندر بھاگ گئے۔
میں نے سیکریٹری سے پوچھا کہ یہ کیا کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے سپیکر کو بتایا تھا، لیکن یہ ان کی مرضی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آٹھ مارچ سے 31 مارچ کے دوران آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، 22 کروڑ عوام کے مینڈیٹ اور خواہشات پر تحریک عدم اعتماد آئی، عدالت دیکھ رہی ہے، ملک پریشان ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔
آج 172 کا نمبر جو عدم اعتماد کے لے درکار ہے، وہ متحدہ اپوزیشن کی چھتری تلے اکٹھا تھا۔
اس کے بعد کیا وزیر اعظم کے پاس کوئی اخلاقی، قانونی، آئینی جواز باقی ہے؟ اگر وہ معاملہ لٹکانا چاہتے ہیں، تو وہ اور سپیکر آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے پانچ بجے زبانی پیغام ملا خط کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کا، لیکن یہ خط فراڈ ہے۔ اس طرح کے میموز آتے رہتے ہیں، ثبوت لائیں کس نے مداخلت کی۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’متحدہ اپوزیشن نے 175 افراد اسمبلی میں دکھائے اور واضح کیا کہ وزیر اعظم کے پاس کوئی راستہ نہیں۔
سپیکر کو آج استعمال کیا لیکن کب تک بھاگیں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’ھمارے پاس اکثریت ہے، اتحادی ہمارے ساتھ شامل ہو چکے ہیں، کوئی راستہ، بیک ڈور نہیں بچا، صرف عزت دارانہ طریقہ یہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں اور شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹ کا موقع دیں۔‘
’وزیر اعظم پر امن اور جمہوری، آئینی طریقے سے گنتی کروائیں تاکہ ملک کو اس بحران سے نکالا جائے۔
وزیر اعظم جو قدم اٹھا رہے ہیں، وہ صرف ان کے لیے نہیں، ملک کے لیے مشکل پیدا کر رہے ہیں، وہ جاتے جاتے خارجہ پالیسی، معیشت اور اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
جس طریقے سے ان کو اقتدار ملا وہ متنازع تھا، جس طریقے سے اقتدار چھینا گیا وہ تو جمہوری طریقہ ہے، سب ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد واپس لی جائے لیکن ہم اس پر تیار نہیں۔‘
اختر مینگل نے کہا کہ ’وزیر اعظم کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنی اکثریت ثابت کریں۔ اس وقت کے نمبرز میں پی ٹی آئی کے اراکین تو شامل ہی نہیں۔ پھر بھی وہ چپکے ہوئے ہیں کرسی سے۔‘