آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. فواد چوہدری کا منحرف اراکین کو پیغام: ’کیوں نا آپ کو نااہل قرار دیے دیا جائے؟‘

    وزیر اعظم عمران خان نے بطور چیئرمین تحریک انصاف منحرف پارٹی اراکین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ان کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام دیا گیا ہے کہ پارٹی چیئرمین نے منحرف اراکین کو نوٹس جاری کیا ہے۔

    ان کے مطابق نوٹس میں کہا گیا ہے کہ منحرف اراکین کل تک جواب دیں کہ ’کیوں نا ان کی مجلس شوریٰ (قومی اسمبلی) کی رکنیت ختم کر دی جائے اور ان کو نا اہل قرار دے دیا جائے؟‘

    فواد چوہدری کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں ایک فہرست بھی دکھائی گئی ہے جس میں 17 پارٹی اراکین کے نام شامل ہیں۔

    جن اراکین کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں کراچی سے پارٹی ایم این اے عامر لیاقت کے علاوہ جویریہ ظفر، فرخ الطاف، سمیع گیلانی، سید مبین عالم، عاصم نذیر، احمد حسین ڈیہڑ، عبد الغفار وٹو، ریاض مزاری، امجد فاروق کھوسہ، عامر گوپانگ، نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ، نزہت پٹھان، وجیہہ قمر، رمیش کمار، باسط بخاری، راجہ ریاض احمد اور رانا قاسم نون کے نام شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے جس پر سماعت جاری ہے۔

  2. قومی اسمبلی سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

    ہماری نامہ نگار فرحت جاوید ربانی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں جہاں قومی اسمبلی کا اجلاس مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان سے تازہ ترین صورتحال کے بارے میں جانتے ہیں۔

  3. قومی سلامتی کمیٹی میں خط کا باضابطہ چینلز کے ذریعے جواب دینے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مشیرِ قومی سلامتی نے کمیٹی کو مبینہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں بریفنگ دی۔

    کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق خط ایک ملک کے سینیئر عہدیدار، اور اس ملک میں تعینات پاکستانی سفیر کے درمیان رسمی ملاقات میں ہونے والی بات چیت پر مبنی تھا جسے باضابطہ طور پر سفیر نے وزارتِ خارجہ تک پہنچایا۔

    کمیٹی نے غیر ملکی عہدیدار کی جانب سے اس ملاقات میں استعمال کی گئی زبان کو ’غیر سفارتی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مذکورہ ملک کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں ’کھلی مداخلت‘ ہے جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔

    کمیٹی نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد میں اس ملک کے سفیر اور اس ملک کے دارالحکومت میں باضابطہ چینلز کے ذریعے سخت ردِ عمل دے گا۔

    اس اجلاس میں وفاقی وزرائے دفاع، توانائی، اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، مشیرِ قومی سلامتی اور دیگر سینیئر عہدیداروں نے شرکت کی۔

  4. وزیر اعظم اور سپیکر آئین شکنی کر رہے ہیں، اپوزیشن

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے درکار نمبرز دکھانے کے بعد اپوزیشن جیت چکی ہے اور اب وزیر اعظم اور سپیکر معاملہ لٹکا کر آئین شکنی کر رہے ہیں۔

    شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیکر نے ایوان کے اندر پارلیمانی رواج کی دھجیاں اڑائیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سپیکر کا اختیار ہے کہ وہ جس دن چاہیں ووٹنگ کروا لیں، لیکن آپ نے دیکھا کس طرح ڈپٹی سپیکر نے جب دیکھا کہ سب ووٹنگ چاہتے ہیں تو وہ اٹھ کر اندر بھاگ گئے۔ میں نے سیکریٹری سے پوچھا کہ یہ کیا کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے سپیکر کو بتایا تھا، لیکن یہ ان کی مرضی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آٹھ مارچ سے 31 مارچ کے دوران آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، 22 کروڑ عوام کے مینڈیٹ اور خواہشات پر تحریک عدم اعتماد آئی، عدالت دیکھ رہی ہے، ملک پریشان ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ آج 172 کا نمبر جو عدم اعتماد کے لے درکار ہے، وہ متحدہ اپوزیشن کی چھتری تلے اکٹھا تھا۔ اس کے بعد کیا وزیر اعظم کے پاس کوئی اخلاقی، قانونی، آئینی جواز باقی ہے؟ اگر وہ معاملہ لٹکانا چاہتے ہیں، تو وہ اور سپیکر آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے پانچ بجے زبانی پیغام ملا خط کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کا، لیکن یہ خط فراڈ ہے۔ اس طرح کے میموز آتے رہتے ہیں، ثبوت لائیں کس نے مداخلت کی۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’متحدہ اپوزیشن نے 175 افراد اسمبلی میں دکھائے اور واضح کیا کہ وزیر اعظم کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ سپیکر کو آج استعمال کیا لیکن کب تک بھاگیں گے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’ھمارے پاس اکثریت ہے، اتحادی ہمارے ساتھ شامل ہو چکے ہیں، کوئی راستہ، بیک ڈور نہیں بچا، صرف عزت دارانہ طریقہ یہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں اور شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹ کا موقع دیں۔‘

    ’وزیر اعظم پر امن اور جمہوری، آئینی طریقے سے گنتی کروائیں تاکہ ملک کو اس بحران سے نکالا جائے۔ وزیر اعظم جو قدم اٹھا رہے ہیں، وہ صرف ان کے لیے نہیں، ملک کے لیے مشکل پیدا کر رہے ہیں، وہ جاتے جاتے خارجہ پالیسی، معیشت اور اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جس طریقے سے ان کو اقتدار ملا وہ متنازع تھا، جس طریقے سے اقتدار چھینا گیا وہ تو جمہوری طریقہ ہے، سب ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد واپس لی جائے لیکن ہم اس پر تیار نہیں۔‘

    اختر مینگل نے کہا کہ ’وزیر اعظم کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنی اکثریت ثابت کریں۔ اس وقت کے نمبرز میں پی ٹی آئی کے اراکین تو شامل ہی نہیں۔ پھر بھی وہ چپکے ہوئے ہیں کرسی سے۔‘

  5. قومی اسمبلی کے اجلاس کے التوا کے باوجود اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی ایوان میں موجود

  6. طارق بشیر چیمہ کی اپوزیشن بینچوں پر نشست الاٹ کرنے کی درخواست

    مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر طارق بشیر چیمہ نے سپیکر قومی اسمبلی سے باقاعدہ طور پر اپوزیشن بینچوں پر نشست الاٹ کرنے کی درخواست کر دی ہے

  7. یا ووٹنگ کروائیں یا استعفیٰ دیں، اور کوئی راستہ نہیں: نفیسہ شاہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں اپوزیشن کے نمبر پورے تھے لیکن اس کے باوجود (ڈپٹی) سپیکر نے راہِ فرار اختیار کی۔

    نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اس طرح سے ایوان مفلوج ہو چکا ہے اور ووٹنگ نہ کروائی گئی تو آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس صرف دو راستے ہیں یا ووٹنگ کروائیں یا استعفیٰ دیں۔

    دوسری طرف سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اجلاس کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبر پورے ہیں اور اجلاس ملتوی ہونے سے عمران خان کو حکومت کے دو دن مزید مل گئے ہیں۔

  8. اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کی درخواست

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے طلب اجلاس کے ایجنڈا میں نئے وزیر اعظم کے چناو کو بھی شامل کیا جائے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل اپوزیشن کا وفد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے دفتر پہنچا تو سپیکر وہاں موجود نہیں تھے جس کے بعد یہ مطالبہ ایڈیشنل سیکریٹری محمد مشتاق کے سامنے رکھا گیا۔

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے دستخط شدہ درخواست میں سپیکر کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی پہلی درخواست میں لکھا گیا تھا کہ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک کی کامیابی کی صورت میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کو بھی ایجنڈا میں شامل کیا جائے۔

    درخواست کے مطابق قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط کے رول 32 (1) کے مطابق اگر وزیر اعظم کا عہدہ خالی ہوتا ہے تو پھر دیگر امور ایک جانب رکھ کر نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

    اپوزیشن لیڈر نے درخواست کی ہے کہ ان کی جانب سے اجلاس کی ریکوزیشن کے آئٹم نمبر دو کی تحریر میں مجوزہ تبدیلی کے ذریعے اس نکتے کو پارلیمانی قوائد و ضوابط کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

    شہباز شریف نے درخواست کی کہ اجلاس کے ایجنڈا میں اس بات کو شامل کیا جائے کہ اگر وزیر اعظم کا عہدہ خالی ہوتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 91 اور اسمبلی قوائد و ضوابط کے مطابق نئے قائد ایوان یعنی وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے۔

  9. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کی صبح ساڑھے 11 بجے تک کے لیے ملتوی

    اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے مسلسل تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے مطالبات کے بعد ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس اتوار کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

    ڈپٹی سپیکر کا کہنا تھا کہ ایوان کا ماحول ایسا نہیں کہ وقفہ سوالات یا بحث کی جائے۔

    اتوار کو ممکنہ طور پر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی کیونکہ آئین میں قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ووٹنگ کے لیے دی گئی مدت بھی اتوار کو ہی ختم ہو رہی ہے۔

    اجلاس کے التوا کے باوجود اپوزیشن کی جماعتوں کے ارکان اپنی نشستوں پر ہی موجود رہے اور گو عمران گو کے نعرے لگاتے رہے۔

  10. اسمبلی اجلاس: وقفہ سوالات میں اپوزیشن کا ووٹنگ کروانے کا مطالبہ

    قومی اسمبلی کا اجلاس اس وقت جاری ہے اور اس میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے صرف ایک ہی سوال کیا جا رہا ہے کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائیں۔

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے کہا گیا کہ وقفہ سوالات میں کوئی سنجیدہ سوالات نہیں کیے جا رہے۔

  11. فواد چوہدری: اگر آپ سازش میں شریک نہیں تو ثبوت دیکھنے کو تیار کیوں نہیں؟

    وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کی زیرِ سربراہی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں لائحہ عمل تیار کیا گیا جس میں تین فیصلے کیے گئے۔ پہلا، قابلِ اعتراض لیٹر ہے، جس میں حکومت بدلنے کا عندیہ دیا گیا ہے، اس کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں بحث کے لیے لایا گیا، اس کے بعد پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی میں پیش کیا گیا، اس کے بعد وہ قوم سے خطاب کریں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ آئینی طور پر حکومت کی تبدیلی میں حرج نہیں لیکن جس طرح یہاں تبدیلی کا ڈول ڈالا گیا، پہلے ہم نے کچھ پارلیمانی لیڈرز کو بلایا اور اپوزیشن والوں کو بھی بلایا، مگر ان کا بائیکاٹ یہ بتا رہا ہے کہ وہ اس سازش میں ملوث ہیں،

    فواد چوہدری نے کہا کہ اگر یہ آرگینک ہوتی تو وہ اس اِن کیمرا اجلاس میں شریک ہو کر کیوں ثبوت دیکھنے کو تیار نہیں؟ اگر آپ شہادتیں دیکھنے سے ہی انکاری ہیں تو صرف ایک نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ اپوزیشن لیڈر اس سازش میں پوری طرح شریک ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس سازش میں پوری اپوزیشن شامل نہیں، ہو سکتا ہے کہ ہمارے بہت سے ایم این ایز کو بھی یہ پتا نہ ہو، ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ اس فیصلے کو ریویو کریں، میٹنگ میں آئیں اور خود وہ دستاویز دیکھیں جس پر ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کو ہٹانے کی مہم ایک بین الاقوامی حکومت کی خواہش پر ترتیب دی گئی۔

    فواد چوہدری نے مزید کہا کہ عمران خان آخری گیند تک لڑنے والے کھلاڑی ہیں اور استعفیٰ نہیں دیں گے۔ یہ لڑائی پاکستان کی خود مختاری اور آزاد ملک ہونے کی لڑائی ہے، آزاد ملکوں اور آزاد خارجہ پالیسی کی قیمت سٹینڈ لینے والے لوگوں کو دینی پڑتی ہے۔

    وفاقی وزیرِ توانائی حماد اظہر نے کہا کہ جب وہ لیٹر لکھا گیا اس وقت تحریکِ عدم اعتماد پیش نہیں ہوئی تھی اور بیرونی قوت اس بات پر بھی بڑی پراعتماد ہے کہ حکومت بدلی تو پاکستان کی خارجہ پالیسی بدلے گی جس سے وہ دوبارہ اس کو کنٹرول کر سکیں گے، اس سے یہ بھی عندیہ مل سکتا ہے کہ پاکستان کی خود مختار خارجہ پالیسی کا ذمہ دار صرف عمران خان صاحب کو سمجھا جاتا ہے۔

  12. بریکنگ, ایک گھنٹے کی تاخیر سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہو گیا ہے۔

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اس اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے آغاز پر جہاں چند حکومتی وزرا اور ارکان ایوان میں موجود ہیں جبکہ اپوزیشن کے ارکان کی بڑی تعداد اجلاس میں شرکت کے لیے آئی ہوئی ہے۔

  13. قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار, حمیرا کنول، بی بی سی

    سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد پر بحث کے لیے اجلاس شام چار بجے طلب کیا گیا تھا تاہم یہ اجلاس تاحال شروع نہیں ہو سکا۔

    ابھی بہت کم حکومتی اراکین پارلیمنٹ آئے ہیں تاہم اپوزیشن کے ارکان کی ایک بڑی تعداد ایوان میں موجود ہے۔ زیادہ تر اراکین اپنی نشستوں پر موجود ہیں تاہم کچھ ایک دوسرے کے پاس جا کر گاہے گاہے گفتگو کر رہے ہیں۔

    مہمانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر اپوزیشن جماعتوں کے بہت سے رہنما دکھائی دے رہے ہیں۔

    صحافیوں کی ایک بڑی تعداد سیشن کے آغاز کا انتظار کر رہی ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ سیشن کے آغاز میں اب بھی کچھ اور تاخیر ہو گی۔

  14. خواجہ آصف: خط ’این آر او‘ مانگنے کے سلسلے کی کڑی ہے، جب موصول ہوا تھا تب کیوں نہ جاری کیا گیا؟

    قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ ملک اس وقت وزیرِ اعظم کے بغیر چل رہا ہے اور ان کی حرکات و سکنات غیر قانونی ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جمہوری فارمولا عدم اعتماد کی تحریک ہے جو پیش ہو چکی ہے، اب عمران خان کے پاس ’آبرومندانہ راستہ‘ یہ ہی ہے کہ وہ فی الفور استعفیٰ دیں۔

    سابق وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جلسوں میں لہرانے اور میڈیا کے ساتھ مندرجات شئیر کرنے کے بجائے مبینہ دھمکی آمیز خط پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث کروائی جاتی تو پارلیمنٹ دیکھتی کہ یہ خط کیا ہے، کس نے بھجوایا ہے، اس کی ساکھ کو دیکھتی۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُن کے تجربے میں ایسے مراسلے معمول کے سفارتی عمل کا حصہ ہوتے ہیں اور متعلقہ ممالک میں سفراءاپنی آرا اور تجزیات کو مراسلوں کی شکل میں بھجواتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ خط عمران خان کی جانب سے ’این آر او‘ مانگنے کے سلسلے کی کڑی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران یہ معاملہ کیوں سامنے آیا اور خط جب موصول ہوا تھا تو اس وقت اسے جاری کیوں نہ کیا گیا؟

  15. ثالثی کی کبھی مخالفت نہیں کرنی چاہیے لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، سعد رفیق

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل سیاسی گرما گرمی کے ماحول میں حکومت کی جانب سے ان خبروں کی تردید کی گئی ہے جن کے مطابق وزیر اعظم نے اپوزیشن کو کوئی پیغام بھجوایا ہے جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم کو این آر او نہیں دیں گے۔

    مسلم لیگ ن رہنما رانا ثنا اللہ سے جب پارلیمنٹ میں صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا ان خبروں میں کوئی صداقت ہے کہ تحریک انصاف یا وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو کوئی آفر کی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی تو انھوں نے جواب دیا کہ عمران خان نے این آر او مانگا ہے لیکن ان کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر ذرائع سے خبر نشر کی گئی کہ اپوزیشن کو حکومت کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر تحریک عدم اعتماد واپس لے لی جائے تو ایسی صورت میں اسمبلیاں تحلیل کی جا سکتی ہیں۔

    دوسری جانب ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے پارلیمنٹ میں صحافیوں کی جانب سے موجودہ سیاسی بحران میں ثالثی کے سوال پر کہا کہ ثالثی بری چیز نہیں ہے، ثالثی کی کبھی مخالفت نہیں کرنی چاہیے لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔

  16. بریکنگ, عمران خان کو ’این آر او‘ نہیں دیا جائے گا، اپوزیشن کا اعلامیہ

    متحدہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کو کوئی ’این آر او‘ نہیں دیا جائے گا۔

    جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر سربراہی متحدہ اپوزیشن کے قائدین کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی گئی۔

    اجلاس میں متحدہ اپوزیشن اور اس کا ساتھ دینے والی جماعتوں کے 172 ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔

    اپوزیشن نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے درکار نمبر موجود ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اپوزیشن عمران خان کو کوئی ’این آر او‘ نہیں دے گی۔

    اپوزیشن نے اعادہ کیا کہ وزیرِ اعظم اکثریت کھو چکے ہیں اور اب وہ وزیر اعظم کے منصب پر غیر آئینی طور پر قابض ہیں۔

    اجلاس میں حکومتی مشینری بشمول آئی جی اسلام آباد، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات نہ مانیں بصورتِ دیگر ’ایک سیاسی جماعت کا آلہ کار‘ بننے کی کوشش کرنے والے حکام کو آئین اور قانون کا سامنا کرنا ہو گا۔

  17. قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اجلاس کچھ دیر میں

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں کیا بحث ہو گی، جانئیے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے

  18. شہباز گل: عمران خان نے محفوظ راستہ نہیں مانگا نہ استعفیٰ دیں گے

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے اپوزیشن کو کسی قسم کا کوئی پیغام بھیجا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے محفوظ راستہ مانگا۔ وزیر اعظم ان چوروں سے راستہ مانگیں گے؟ وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے، وہ شان سے اس لڑائی میں جائیں گے۔ ان کی لڑائی اس سامراج سے ہے جو پاکستان میں حکومتیں گراتے اور بناتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آپ دیکھیئے گا کہ کوئی کسی کا بھی ووٹر ہو، وہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا، پیغام جائے گا کہ پاکستان کا وزیر اعظم کون ہو گا، اس کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، کسی کی دھونس اور دھمکی سے نہیں۔‘

  19. اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس، 172 ارکان شریک, منحرف پی ٹی آئی ارکان کی شہباز شریف سے ملاقات

    جمعرات کی سہ پہر قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں 177 اپوزیشن ارکان میں سے 172 ارکان شریک ہوئے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلسِ عمل، متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان عوامی پارٹی اور آزاد ارکانِ اسمبلی میں سے ایک ایک رکن اس اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

    واضح رہے کہ اس فہرست میں پاکستان تحریکِ انصاف کے وہ ارکان شامل نہیں جو مبینہ طور پر اپنی جماعت سے منحرف ہو کر تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے میں اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔

    میڈیا اطلاعات کے مطابق مذکورہ منحرف ارکان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف سے آج ان کے چیمبر میں ملاقات ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے بتایا ہے کہ اپوزیشن نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب کو بھی شامل کیا جائے۔

  20. سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں اور استعفیٰ دیں، بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان سے کہا کہ اس ملک کے عوام کو سپورٹس مین سپرٹ کا پیغام بھیجیں اور استعفیٰ دے دیں۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نے اپنی اننگز کھیلی ہے اور آپ نے ایک صاف پروسس کے ذریعے شکست کھائی ہے۔‘

    مقامی میڈیا نے اپوزیشن ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔