چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر
اعظم اکثریت کھو چکے ہیں اور ایم کیو ایم اپوزیشن کی صفوں میں شامل ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز اسلم بھوتانی، بلوچستان عوامی
پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی متحدہ اپوزیشن میں شامل ہوئے جس کے بعد وزیر اعظم کی اکثریت
ختم ہوچکی ہے۔
’شہباز شریف صاحب نے بالکل ٹھیک کہا کہ وزیر اعظم
استعفی دیں۔ وزیر اعظم کے پاس اب کوئی آپشن نہیں رہا۔ وہ وزیر اعظم نہیں رہے۔ کل ہی
سیشن ہے، کل ہی ووٹنگ رکھیں تاکہ آگے بڑھیں اور الیکشن اصلاحات، جمہوریت کی بحالی،
معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ نکلے۔شہباز شریف جلد ہی وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انھوں نے مل کر
محنت کی اور اس تاریخ کا حصہ بنے کہ ایک غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے جمہوری ہتھیار
اپنا کر پارلیمان کے ذریعے اس کے خاتمے کا بندو بست کیا اور اب پاکستان کی عوام کے لیے جلد
مزید خوش خبری ملے گی۔
بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس
میں کہا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے شکر گزار ہیں جنھوں نے جو فیصلہ کراچی اور سندھکا مفاد اور پاکستان کے مسائل دیکھ کر اٹھایا وہ
تاریخی فیصلہ ہے۔
’پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تعلق کا عدم
اعتماد سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے مل کر کام کرنا ہے، ہر حال میں، ہر صورت میں، اگر
کراچی اور پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت آج سے نہیں، بلکہ بہت پہلے
سے ان کی خواہش تھی کہ سینیٹ کے الیکشن میں بھی اگر ایم کیو ایم وفاق میں پی ٹی آئی
کے ساتھ اتحاد میں ہے، تو سندھ میںپیشکش کی
تھی کہ ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔