آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. خط پر قومی سلامتی کمیٹی میں بات ہو سکتی ہے، اسد قیصر

    پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی رہنما متفق ہوں، تو ’حساس‘ خط کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کے اِن کیمرا اجلاس میں بحث کی جا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آج سہ پہر سے ہی حکومتی حلقوں سے یہ بات سامنے آ رہی تھی کہ اس مبینہ دھمکی آمیز خط پر قومی سلامتی کمیٹی میں بات کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ عمران خان کچھ صحافیوں کو بھی آج ایک میٹنگ میں اس خط کے مندرجات سے آگاہ کر چکے ہیں۔

  2. مریم اورنگزیب کے کندھے پر ہاتھ رکھے جانے کا واقعہ، جلسوں میں خواتین سیاستدانوں کے تحفظ پر بحث

  3. بھروسہ ہے کہ وزیرِ اعظم حساس معلومات افشا کر کے حلف کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد بار کے ایک رکن کی دائر کردہ درخواست نمٹا دی ہے جس میں اُنھوں نے استدعا کی تھی کہ وزیرِ اعظم کو مبینہ خفیہ خط کے مندرجات عوام میں لانے سے روکا جائے۔

    درخواست گزار محمد نعیم خان نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا چکی ہے اس لیے اُن کا ذاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آ سکتا ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس پر آبزرویشن دی کہ وزیرِ اعظم عمران خان ایک منتخب نمائندے ہیں اور عدالت کو یقین ہے کہ وہ ایسی کوئی معلومات افشا نہیں کریں گے جو آفیشل سیکرٹس ایکٹ یا اُن کے آئینی حلف کے تحت اُنھیں خفیہ رکھنی ہیں۔

    عدالت نے مزید کہا کہ اُنھیں بھروسہ ہے کہ وزیرِ اعظم قومی مفاد اور سلامتی کو زک پہنچانے والی کوئی معلومات افشا نہیں کریں گے نہ ہی کوئی ایسا اقدام اٹھائیں گے جو اُن کے حلف کی خلاف ورزی ہو۔

    چنانچہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم کو اس حوالے سے پابند کرنے کا حکم جاری نہیں کر سکتے کیونکہ یہ منتخب وزیرِ اعظم پر غی منصفانہ طور پر عدم اعتماد کے اظہار کا عکاس ہو گا۔

  4. بریکنگ, نہ آرمی چیف نے استعفیٰ مانگا، نہ وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں گے، فواد

    وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نہ وزیرِ اعظم سے آرمی چیف نے استعفیٰ مانگا نہ وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ صورتحال 92 کے ورلڈ کپ والی ہے جس میں لگ رہا ہے کہ ہم لوگ پیچھے ہیں مگر ہم ہیں نہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پارلیمان کا اِن کیمرا اجلاس طلب کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان کو لکھا گیا مبینہ دھمکی آمیز خط پیش کیا جائے گا۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ وہ خط کے مندرجات کا تبادلہ اپوزیشن سے کرنے کو تیار ہیں۔

  5. سندھ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس، منحرف پی ٹی آئی ارکان سمیت 196 افراد شریک

    سندھ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے 22 وہ ارکان بھی شامل ہیں جو اپنی جماعت سے بظاہر منحرف ہو چکے ہیں اور تحریکِ عدم اعتماد میں اپوزیشن کے حامی ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے کزن فرخ الطاف بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

    ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے نور عالم خان اور راجہ ریاض بھی شریک ہیں۔

  6. پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے درمیان کیا معاہدہ ہوا ہے؟, چیدہ چیدہ نکات

    • کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے ایڈمنسٹریٹر پولیٹیکل ایم کیو ایم کی تجویز پر تعینات ہوں گے
    • حیدرآباد کے ایڈمنسٹریٹر اور کے ایم سی کے میونسپل کمشنر کے لیے ایم کیو ایم تین سرکاری افسران کے نام سندھ حکومت کو دے گی جس میں سے ایک کو ایڈمنسٹریٹر لگایا جائے گا
    • اسی طرح کراچی میں ضلع وسطی، کورنگی اور شرقی کے ایڈمنسٹریٹرز کے لیے بھی ایم کیو ایم تین تین سرکاری افسران کے نام تجویز کرے گی
    • ضلع غربی کے لیے باہمی مشاورت سے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا
    • بھرتیوں اور تعیناتیوں میں 60/40 کی شرح کی پابندی کی جائے گی
    • صوبائی وسائل کی مقامی حکومتوں میں تقسیم کے لیے محصولات کی کلیکشن میں پانچ فیصد کی موجودہ شرح کے بجائے بلند شرح متعین کی جائے گی
    • مقامی حکومتوں کی حلقہ بندیاں باہمی مشاورت سے ہوں گی
    • سندھ میں چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور دیگر افسران کی تعیناتیاں اور تبادلے قانون اور باہمی مشاورت کے تحت ہوں گے
    • صوبائی حکومت بھی باہمی مشاورت سے تشکیل پائے گی
  7. خط سامنے لانے سے عمران خان کو فائدہ ہے مگر ملک کے لیے ٹھیک نہیں، فیصل جاوید

    سینیٹر فیصل جاوید نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس خط کے اندر براہِ راست عدم اعتماد کا تذکرہ ہے اور لکھا ہے کہ اگر عمران خان کو عدم اعتماد سے ہٹا دیں گے تو سب کچھ معاف ہو جائے گا ورنہ خطرناک نتائج ہوں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ہم کسی سے خراب تعلقات نہیں چاہتے لیکن ہمیں اپنا مفاد دیکھنا ہے، یہ ہماری آزاد خارجہ پالیسی ہے۔ کچھ لوگ بیرونی حلقوں سے مل کر سازش کر رہے ہیں مگر یہ کامیاب نہیں ہو گی۔

    عددی اکثریت پر ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ ووٹنگ کا دن اہم ہے اور اپوزیشن اس دن اپنے نمبر پورے نہیں کر سکے گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ خط میں ایسی ایسی چیزیں ہے کہ عمران خان کو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور اپوزیشن برباد ہو جائے گی لیکن یہ پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

    کیا عسکری حکام سے ملاقات کے بعد اتنے مطمئن ہیں کہ نمبر پورے ہو جائیں گے؟ اس سوال پر اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اس ملاقات کا نہیں پتا۔

  8. ایمرجنسی نہیں لگائی جائے گی، شبلی فراز

    سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کوئی ایمرجنسی نہیں لگائے گی اور کوئی بھی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔

    جیو نیوز سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ عوام اُن کے ساتھ ہیں چنانچہ اُنھیں ایمرجنسی لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

  9. وزیرِ اعظم عمران خان کا خطاب مؤخر

    سینیٹر فیصل جاوید خان نے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب مؤخر ہو گیا ہے۔

    اُنھوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

    اب سے کچھ دیر قبل وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ عمران خان آج شام قوم سے خطاب کریں گے۔

  10. سیاسی بحران: وزیراعظم کی آرمی چیف سے ملاقات

    عسکری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بدھ کی شام فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے۔

    نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پشاور میں فوجی افسر کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد اسلام آباد آئے

    ذرائع کے مطابق پشاور میں خیبرپختونخواہ کے گورنر شاہ فرمان نے آرمی چیف سے تفصیلی ملاقات بھی کی ہے۔ اس ملاقات میں خیبرپختونخواہ سے پی ٹی آئی کے بعض دیگر اراکین موجود تھے۔

  11. تحریکِ انصاف کی حکومت نے پارلیمان میں اکثریت کھو دی؟, بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

  12. ایم کیو ایم کا حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے بعد قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کی تازہ ترین پوزیشن

  13. بریکنگ, انتقام ہماری ڈکشنری کا حصہ نہیں: شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ‘انتقام ہماری ڈکشنری میں نہیں ہے۔ ہم سب مل کر مشاورت کے ساتھ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے لیے بات کریں گے، اقدامات اٹھائیں گے، مثلاً بلوچستان کی ترقی کے لیے حکومت جو بھی کر سکے گی، کرے گی۔ اسی طرح سندھ میں، کراچی میں وفاق پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج یہاں سب کا بیٹھنا چارٹر آف ڈیموکریسی کا تسلسل ہے۔ اگر بیچ میں تعطل آیا ہے تو یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔‘

    آئندہ انتخابات کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ‘یہ سب متحدہ اپوزیشن کے فیصلے ہیں اور مل کر ان باتوں پر فیصلہ کیا جائے گا۔

  14. بریکنگ, ’بین الاقوامی سازش کا چورن نہیں بکنا‘: اختر مینگل

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب سے موجودہ حکومت بنی ہے، ہم اپوزیشن کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ہم نے کوشش کی کہ یہ کلین بولڈ ہوں، نہ کیچ آوٹ ہوں، بلکہ ہٹ وکٹ ہو جائیں۔‘

    انھوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘خان صاحب کھیل کے میدان میں آپ کا تجربہ ہو گا، لیکن سیاست میں ہمارا تجربہ زیادہ ہے۔ ایک پرانے اتحادی کی حیثیت سے درخواست کریں گے کہ مستعفی ہوں جائیں۔ بین الاقوامی سازش کا چورن پرانا ہو چکا ہے۔ یہ بکنے والا نہیں، کوئی نیا چورن لائیں، کوئی نئی دکان کھولیں۔‘

  15. سیاسی میدان میں تیزی مگر سٹاک مارکیٹ میں مندی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی سیاست میں تو تیزی کا رحجان ہے لیکن ملک کی سٹاک مارکیٹ میں بدھ کو مندی کا رجحان غالب رہا۔ انڈیکس کاروبار کے دوران 450 پوائنٹس تک گرنے کے بعد کاروبار کے اختتام پر 101 پوائنٹس منفی پر بند ہوا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان کی بڑی وجہ ملک میں سیاسی غیریقینی کی صورتحال ہے۔ تجزیہ کار شہریار نے کہا کہ بدھ کے روز ملک میں سیاسی محاذ پر خبروں اور قیاس آرائیوں کا اثر کاروبار پر بھی پڑ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’سٹاک مارکیٹ سیاسی محاذ پر ہونے والی پیش رفت یا تبدیلیوں پر ردعمل دیتی ہے اور بدھ کے روز مندی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے‘۔

    دوسری جانب ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی بحران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ بدھ کے روز انٹربنک میں ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قیمت میں مزید 30 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں ملکی تاریخ کی بلند سطح 182.64 روپے پر رہی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 183.90رہی۔

    پاکستان میں کرنسی سے وابستہ افراد کے مطابق معاشی وجوہات کے علاوہ ملک میں سیاسی بحران بھی روپے کی قیمت میں کمی لا رہا ہے کیونکہ معاشی محاذ پر کسی پیش رفت یعنی آئی ایم ایف سے نتیجہ خیز مذاکرات سیاسی بحران کی نذر ہو رہی ہے۔

  16. حکومت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے اور پانی پلوں پر سے گزر چکا ہے: مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور پی ڈی ایم اور اپوزیشن بھی اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    ’یہ فیصلہ نہ صرف کراچی اور سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک سیاسی یکجہتی کا اظہار ہے۔ بدزبانی، نمائش اور جھوٹ پر مبنی سیاست کا آج خاتمہ ہو رہا ہے۔ اس لیے میں تمام جماعتوں کے کارکنوں کا کامیاب جدوجہد کے نتائج پر شکریہ اور خراج تحسین ادا کرتا ہوں۔ پاکستان میں ایک صحتمند سیاست اور اقدار کا احیا چاہتے ہیں۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں ایک دوسرے کی بے توقیری، تذلیل اور رسوائی کی سیاست نے ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور جب معاشرے اپنی قدریں کھو بیٹھتا ہے تو وہ الجھ جاتا ہے۔

    ’میں اپنے دوستوں کی اجازت سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ابھی بھی وقت ہے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوں، حزبِ اختلاف کا ساتھ دیں، یقیناً ہمارے سامنے چیلنجز ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے اور پانی پلوں پر سے گزر چکا ہے۔

    ’اگر آپ کے اندر کچھ بھی اخلاقیات ہیں تو آپ کو آج استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ اس وقت ہمارے پاس ان فیصلوں کے نتائج میں ہماری تعداد 175 کی ہے جبکہ ضرورت 172 کی ہے۔‘

  17. شہباز شریف جلد ہی وزیر اعظم منتخب ہوں گے: بلاول بھٹو زرداری

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اکثریت کھو چکے ہیں اور ایم کیو ایم اپوزیشن کی صفوں میں شامل ہو چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز اسلم بھوتانی، بلوچستان عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی متحدہ اپوزیشن میں شامل ہوئے جس کے بعد وزیر اعظم کی اکثریت ختم ہوچکی ہے۔

    ’شہباز شریف صاحب نے بالکل ٹھیک کہا کہ وزیر اعظم استعفی دیں۔ وزیر اعظم کے پاس اب کوئی آپشن نہیں رہا۔ وہ وزیر اعظم نہیں رہے۔ کل ہی سیشن ہے، کل ہی ووٹنگ رکھیں تاکہ آگے بڑھیں اور الیکشن اصلاحات، جمہوریت کی بحالی، معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ نکلے۔شہباز شریف جلد ہی وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انھوں نے مل کر محنت کی اور اس تاریخ کا حصہ بنے کہ ایک غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے جمہوری ہتھیار اپنا کر پارلیمان کے ذریعے اس کے خاتمے کا بندو بست کیا اور اب پاکستان کی عوام کے لیے جلد مزید خوش خبری ملے گی۔

    بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے شکر گزار ہیں جنھوں نے جو فیصلہ کراچی اور سندھکا مفاد اور پاکستان کے مسائل دیکھ کر اٹھایا وہ تاریخی فیصلہ ہے۔

    ’پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تعلق کا عدم اعتماد سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے مل کر کام کرنا ہے، ہر حال میں، ہر صورت میں، اگر کراچی اور پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت آج سے نہیں، بلکہ بہت پہلے سے ان کی خواہش تھی کہ سینیٹ کے الیکشن میں بھی اگر ایم کیو ایم وفاق میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد میں ہے، تو سندھ میںپیشکش کی تھی کہ ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔

  18. عمران خان عددی اکثریت کھو بیٹھے ہیں، استعفیٰ دے کر نئی مثال قائم کریں: شہباز شریف, ایم کیو ایم پاکستان اور متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس اسلام آباد میں جاری، ایم کیو ایم کا تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ

    شہباز شریف نے اسی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی جرگہ جو اپوزیشن کا ہے، اس کی طرف سے کی گئی کاوشوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کے دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے 22 کروڑ عوام کی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔

    ’خصوصی شکریہ آصف علی زرداری اور بلاول کا جنھوں نے تمام مذاکرات میں کھلے دل کے ساتھ اور کھلے ذہن کے ساتھ ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے نئے سفر کا آغاز کیا ہے جو پاکستان، سندھ اور کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ جب ہم سب اکٹھے ہوئے تو آخری لمحات پر ایم کیو ایم کی طرف سے کہا گیا کہ بات بہت حد تک طے ہو چکی ہے اور ایک دو پوائنٹس باقی ہیں وہ بھی حل ہو جائیں گے۔

    ’اس کے بعد آصف زرداری نے کہا کہ آئیں دوسرے کمرے میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں اس کے بعد 20 منٹ پر معاملات طے ہو گئے۔ عمران خان عددی اکثریت کھو بیٹھے ہیں اس لیے وہ استعفیٰ دے کر نئی مثال قائم کریں۔ مجھے امید تو نہیں کہ وہ کریں گے لیکن اگر ایسا ہو گا تو وہ ایک نئی روایت قائم کریں گے۔‘

  19. ایم کیو ایم، متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس کا آغاز، خالد مقبول صدیقی کی گفتگو, ایم کیو ایم پاکستان اور متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس اسلام آباد میں جاری، ایم کیو ایم کا تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے اسلام آباد میں اپوزیشن کے ساتھ پریس کانفرس کے دوران کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اس دفعہ ہم دعووں سے زیادہ ایسے ارادے رکھیں، ایسی جمہوریت ہو جس کے ثمرات عام پاکستانی تک پہنچائیں جا سکیں، اسی امید کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی کا ذاتی یا جماعتی مفاد شامل نہیں۔ معاہدے کی ایک ایک شق پاکستان کی عوام کے لیے ہے، خاص طور پر وہ علاقے جن کی نمائندگی ہم پینتیس سال سے کر رہے ہیں جن کو فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ امید ہے کہ ہم ایسے دور کا آغاز کریں جس میں سیاسی اختلافات کو دشمنی نہ سمجھا جائے، انتقام کا سلسلہ ختم کیا جائے اور رواداری قائم کی جائے۔

  20. ایم کیو ایم اور اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانفرنس