آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. علی وزیر کی سندھ ہاؤس منتقلی کی خبریں

    اپوزیشن اتحاد میں شامل رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی کراچی جیل سے رہائی کے بعد اسلام آباد روانگی کی خبریں ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق علی وزیر کو پیرول پر رہائی کے بعد اسلام آباد لایا جا رہا ہے تاکہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔

    محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے تصدیق بھی کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس کے ایک کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا ہے جہاں جیل پولیس تعینات ہوگی۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں علی وزیر کی منتقلی نہیں ہے تاہم ماضی میں خورشید شاہ سندھ ہاؤس میں رہ چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ علی وزیر کو 2020 کے دوران کراچی میں نکالی گئی پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

    وہ پی ٹی ایم کے رہنما ہیں اور جنوبی وزیرستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے۔

  2. خط پارلیمان میں پیش کیا جانا چاہیے تھا: خواجہ آصف

  3. ’وسیم اکرم پلس مائنس‘ اور عمران خان کے لیے ’نیا ملک‘ بنانے کی مہم

  4. ’دھمکی آمیز خط‘ پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری

    وزیراعظم ہاؤس میں عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں ملک کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت شریک ہے۔

    اس اجلاس میں اس مبینہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں بات ہو گی جس کا انکشاف وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کے جلسے میں کیا تھا۔

    اس سے قبل عمران خان اس خط کے متن کے بارے میں وفاقی کابینہ اور سینیئر صحافیوں کو بھی بتا چکے ہیں۔

  5. پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس بھی طلب

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں جمعرات کی شام چھ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔

    اجلاس میں شرکت کے لیے کمیٹی کے اراکین کے علاوہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے اور اس اجلاس میں دھمکی آمیز خط پر بریفنگ دی جائے گی۔

  6. آصف زرداری، بلاول بھٹو کی شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد

    پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ ملاقات کے لیے پہنچے ہیں۔

    اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل کے درمیان سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    ملاقات میں ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی، جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی، بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی اور آزاد امیدوار اسلم بھوتانی پر مشتمل سابق حکومتی اتحادی بھی موجود ہے۔

  7. ’وزیر اعظم عمران خان آج رات قوم سے خطاب کریں گے‘

    وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’وزیر اعظم عمران خان آج رات قوم سے خطاب کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز ان کا خطاب مؤخر کر دیا گیا تھا تاہم اس کی وجوہات نہیں بتائی گئی تھیں۔

    اس سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا عمران خان نے آج ڈھائی بجے قومی سلامتی کا اہم اجلاس بلایا ہے جس کے بعد وہ آج شام قوم سے خطاب کر سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم گذشتہ روز خطاب نہیں کر سکے۔ ’قومی سلامتی کے اجلاس کے باعث انھوں نے لاہور کے دورہ منسوخ کیا ہے۔‘

  8. سیاسی بحران کی وجہ سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ منفی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد تحریک پیش ہونے کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی بحران نے ملک کی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے تازہ ترین اعلامیے کے مطابق غیریقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم سے منفی کر دیا گیا ہے۔

    موڈیز کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا کہ اگرچہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ابھی ہونا باقی ہے تاہم اس سے پہلے ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال نے جنم لیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت دباؤ کا شکار ہیں تو اس کے ساتھ ملکی کرنسی امریکی ڈالر کے سامنے اپنی قدر تسلسل سے کھو رہی ہے جو ملکی معیشت کے لیے منفی ہے۔

    اسی طرح پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ چھ ارب ڈالر کے پروگرام کی اگلی قسط جاری کرنے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    موڈیز کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے نتیجے سے قطع نظر جو بھی حکومت ہو گی اسے بیرونی فنانسنگ اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوام کی جانب سے سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا

  9. ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم کراچی واپس پہنچ گئے

    ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد ملزم پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم دبئی سے کراچی واپس پہنچ گئے ہیں۔

    جام عبدالکریم ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد ہیں جس میں انھوں نے حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی ہے ایک روز قبل ہی ناظم جوکھیو کی بیوہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انھوں نے تمام ملزمان کو معافی دے دی تھی۔

    جام عبدالکریم مقامی عدالت میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد دبئی فرار ہوگئے تھے۔

    جام عبدالکریم اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ووٹ ڈالنے کے لیے واپس آئے ہیں۔

    جام عبدالکریم سندھ ہائی کورٹ بھی جائیں گے جہاں سے ضمانت میں توسیع حاصل کریں گے، شیریں کوکھر کا حلف نامہ ان کے وکلا پہلے ہی عدالت میں دائر کرچکے ہیں۔

  10. عمران خان سے بیرونی قوتیں ناخوش ہیں: علی زیدی

  11. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان نے قومی سلامتی کا اجلاس طلب کر لیا

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پاکستان حکومت کو موصول ہونے والے خط کے معاملے پر قومی سلامتی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا، اجلاس جمعرات کو بعد دوپہر وزیر اعظم ہاؤس میں ہو گا۔

    اجلاس میں سول و عسکری حکام شریک ہوں گے۔

  12. پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا وزیر اعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ

    پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے وزیر اعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اکثریت اب اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    جمعرات کو قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاس کے متعلق سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’آج سپیکر قومی اسمبلی کے پاس عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر کا کوئی آئینی و اخلاقی جواز نہیں ہو گا۔ عمران خان کی مصنوعی اکثریت اب اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو آج عمران خان کے سلیکٹڈ حکومت کا آخری دن ہو گا۔ عمران خان کس غیبی امداد کے انتظار میں ہیں۔‘

  13. تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کا اجلاس اور نمبر گیم

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آج تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ یہ اجلاس شام چار بجے شروع ہوگا۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے پیر کو اپوزیشن کی جانب سے یہ تحریک ایوان میں پیش کی گئی تھی جس کے حق میں 161 ارکان نے ووٹ دیا تھا۔ اس کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 172 ارکانِ اسمبلی کی حمایت اور ووٹ درکار ہوں گے۔

    موجودہ صورتحال اور اتحادیوں کے اعلانات کی روشنی میں بدھ کی شام تک قومی اسمبلی میں حکومت کو 140 جبکہ اپوزیشن کو 196 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اس میں ایم کیو ایم سمیت اہم حکومتی اتحادیوں اور تحریک انصاف کے ناراض ارکان کو شامل کیا گیا ہے۔

    ادھر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان ’آخری بال تک لڑنے والے کھلاڑی ہیں‘ اور وزارت عظمیٰ سے ان کا ’استعفیٰ نہیں ملے گا۔ میدان لگے گا، دوست بھی دیکھیں گے اور دشمن بھی۔‘

    گذشتہ روز فواد چوہدری نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں ’نہ استعفیٰ مانگا، نہ وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں گے۔‘

    مبینہ خفیہ خط کے مندرجات عوام میں لانے سے روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اُنھیں بھروسہ ہے وزیرِ اعظم قومی مفاد اور سلامتی کو زک پہنچانے والی کوئی معلومات افشا نہیں کریں گے نہ ہی کوئی ایسا اقدام اٹھائیں گے جو اُن کے حلف کی خلاف ورزی ہو۔

  14. ’استعفیٰ پیش کر کے حق ادا کیا، خان کہیں گے تو سیاست میں نظر نہیں آؤں گا‘

  15. مذہب کارڈ: کیا عمران خان اقتدار بچانے کے لیے مذہب کا استعمال کر رہے ہیں؟

  16. ’ابھی میچ ختم نہیں ہوا‘, عمران خان کے استعفے کی خبروں کی تردید

    وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیر اعظم کے استعفے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    مقامی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے عمران خان نے جماعت کے ارکان کو ایک واقعہ سنایا ہے۔

    ’1992 کے ورلڈ کپ میں جب ٹیم بالکل نیچے تھی تو کسی نے کہا کہ آپ سامان وغیرہ پیک کر رہے ہیں تو عمران خان نے کہا نہیں میں تو فائنل کا سوچ رہا ہوں۔‘

    ’انھوں نے کہا میں نے کبھی اپنی زندگی میں آخری گیند سے پہلے ہار کا سوچا ہی نہیں۔ اور میں اب بھی یہی سوچوں گا۔۔۔ آپ یقین رکھیں ابھی میچ ختم نہیں ہوا۔‘

    فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ’کتنے لوگ لوٹے ہوگئے، کتنے لوگوں نے ضمیر بیچ دیے۔ یہ اہم نہیں، ہمارے لیے اہم یہ ہے کہ عوام کدھر کھڑی ہے۔

    ’ہمارے کامیاب جلسے اور اس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت دیکھ کر صاف اندازہ ہو جاتا ہے کہ عوام کا رجحان کس طرف ہے۔‘

  17. قومی اسمبلی کا اجلاس آج، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پر بحث ہو گی

    پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام چار بجے ہو گا، جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث کی جائے گی۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اب وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ قبل پیر کے روز ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ نون اور اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے کم از کم تین دن بعد اور سات دن کے اندر اس پر ووٹنگ ہونا لازمی ہے۔

    عدم اعتماد کی اس تحریک کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 172 ارکانِ اسمبلی کی حمایت اور ووٹ درکار ہوں گے اور اب تک حکومت کو 140 جبکہ اپوزیشن کو 196 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

  18. سعد رفیق: ’چوھدری پرویز الٰہی نے مایوس بھی کیا اور شرمسار بھی‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کے حکومت کی حمایت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوھدری پرویز الٰہی نے مایوس بھی کیا اور شرمسار بھی۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ پرویز الہی نے ’شجاعت صاحب سمیت 20 افراد کی موجودگی میں پیشکش قبول کی اور ہم پر زور دے کر پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی۔‘

    سعد رفیق نے یہ بھی لکھا کہ پرویز الہی چند ہی گھنٹے بعد اپنے صاحبزادے کے مشورے پر بیک آؤٹ کر گئے۔

  19. اسلام آباد ایئرپورٹ پر کنور نوید جمیل کا گھیراؤ، تنقید

    متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے وفاقی حکومت سے علیحدگی کے بعد بدھ کی شام اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے گھیرا گیا اور اُنھیں برا بھلا کہا گیا۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد اسلام آباد ایئرپورٹ پر کنور نوید جمیل پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور اُن پر پیسے لینے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری نے ٹویٹ کی کہ اُنھوں نے اس حوالے سے پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود احترام برقرار رہنا چاہیے۔