چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ’اگر وزیر اعظم شکست نہیں مان رہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہارے نہیں، وہ ہار چکے ہیں، ان کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔‘
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران وزیر اعظم کے خطاب پر رد عمل میں بلاول نے کہا کہ ’میں سابق وزیر اعظم کی تقریریں نہیں سنتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ثابت کر دیا کہ وزیر اعظم اکثریت کھو چکے ہیں، حکومت ختم ہو چکی ہے۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’اب جب عمران خان کو شکست نظر آ رہی ہے تو اس قسم کی الزام تراشی کرنا نامناسب ہے۔‘
بلاول نے کہا کہ ’وزیر اعظم کو عزت دارانہ راستہ اپنانا چاہیے تھا کہ استعفے کا اعلان کرتے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے کچھ دن قبل ایک ناکام کوشش کی کہ وہ ایک بڑا جلسہ کر لیں۔ اس وقت وزیر اعظم کو جمہوری طریقے سے پارلیمان میں مقابلہ کرنا چاہیے تھا، ان کو لاکھوں نہیں 172 لوگ درکار ہیں۔‘
بلاول نے کہا کہ ’عمران خان نے پاکستان کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا، کشمیر پالیسی کو نقصان پپہنچایا، سی پیک کو سبوتاژ کیا، خارجہ پالیسی، معیشت اور جمہوریت سب کو نقصان پہنچایا۔‘
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ سلالہ معاملے پر پیپلز پارٹی نے نیٹو کی سپلائی لائن کو بند کیا، امریکہ کے دوروں میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جن کو امریکہ کے صدر نے فون تک نہیں کیا، ان کو دھمکی کون دے گا۔ وزیر اعظم نے ایک فون کال پر ملائیشیا کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔‘