وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اے آر وائی
پر اینکر کاشف عباسی کے پروگرام پر کہا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں اتحادی جماعتوں کی
جانب سے فیصلہ آ جانے کے بعد ہی وہ کوئی حتمی بات کر سکیں گے۔
حالات پر جب ان سے تجزیہ مانگا گیا تو فواد چوہدری کا کہنا
تھا کہ حزب اختلاف کی ٹائمنگ درست نہیں ہے اور انھیں نہیں سمجھ آیا کہ وہ اس وقت
کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
’جون میں بجٹ آنے والا ہے، اس کے بعد ویسے ہی انتخابی مہم
شروع ہو جائے گی، اور یہ عدم اعتماد کے ووٹ کی ٹائمنگ حکومت کے لیے بہت سودمند ثابت
ہوگی کیونکہ اس سے وزیر اعظم کے لیے حمایت میں ایک لہر بنی ہے اور پی ٹی آئی کے
ورکر کو اندازہ ہوا کہ ان کی کمر میں خنجر گھونپا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی یا ناکامی، دونوں ہی صورتوں میں جیت
عمران خان کی ہے اور اپوزیشن پھنس گئی ہے۔
’اگلے 48 گھنٹے لگیں گے ہار جیت کی صورتحال تک پہنچنے میں۔ اس
وقت تک اتحادی اپنا ذہن بنا پائیں گے، تو اس سے پہلے حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔‘
فواد چوہدری نے اپوزیشن کے منصوبہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا
کہ ان کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے اور انھیں نہیں معلوم کہ ان کا رہنما کون ہوگا۔
’کیا جے یو آئی کی پالیسی چلے گی یا نون لیگ کی یا پی پی پی
کی؟ یہ تو سب چوں چوں کا مربہ ہے جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔‘
کاشف عباسی کے اس سوال پر کہ کیا قبل از انتخابات ہو سکتے
ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت انتخابات کے لیے ہر دم تیار ہے اور عدم
اعتماد کی تحریک کی شکست کے بعد ہی وہ اپنا اگلا قدم بتائیں گے۔
انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے
استعفی دینے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، تاہم وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے
مستقبل پر کیے گئے سوال میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر گفت و شنید
ہوئی ہے اور معاملات آگے بڑھیں ہیں لیکن ان کی جماعت کی ساری توجہ 27 مارچ کے جلسے
پر ہے اور اس کے بعد اس بارے میں بات کی جائے گی۔
فواد چوہدری نے زور دیا کہ اپوزیشن کے پاس جانے والے پی ٹی
آئی کے 12 باغی اراکین میں سے سات لوگ دوبارہ پی ٹی آئی سے رابطے میں ہیں اور آخر
میں شاید مشکل سے ایک یا دو ہی رہ جائیں گے جو اپوزیشن کے پاس جائیں گے، اور اس کا
فیصلہ بھی اگلے 48 گھنٹوں میں ہو جائے گا۔