مولانا فضل الرحمان کا قافلہ اسلام آباد کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ دوپہر کی نسبت شام ڈھلنے کے بعد جلسہ گاہ میں پارٹی کارکنان اور حامیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ انھوں نے سفید اور سیاہ دھاری دار پرچم اٹھا رکھے ہیں۔
اب پولیس کی تعداد کم اور ان کی جماعت کے کارکنان کی تعداد زیادہ ہے۔ اس وقت پولیس سے زیادہ ٹریفک پولیس اہلکار اور ان کی سائرن بجاتی گاڑیاں پنڈال کے پاس سے گزر رہی ہیں اور آنے والوں کو سپیکر پر اپنی گاڑیاں مختص مقام پر پارک کرنے کی ہدایات جاری کر رہی ہیں۔
فی الوقت سری نگر ہائی وے پر ٹریفک معمول کے مطابق ہے گزرتی گاڑیوں میں سے کچھ لوگ حیرت سے اس جلسے کی جانب دیکھ رہے ہیں جیسے انھیں اس کی توقع نہیں تھی۔
سڑک کے کنارے قد آور ڈیک رکھے گئے ہیں اور فضا میں جماعت کے کارکنان کی جانب سے تیار کردہ نغمے ترنم کے ساتھ گونجتے سنائی دے رہے ہیں۔
یہاں جی نائن کے سامنے سری نگر ہائی وے پر ایک بڑی جگہ پر شامیانے لگائے گئے ہیں اور پنڈال تیار ہے۔
بہت سے لوگ سڑک کراس کر کے جی نائن مرکز کی جانب بھی جاتے دکھائی دیے جب سری نگر ہائی وے پر سڑک کے درمیان موجود گرین بیلٹ پر بھی جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔
نجی ٹی وی چیلنز کی ڈی ایس این جیز نے پوزیشن سنھبال لی ہے۔
آنے والوں کی سہولت کے لیے پانی، شربت، فروٹ چاٹ اور قلفی فراہم کرنے کے لیے مختلف سٹالز بھی دکھائی دیے۔
یہاں فروٹ چاٹ بیچتے ایک شخص نے بتایا کہ ’میں پشاور سے آیا ہوں اور مولانا کا حامی ہوں۔‘ ہم نے ان سے پوچھا کب تک یہاں قیام ہے تو وہ کہنے لگے ’جب تک مولانا کہیں گے۔‘
کشمیر سے آئے ایک نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم سے یہاں آئے ہیں اور تب تک نہیں جائیں گے جب تک عدم اعتماد پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
ہم نے ان سے جلسے کے بارے میں پوچھا اور مولانا کی آمد کے بارے میں تو ان کا جواب تھا ہم کو یہ تو معلوم نہیں وہ کتنے بجے تک پہنچیں گے لیکن ہمارا جلسہ تو کل ہے ابھی تو مولانا پہنچیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ پچھلی بار بھی ہم یہاں 14 دن رہ کر گئے تھے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رضا کار انتظامی امور سنبھالے ہوئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ بہترین انتظامات ہیں اور کارکنان کی جانب سے کوئی بدمزگی نہیں ہو گی اور پرامن جلسہ ہو گا۔