آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، باہر سے پاکستانی حکومت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے: عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے جلسے میں خطاب میں کہا ہے کہ ان کی حکومت تبدیل کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والے پیسے سے سازش ہو رہی ہے اور اس سازش میں کچھ پاکستانی انجانے میں اور کچھ جان بوجھ کر استعمال ہو رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا غم کوئی لطیفہ نہیں‘

    وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے ٹوئٹر پر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں مریم نواز اور حمزہ شہباز کی تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ ’لاپتہ افراد کے اہل خانہ پھر سڑکوں پر موجود ہیں۔‘

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی کارکن جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ’حکمران جماعت فطرتاً جگت باز صحیح مگر جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا غم کوئی لطیفہ نہیں۔

    ’یہ ان ماؤں بیویوں بہنوں اور بیٹیوں کی توہین ہے جو سالوں اپنے لاپتہ پیاروں کی تصویر اٹھائے ریاست سے سوال پوچھنے کی جرأت کرتی ہیں۔

    ’مظلوم کی مظلومیت کا مذاق اڑانے والے خود ایک دن مذاق بن جائیں گے۔‘

    خیال رہے کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز ن لیگ کے اس قافلے کی قیادت کر رہے ہیں جو مہنگائی مارچ کے سلسلے میں لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوا ہے۔

  2. پریڈ گراؤنڈ میں اس وقت کیا ماحول ہے؟, فرحت جاوید، بی بی سی، اسلام آباد

    اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی کے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اس ’تاریخی‘ جلسے کے دوران اپوزیشن کو ایک بڑا ’سرپرائز‘ دیں گے۔

    ملک بھر سے تحریک انصاف کے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوچکے ہیں اور ان کا مقصد کسی بھی طرح وفاقی دارالحکومت پہنچنا ہوگا۔

    جلسہ گاہ کے اندر فی الحال داخلہ ممنوع ہے اور علاقے میں نیٹ ورک کے مسائل ہیں۔

    پریڈ گراؤنڈ کے اندر اور باہر تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    ایک مقام پر پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد، جن کی ڈیوٹی جلسہ گاہ کے اندر ہے، وہ بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ داخلہ کہاں سے ہوگا اور اعلیٰ قیادت سے احکامات کے منتظر تھے۔

    باہرکھانے پینے کے سٹالز لگائے گئے ہیں اور یوں اندر سے زیادہ لوگوں کی تعداد باہر ہے۔

    آج قریب دو بجے داخلی راستے کھول دیے جائیں گے۔

  3. آمنہ مفتی کا کالم: ہم ہیں خوامخواہ اس میں

  4. اسلام آباد میں کون سی سڑکیں بند ہیں؟, پولیس کی جانب سے ٹریفک الرٹ جاری

    اسلام آباد پولیس نے سری نگر ہائی وے پر جے یو آئی ف کے اجتماع کے پیش نظر ٹریفک پلان، رکاوٹیں اور متبادل راستوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق:

    • سرینگر ہائی وے پروجیکٹ موڑ سے نائنتھ ایونیو فلائی اور تک بند رہے گی
    • ریڈ زون کے علاوہ باقی تمام سڑکیں کھلی رہیں گی
    • رکاوٹ - 1 سری نگر ہائی وے کے پروجیکٹ موڑ پر ٹریفک کے دونوں اطراف کے لیے متبادل راستہ: فقیر ایپی روڈ کو اسلام آباد کے ایچ اور آئی سیکٹرز اور راولپنڈی کے آئی جے پی روڈ تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد کے جی، ایف اور ای سیکٹرز تک پہنچنے کے لیے جی- الیون سروس روڈ ویسٹ استعمال کیا جا سکتا ہے
    • رکاوٹ - 2 سرینگر ہائی وے سے جی-نائن مرکز روڈ پر داخلے اور خارجی راستے بند رہیں گے۔ متبادل: نائنتھ ایونیو استعمال کیا جا سکتا ہے
    • رکاوٹ - 3 سری نگر ہائی وے پر نائنتھ ایونیو فلائی اوور کے نیچے ٹریفک کے دونوں اطراف۔ متبادل: نائنتھ ایونیو اور فیصل ایونیو استعمال کریں
    • ایئرپورٹ اور موٹروے تک مارگلہ روڈ اور جناح ایونیو سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے
    • ریڈ زون: ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے ہوگی
    • آنے والی ریلیوں اور تعمیراتی کام کی وجہ سے فیض آباد کی طرف جانے والے آئی جے پی روڈ پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے
    • شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں یا 30 سے ​​40 منٹ کا اضافی وقت مدنظر رکھیں
  5. ’مجھے خوف ہے آپ جلسے میں ٹائم پر نہیں پہنچیں گے‘, عمران خان کا آڈیو پیغام

    وزیر اعظم عمران خان نے ایک آڈیو پیغام میں اپنے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج 27 مارچ کے ’تاریخی جلسے‘ کے لیے اپنے گھروں سے جلدی نکلیں تاکہ وقت پر پہنچ سکیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرتے اس پیغام میں انھیں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’یہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔۔۔

    ’سب کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جلدی نکلیں کیونکہ رش ہوگا، سڑکوں کی بندش ہوگی۔ اور مجھے خوف ہے آپ جلسے میں ٹائم پر نہیں پہنچیں گے۔ جس نے بھی پلان کیا ہوا ہے، جس نے بھی نکلنا ہے وہ جلدی نکلے۔۔۔

    ’آج ہم پاکستان کی تاریخ بنانے نکلے ہیں۔‘

  6. پی ٹی آئی نے الیکشن 2018 سے پہلے جن امیدواروں کی ’وکٹ گرائی‘ وہ اب کہاں کھڑے ہیں؟

  7. اسلام آباد میں سیاسی گہما گہمی کا دن، عمران خان کے ’تاریخی جلسے‘ کی تیاریاں

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے مگر حکمراں جماعت تحریک انصاف آج اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے جا رہی ہے۔

    وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’اس وقت لاکھوں لوگوں کا سمندر اسلام آباد کی طرف گامزن ہے. کل دس لاکھ سے زیادہ لوگ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے اور چوری چھپے رشوت کے پیسے استعمال کر کے لوگوں کو خریدنے کی کوشش کرنے والوں کی سیاست کو مسترد کریں گے۔‘

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے اسے عوام کا ریفرنڈم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

    جب جیو نیوز کے اینکر شہزاد اقبال نے وزیر داخلہ شیخ رشید سے پوچھا کہ پریڈ گراؤنڈ میں صرف 20 ہزار لوگوں کی گنجائش ہے تو یہ تاریخی جلسہ کیسے ہوگا۔ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’پریڈ گراؤنڈ چھوٹا پڑ جائے گا۔‘

    اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکمراں جماعت اس اجتماع کے لیے سرکاری مشینری استعمال کر رہی ہے تاہم شیخ رشید کا کہنا ہے کہ جلسے کی سرکاری تشہیر نہیں کی جا رہی ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پریڈ گراؤنڈ میں ’36 کنٹینرز‘ کی مدد سے سٹیج لگایا گیا ہے۔

    ادھر اپوزیشن کی جماعت جے یو آئی ف کے کارکنان 28 مارچ کے جلسے کے لیے سنیچر کو ہی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے سیکٹر جی نائن کے قریب سری نگر ہائی وے کے اردگرد اپنے خیمے لگا لیے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کا قافلہ گذشتہ روز پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے گوجرانوالہ پہنچا ہے اور ان کی جانب سے آج اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا جائے گا۔ متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم کے جلسے کے لیے 28 مارچ کو اسلام آباد میں سرینگر ہائی وے پر پشاور موڑ کی درخواست کی گئی ہے۔

  8. ’تمام تنظیمی عہدے دار اور منتخب نمائندے اسلام آباد کے لیے نکلیں‘

    وفاقی وزیر اسد عمر نے حکمراں جماعت تحریک انصاف کے تمام تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو یہ کال دی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے احکامات پر جلد از جلد اسلام آباد کے لیے نکلیں۔

    ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ ’سب کی سوچ سے زیادہ لوگ جلسے میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں، اس لیے اندازے سے زیادہ ٹائم لگے گا۔‘

    خیال رہے کہ آج اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی کا ایک بڑا جلسہ کرنے کا منصوبہ ہے جہاں عمران خان اپوزیشن کو ’سرپرائز دیں گے۔‘

  9. اسلام آباد میں ریڈ زون کے علاوہ ’تمام راستے کھلے ہیں‘

    وفاقی دارالحکومت میں لانگ مارچ، کنٹینرز اور جلسوں کا ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کے مطابق اس وقت تمام راستے مکمل طور پر کھلے ہیں۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں پولیس کا کہنا ہے کہ تمام راستے کھلے ہیں ’ماسوائے ریڈ زون کے، جہاں آنے اور جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ’کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا رش کی صورت میں شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔‘

  10. جے یو آئی کے شرکا سری نگر ہائی وے کے اردگرد خیمہ زن

    جمیعت علمائے اسلام ف کے کارکنان اسلام آباد میں جی نائن کے مقام کے قریب سری نگر ہائی وے کے اردگرد خیمہ زن ہیں۔ سنیچر کو پہنچنے والے کارکنان کو پارٹی قیادت کی جانب سے پیر تک قیام کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    آج اتوار کے روز مولانا فضل الرحمان کا جلسہ متوقع ہے۔ وہ اپنے کارکنان سے خطاب کریں گے۔

    انصار الاسلام کے کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق یہ جماعت کالعدم ہے لیکن نیکٹا کی ویب سائٹ پر کالعدم تنظیموں میں اس جماعت کا نام شامل نہیں ہے۔

  11. (ن) لیگ کی ریلی گوجرانوالہ میں

    مسلم لیگ (ن) کا گوجرانوالہ میں سنیچر کے روز کے لیے طے شدہ جلسہ اب اتوار کے روز منعقد ہو گا۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پیغام میں بتایا کہ ’ہجوم زیادہ تھا۔ آج گوجرانوالہ نہیں پہنچ پائے۔‘

    اب وہ سنیچر کو صبح کے وقت گوجرانوالہ پہنچ چکے ہیں۔ ۔

    واضح رہے کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے شاہدرہ کے مقام پر خطاب کے بعد ریلی لگ بھگ تین بجے کے قریب لاہور کی حدود سے باہر نکلی جس کی بعد اس کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ اس سے پہلے یہ پورا دن لاہور کے اندر ہی رہی تھی۔

    گوجرانوالہ میں چند گھنٹے قیام کے بعد اتوار کو دن میں ریلی کے قائدین جلسے سے خطاب کریں گے جس کے بعد اسلام آباد کی طرف سفر کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا۔

  12. شاہدرہ پر مسلم لیگ (ن) کے قائدین کا مارچ کے شرکا کا خطاب

    اس وقت مریم نواز مارچ کے شرکا سے خطاب کر رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ابھی صرف ساڑھے تین برس ہی ہوئے ہیں کہ دوبارہ عوام کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف تمہاری ضرورت پڑ گئی ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف جلد آپ لوگوں کے درمیان ہوں گے۔

    ان سے پہلے حمزہ شہباز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا سرپرائز وہ عمران خان کو دیں گے۔

  13. مولانا فضل الرحمان: ’کوئی مفاہمت نہیں کریں گے‘

    مولانا فضل الرحمان نے وزیرِ اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ خود اقتدار چھوڑ دیں ورنہ اُنھیں نکالا جائے گا۔

    اسلام آباد میں اپنے قافلوں سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے جو بھی کچھ کہنا ہے کل تک کہہ دیں۔‘

  14. مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں جلسہ گاہ پہنچ گئے

    اس وقت جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں۔

    مختصر خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ ابھی یہاں پر ہی بیٹھے ہیں اور وہ بہت کچھ کہیں گے۔

  15. مسلم لیگ (ن) کا مارچ لاہور میں آزادی چوک پہنچ گیا

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مہنگائی مکاؤ مارچ لاہور کے آزادی چوک کے قریب پہنچ گیا جہاں مقامی قیادت کی جانب سے استقبالی کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    رہنما ن لیگ مریم نواز اور حمزہ شہباز خصوصی طور پر تیار کیے گئے ٹرک پر موجود ہیں۔

    استقبالی کیمپوں میں پہنچنے پر کارکنوں کی جانب سے آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری کو مارچ کے راستے پر تعینات کیا گیا ہے جو ریلی کے ساتھ آنے والی گاڑیوں کے لیے راستہ صاف کرتے رہے جبکہ ریسکیو اور پولیس کی گاڑیاں بھی ریلی کے ساتھ موجود ہیں۔

    راستے پر لگائے گئے کیمپوں سے بھی ن لیگ کے کارکنان ریلی کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

    ن لیگ کی ریلی شام پانچ بجے کے قریب لاہور میں ماڈل ٹاؤن سے نکلی تھی جو سست روی سے چلتی ہوئی لگ بھگ 11 بجے کے قریب لاہور کے آزادی چوک پہنچی۔

  16. مولانا فضل الرحمان کا قافلہ اسلام آباد میں داخل

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر شہر کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتظامیہ نے جے یو آئی جی نائن کے سامنے سری نگر ہائی وے کے ساتھ موجود گراؤنڈ جلسے کے لیے دیا ہے۔ تاہم اس موقع پر سی نگر ہائی وے کو بھی بلاک کیا جا رہا ہے۔

  17. مسلم لیگ نون کا ’مہنگائی مکاؤ مارچ‘ مزنگ پہنچ گیا

    پاکستان مسلم لیگ نون کا ’مہنگائی مکاؤ مارچ‘ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔

    مزنگ پہنچنے پر اس قافلے کا آتشبازی کے ساتھ استقبال کیا گیا۔

  18. ’500 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پہنچ رہا ہے، لوگ تو پھر ہزاروں ہوں گے‘, حمیرا کنول، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اس وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جے یو آئی کے حکومت مخالف جلسے کی سکیورٹی کو کنٹرول کر رہی ہے۔

    ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہماری اطلاعات ہیں کہ چکری انٹر چینج سے جے یو آئی کے قافلے میں 500 گاڑیاں آئی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس میں بسیں بھی ہیں اور کوسٹرز بھی جبکہ ایک ایک گاڑی میں کئی افراد ہوں گے۔

    ’ہمیں اصل تعداد تو معلوم نہیں لیکن اندازاً یہ تعداد ہزاروں میں ہو گی۔‘

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس وقت تو سری نگر ہائی وے کھلی ہے لیکن جلسے کے آغاز پر اسے بند کر دیا جائے گا اور مولانا کا کنٹینر اور سٹیج سڑک کے دوسری جانب ہو گا۔

  19. مولانا کی آمد کے منتظر کارکنان اور ڈیک پر گونجتے حکومت مخالف نغمے, حمیرا کنول، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    مولانا فضل الرحمان کا قافلہ اسلام آباد کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ دوپہر کی نسبت شام ڈھلنے کے بعد جلسہ گاہ میں پارٹی کارکنان اور حامیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ انھوں نے سفید اور سیاہ دھاری دار پرچم اٹھا رکھے ہیں۔

    اب پولیس کی تعداد کم اور ان کی جماعت کے کارکنان کی تعداد زیادہ ہے۔ اس وقت پولیس سے زیادہ ٹریفک پولیس اہلکار اور ان کی سائرن بجاتی گاڑیاں پنڈال کے پاس سے گزر رہی ہیں اور آنے والوں کو سپیکر پر اپنی گاڑیاں مختص مقام پر پارک کرنے کی ہدایات جاری کر رہی ہیں۔

    فی الوقت سری نگر ہائی وے پر ٹریفک معمول کے مطابق ہے گزرتی گاڑیوں میں سے کچھ لوگ حیرت سے اس جلسے کی جانب دیکھ رہے ہیں جیسے انھیں اس کی توقع نہیں تھی۔

    سڑک کے کنارے قد آور ڈیک رکھے گئے ہیں اور فضا میں جماعت کے کارکنان کی جانب سے تیار کردہ نغمے ترنم کے ساتھ گونجتے سنائی دے رہے ہیں۔

    یہاں جی نائن کے سامنے سری نگر ہائی وے پر ایک بڑی جگہ پر شامیانے لگائے گئے ہیں اور پنڈال تیار ہے۔

    بہت سے لوگ سڑک کراس کر کے جی نائن مرکز کی جانب بھی جاتے دکھائی دیے جب سری نگر ہائی وے پر سڑک کے درمیان موجود گرین بیلٹ پر بھی جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔

    نجی ٹی وی چیلنز کی ڈی ایس این جیز نے پوزیشن سنھبال لی ہے۔

    آنے والوں کی سہولت کے لیے پانی، شربت، فروٹ چاٹ اور قلفی فراہم کرنے کے لیے مختلف سٹالز بھی دکھائی دیے۔

    یہاں فروٹ چاٹ بیچتے ایک شخص نے بتایا کہ ’میں پشاور سے آیا ہوں اور مولانا کا حامی ہوں۔‘ ہم نے ان سے پوچھا کب تک یہاں قیام ہے تو وہ کہنے لگے ’جب تک مولانا کہیں گے۔‘

    کشمیر سے آئے ایک نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم سے یہاں آئے ہیں اور تب تک نہیں جائیں گے جب تک عدم اعتماد پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

    ہم نے ان سے جلسے کے بارے میں پوچھا اور مولانا کی آمد کے بارے میں تو ان کا جواب تھا ہم کو یہ تو معلوم نہیں وہ کتنے بجے تک پہنچیں گے لیکن ہمارا جلسہ تو کل ہے ابھی تو مولانا پہنچیں گے۔

    وہ کہتے ہیں کہ پچھلی بار بھی ہم یہاں 14 دن رہ کر گئے تھے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے رضا کار انتظامی امور سنبھالے ہوئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ بہترین انتظامات ہیں اور کارکنان کی جانب سے کوئی بدمزگی نہیں ہو گی اور پرامن جلسہ ہو گا۔

  20. جمعیت علما اسلام ف کے قافلوں کی اسلام آباد کے قریب ہکلہ میں آمد کا سلسلہ جاری

    جمعیت علما اسلام ف کے قافلے اسلام آباد کے قریب ہکلہ پہنچ رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمان یہاں جلسے سے خطاب کریں گے۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس کے بعد قافلے اسلام آباد میں سری نگر شاہراہ پہنچیں گے جہاں مظاہرین قیام کریں گے۔