آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، باہر سے پاکستانی حکومت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے: عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے جلسے میں خطاب میں کہا ہے کہ ان کی حکومت تبدیل کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والے پیسے سے سازش ہو رہی ہے اور اس سازش میں کچھ پاکستانی انجانے میں اور کچھ جان بوجھ کر استعمال ہو رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’صوبہ چاہیے تو آؤ اس بل کی حمایت کرو‘, وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ جنوبی پنجاب صوبہ چاہتے ہیں تو حکوت کے مجوزہ قانون کی حمایت کریں۔

    جہاں ایک طرف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لیے حکومت کے اراکین اور اتحادیوں کی مدد مانگ رہی ہے اور سپیکر کو جابندار قرار دے رہی ہے وہیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعے کو جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق بل پر اپوزیشن سے مدد طلب کی ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سے متعلق بل کابینہ کے ممبران کو بھیجا گیا ہے۔ ’28 تاریخ کو جنوبی پنجاب کا آئینی بل لایا جا رہا ہے جو جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لیے خوش آئند ہے۔‘

    ان کے مطابق ملتان میں سیکریٹریٹ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ’یوسف رضا گیلانی نے کہا ہمیں سیکریٹریٹ نہیں صوبہ چاہیے۔ میں یوسف رضا گیلانی کو کہتا ہوں کہ اگر آپ کو صوبہ چاہیے تو آؤ اس بل کی حمایت کرو اور اس کے بل پر ووٹ دو۔‘

    انھوں نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے باوجود اس موضوع پر بات نہیں کی اور اپنی گفتگو کو اس بِل پر مرکوز رکھا۔

  2. آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا ہوا اور اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض؟, بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک بتاتے ہیں کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران روایت کے تحت فاتحہ خوانی ہوئی اور اس کے فوراً بعد سپیکر اسد قیصر نے اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا۔

    اس اجلاس میں سپیکر نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی نہیں کی۔ جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔

    بی بی سی نے اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی جاننے کے لیے مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ پیر کو عمران خان کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوجائے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں عمران خان کو 10 لاکھ لوگوں کی نہیں بلکہ صرف 172 ارکان کی ضرورت ہے۔‘

    شہزاد ملک بتاتے ہیں کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اردگرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے 27 مارچ کے جلسے کے کچھ پوسٹرز میں لکھا ہے کہ ’پی ٹی آئی = عمران خان۔‘

  3. ’علی وزیر کے لیے مشترکہ پروڈکشن آرڈر جمع کرا دیا‘

    رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے حکمراں جماعت تحریک انصاف کے حوالے سے کہا کہ آج ان کو روایات زیادہ عزیز ہوگئی ہیں۔

    وہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہتے ہیں کہ ’جس طرح آئین کی کتاب کو گذشتہ تین سے چار ماہ روندا ہے، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے جتنے بھی سیاسی رہنما ہیں ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم نے کیسے جمہوری عمل کو شفاف کرنا ہے۔‘

    محسن داوڑ نے بتایا کہ اپوزیشن نے ایم این اے علی وزیر کے لیے مشترکہ پروڈکشن آرڈر جمع کرا دیا ہے ’مگر ہمیں پتا ہے کہ انھوں (سپیکر) نے (علی وزیر کو) بلانا نہیں ہے۔‘

  4. ’سپیکر کا غیر جمہوری رویہ کوئی نئی بات تو نہیں‘, سابق صدر آصف علی زرداری کا بیان

    اپوزیشن کی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کا غیر جمہوری رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ ’اگر وہ جمہوری طریقے سے چلیں گے تو یہ کوئی نیا کام ہوگا۔‘

    وہ اپوزیشن کے ان ارکان میں شامل تھے جو آج اجلاس میں شامل ہوئے۔

    سپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی کے بغیر آئندہ اجلاس پیر تک ملتوی کیا ہے۔

  5. ’حکومت راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘

    بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جس دن سے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے اس دن سے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’آج جو اسمبلی میں ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔‘

    اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آج اگر اسمبلی میں حکومت کے پاس اکثریت ہوتی تو وہ راہ فرار اختیار نہ کرتے۔ انھوں نے اسے اپوزیشن کی کامیابی قرار دیا اور اپوزیشن کو مبارکباد بھی دی۔

    ان کے مطابق روایت سے اونچی آئین کی پاسداری ہوتی ہے۔ ’موجودہ حکومت نے آئین کی پامالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘

  6. ’پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور قوت کا مظاہرہ کریں گے‘

    اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی اسد محمود نے کہا ہے کہ آج بھی سپیکر نے جو بات کی وہ ایک سپیکر کی حیثیت سے نہیں تھی بلکہ ’عمران خان کے ذاتی نوکر کی حیثیت سے تھی۔‘

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سپیکر نے پارلیمنٹ لاجز اور سندھ ہاؤس کے حملے کے بعد کسی رکن اور جماعت سے رابطہ نہیں کیا۔ ’وہ سیلیکٹڈ وزیراعظم کے لیے پارٹی کے وفد میں شامل ہو کر حکومت کے اتحادیوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ وہ جانبدار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ سپیکر کا یہ عمل سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا۔ ’پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور قوت کا مظاہرہ کریں گے۔‘

  7. ’ہم عمران کو نہیں بھاگنے دیں گے‘

    اپوزیشن کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’(وزیر اعظم) عمران خان مقابلے سے بھاگ رہے ہیں، ہم عمران خان کو نہیں بھاگنے دیں گے۔‘

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تین سال کی جدوجہد کی ہے۔۔۔ عدم اعتماد ہمارا جمہوری ہتھیار ہے اور ہم سلیکٹڈ اور غیر جمہوری شخص سے انتقام لیں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان ’سابق وزیر اعظم بن جائیں گے۔‘

    بلاول نے بتایا کہ ’سنہ 2012 میں جب وزیراعظم کا انتخاب ہونا تھا تو اس وقت ہماری ایک ایم این اے فوزیہ وہاب کی وفات ہوئی تو پھر ہم نے آئین اور قانون کے مطابق سیشن آگے بڑھایا۔‘

    ’جب ہم نے عدم اعتماد پیش کی تو دو دن کے اندر اندر ہی ان کا خوف نظر آیا۔ انھوں نے لاجز اور سندھ ہاؤس پر حملہ کر کے دہشت پھیلانے کی کوشش کی۔ عمران خان مقابلے سے بھاگ رہے ہیں، ہم عمران خان کو نہیں بھاگنے دیں گے۔‘

  8. بریکنگ, ’اگر پیر کو یہ پھر دھاندلی کے مرتکب ہوتے ہیں تو پھر دما دم مست قلندر۔۔۔‘

    اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سپیکر 14 دن میں اجلاس بلانے کے پابند تھے اور یہ تاریخ 22 بنتی ہے۔

    ’سپیکر 21 سے پہلے اجلاس بلا سکتے تھے۔ یہ قانونی تقاضہ تھا۔ آج یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’فاتحہ خوانی کے بعد میں پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑا ہوا، انھوں نے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپیکر نے ایک نہ سنی اور یوں انھوں نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ دھاندلی اور دھونس کے ذریعے من مانی کی گئی، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

    شہباز شریف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر پیر کو آئندہ اجلاس میں سپیکر نے کوئی غیر آئینی عمل کیا تو ’ہر قانونی اور سیاسی حربہ استعمال کریں گے۔۔۔ اگر پیر کو یہ پھر دھاندلی کے مرتکب ہوتے ہیں تو پھر دما دم مست قلندر۔۔۔‘

  9. ’اپوزیشن انتشار سے عدم استحکام چاہتی ہے‘, وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا پیغام

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی وزرا محمد آصف نکئی اور محمد اختر ملک سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ملاقات کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور سیاسی صورتحال کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن انتشار کی سیاست کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہے۔ ’اپوزیشن کی جانب سے سیاسی انتشار پیدا کرنے کی ہر کوشش ناکام رہے گی۔ شکست اپوزیشن کا مقدر ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’قوم کل بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تھی، آج بھی ہے اورکل بھی رہے گی۔ 27 مارچ کا جلسہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بدل دے گا۔ اسلام آباد کا جلسہ پاکستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔‘

  10. ’سپیکر نے دوسری مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کی‘, خواجہ سعد رفیق کا ٹویٹ

    اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس ملتوی کر کے ’دوسری مرتبہ آئینی خلاف ورزی کی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اول: اسمبلی کا اجلاس 14 دن کی طے شدہ مدت میں نہیں بلایا۔ دوم: آج دعا کے بعد تعزیت کی آڑ لے کر عدم اعتماد کی تحریک پر ہاؤس کی منشا نہیں لی۔‘

  11. تحریک انصاف کے ناراض ارکان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کوئی بھی ناراض رکن موجود نہیں تھا جبکہ اکثر اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

    وہ بتاتے ہیں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ق لیگ کے کسی ارکان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔

    ان کے مطابق اجلاس میں ایم کیو ایم کا ایک جبکہ جی ڈی اے کے دو ارکان موجود تھے۔

  12. عدم اعتماد کی تحریک کے بعد حقیقی تبدیلی آنا ضروری: محسن داوڑ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد حقیقی تبدیلی آنا ضروری ہے وگرنہ صرف چہروں کی تبدیلی سے بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات چیت کرنے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں ان کی بات نہیں سنی گئی اور ان کے لوگوں اور علاقے میں ظلم جاری رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انھوں نے بارہا پارلیمان کے اندر اور باہر آواز اٹھائی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ ان سے جب پوچھا کہ کیا اگر ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے تو وہ عدم اعتماد کی تحریک میں پھر بھی ووٹ دیں گے یا نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کو ووٹ دیں گے لیکن ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے مطالبات کو ترجیح ضرور دیں گے۔

    محسن داوڑ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما میاں شہباز شریف جب تمام اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو اپنے ساتھ میڈیا کے ٹیمیں بھی لے کر گئے تھے لیکن جب ان سے ملاقات کے لیے آئے تو ان کے ساتھ میڈیا کے لوگ نہیں تھے جس سے ان کے خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ ان کے ساتھ کہیں پھر وہی سلوک روا نہ رکھا جائے جو پاکستان تحریک انصاف کے دور میں رکھا گیا ہے۔

    ان سے جب پوچھا کے جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو بھی اس اہم اجلاس میں شرکت کے لیے لایا جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوششیں کی جاری ہیں اور اگر انھیں نہیں لایا جاتا تو وہ کوشش کریں گے کہ علی وزیر کو پیرول پر رہائی دلا کر ایوان میں شرکت کے لیے لایا جائے ۔ علی وزیر ان دنوں کراچی کی جیل میں ہیں جہاں انھیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔

  13. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر تک ملتوی

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اجلاس کے التوا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمانی روایت ہے کہ رکنِ اسمبلی کی وفات کے بعد ایوانِ زیریں کا اگلا اجلاس ان کی دعائے مغفرت کے بعد ملتوی کر دیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیر 28 مارچ کی شام چار بجے منعقد ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد پر اس اجلاس میں قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کی صبح اجلاس میں اپوزیشن کے 159 ارکان موجود تھے اور ان میں سے بعض نے سپیکر کے اعلان پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    اسد قیصر کی جانب سے اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد اپوزیشن لیڈر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی کوشش کی تاہم سپیکر نے انھیں نظر انداز کر دیا۔

  14. ’اسمبلی کے سیشن میں آج کچھ نہیں ہونا‘

    ایک ٹویٹ میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ’آج کچھ نہیں ہونا۔‘

    انھوں نے پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا پر توجہ دینے کی گزارش کی اور اس حوالے سے کپتان بابر اعظم کو مشورے بھی دیے۔

    خیال رہے کہ اس اجلاس میں ممکنہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی جو کہ ایجنڈے کا حصہ ہے۔

  15. اپوزیشن ارکان کی تعداد ’حکومت سے کہیں زیادہ‘, اپوزیشن رہنما خواجہ آصف

    اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے ارکان کی تعداد کے حوالے سے ایک تصویر شیئر کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، اے این پی، بی این پی اور آزاد نمائندوں کی کتنی تعداد اجلاس میں موجود ہے۔

  16. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس شروع

    اجلاس کا آغاز تلاوت سے ہوا ہے جبکہ اس کے بعد روایت کے تحت نعت اور قومی ترانہ سنا جائے گا۔

  17. ’آج تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوشش کریں گے‘, شہباز شریف

    پارلیمانی اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ آج تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ سپیکر نے اجازت نہ دی تو مشاورت کریں گے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہباز شریف نے سپیکر اسد قیصر کو ایک خط میں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد 8 مارچ کو پیش کی گئی اور اسی دن اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق سپیکر 14 روز میں اجلاس بلانے کے پابند تھے اور فوری طور پر نوٹسز ملنے چاہیے تھے۔

  18. قائد حزب اختلاف شہباز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پارلیمنٹ پہنچ گئے ہیں۔

    وہ اپوزیشن کے اس اتحاد میں شامل ہیں جس نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے۔

  19. ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستے محدود کر دیے گئے

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ لا اینڈ آرڈر کی وجہ سے ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے ہے۔

    ٹوئٹر پر اس کا کہنا ہے کہ سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک اور ایوب چوک ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے بند رہیں گے۔

    ریڈ زون وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا وہ اہم علاقہ ہے جہاں پارلیمان، ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، سپریم کورٹ اور دیگر اہم عمارتیں واقع ہیں۔

  20. ’عمران خان کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘, اپوزیشن سینیٹر شیری رحمان

    اپوزیشن کی جماعت پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ’آج معلوم ہو جائے گا جمہوریت اور آئین کی پاسداری کون کرتا ہے۔‘

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’وزیراعظم کے پاس شکست قبول کرنے اور مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ لوگوں کو انتشار پر اکسانے سے حکومت نہیں بچ سکتی۔‘

    وہ مزید کہتی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ’غلط بیان کر رہے ہیں۔ یہ نیکی اور بدی کی لڑائی نہیں۔‘