اسلام آباد میں جی نائن کے اشارے پر کھڑے ہوں تو بالکل سامنے آپ کو پیلے رنگ کا پنڈال اور درختوں کے سائے تلے آرم کرتے پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکار دکھائی دیں گے۔
پنڈال کے قریب پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ یہاں 15 سے 20 اہلکار ایسے کھڑے تھے جیسے مولانا کا جلوس چوک کے قریب پہنچ چکا ہے۔
میں نے ان سے پوچھا ابھی جلوس کے آنے میں کتنی دیر ہے تو جواب ملا دس تو بج ہی جائیں گے۔
ہمارا اگلا سوال تھا تو آپ ابھی اتنے الرٹ ہیں کیوں ہیں تو وہاں موجود پولیس اہلکار نے زمین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پنڈال کے قریب مٹی کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مٹی میں کوئی کچھ رکھ نہ دے۔
جلسہ گاہ کے اطراف میں تیزی سے خار دار تاروں کے رول گاڑی سے اتار کر کچی زمین پر رکھے جا رہے تھے۔
پولیس اہلکاروں سے چند قدم کے فاصلے پر جے یو آئی کے اراکین کھڑے تھے اور وہاں اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آنے والے جہاں پانی کی بوتلیں لائے ہیں وہیں لوٹوں کی بڑی تعداد بھی دکھائی دی۔
جے یو آئی کے انتظامی اہلکاروں نے بتایا کہ سنیچر کی رات تک ان کا مرکزی جلوس پشاور سے یہاں پہنچ جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ پنڈال میں ایک جانب رہائش کا بندوبست ہو رہا ہے اور وہیں واش رومز کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔
جے یو آئی کے جلسے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ابھی تک انھیں انتظامیہ کا تعاون حاصل ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تو ہم یہاں ٹھہریں گے اور 28 کو جب ن لیگ کا جلوس آئے گا تو اس کے بعد ہماری قیادت فیصلہ کرے گی۔‘
پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مولانا کا کنٹینر تو ہو گا لیکن جلسے کی وی آئی پی شخصیات یہیں پنڈال میں ہی بیٹھیں گی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ ’ہم پہلے بھی پندرہ روز تک یہاں بیٹھے تھے اسلام آباد کھلا رہا تھا اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔‘