پریڈ گراؤنڈ میں وزیراعظم عمران خان کا جلسہ جاری ہے تاہم اس سے کچھ ہی فاصلے پر جی نائن موڑ کے قریب مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر پر فی الحال خاموشی ہے۔
یہاں آنے والے افراد ٹولیوں میں اسلام آباد کی شاہراہوں پر گھوم رہے ہیں۔ بہت سے لوگ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے آئے ہیں۔
سڑک سے گزرتے چند نوجوان لڑکوں نے مجھے بتایا ’ہم پہلی بار اسلام آباد آئے ہیں۔۔۔ ہم دو تین دن ادھر ہی ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کے لیے تیار کردہ کنٹینر سے کچھ فاصلے پر شامیانے لگے ہوئے ہیں اور گھاس پر لگے خیموں میں لوگ سستا رہے ہیں۔
یہیں اپنی موٹر سائیکل پر سفید اور سیاہ دھاری دار جماعت کا جھنڈا لگائے ایک شخص نے بتایا ’میں لکی مروت سے آیا ہوں اور مدرسے میں استاد ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ لینا چاہتے ہیں۔
یہاں ملنے والے ہر بوڑھے جوان سے جب بھی سوال کریں کہ جلسہ کب شروع ہو گا تو وہ جواب میں کہتے ہیں ’یہ جلسہ نہیں دھرنا ہے، دھرنا۔‘
ایک شخص نے کہا ’ہم دس دن کا سامان لے کر آئیں ہیں اور موٹر سائیکل پر پانچ گھنٹے کا سفر کیا ہے۔‘ اپنے موٹر سائیکل پر موجود ایک پتلے سے کمبل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’خیمے لگائیں ہیں تنظیم نے۔ ہم یہ کمبل بچھا کر سوتے ہیں۔‘
وہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی تعداد اب صبح کے مقابلے میں قدرے کم دکھائی دے رہی تھی۔
ایک اہلکار نے سرینگر ہائی وے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’میڈم! ہم تو یہاں سے آگے نہیں جا رہے۔‘
’اندر جے یو آئی کے اپنے لوگ سکیورٹی چیک کر رہے ہیں۔ ان کو چھیڑنا بھڑوں کے جتھے میں ہاتھ ڈالنے والی بات ہے۔