پاکستان میں بیشتر افراد کورونا کی علامات ظاہر ہونے یا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنے آپ کو گھروں میں ہی قرنطینہ کر رہے ہیں۔
مگر ایسا کرتے ہوئے آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اس حوالے سے محکمہ صحت حکومت سندھ نے ایک تفصیلی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔
-
قرنطینہ کے لیے گھر کے ایسے کمرے کا انتخاب کیجیے جہاں تازہ ہوا کا گزر ہو
-
اس بات کا دھیان رکھیے کہ آپ کے گھر کے دیگر افراد آپ سے اس وقت تک مکمل طور پر الگ تھلگ رہیں جب تک آپ شفایاب نہیں ہو جاتے
-
اپنے گھر سے ایک فرد یا ایک مددگار کا انتخاب کیجیے جو آپ کی ضروریات کا خیال رکھے اور ایسا کرتے ہوئے وہ تمام تر حفاظتی اقدمات یعنی ماسک، حفاظتی سوٹ، دستانے اور دیگر اشیا کا استعمال کرے
-
اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیے کھانستے یا چھینکتے وقت اپنے منھ کو ٹشو سے ڈھانپیے اور ایسا کرنے کے بعد ٹشو کو فوراً ڈسپوز آف کر دیں
-
کمرے میں ایسا کوڑے دان استعمال کیجیے جس پر ڈھکن لگا ہو
-
کمرے میں رہتے ہوئے سرجیکل ماسک کا استعمال کیجیے اور اگر یہ گیلا ہو جائے تو اسے تبدیل کیجیے
-
اپنے کپڑوں کو گرم پانی میں دھوئیے
قرنطینہ میں کیا نہیں کرنا؟
-
جس کمرے میں آپ نے اپنے آپ کو قرنطینہ کر رکھا ہے اس سے ہرگز باہر نہ نکلیں
-
قرنطینہ کے دورانیے میں اپنے گھر کسی مہمان کو نہ آنے دیں
-
ایسے افراد کو ہرگز اپنی تیمارداری پر متعین نہ کریں جو بوڑھے ہیں، مدافعتی نظام کمزور ہے یا کسی پہلے ہی کسی اور بیماری کا شکار ہیں
-
اپنے چہرہ کو اپنے ہاتھوں سے ہرگز نہ چھوئیں
-
اتارنے کے بعد اپنے کپڑوں کو جھاڑیے مت
-
وہ فرد جو آپ کے اتارے ہوئے کپڑے جمع کرے اسے ان کو چھونے کی اجازت ہرگز نہ دیں
ڈاکٹر سے رابطہ کب کرنا ہے؟
اگر آپ اپنے آپ کو گھر میں قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
-
بخار یا کھانسی ہونے کی صورت میں
-
سانس لینے میں دشواری کی صورت میں
-
ہونٹوں یا چہرے کی رنگت نیلی پڑنے پر
-
قرنطینہ میں جانے کے بعد ایک ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر آپ سے رابطہ کرے گا، تاہم ہنگامی صورتحال میں سندھ کے باسی ان نمبروں پر رابطہ کریں 021-99204452، 99206565، 0111712-0316