پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) نے ایک بار پھر حکومت سے لاک ڈؤن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا سے متعلق صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دو ہفتوں میں متاثرین کی تعداد میں تین گنا اور اموات میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ایس او پیز پر عمل درآمد کی مکمل ذمہ داری بھی حکومت کو لینی چاہیے۔
تمام ڈاکٹر تنظیموں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے کو سنگین غلطی قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
لاہور پریس کلب میں پی آئی ایم اے کے صدر ڈاکٹر افضل ، پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی، پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے صدر ڈاکٹر طارق میاں، صدر ینگ ڈاکٹر سلمان حسیب سمیت دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں لاک ڈاؤن میں بھی اضافہ اور سختی کی گئی۔
ڈاکٹرز نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اس وقت ہوئی جب متاثرین کی تعداد میں کمی آئی جبکہ ہمارے ہاں کیسز میں تیزی آگئی ہے اور حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی کر دی ہے، جس سے کورونا متاثرین میں مزید تیزی کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے معاشی مشکلات کا احساس قابل توجہ ہے۔ لیکن اس کا یہ حل بھی نہیں کہ غریب عوام کو بیماری کے اضافی بوجھ سے بھی دوچار کر دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے فوج سمیت جس ادارے کی مدد لینا چاہے لے لیکن کورونا کی وبا کو نظر انداز نا کیا جائے۔
پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا تھا لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ ناقابل قبول ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ کسی صورت حالات کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کے طے کردہ اصولوں کے مطابق طبی عملے کی تربیت بھی نہیں کی گئی۔
جبکہ ابھی تک طبی عملے کو مکمل طور پر حفاظتی سامان بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
پی ایم اے صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال چیف جسٹس آف پاکستان نے اہم اقدام اٹھائے ہیں ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے مزید اقدامات بھی لیں۔
ڈاکٹر اشرف نظامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔
شہریوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ خود بھی اپنی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھروں میں محدود رہیں۔
ڈاکٹر طارق کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ایک سنگین غلطی ہو گی۔