آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: 187 متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان 19ویں نمبر پر آ گیا

پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 مریض وبا کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے بعد دو اراکین قومی اسمبلی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. شہید بینظیر آباد میں کورونا فیلڈ ہسپتال اور آئسولیشن مرکز کا کام مکمل

    صوبہ سندھ کے ضلع شہید بینظیر آباد میں صوبائی محکمہ صحت نے کورونا کے علاج کے لیے ایک فیلڈ ہسپتال اور ایک آئسولیشن وارڈ قائم کر لیا ہے۔

    شہید بینظیر آباد میں اب تک کورونا کے 167 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 69 صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ باقی زیر علاج ہیں۔

  2. 17 ٹن طبی و حفاظتی سامان چین سے پاکستان پہنچ گیا

    پاکستان انٹرنیشل ایئر لائنز کی ایک خصوصی پرواز چین سے 17 ٹن طبی اور حفاظتی سامان لے کر آج پاکستان پہنچی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ سامان پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے حوالے کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اس سامان میں 24 ایکس رے مشینیں اور ان کے پرزہ جات، 371000 ٹیسٹنگ کٹس جبکہ دس لاکھ سے زائد مختلف اقسام کے ماسک ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ چین سے خریدا گیا طبی سامان پی آئی اے کی پروازوں سے ملک لانے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

  3. سندھ: نو سرکاری محکمے کل سے کھولنے کا اعلان

    حکومت سندھ نے نو صوبائی سرکاری محکموں کو کم سے کم سٹاف کے اصول کے تحت کل سے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان محکموں میں اوقاف، انسانی حقوق، انڈسٹریز اور کامرس، سائنس اینڈ انفارمیشن، انویسٹمنٹ، سماجی بہبود، محکمہ برائے اقلیت، یونیورسٹی بورڈز اور ورکس اینڈ سروسز شامل ہیں۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان تمام محکموں کے سیکریٹریوں کے آفس کل سے کھلیں گے تاہم یہاں عملے کی تعداد کم سے کم رکھی جائے گی۔

  4. سندھ حکومت نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا

    حکومت سندھ نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت سندھ یہ ضروری سمجھتی ہے کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے پورے ملک میں یکساں پالیسی کا نفاذ ہو اور اسی بنیاد پر اس نوٹیفیکیشن کا اجرا کیا جا رہا ہے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ چار مئی کو سپریم کورٹ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران بھی لاک ڈاؤن کے حوالے سے یکساں پالیسی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

    دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی ہفتے میں چار دن صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی جبکہ بروز جمعہ، ہفتہ اور اتوار ہر طرح کی کاروباری سرگرمی پر پابندی ہو گی۔

    حکومت سندھ نے ریٹیل دکانوں کے مالکان اور چھوٹے کاروباری حضرات، جنھیں کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، کے لیے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر کا لائحہ عمل بھی جاری کیا ہے جس میں مناسب سماجی فاصلہ برتنے، ماسک پہننے اور ہینڈ سینیٹائزرز کے استعمال کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے وہ تمام علاقے جنھیں وبا کا ہاٹ سپاٹ قرار دیا گیا ہے وہاں دکانیں کھولنے کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام بڑے شاپنگ مالز، تعلیمی ادارے، ریستوران اور پبلک ٹرانسپورٹ بدستور بند رہے گی۔

  5. گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

  6. بریکنگ, خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 11 ہلاکتیں، 160 نئے مریض

    صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 160 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 11 مریض ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والے 11 کورونا متاثرین میں سے آٹھ کا تعلق پشاور سے جبکہ ایک، ایک فرد کا تعلق مردان، سوات اور بٹہ گرام سے ہے۔

    خیبرپختونخوا میں اب کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 4669 جبکہ اموات کی کُل تعداد 245 ہو چکی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 40 مریض کورونا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 1126 ہے۔

  7. کوئٹہ: بازاروں میں کاروبار تو کھل گئے مگر احتیاطی تدابیر نہ ہونے کے برابر

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوسرے روز تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں مگر احتیاطی تدابیر پر عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام دکانداروں پر ماسک پہننا لازم ہو گا اور انھیں اپنی اپنی دکانوں میں سینیٹائزر رکھنے ہوں گے۔

    دیگر شرائط کے مطابق کسی بھی ایسے گاہک کو دکان میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جس نے ماسک نہیں پہنا ہو گا۔

    نمائندہ بی بی سی محمد کاظم کے مطابق بازاروں میں نہ تو بیشتر گاہکوں اور نہ ہی دکانداروں نے ماسک پہن رکھے تھے جبکہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ دیگر پابندیوں پر عملدرآمد بھی نظر نہیں آیا۔

    یاد رہے کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے دکانداروں کو یہ ہدایت کی تھی کہ حکومت کے ساتھ معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کریں ورنہ خلاف ورزی پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  8. قرنطینہ: بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کے لیے ہدایت نامہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے بیرون ممالک سے واپس اسلام آباد پہنچنے والے تمام مسافروں کے لیے قرنطینہ کے حوالے سے خصوصی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔

    اس ہدایت نامے کے مطابق تمام مسافروں کو ایئرپورٹ سے سیدھا قرنطینہ مراکز منتقل کیا جائے گا تاہم یہ صوابدیدی اختیار مسافر کا ہو گا کہ وہ آئندہ چند روز گزارنے کے لیے سرکاری قرنطینہ کا انتخاب کرتا ہے یا نجی قرنطینہ کا۔

    اسلام آباد میں تین سرکاری قرنطینہ مراکز ہیں جبکہ 15 کے قریب نجی ہوٹلوں کو نجی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    سرکاری قرنطینہ میں تمام سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی تاہم نجی قرنطینہ کے لیے تمام اخراجات مسافر کو خود ادا کرنے ہوں گے۔

    قرنطینہ میں قیام کے دوران قومی ادارہ صحت مسافروں کے نمونے حاصل کرے گا اور نتائج آنے تک تمام مسافروں کو قرنطینہ میں رکنا ہو گا۔ اس سارے عمل میں دو سے تین دن کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

    ایسے مسافر جن میں علامات ظاہر ہوئیں یا طبعیت خراب ہوئی انھیں قرنطینہ سے ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم نجی ہسپتال میں تمام اخراجات مسافر کو خود برداشت کرنا ہوں گے جبکہ سرکاری ہسپتال میں صحت کی سہولیات مفت ہوں گی۔

  9. ’قرنطینہ کی سہولیات میں اضافے کے بعد خصوصی بروازوں کی تعداد بڑھائی جائے گی‘, دبئی: 63 ہزار پاکستانی وطن واپسی کے منتظر

    متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر غلام دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں قرنطینہ کی سہولیات میں مزید اضافے کے بعد بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے والی خصوصی پروازوں کی تعداد کو بڑھا دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا پاکستان میں سات ہزار افراد فی ہفتہ کی قرنطینہ گنجائش کو 15 ہزار افراد فی ہفتہ تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مخصوص افراد کو گھروں میں قرنطینہ کرنے کے حوالے سے تجاویز زیر غور ہیں اور اگر یہ منظور ہو گئیں تو صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کے ساتھ لگ بھگ 63 ہزار پاکستانی وطن واپسی کی غرض سے رجسٹر ہو چکے ہیں۔

    جلد از جلد وطن واپسی کے خواہشمند ان 63 ہزار پاکستانیوں میں سے تقریباً 11 ہزار پاکستانی ایسے ہیں جو کورونا وائرس کے باعث بیروزگار ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جیسے ہی قرنطینہ کی گنجائش میں اضافہ ہو گا خصوصی پروازوں کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دبئی سے کراچی تک پرواز کا کرایہ 800 درہم فی سیٹ کر دیا گیا ہے۔

    ’حفاظتی اقدامات کے باعث جہاز اپنی مکمل گنجائش کے مطابق پرواز نہیں کر رہے ہیں (یعنی جتنی سیٹیں اتنے مسافر)۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارت خانہ اور پاکستانی کمیونٹی ایسے پاکستانیوں کی مدد کر رہے ہیں جو ٹکٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔‘

  10. دو اراکینِ قومی اسمبلی میں کورونا وائرس کی تشخیص

    پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ مجلسِ عمل سے تعلق رکھنے والے دو اراکین قومی اسمبلی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔

    ان اراکین اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے گل طفر خان اور متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے ایم این اے محمود شاہ شامل ہیں۔

    گل ظفر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 41 باجوڑ سے منتخب ہوئے تھے جبکہ گل ظفر بلوچستان کے حلقے این اے 267 مستونگ سے منتخب ہوئے ہیں۔

    نمائندہ بی بی سی فرحت جاوید کے مطابق دونوں اراکین اسمبلی کے لیے گئے نمونے قومی ادارہ صحت کو جانچ کے لیے بھجوائے گئے تھے اور آج آنے والے نتائج میں دونوں ایم این ایز میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کل (سوموار) کو جبکہ سینیٹ کا اجلاس منگل کو ہونے جا رہا ہے اور ان دونوں اجلاسوں میں شرکت کے متمنی اراکین پارلیمان کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا۔

    ان دو اراکین پارلیمان کے علاوہ قومی اسمبلی کے ایک چیمبر اٹنڈنٹ کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔

  11. اسدعمر: عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیصلے کیے

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں ایسا نظام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر اس وبا میں اضافہ ہوتا بھی ہے تو اس کا حل نکالا جا سکے۔

    میڈیا کو بریفننگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو عوام کا احساس تھا اور اسی لیے انھوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے۔

    ان کے مطابق رورل سپورٹ پروگرام کے ساتھ حکومت کا معاہدہ ہو گیا ہے اور یہ پروگرام پاکستان کے ہر کونے میں موجود ہے وہ امداد اور متاثرین سے متعلق جانچ کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اگر کوئی علامات نظر آ رہی ہیں تو پھرمعاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پھر نوٹیفکیشن کے مطابق علاج کے لیے بتائی گئی تدابیر پر عمل کیا جائے۔

    اسد عمر کے مطابق سب سے طاقتور ایک شخص ہے جو اس بیماری کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے اور وہ ایک شخص آپ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو اس وبا سے پاک کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی احتیاتی تدابیر سے متعلق رائے پر عمل انتہائی ضروری ہے۔

  12. کورونا وائرس: پاکستان میں پھولوں کی مانگ بھی کووڈ 19 سے متاثر

  13. اسلام آباد: فیصل مسجد میں جراثیم کُش سپرے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے فیصل مسجد میں جراثیم کش سپرے کیا ہے۔ رمضان میں مسجد میں خصوصی طور پر تراویج کا انتظام کیا جاتا ہے جو اس سال بھی کیا جا رہا ہے۔

    لوگوں کی بڑی تعداد احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نماز اور تروایح کے لیے اس مسجد کا رخ کرتی ہے۔ نمازیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اسلام آباد کی انتظامیہ نے آج ایک بار پھر مسجد میں جراثیم کش سپرے کیا ہے۔

  14. کورونا وائرس: پاکستان کی صورتحال تشویشناک، ڈاکٹرز کا لاک ڈاؤن کا مطالبہ, دو ہفتوں میں متاثرین کی تعداد میں تین گنا اور اموات میں پانچ گنا اضافہ

    پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) نے ایک بار پھر حکومت سے لاک ڈؤن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا سے متعلق صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔

    ڈاکٹرز کے مطابق مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دو ہفتوں میں متاثرین کی تعداد میں تین گنا اور اموات میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ایس او پیز پر عمل درآمد کی مکمل ذمہ داری بھی حکومت کو لینی چاہیے۔

    تمام ڈاکٹر تنظیموں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے کو سنگین غلطی قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    لاہور پریس کلب میں پی آئی ایم اے کے صدر ڈاکٹر افضل ، پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی، پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے صدر ڈاکٹر طارق میاں، صدر ینگ ڈاکٹر سلمان حسیب سمیت دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں لاک ڈاؤن میں بھی اضافہ اور سختی کی گئی۔

    ڈاکٹرز نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اس وقت ہوئی جب متاثرین کی تعداد میں کمی آئی جبکہ ہمارے ہاں کیسز میں تیزی آگئی ہے اور حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی کر دی ہے، جس سے کورونا متاثرین میں مزید تیزی کا خدشہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے معاشی مشکلات کا احساس قابل توجہ ہے۔ لیکن اس کا یہ حل بھی نہیں کہ غریب عوام کو بیماری کے اضافی بوجھ سے بھی دوچار کر دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے فوج سمیت جس ادارے کی مدد لینا چاہے لے لیکن کورونا کی وبا کو نظر انداز نا کیا جائے۔

    پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا تھا لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ ناقابل قبول ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ کسی صورت حالات کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کے طے کردہ اصولوں کے مطابق طبی عملے کی تربیت بھی نہیں کی گئی۔

    جبکہ ابھی تک طبی عملے کو مکمل طور پر حفاظتی سامان بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ پی ایم اے صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال چیف جسٹس آف پاکستان نے اہم اقدام اٹھائے ہیں ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے مزید اقدامات بھی لیں۔

    ڈاکٹر اشرف نظامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

    شہریوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ خود بھی اپنی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھروں میں محدود رہیں۔ ڈاکٹر طارق کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ایک سنگین غلطی ہو گی۔

  15. بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین 30 ہزار سے تجاوز کر گئے

    پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 30،175 ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس وائرس سے اب تک 648 اموات ہو چکی ہیں۔

    اس وقت اس وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین سندھ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعاد 11480 بنتی ہے۔ صوبے میں کل 189 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سندھ میں اس وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2081 ہے۔

    پنجاب میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 11093 ہے اور صوبے بھر میں مرنے والوں کی تعداد 192 ہے۔

    خیبر پختونخوا میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد 4509 ہے لیکن 234 اموات کے ساتھ یہ صوبہ باقی سب سے آگے ہے۔

    بلوچستان میں متاثرین کی تعداد 1935 ہے جبکہ اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 بنتی ہے۔

    اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 641 ہے جبکہ کورونا وائرس ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ بنتی ہے۔ گلگلت بلتستان میں متاثرین کی تعداد 430 اور چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس وائرس سے 87 افراد متاثر ہوئے ہیں، تاہم کسی کی موت واقع نہیں ہوئی ہے اور اب تک ان میں سے 60 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ اب فعال متاثرین کی تعداد 27 بنتی ہے۔

  16. بریکنگ, پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر میں کورونا وائرس کی تشخیص

    پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری میں کورونا ٹیسٹ کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد انھوں نے اپنے آپ کو گھر میں ہی آئسولیٹ کر دیا ہے۔ وہ 28 اپریل کو دبئی سے واپس وطن پہنچے تھے۔

    اپنے ویڈیو پیغام میں انھوں نے بتایا کہ جب پہلی بار ان کا ٹیسٹ لیا گیا تو اس میں اس وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔ ایک ہفتے کے بعد جب دوبارہ ٹیسٹ کرایا تو ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد دوست محمد مزاری نے خود کو اپنی رہائشگاہ پر سیلف آئسولیٹ کرلیا ہے۔

    ڈپٹی سپیکر نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان میں اس وائرس کی بظاہر کوئی علامات نہیں ہیں مگر وہ تمام احتیاطی تدابیر اور قواعد وضوابط ہر عمل کر رہے ہیں۔

    اپنے گھر والوں اور کارکنان سے ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر واپس آ جائیں گے۔

  17. کورونا وائرس: سندھ میں نو افراد ہلاک، اموات 189

    زیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس پر تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4215 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ اور ان 4215 ٹیسٹ کے نتیجے میں اس وائرس کے 709 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو ٹیسٹ کا 17 فیصد ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے مطابق اب تک 91323 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جس سے 11480 متاثرین کے بارے میں پتا چلا ہے۔ مراد علی شاہ کے مطابق تکلیف دہ بات ہے کہ آج یعنی دس مئی کو 9 مریض انتقال کرگئے۔

    اس وقت تک سندھ میں کل 189 مریض انتقال کر گئے ہیں اور ابھی 9210 مریض زیر علاج ہیں۔

    وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ زیر علاج مریضوں میں سے گھروں میں 7973، آئیسولیشن مراکز میں 684 اور ہسپتالوں میں 553 مریض ہیں۔

    ان کے مطابق اس وقت 99 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں 26 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو 61 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئے، جن سے صحت یاب ہونے والے مجموعی مریضوں کی تعداد 2081 ہے۔

    مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ بھر کے 709 متاثرین میں سے کراچی میں نئے متاثرین کی تعداد 548 ہے، جن میں سے ملیر میں 152، ضلع جنوبی میں 45 اور ضلع وسطی میں 87 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ضلع شرقی کراچی میں 81، ضلع غربی 54 اورکورنگی میں 29 مزید متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔

    حیدر آباد میں 29، جیکب آباد میں 19 اور شکارپور میں 16 نئے مریضوں کا پتا چلا ہے۔

    گھوٹکی میں 12، سانگھڑ اور نوشہرو فیروزمیں 11-11 مزید مریض سامنے آئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق سکھر میں چھ، لاڑکانہ میں پانچ اورشہید بینظیر آباد میں چارنئے متاثرین رپورٹ ہوئے جبکہ جامشورو اور خیرپور میں 3-3، ٹنڈوالہیار میں مزید دو متاثرین سامنے آئے ہیں۔

  18. کورونا وائرس: حکومت پنجاب نے ہوم آئسولیشن سے متعلق قواعد جاری کر دیے

    صوبہ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے گھروں پر قرنطینہ کے لیے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔

    صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر، اے سی کی سربراہی میں خصوصی ہوم آئیسولیشن کمیٹی کے اراکین نامزد کرے گا۔

    ہوم آئسولیشن کمیٹی میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار شامل ہوں گے۔

    شہری اور دیہی یونین کونسل کی سطح پر سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی۔ کمیٹی ہوم آئسولیشن کےلیے گھروں کے سائز اور اہل خانہ کی تعداد کی جانچ کے بعد اجازت دے گی۔

    صرف ہلکی کورونا علامات والے مریضوں کو گھروں پر قرنطینہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    اجازت سے پہلے کورونا مریض اور دیگر اہلخانہ کی تعلیم، کورونا کے بارے میں عام آگہی، ہوم آئسولیشن کی بنیادی ضروریات کے بارے علم کو بھی پرکھا جائے گا۔

    متاثرہ فرد کن شرائط پر گھر رہ سکتا ہے؟

    حکومت پنجاب کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ہوم آئسولیشن میں مریض روزانہ اپنی صحت کے متعلق اپڈیٹس محکمہ صحت کو بھجوانے کا پابند ہوگا۔ کورونا مریض کو ہوم آئسولیشن کے دوران ہر دس دن بعد اپنا ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

    چوبیس گھنٹے کے وقفے سے دو بار ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے پر مریض ہوم آئسولیشن ختم کرسکے گا۔

    ہوم آئسولیشن کے دوران دوسری بار کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر دوبارہ ٹیسٹ اگلے پانچ دن بعد کروانا ہوگا۔

    ٹیسٹ کے لیے محکمہ صحت کا عملہ گھر سے سیمپل لے گا۔ مریض کو حکومت سے منظور شدہ پرائیویٹ لیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کرانے کی اجازت ہوگی۔

    عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق جن علاقوں میں ٹیسٹنگ سہولت میسر نہیں وہاں مریض کورونا کی علامات ختم ہونے کے بعد بھی مزید دو ہفتے کے لیے خود کو آئسولیٹ رکھے گا۔

  19. بلوچستان کی 79 فیصد آبادی کا کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جولائی کے پہلے ہفتے اور وسط جولائی میں کورونا کا پھیلاؤ انتہا تک پہنچ سکتا ہے۔

    ان کے مطابق یہ وقت انتہائی احتیاط کا حامل ہے، عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ اس دوران 79 فیصد آبادی اس وائرس سے متاثر ہو جائے۔

    ان خیالات کا اظہار کورونا سے متعلق بلوچستان کمانڈ۔و آپریشن سینٹر میں منعقدہ ایک اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر وحید نور اور ڈاکٹر ثناءاللہ پانیزئی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ اجلاس چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر کی صدارت میں ہوا۔

    ان ماہرین نے بتایا کہ کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ٹیسٹنگ صلاحیتوں میں اضافہ اور رینڈم ٹیسٹنگ ضروری ہے جبکہ بڑے شہروں کی آبادی کو زونز یا یوسیز میں تقسیم کر کے ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو سخت لاک ڈاؤن یا مکمل طور پر دوسرے علاقوں سے الگ کردیا جائے تاکہ اس کا پھیلاؤ زیادہ نہ ہوسکے۔

    انھوں نے تحقیق کے مختلف طریقہ کارکے تحت اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس بھی پیش کیں اور اس کا موازنہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق چیف سیکریٹری نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام کا مکمل تعاون ضروری ہے وگرنہ یہ موذی مرض جو بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اس کا پھیلاؤ خطرناک ہو جائے گا۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ یہ امر توجہ طلب ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی یا سمارٹ لاک ڈاؤن کی صورت میں تاجر، دکاندار اور عوام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔

    انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماسک کے پہننے پر سختی کی جائے اس کا اطلاق سوفیصد ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نقل وحمل کے حوالے سے ضلع کے اندر اور دیگر شہروں تک جانے پر سختی سے پابندی کرائی جائے کیونکہ جو علاقے اس وائرس کے پھیلاؤ کی زد میں نہیں آئے وہ محفوظ رہ سکیں۔

  20. جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو چین نے کیا کیا؟