آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: 187 متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان 19ویں نمبر پر آ گیا

پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 مریض وبا کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے بعد دو اراکین قومی اسمبلی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کورونا وائرس: سندھ میں ایک دن میں ریکارڈ 1080 متاثرین کا اضافہ

    وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر مراد علی شاہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ 74 دنوں میں کورونا وائرس کے 21610 ٹیسٹ کیے گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ٹیسٹ کیے ہیں، اس طریقے سے کل ٹیسٹ کی تعداد 87108 ہو گئی ہے۔

    وزیر اعلی کے مطابق کل (جمعے) تک 9691 متاثرین تھے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1080 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ بہت بڑی تعداد بنتی ہے۔ یہ تقریباً 20 فیصد بنتا ہے جتنے لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    مراد علی شاہ کے مطابق یہ کسی بھی صوبے میں پہلی بار ایک ہزار سے زائد افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے، جو کہ تشویشناک ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم اپنی پیک کی طرف جا رہے ہیں۔

    اس وقت سندھ میں کل متاثرین کی تعداد 10771 بنتی ہے۔ یہ ٹوٹل ٹیسٹ کا تقریباً 12 اعشاریہ چار فیصد بنتا ہے۔

    گذشتہ 24 میں 80 افراد اس وائرس سے صحت یاب ہوئے ہیں، جس سے صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 2030 ہو گئی ہے جو 18 اعشاریہ آٹھ فیصد بنتی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں چار ہلاکتوں کے بعد اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 180 ہو گئی جو کہ ایک اعشاریہ سات فیصد ہے۔

    اس وقت 8571 افراد زیر علاج ہیں، جن میں سے 7432 گھر میں آئسولیشن میں ہیں جبکہ 609 حکومتی آئسولیشن سنٹرز میں ہیں اور 530 مختلف ہسپتالوں میں ہیں اور ان 530 میں سے 101 کی حالت نازک ہے۔ ان 101 مریضوں میں سے 30 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں جو کہ تشویش کی بات ہے۔

  2. وزیر صحت خیبر پختونخوا: لاک ڈاؤن نرمی کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں گے, اموات میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے

    خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی بہت سوچ سمجھ کر کر رہے ہیں۔

    کوشش ہو گی کہ غیر معینہ مدت تک لاک ڈاؤن میں نہ جائیں۔ ان کے مطابق ہمیں اپنا رویہ درست کرنا ہوگا تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ان کے مطابق اب سب کی ذمہ داری ہے بنتی ہے کہ ہم ایک توازن قائم رکھ سکیں۔ ان کے مطابق حکومت ساتھ ساتھ اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ لیتی رہے گی۔

    ان کے مطابق شام چار بجے تک سب دکانیں بند ہو جائیں گی اور جمعے، سنیچر اور اتوار کو کاروبار مکمل بند ہو گا۔

  3. کورونا وائرس: مری میں ’ڈس انفیکشن‘ مہم جاری

  4. پاکستان میں ڈاکٹر اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی لباس کیسے تیار کر رہے ہیں؟

    کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں کچھ ڈاکٹر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے اور اپنے سٹاف کے لیے حفاظتی لباس کا بندوبست کر رہے ہیں۔

    راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر صائمہ دوسرے شہروں میں موجود ڈاکٹروں کے لیے ان سب چیزوں کا بندوبست کرتی ہیں، مگر کیسے؟

  5. بریکنگ, بلوچستان میں 25 سے زائد صحافیوں میں کورونا کی تشخیص

    ‎بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کورونا سے متاثرہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تعداد 25 سے زائد ہوگئی ہے

    ‎نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں ایک دو صحافیوں میں کورونا کی تصدیق کے بعد کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کورونا کا ٹیسٹ کا فیصلہ کیا تھا۔

    پریس کلب کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ اب تک محکمہ صحت کے توسط سے 124 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے ٹیسٹ کروائے جا چکے ہیں-

    عہدیدار کے مطابق ان میں سے 25 سے زائد صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ‎صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے متاثر ہونے کے بعد کوئٹہ شہر میں الیکٹرانک میڈیا کے بعض دفاتر کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے جبکہ متاثرین نے آئیسو لیشن اختیار کر لی ہے۔

  6. لاک ڈاؤن میں نرمی: بلوچستان میں کاروبار زندگی بحال

    بلوچستان حکومت کی جانب سے مکمل لاک ڈائون کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد کوئٹہ شہر میں تجارتی اور کاروباری مراکز کھل گئے ہیں۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق دکانیں صبح سحری سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی ۔ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائ جائے گی۔

    حکومت اور تاجروں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق کوئٹہ اور دیگر شہروں میں دکانیں سحری کے وقت سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔

    کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی جانب سے پہلے ہی دس مئی سے دکانیں کھولنے کا اعلان کیا گیاتھا ۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انجمن کے مرکزی صدر رحیم کاکڑ نے دکانوں کے کھلنے کو تاجروں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر لاک ڈاﺅن کی وجہ سے شدید نقصان سے دوچار ہوگئے تھے ۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے تاجروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایس او پیزکا خیال رکھیں ورنہ ان کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ان کا کہنا ہے لاک ڈاﺅن کی خلاف ورزی پر جو دکانیں پہلے بند ہوگئی تھیں وہ بھی آج جرمانوں کی ادائیگی کے بعد کھول دی جائیں گی۔ بازاریں کھلنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد ان میں موجود ہے لیکن ان کی اکثریت احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھ رہی ہے۔

    خیال رہے کہ حکومت بلوچستان نے لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا جب طبی ماہرین نے کورونا کے تیزی سے پھیلاﺅ کے باعث بلوچستان میں لاک ڈاﺅن کو مزید سخت کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    بعض ذرائع کے مطابق طبی ماہرین کی رائے کے برعکس بلوچستان حکومت کو وفاقی حکومت کی خواہش اور تاجروں کی دباﺅ کے تحت مکمل لاک ڈاﺅن کوسمارٹ لاک ڈاﺅن میں تبدیل کرنا پڑا۔

    اس فیصلے کے بعد محکمہ داخلہ نے لاک ڈاﺅن کے حوالے سے پہلے سے جاری کیئے گئے نوٹیفکیشن میں ترمیم کی ہے۔ نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق بلوچستان بھر میں تمام شاپنگ مالز مارکیٹس دکانوں گودام آٹو ریپئر شاپس اور ہیر کٹنگ سیلونز کوہفتہ صبح 3 بجے سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی۔

  7. لاک ڈاؤن میں نرمی: اسلام آباد کے سستے بازار بند رکھنے پر غور

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے اسلام آباد کے ہفتہ وار بچت بازار کھلنے سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں کیا لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ بچت بازار ابھی نہیں کھلیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بی بی سی کی آسیہ انصر کو مزید بتایا کہ اسلام آباد میں مختلف مقامات پر متبادل دنوں میں لگنے والے بچت بازار کھلنا اس لیے مشکل ہیں کیونکہ وہاں عوام کی بہت بڑی تعداد اکھٹا ہوتی ہے اور موجودہ صورتحال میں ہم انسانی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں اور ماہرین کی مشاورت جاری ہے اور ان کی رائے کو مد نظر رکھ کر ہی تمام فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

    اسلام آبادکی کون کون سی مارکیٹس اور دکانیں کھلنی ہیں اس سے متعلق سوال پر حمزہ شفقات نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی اج رات تک کیا جائے گا جس کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

    اس میں وہ تمام ایس او پیز بھی بتا دیے جائیں گے، جس پر عمل کرنا لازم ہو گا۔ ان کے مطابق تمام فیصلے نیشنل کووآڈینیشن کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے احکاماتِ کی روشنی میں کیے جائیں گے۔

  8. کورونا وائرس: چین کی پاکستان کے لیے مزید مدد

    چین نے پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مزید امداد بھیجی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے طبی آلات اور سازو سامان فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔

    چائینہ اکنامک نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ چین کے امدادی اداروں نے ہمیں ضروری طبی سازوسامان فراہم کیا ہے، جو پاکستان میں مختلف منصوبوں میں مصروف عمل ہیں۔

    نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ آزمائش کی ہر گھڑی میں پورا اترنے والے تذویراتی شراکت داروں اور نہایت قابل اعتماد دوستوں کی حیثیت سے پاکستان کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کی کوششوں میں چین سے تعاون کی فراہمی کا خواہاں ہے۔

  9. کیا جون جولائی میں کورونا وائرس انڈیا میں تباہی مچانے والا ہے؟

  10. کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ گھر پر بھی ماسک بنا سکتے ہیں؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر میں موجود اشیا کی مدد سے ماسک بنائے جا سکتے ہیں ۔ اس ویڈیو میں ماسک بناؤ مہم کے ڈائریکٹر عدن علی آپ کو باآسانی ماسک بنانا سکھائیں گے۔

  11. کورونا وائرس: قومی اسبملی کے اجلاس کس طرح ہوں گے؟

    صدر ڈاکٹرعارف علوی نے گذشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے دورے دوران ہدایت کی ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کورونا وبا کے تناظر میں صحت کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سماجی فاصلہ سمیت دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    صدر نے قومی اسمبلی کے ہال کا دورہ کیا اور قومی اسمبلی کے پیر کو شروع ہونے والے اجلاس کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انھوں نے اجلاس سے متعلق بریفنگ کی صدارت کی۔

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور قومی اسمبلی کے اعلیٰ حکام نے انھیں کو بریفنگ دی۔

    قومی اسمبلی اجلاس کا انعقاد کیسے ہو گا؟

    سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق بریفنگ کے دوران صدر مملکت بتایا گیا کہ کورونا وائرس سے متعلق قائم کمیٹی کی سفارشات پر قومی اسمبلی اجلاس کے ایس او پیز طے کیے گئے ہیں، ان ایس او پیز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی موجودگی کی تعداد کا تعین پارلیمانی لیڈرز کی صوابدید پر ہو گا۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ایک روز کے وقفہ سے تین گھنٹے ہو گا۔

    مہمانوں کی پارلیمنٹ ہائوس اور پارلیمنٹ لاجز میں آمد پر پابندی ہو گی۔ پارلیمنٹ کا صرف ضروری عملہ دفتر آئے گا۔ وزرا کے ساتھ عملہ کا صرف ایک فرد آئے گا۔

    صحافیوں کو خصوصی پاسز جاری ہوں گے جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد سے درخواست کی جائے گی کہ وہ گھروں میں رہیں۔

    صدر عارف علوی کی خصوصی ہدایات

    سماجی فاصلے کے اصول کو اسمبلی ہال میں بھی برقرار رکھا جائے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ وبا کب تک چلے گی۔ اس لیے مستقبل میں بھی اجلاسوں کے انعقاد میں اس حکمت عملی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے لیے بھی مناسب اقدامات کیے جائیں اور ان کی نشستوں کے درمیان بھی سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا جائے۔

    اسی طرح پارلیمنٹ کی مسجد میں نماز کے دوران ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔

  12. پاکستان میں آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی، متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد آج سے کاروباری سرگرمیاں پھر شروع ہو گئی ہیں۔

    عید سے پہلے لوگوں کی بڑی تعداد مارکیٹوں کا رخ کرتی نظر آئی۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ متاثرین کی یہ تعداد اب 27 ہزار سے بڑھ چکی جبکہ مرنے والوں کی تعداد 600 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان کے ساتھ ہی حکومت نے عوام سے خود ہی محتاط رہنے کی اپیل کی ہے تاکہ اس وائرس کے سے بچا جا سکے۔ صوبہ سندھ میں کاروباری سرگرمیوں میں نرمی پیر سے ہو گی۔

    لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود ٹرینوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی برقرار رہے گی۔

  13. پشاور کے ایک ہی گھر میں 11 مریض، چھوٹے مکانوں میں قرنطینہ کیسے کیا جائے؟

  14. بریکنگ, پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 27 ہزار سے بڑھ گئی

    پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 27،431 ہو گئی ہے جبکہ اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 620 ہو گئی ہے۔ پنجاب میں اس وائرس سے متاثرین کی تعداد 10،471 ہو گئی اور کل اموات کی تعداد 191 بنتی ہے۔

    صوبہ سندھ میں متاثرین کی تعداد 9،691 ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 176 ہو گئی ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں کل متاثرین 4،337 ہیں لیکن صوبے میں مرنے والوں کی تعداد سب زیادہ یعنی 221 ہے۔ بلوچستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 1،876 ہے اور مرنے والوں کی تعداد 24 بنتی ہے۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 609 ہو گئی ہے جبکہ اس وائرس سے چار افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    گلگلت بلتستان میں متاثرین کی تعداد 421 ہے اور اس وائرس سے چار افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کووڈ-19 متاثرین کی تعداد 87 ہے جبکہ ابھی تک اس علاقے میں اس وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

    اب تک ملک میں 7756 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  15. غریب کورونا، امیر کورونا

  16. پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ میں 28 ملازمین میں کورونا، 17 مئی تک کارروائی بند

    پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کے 28 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد بینچ کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق مینگورہ بینچ 17 مئی تک بند رہے گا۔

  17. بریکنگ, پنجاب میں 438 نئے متاثرین کی شناخت، لاہور میں کُل 4899 متاثرین

    صوبہ پنجاب کی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال بتائی گئی جس کے مطابق اب پنجب میں 438 نئے نتاثرین کے ساتھ صوبے میں کل تعداد 10471 ہو چکی ہے۔

    لاہور کا ضلع پورے میں پنجاب میں سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 4899 مریض سامنے آ چکے ہیں۔

  18. بلوچستان میں شاپنگ مالز، مارکیٹیں کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے صوبہ بھر میں تمام شاپنگ مالز، مارکیٹیں، دکانیں، گودام، آٹو ریپئر شاپس سمیت تمام دکانوں کو کھولنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام دکانیں پورا ہفتہ صبح تین بجے سے شام پانچ بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی تاہم پانچ بجے کے بعد کاروباری سرگرمی جاری رکھنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت بلوچستان میں صوبے میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں 19 مئی تک توسیع کا اعلان کیا تھا تاہم اب اس میں ترمیم کرتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق تندور، دودھ دہی کی دکانیں، میڈیکل سٹورز، بلڈ بینک اور درزی کی دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہ سکتی ہیں۔ تمام ریستوران اور ہوٹلز کو صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوے سروس کے لیے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی تاہم لاک ڈاؤن میں کی جانے والی نرمی تاجروں اور عوام کے احتیاطی تدابیر کی ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہو گی۔

    دکانوں اور مالز میں ورکرز اور گاہکوں کے لیے ہاتھ دھونے، سینیٹائیزر کی فراہمی اور ماسک اور گلوز کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق کسی بھی گاہک کو بغیر ماسک دکان یا شاپنگ مال میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ گاہک اور ورکرز کے درمیان ایک میٹر کا فا صلہ قائم رکھنا ضروری ہو گا۔ کسی بھی دکان میں ایک وقت میں چار سے زائد افراد داخل نہیں ہوں گے۔

  19. پاکستان: مصدقہ متاثرین 26993، اموات 612, صحت یاب: 7600

    پاکستان میں جمعہ کے روز کورونا کے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 26993 ہے جبکہ ہلاکتوں کی کُل تعداد 612 ہے۔

    اب تک 7600 افراد اس وبا سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    اگر متاثرین کی بات کی جائے تو صوبہ پنجاب بدستور سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں مصدقہ مریضوں کی کُل تعداد 10033 ہے۔ جبکہ ہلاکتوں میں 221 اموات کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا سرِفہرست ہے۔

  20. فیصل ایدھی صحت یاب ہونے کے بعد کام پر واپس آ گئے

    ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کورونا سے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد اپنی فلاحی سرگرمیاں آفس سے دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں فیصل ایدھی کا دو مرتبہ کورونا ٹیسٹ کیا گیا جو کہ منفی آیا۔

    فیصل ایدھی میں 21 اپریل کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ تشخیص سے چند روز قبل وہ وزیر اعظم عمران خان سے ملے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم کا بھی کورونا ٹیسٹ کیا گیا تھا جو منفی آیا تھا۔