وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ماہرین صحت گذشتہ چار، پانچ ہفتوں سے یہی بات بار بار دہرا رہے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت پر لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں برتنی چاہیے۔
نجی ٹیلیویژن چینل جیو پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ تمام پاکستانیوں کو ان کے گھروں تک محدود کر دیا جائے۔
’ہم یہ بات دہرا دہرا کر تھک چکے ہیں کہ غریب افراد لاک ڈاؤن کی بہت بھاری قیمت بھوک اور بیروزگاری کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔‘
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ وبا کو اس طرح سے نہ پھیلنے دیا جائے کہ ملک کا صحت کا نظام مفلوج ہو جائے اور حکومت بھی اپنے فیصلے ان تمام تر زمینی حقائق دیکھ کر کر رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ صوبے چاہیں گے کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں صحت کی سہولیات کم سے کم بتائیں تاکہ انھیں وفاق سے زیادہ سے زیادہ امداد مل سکے مگر میرے خیال میں صوبے غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں اور صحیح صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہسپتالوں سے شکایات موصول ہونے کے بعد اب وفاقی حکومت براہ راست حفاظتی طبی سامان صوبائی حکومتوں کے بجائے ہسپتالوں کے سربراہان کو پہنچا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ شروع میں کراچی سے یہ رپورٹ آئی تھی کہ وہاں کے ہسپتالوں میں بہت سے مریض ایسے لائے جا رہے ہیں تو یا تو ہسپتال پہنچنے سے قبل یا اس کے فورا بعد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
’اس رپورٹ کے بعد ایس او پیز بدلے گئے اور اب ہسپتال میں مردہ حالت میں لائے جانے والوں کا بھی کورونا ٹیسٹ ہوتا ہے۔
انھوں نے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کی اس بات سے اتفاق کیا کہ چند ایسے مریض بھی ہیں جن کی خون کی نالیوں میں خون منجمد ہونے سے ہلاکت ہو رہی ہے اور ایسے افراد کو بھی کورونا مریضوں کے طور پر گنا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ شاید پاکستان میں کورونا کے باعث ہونے والی چند ہلاکتیں مجموعی میزانیے میں نا گِنی جا رہی ہیں مگر ایسا بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہا ہے۔