آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں متاثرین 27 ہزار کے قریب، سینیٹ اجلاس میں شمولیت کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی
پاکستان میں کورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 27 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ ہلاکتوں کی کُل تعداد 611 ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے اپنے اگلے اجلاس کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس میں تمام سینیٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آنے سے قبل اپنا اپنا کورونا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔
کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟
تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔
کیسے پتا چلے کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر تو نہیں؟
کورونا وائرس کی دو اہم علامات ہیں۔ یہ بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ مگر آپ کیسے جانچ سکتے ہیں کہ آپ کو کورونا وائرس کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے یا آپ جو محسوس کر رہے ہو سکتے ہیں وہ شاید عام نزلہ اور زکام ہے؟
گلگت بلتستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہلاکت، 27 نئے مریض
گلگت بلتستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 27 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں مریضوں کی مجموعی تعداد 421 ہو گئی ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع استور میں ایک مریض ہلاک بھی ہوا ہے اور اب یہاں اموات کی کُل تعداد چار ہو گئی ہے۔
اسی دورانیے میں چھ مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور اب صحت یاب افراد کی تعداد 298 ہوگئی ہے۔
گلگت بلتستان میں زیرِ علاج مریضوں کی تعداد 119 ہے جس میں استور میں 69، گلگت میں 37، سکردو میں چار، گانچھے میں تین، دیامر میں دو، شگر میں دو، نگر میں ایک، ہنزہ اور غذر میں دو مریض شامل ہیں۔
فیض اللہ فراق کے مطابق محکمہ صحت گلگت بلستان اس امر کا تعین کرنے میں مصروف ہے کہ حالیہ دنوں میں یہاں زیادہ مریض کیوں سامنے آ رہے ہیں۔
فیض اللہ فراق کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے ملنے والے تجزیے کے بعد حکومت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات تجویز کرسکتی ہے۔
گھر میں قرنطینہ ہوتے ہوئے کن ہدایات پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے؟
پاکستان میں بیشتر افراد کورونا کی علامات ظاہر ہونے یا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنے آپ کو گھروں میں ہی قرنطینہ کر رہے ہیں۔
مگر ایسا کرتے ہوئے آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اس حوالے سے محکمہ صحت حکومت سندھ نے ایک تفصیلی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔
قرنطینہ میں کیا کرنا ہے؟
- قرنطینہ کے لیے گھر کے ایسے کمرے کا انتخاب کیجیے جہاں تازہ ہوا کا گزر ہو
- اس بات کا دھیان رکھیے کہ آپ کے گھر کے دیگر افراد آپ سے اس وقت تک مکمل طور پر الگ تھلگ رہیں جب تک آپ شفایاب نہیں ہو جاتے
- اپنے گھر سے ایک فرد یا ایک مددگار کا انتخاب کیجیے جو آپ کی ضروریات کا خیال رکھے اور ایسا کرتے ہوئے وہ تمام تر حفاظتی اقدمات یعنی ماسک، حفاظتی سوٹ، دستانے اور دیگر اشیا کا استعمال کرے
- اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیے کھانستے یا چھینکتے وقت اپنے منھ کو ٹشو سے ڈھانپیے اور ایسا کرنے کے بعد ٹشو کو فوراً ڈسپوز آف کر دیں
- کمرے میں ایسا کوڑے دان استعمال کیجیے جس پر ڈھکن لگا ہو
- کمرے میں رہتے ہوئے سرجیکل ماسک کا استعمال کیجیے اور اگر یہ گیلا ہو جائے تو اسے تبدیل کیجیے
- اپنے کپڑوں کو گرم پانی میں دھوئیے
قرنطینہ میں کیا نہیں کرنا؟
- جس کمرے میں آپ نے اپنے آپ کو قرنطینہ کر رکھا ہے اس سے ہرگز باہر نہ نکلیں
- قرنطینہ کے دورانیے میں اپنے گھر کسی مہمان کو نہ آنے دیں
- ایسے افراد کو ہرگز اپنی تیمارداری پر متعین نہ کریں جو بوڑھے ہیں، مدافعتی نظام کمزور ہے یا کسی پہلے ہی کسی اور بیماری کا شکار ہیں
- اپنے چہرہ کو اپنے ہاتھوں سے ہرگز نہ چھوئیں
- اتارنے کے بعد اپنے کپڑوں کو جھاڑیے مت
- وہ فرد جو آپ کے اتارے ہوئے کپڑے جمع کرے اسے ان کو چھونے کی اجازت ہرگز نہ دیں
ڈاکٹر سے رابطہ کب کرنا ہے؟
اگر آپ اپنے آپ کو گھر میں قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
- بخار یا کھانسی ہونے کی صورت میں
- سانس لینے میں دشواری کی صورت میں
- ہونٹوں یا چہرے کی رنگت نیلی پڑنے پر
- قرنطینہ میں جانے کے بعد ایک ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر آپ سے رابطہ کرے گا، تاہم ہنگامی صورتحال میں سندھ کے باسی ان نمبروں پر رابطہ کریں 021-99204452، 99206565، 0111712-0316
سینیٹ اجلاس میں شمولیت کے لیے سینیٹرز کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار
سینیٹ سیکریٹریٹ نے اپنے آئندہ ہونے والے اجلاس کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس میں تمام سینیٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آنے سے قبل اپنا اپنا کورونا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
سینیٹرز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت پارلیمنٹ لاجز کی ڈسپنسری میں موجود ہو گی۔
یاد رہے کہ سینیٹ کا اجلاس 12 مئی (منگل) کو طلب کیا گیا ہے۔
اس اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اجلاس کی کوریج کے لیے 10 سے 12 صحافیوں کو صحافیوں کے لیے مختص گیلری میں بیٹھنے کی اجازت ہو گی اور ان درجن بھر صحافیوں کے نام پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گی۔
دیگر ہدایت کچھ اس طرح ہیں:
- سینیٹ ہال میں داخلے سے قبل تمام سینیٹرز کا درجہ حرارت چیک تھرمل گنز کی مدد سے چیک کیا جائے گا
- تمام سینیٹرز پر ماسک اور دستانے پہننے لازم ہوں گے
- پارلیمنٹ کی عمارت میں کسی سینیٹرر کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہو گی
- وزرا کے ساتھ عملے کا صرف ایک رکن ہو گا
- تمام وفاقی محکموں سے صرف ایک، ایک نمائندے کو پارلیمان میں بیٹھنے کی اجازت ہو گی
لاڑکانہ میں کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر کورونا کے ٹیسٹ کے لیے ضلع لاڑکانہ میں لیبارٹری قائم کردی گئی ہے۔
محکمہ صحت سندھ کی طرف سے قائم کی گئی لیبارٹری نے آج سے مشتبہ مریضوں کے نمونے حاصل کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے اور ٹیسٹ کے نتائج ہفتہ کے روز سے موصول ہونا شروع ہو جائیں گے۔
محکمہ صحت کے مطابق لیبارٹری میں روزانہ 200 ٹیسٹ کیے جا سکیں گے اور اس صلاحیت کو آنے والے دنوں میں 350 تک بڑھایا جائے گا۔ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں نواب شاہ میں بھی کرونا ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کی جائے گی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا متاثرین کی تعداد 87 ہو گئی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع مظفرآباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دو خواتین اور دو بچیوں سمیت مزید نو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 87 ہو گی ہے۔
صحافی ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے متاثرہ افراد کا تعلق دارالحکومت مظفرآباد سے ہے۔ دو خواتین اور دو بچیوں سمیت سات افراد کا تعلق نجی ٹی وی سے وابستہ مقامی صحافی کے خاندان سے ہے جو گذشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔
ڈاکٹر سعید کے مطابق متاثرہ خاندان کے علاقے مانک پیاں کیمپ میں موجود ان کے محلے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک 85 سالہ بزرگ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے رواں ماہ گوجرانوالہ سے مظفرآباد کا سفر کیا تھا۔
ڈاکٹر سعید کے مطابق ان کے رابطے میں آنے والے خاندان کے افراد کو گھر میں آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا ایک دوسرا شخص نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کام کرتا ہے اور اس نے حال ہی میں راولپنڈی سے مظفرآباد کا سفر کیا ہے۔
حکام کے مطابق اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر دو مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 60 ہو گی ہے۔
کورونا کے دور میں بچوں کی حفاظت: والدین کے لیے ہدایت نامہ
وزارت انسانی حقوق نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران بچوں کی حفاظت کے لیے آگاہی مہم اور گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔
وزارت انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی کے پیش نظر والدین گھر میں بچوں کی مدد کر سکتے ہیں۔
بچوں کو صابن سے بیس سیکنڈ تک بار بار ہاتھ دھونے کی ترغیب دیں، اگر آپ میں یا خاندان کے کسی فرد میں وائرس کی علامات ہیں تو بچوں سے خود کو الگ کر لیں اور اگر اگر آپ کو اپنے بچوں میں علامات جیسا کہ کھانسی، زکام، بخار نظر آئیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بچوں کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں وزارت کی ہیلپ لائن 1099 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں میں تناؤ کی علامات کا جائزہ لیں اور تناؤ کی علامات جیسا کہ نیند اور بھوک کی کمی اور اداسی میں بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچے وائرس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے مگر وہ ثانوی اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں اورسکول اور کھیلوں کے میدان بند ہونے سے بچوں میں انٹر نیٹ کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔
’اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے بچے اور دیگر اہلخانہ وائرس سے متعلق درست معلومات تک رسائی حاصل کریں۔ بچے جو آن لائن مواد دیکھ رہے ہیں آپ اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے کسی آن لائن بدسلوکی کا نشانہ نہ بنیں۔ بچوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں جیسا کہ فون اور ویڈیو چیٹ پر اساتذہ اور دوستوں سے رابطے میں رہنے کی ترغیب دیں۔‘
بلوچستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 151 نئے مریض سامنے آ گئے, صوبے میں 91 فیصد کیس مقامی منتقلی کے ہیں
صوبہ بلوچستان میں جمعہ کے روز کورونا کے 151 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1876 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد بدستور 24 ہی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق آٹھ مئی کو صوبے بھر میں کیے گئے ٹیسٹوں کی کُل تعداد 530 ہے جبکہ اب تک بلوچستان میں ہونے والے کورونا ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 13771 ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں 91 فیصد کیسز وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔
صوبے میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 222 ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 16 ہزار سے زائد ہے۔
گذشتہ چھ دنوں میں کیے گئے ٹیسٹوں اور مریضوں کا تناسب 12.36 فیصد رہا
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سات مئی (جمعرات) کو ملک میں کسی بھی ایک روز کے دوران سب سے زیادہ 1764 نئے مصدقہ مثاثرین سامنے آئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں حالیہ دنوں میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
گذشتہ چھ دنوں کے دوران، دو مئی سے سات مئی، ملک بھر میں 62462 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ سات مئی کو 11993، چھ مئی کو 12196، پانچ مئی کو 10178، چار مئی کو 9857، تین مئی کو 9522 جبکہ دو مئی کو مجموعی طور پر ملک بھر میں 8716 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
اس دورانیے میں سب سے زیادہ 19982 ٹیسٹ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے پنجاب میں کیے گئے ہیں۔ اسی طرح اسی دورانیے میں صوبہ سندھ میں 26192 جبکہ خیبرپختونخوا میں 7042 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں گذشتہ چھ دنوں کے دوران 7723 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ سات مئی کو 1764 متاثرین سامنے آئے جبکہ چھ مئی کو 1523، پانچ مئی کو 1049، چار مئی کو 1315، تین مئی کو 1083، جبکہ دو مئی کو 989 متاثرین سامنے آئے تھے۔
اگر چھ دنوں میں کیے گئے ٹیسٹوں کا اسی دورانیے میں سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو یہ تناسب 12.36 فیصد بنتا ہے یعنی ٹیسٹ کیے گئے ہر 100 افراد میں سے 12.36 افراد کورونا میں مبتلا پائے گئے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر کے ملازمین کے لیے اعزازیے کی منظوری دے دی
صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوانِ صدر میں کام کرنے والے گریڈ ایک سے گریڈ 20 تک کے تمام سرکاری ملازمین کو ان کی ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے مساوی اعزازیہ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایوان صدر سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق اس اقدام سے قومی خزانے پر ایک کروڑ 38 لاکھ سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے عام طور پر رمضان کے مہینے میں ہر سال صدر سیکریٹریٹ کے ملازمین کو اعزازیہ جاری کیا جاتا ہے اور اب رواں ماہ رمضان میں کورونا کی وجہ سے بیشتر ملازمین کو گھروں تک محدود ہونے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
یہ کہا گیا ہے کہ ایوانِ صدر کے کئی چھوٹے گریڈ کے ملازمین دفتری اوقات کے بعد جزوقتی کام بھی کیا کرتے تھے تاہم اب کورونا کے باعث وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق صدر پاکستان کو تجویز پیش کی گئی کہ ’ان مخصوص اور سخت معاشی حالات‘ کو مدِنظر رکھتے ہوئے گریڈ ایک سے گریڈ 20 کے تمام ملازمین کو ان کی بنیادی تنخواہ کے مساوی اعزازیہ جاری کیا جائے۔
بلوچستان: مکمل لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں بدلنے کی منظوری
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت لاک ڈاؤن سے متعلق امور کے جائزہ کی کمیٹی کا اجلاس آج کوئٹہ میں منعقد ہوا ہے۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے ممبران، انتظامیہ اور سینیئر افسران نے شرکت کی۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں مکمل لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے اور بعض کاروبار کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق دکاندار اور تاجر تنظیمیں احتیاطی تدابیر کی ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہوں گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیر کے روز سے صوبہ بھر میں کپڑے، جوتے، درزی اور ملبوسات کے کاروبار کھل جائیں گے۔ کمیٹی کے اراکین اور انجمن تاجران کے نمائندے اجلاس میں دیگر امور طے کریں گے۔
کمیٹی کے اراکین اور انجمن تاجران کے نمائندے مشترکہ پریس کانفرنس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔
خیال رہے کہ اس اجلاس سے قبل ہی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے دس مئی سے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ تاجروں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت نے نرمی نہیں کی تو وہ خود سے اپنا کاروبار کھولیں گے۔
بلوچستان: غیر سرکاری تنظیموں کو امدادی سرگرمیوں کے لیے این او سی جاری
بلوچستان حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں کو کورونا کے پیش نظر صوبے بھر میں امدادی سرگرمیوں کے لیے این او سی جاری کر دی گئی ہے۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات ڈونرز اور این جی اوز سے روابط کے لیے قائم ریسورس کمیٹی کے اجلاس کے دوران بتائی گئی جو کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ امدادی اداروں کی جانب سے مختلف شعبوں میں استعداد کار میں اضافے، زراعت، ماہی گیری اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے معاونت کی فراہمی اور ورلڈ فوڈ پرگرام کی جانب سے صوبے کے اضلاع میں راشن کی فراہمی میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
جبکہ بلوچستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں شامل 25 غیر سرکاری تنظمیں عالمی امدادی اداروں کی معاونت کے ساتھ عملی طور پر سرگرم عمل ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ سماجی بہبود کے تحت 1420 این جی اوز رجسٹرڈ ہیں جو چیریٹی ایکٹ کے تحت کام کر رہی ہیں تاہم ان میں زیادہ تعداد غیر فعال تنظیموں کی ہے۔ ان تمام تنظیموں کو کورونا کے تناظر میں امدادی سرگرمیوں کے لیے این او سی جاری کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ڈونرز، بین الاقوامی اور ملکی رضا کار اداروں، یورپی یونین، اقوام متحدہ کی ایجنسیز کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورنا وائرس کے بعد کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کی اہمیت میں اضافہ ہو گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ کورنا وائرس سے معاشی و سماجی شعبہ پر مرتب ہونے والے اثرات اور نقصانات آئندہ پانچ سے چھ سال تک برداشت کرنے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی و کاروباری سرگرمیوں کی معطلی سے روزگار کے مواقع میں کمی ائے گی جس سے غربت میں بھی اضافہ ہو گا تاہم بہتر معاشی حکمت عملی، ترقیاتی شراکت داروں، ڈونرز اور غیر سرکاری تنظمیوں کے تعاون سے معاشی و سماجی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
خیبرپختونخوا: جمعہ کے روز مزید 12 ہلاکتیں، 371 نئے متاثرین
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں مزید 12 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 371 نئے مریض بھی سامنے آئے ہیں۔
نئے مریض سامنے آنے کے بعد اب خیبرپختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4327 ہے جبکہ ہلاکتوں کی کُل تعداد 221 ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بھی 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔
جمعہ کے روز ہلاک ہونے 12 افراد میں پانچ کا تعلق پشاور، پانچ کا سوات، ایک کا صوابی جبکہ ایک کا لوئر دیر سے ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 49 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں اور اب صوبے میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 1033 ہو چکی ہے۔
سٹیٹ بینک نے بی ایم آر اور توسیع کے لیے فنانسنگ کی اجازت دے دی
سٹیٹ بینک نے عارضی اقتصادی ریلیف کی سہولت کے تحت بی ایم آر اور توسیع کے لیے فنانسنگ کی اجازت دے دی ہے۔
اس سکیم کے تحت کسی ایک پراجیکٹ کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ ارب روپے کی فنانسنگ کی جا سکتی ہے۔
اس سہولت کا مقصد یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ یونٹس میں سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے۔
سٹیٹ بینک نے موجودہ منصوبوں کی توازن، ماڈرنائزیشن اینڈ ری پلیسمنٹ (بی ایم آر ) اور توسیع کے لیے اپنی عارضی اقتصادی ریلیف کی رعایتی سہولت کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ اقدام معیشت پر کورونا وائرس کے اثرات کے تناظر میں معیشت کو مزید تحریک فراہم کرنے، مینوفیکچرنگ، پیداواری یونٹوں کی جدت یا توسیع کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور متعلقہ فریقوں کے فیڈ بیک کے جواب میں کیا گیا ہے۔
سندھ پولیس کے 115 اہلکار کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں
صوبہ سندھ میں لاک ڈاؤن کے دوران ڈیوٹیوں پر معمور سندھ پولیس کے 115 اہلکاروں اور افسران میں اب تک کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق کورونا سے متاثرہ دو اہلکار اب تک ہلاک بھی ہو چکے ہیں جبکہ زیر علاج افسران اور جوانوں کی مجموعی تعداد 97 ہے۔
اس کے علاوہ 15 اہلکار اب تک صحت یاب ہو کر اپنے اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق زیر علاج اہلکاروں میں سے ایک سب انسپکٹر کی حالت تشویشناک ہے۔ سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ اہلکاروں کا مکمل طور پر خیال رکھا جا رہا ہے اور اس سلسلے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بورڈ امتحانات منسوخ: ’کیا یونیورسٹی طلبا کورونا وائرس سے محفوظ ہیں؟‘