پاکستان: پہلی بار ایک دن میں 1300 سے زیادہ نئے مریض، کُل اموات 486

پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 486 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں پہلی مرتبہ 1300 سے زیادہ کورونا متاثرین ایک دن میں سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران، افغانستان سے آنے والے پاکستانیوں کو کہاں قرنطینہ کیا جا رہا ہے؟, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ

    ایران، افغانستان سے آنے والے پاکستانیوں کو کہاں قرنطینہ کیا جا رہا ہے؟

    افغانستان سے مزید 12 پاکستانی شہری سرحدی شہر چمن کے راستے پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قلعہ عبد اللہ میں محکمہ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ داخل ہونے والے ان تمام افراد کو چمن میں واقع قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا ہے۔

    اہلکار کے مطابق اس قرنطینہ مرکز میں افغانستان سے آنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 370 سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنے والے 80 کے قریب پاکستانی شہریوں کے ٹیسٹ منفی آئے تھے جنھیں اپنے علاقوں میں جانے دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان کی طرح افغانستان سے متصل چمن میں بھی خیموں پر مشتمل ایک بڑا قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے جس میں 900 سے زائد افراد کی گنجائش موجود ہے۔

    بلوچستان میں اس وقت 14 قرنطینہ مراکز میں ایک ہزار 90 افراد موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ افغانستان سے متصل چمن میں مقیم ہیں۔

    ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں قائم قرنطینہ مرکز میں موجود لوگوں کی تعداد 174 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر کوئٹہ سے متصل پشین میں قرنطینہ میں لوگوں کی تعداد 274 ہے۔

  2. سماجی فاصلے سے کیا مراد ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر عوامی کو ایک دوسری سے کم از کم دو میٹر کا فیصلہ رکھنے کا کہا گیا ہے۔

    لیکن سماجی فاصلے کا مطلب کیا ہے اور لوگوں کو اپنے درمیان کم از کم کتنا فاصلہ رکھنا چاہیے؟ جاننے کے لیے دیکھیے یہ دلچسپ ویڈیو۔

  3. ’عید سے قبل تمام پنشنرز کو دو ماہ کی پنشن گھر پر دی جائے گی‘

    ’عید الفطر سے قبل تمام پنشنرز کو دو ماہ کی پنشن گھر پر دی جائے گی‘

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان پوسٹ کی مدد سے عید الفطر کی چھٹیوں کی آمد سے قبل تمام پنشنرز کو دو ماہ کی پنشن ان کے گھر پر پنچائی جائے گی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا کے باعث پاکستان پوسٹ نے پچھلے مہینے ملک بھر میں لاکھوں پنشنرز کی گھروں کی دہلیز پر واجبات پہنچانے کا اعلان کر کے کامیابی سے مکمل کیا جو اس مہینے بھی جاری ہے۔

  4. وزیر اعظم کی ٹائیگر فورس نے اسلام آباد میں کام شروع کردیا

    وزیر اعظم کی ٹائیگر فورس نے اسلام آباد میں کام شروع کردیا

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@ZaeemZia

    پاکستان کے وفاقی دارالحکوت اسلام آباد کے ڈی سی حمزہ شفقات کے مطابق وزیر اعظم کی ٹائیگر فورس نے شہر میں کام شروع کر دیا ہے۔

    ’رضاکاروں کی یہ ٹیم ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس فورس میں ڈاکٹرز، سرکاری افسران سمیت 14 ہزار افراد نے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے جن کی لسٹیں ہمارے پاس آگئی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ان رضا کاروں کو مختلف کام دیے جائیں گے، جیسے پرائس کنٹرول (طے شدہ قیمتوں کا نفاذ)، راشن کی تقسیم، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام یا ہسپتالوں میں طبی معاونت۔

  5. ’خیبر پختونخوا میں اموات کا مطلب وائرس کا زیادہ پھیلاؤ ہوسکتا ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ صوبے میں سب سے زیادہ اموات کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ یہاں ہلاکتوں کی شرح زیادہ نہیں بلکہ کورونا وائرس کافی حد تک پھیل چکا ہے۔

    ’خاص طور پر یہ کہ جنوری کے بعد سے خیبر پختونخوا میں مشرق وسطیٰ سے آنے والوں کی تعداد دیگر صوبوں سے زیادہ تھی۔‘

    انھوں نے اپنی ٹویٹس میں صوبے میں ہونے والی ہلاکتوں کا موازنہ باقی دنیا سے بھی کیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ موجودہ معلومات کی مدد سے مختلف نتائج نکالے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ غلط نتائج کو فروغ دینے سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے موجود صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

    صوبے میں اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 2907 ہے جبکہ 172 اموات ہوچکی ہیں۔

    تیمور جگھڑا کے مطابق صوبے کی آبادی 3 کروڑ 50 لاکھ ہے اور یہاں کل 20,625 افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

  6. خیبر پختونخوا میں اموات زیادہ کیوں؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختونخوا میں اموات زیادہ کیوں؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دن کے وقت بازاروں اور دکانوں میں رش، اکثر تاجروں کا دکانوں کے باہر بیٹھ کر کاروبار کرنا اور کچھ کا دکان کے شٹر گرا کر اندر دکانداری جاری رکھنا، یہ اس شہر کے مناظر ہیں جو اس وقت ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں کی فہرست میں شامل ہے۔

    یہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مناظر ہیں۔ اموات کے اعتبار سے یہ صوبہ ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ ہے اور اب تک یہاں کورونا وائرس سے 172 اموات ہو چکی ہیں۔

    صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں اموات کی شرح پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کی نسبت زیادہ ہے۔

    صوبائی حکومت کا کہنا ہے اگرچہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات جنوری کے مہینے میں شروع کر دیے گئے تھے لیکن چونکہ صوبے کو جانے والے بیشتر راستے پشاور سے گزرتے ہیں اس لیے یہاں پھیلاؤ میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا۔

  7. بلوچستان: ’کم آمدنی والے افراد کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے‘, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ

    بلوچستان: ’کم آمدنی والے افراد کو بلاسود قرض دیا جائے گا‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ‎حکومتِ بلوچستان نے لاک ڈاؤن سے متاثرہ کم آمدنی والے طبقات کو بلاسود قرض فراہم کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت نے کورنا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ مستحق افراد کی مالی معاونت کے لیے ’انقلابی اقدام‘ اٹھانے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت کم آمدنی والے مستحق افراد کو اخوت فاؤنڈیشن کے تعاون سے بلاسود 10 سے 20 ہزار روپے قرض حسنہ فراہم کیا جائے گا۔

    اس کے تحت رقم کے واپسی تین سال میں ماہانہ 500 سے 1000روپے ہو گی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اگلے مرحلے میں قرض حسنہ کے پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی۔

  8. پی سی بی ’کرکٹرز، آفیشلز اور گراؤنڈ سٹاف کی امداد کرے گا‘

    پی سی بی ’کرکٹرز، آفیشلز اور گراؤنڈ سٹاف کی امداد کرے گا‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی پریس ریلیز میں کورونا کی وجہ سے کرکٹ کی سرگرمیاں معطل ہونے کے سبب مشکلات کا شکار فرسٹ کلاس کرکٹرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی امداد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ موجودہ مالی سال کے لیے مختص کردہ رقم کے کچھ حصے سے فرسٹ کلاس کرکٹرز کےساتھ ساتھ میچ آفیشلز، سکوررز اور گراؤنڈ سٹاف کی امداد کرے گا۔

    پی سی بی نے کہا ہے کہ محدود فنڈز کی دستیابی اور صرف مستحق امیدواروں کی امداد یقینی بنانے کے لیے درخواست گزاروں کے لیے قوائد وضوابط تیار کیے گئے ہیں۔

    قوائد و ضوابط پر پورا اترنے والے فرسٹ کلاس کرکٹرز 25 ہزار، میچ آفیشلز 15 ہزار جبکہ سکوررز اور گراؤنڈ اسٹاف 10، 10 ہزار روپے وصول کر سکیں گے جس کی تفصیلات پی سی بی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

    بورڈ نے کہا ہے کہ وہ شرائط پر پورا اترنے والے افراد کی امداد عیدالفطر سے قبل کرے گا۔

    اس سے قبل پی سی بی ایک کروڑ روپے سے زائد رقم وزیراعظم ریلیف فنڈ میں عطیہ کرنے کے علاوہ کراچی ہائی پرفارمنس سنٹر کو پیرامیڈیک عملے کے لیے عارضی قیام گاہ میں تبدیل کرچکا ہے۔

  9. پنجاب میں مرحلہ وار کاروبار کھولنے کی اجازت دینے کے لیے ہدایات تیار

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے اتوار کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے سربراہ گوہر اعجاز کی قیادت میں صنعتکاروں اور تاجربرادری کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات میں لاک ڈاؤن کے دوران صنعتکاروں اور تاجر برادری کے مسائل کے حل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صنعتکاروں اور تاجر برادری کے مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    • بیان میں کہا گیا ہے کہ:
    • پنجاب حکومت صنعتکاروں اور تاجر برادری کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرے گی-
    • پنجاب میں مرحلہ وار کا روبار کی اجازت دینے کے لیے ایس او پیز تیار کر لیے گئے ہیں۔
    • صنعتکاروں اور تاجر برادری کو وضع کردہ ہدایات پر عملدرآمد کرنا ہوگا-
    • ایس او پیز کی خلاف ورزی پر صنعت کو بند کر دیا جائے گا-

    پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ روڈ سیکٹراور بلڈنگ کے علاوہ تعمیرات سے متعلقہ دیگر صنعتیں کھولنے کی اجازت آئندہ دنوں کے دوران وفاقی حکومت کی مشاورت سے دی جائے گی۔

    صوبائی حکومت نے اس حوالے سے سفارشات تیار کر کے وفاقی حکومت کو پیش کی ہیں اور وفاقی حکومت کی مشاورت سے برآمدات کے شعبے سے منسلک فیڈنگ کی صنعت کو بھی کھولا جائے گا-

    اس کے مطابق زونز بنا کر مخصوص اوقات اور ایام میں بازار کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  10. برطانیہ میں ’پاکستانی کمیونٹی بھی زیادہ متاثر ہوسکتی ہے‘

    برطانیہ میں ’پاکستانی کمیونٹی زیادہ خطرے میں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی سمیت دیگر اقلیتی گروہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ متاثرہ ہوسکتے ہیں اور انھیں زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد میں ہسپتالوں میں ہلاکتوں کی شرح سفید فام آبادی کے مقابلے 2.9 گنا زیادہ ہے۔

    برطانیہ کی باقی آبادی کے مقابلے عمر رسید بنگلہ دیشی، پاکستانی اور سیاہ فام کیریبین افراد دیگر امراض میں زیادہ مبتلا ہیں۔

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے اقلیتی گروہ زیادہ متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خود کے لیے کام کرنے والے پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہریوں کی آمدن پر فرق پڑ سکتا ہے۔

    اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی خواتین جو اپنے خاوند کی آمدن پر انحصار کرتی ہیں ان کے لیے بھی لاک ڈاؤن کے دوران مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

  11. آخر یہ ویکسین بنانے میں کتنا وقت لگے گا؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    جب سے کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں پھیلی ہے، ہر کسی کے لبوں پر ایک ہی سوال ہے: اس کے لیے ویکسین بنانے میں کتنی دیر لگے گی؟

  12. پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد ’سمارٹ ٹیسٹنگ‘ شروع

    سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد سمارٹ ٹیسٹنگ؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکام کے مطابق پاکستان میں معاشی بحران اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کیا گیا ہے۔

    اس سے مراد لاک ڈاؤن میں نرمی ہے تاکہ کاروبار آہستہ آہستہ بحال کیا جاسکے اور لوگوں کو خود سے حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت دی جاسکے۔

    لیکن اب صوبہ پنجاب میں ’سمارٹ ٹیسٹنگ‘ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اتوار (یعنی آج) سے صوبے بھر میں چھ ہزار ٹیسٹ روزانہ کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز صوبے میں 3273 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

    سنیچر کو عثمان بزدار نے یہ کہا تھا کہ صوبے کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، ملتان، گجرات، فیصل آباداور گوجرنوالہ سمیت چھ اضلاع میں سمارٹ ٹیسٹنگ کا پہلا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے میں صحافیوں، پولیس اہلکاروں، انتظامی افسران، ہیلتھ ورکرز، ٹی بی اور ایچ آئی وی کے مریضوں، ہسپتالوں میں زیر علاج حاملہ خواتین اور ہسپتال کے عملے کے ٹیسٹ کئے جائیں گے۔

    اس کا مطلب ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر پہلے ان افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جن کے بارے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہے۔

  13. لاک ڈاؤن: برازیلی نوجوان نے گھر کے کام کاج کو فٹبال میچ بنا ڈالا

  14. پاکستان میں 2 مئی کو 8,716 ٹیسٹ کیے گئے

    پاکستان میں 2 مئی کو 8,716 ٹیسٹ کیے گئے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق پاکستان میں 2 مئی کے دوران 8,716 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز پنجاب میں 3273 جبکہ سندھ میں 3259 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    این سی او سی کے مطابق ملک کے 717 ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے علاج کی سہولیات موجود ہیں اور وہاں 4084 مریض زیر علاج ہیں۔

    پاکستان میں ’2 مئی کو 8,716 ٹیسٹ ہوئے‘

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    پاکستان میں 2 مئی کو ہونے والے ٹیسٹس کی تعداد (8,716) 1 مئی کے ٹیسٹس (9164) کے مقابلے کم ہے۔

    گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا تھا کہ ان کا صوبہ 3 مئی سے 6 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

    اب تک پاکستان میں اس وبا کی تشخیص کے لیے 203,025 افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

  15. کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کووڈ 19 کی وبا 2019 کےآخر میں پھیلی۔ لیکن ایسی علامات موجود ہیں کہ اس کے کچھ مریضوں کو مکمل صحتیاب ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

    ایک مریض کورونا سے صحتیاب کب ہوتا ہے یہ بیماری کی شدت پر منحصر ہے۔ کچھ لوگ اس بیماری سے جلدی صحتیاب ہوجاتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ کچھ مریضوں میں اس سے پیدا ہونے والے مسائل طویل مدتی ہوں۔

    آپ کی عمر، جنس اور صحت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آپ کووڈ 19 سے کس حد تک بیمار ہوسکتے ہیں۔

    ایک شخص کی صحتیابی کتنی دیر میں ہوگی یہ اس پر منحصر ہے کہ اس کا علاج کن حالات میں اور کتنی دیر سے ہو رہا ہے۔

  16. چینی سفیر: پاکستان کورونا پر جلد قابو پاسکتا ہے

    چینی سفیر: پاکستان کورونا وائرس پر جلد قابو پاسکتا ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے آئی این پی کے مطابق پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ان کے ملک کو لگتا ہے کہ پاکستان کے لیے کووڈ 19 ایک عارضی چیلنج ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کووڈ 19 پر جلد قابو پاسکتا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ 60 فیصد پاکستانی 30 سال سے کم عمر کے ہیں اور یہ وبا عمر رسیدہ افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں علامات کم ظاہر ہوتی ہیں۔

    یاؤ جنگ نے یہ بھی کہا کہ عالمی وبا کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان تعاون سب کے لیے ایک مثال ہے۔

  17. سندھ میں 35 فیکٹریوں کو کام کرنے کی اجازت مل گئی

    سندھ: 35 فیکڑیوں کو کام کرنے کی اجازت مل گئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مقامی میڈیا کے مطابق سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نے سنیچر کو برآمدات سے متعلق 35 مینوفیکچرنگ یونٹس یا فیکٹریوں کے آپریشن بحال کر دیے ہیں اور انھیں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    تاہم انھیں سختی سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کورونا کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان میں زیادہ تر ٹیکسٹائل کی فیکٹریاں ہیں۔ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ عملے میں کسی فرد میں کورونا کی تشخیص ہونے پر یہ کوشش کی جائے کہ اسے تنہا کر دیا جائے اور باقی افراد کو اس سے دور رکھا جائے۔

  18. اسلام آباد میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن, سیکٹر آئی 10 کی تین سڑکیں سیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق اسلام آباد میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت سیکٹر آئی 10/4 میں ایسی تین سڑکوں کو سیل کر دیا گیا ہے جہاں کورونا وائرس کے متاثرین تیزی سے بڑھ رہے تھے۔

    ان علاقوں کو پولیس اور رینجرز نے سیل کر دیا ہے تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکے۔

    اس وقت وفاقی دارالحکومت میں کل متاثرین کی تعداد 393 ہے جبکہ چار اموات اور 55 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  19. کورونا وائرس اور عام نزلہ، زکام میں فرق

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی دو اہم علامات ہیں۔ یہ بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ مگر آپ کیسے جانچ سکتے ہیں کہ آپ کو کورونا وائرس کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے یا آپ جو محسوس کر رہے ہو سکتے ہیں وہ شاید عام نزلہ اور زکام ہے؟

  20. ملک میں گذشتہ ایک روز کے دوران 989 نئے متاثرین کا اضافہ

    گذشتہ ایک روز کے 989 نئے متاثرین

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک روز کے دوران کورونا کے 989 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔

    اس وقت ملک میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے جہاں گذشتہ ایک روز کے دوران 373 نئے کیسز کا اضافہ ہوا۔ جبکہ سندھ میں یہ تعداد 427 رہی۔

    دونوں بڑے صوبوں میں ایک دن میں 3200 سے زائد ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 23 اموات پیش آئی ہیں اور 102 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔