سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت نہ کسی دیہاڑی دار کو، نہ مزدور کو نہ متاثر کو
پیسے ملے ہیں، لیکن وفاقی حکومت نے نقد رقم کی تقسیم کے لیے جو مقامات بنائے ہیں، وہ وائرس پھیلنے کا سبب بن رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ پیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے تحت دیے جا رہے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ جب ڈیٹا موجود تھا تو کیا یہ پیسے ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے؟
'یہ نئے لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جن کو پہلے پیسے ملتے رہتے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ نقد رقم تقسیم کرنے والے بینک کے عملے میں وائرس پایا گیا، جو لوگ وہاں جمع ہوئے ان میں وائرس گیا، 'بجائے اس کے کہ اسے روکیں، یہ اسے بڑھا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ان تمام سینٹرز میں بائیو میٹرک کروانے سے وائرس پھیل رہا ہے۔
ناصر شاہ نے وزیرِ اعظم کی ٹائیگر فورس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فورس رقم کی تقسیم کے لیے کام آنی تھی، پھر اس سے یہ کام کیوں نہیں لیا جا رہا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے دن وزیرِ اعظم سے کہا تھا کہ آپ ہم مشکل کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ
ہیں۔
'لیکن پارلیمانی میٹنگ میں وزیر اعظم اپنی بات کر کے
اٹھ گئے، یہ خیال بھی نہیں کیا کہ دوسرے، سینیئر لوگوں کو سنیں جو وہاں موجود تھے۔‘
انھوں نے وفاقی حکومت کو کورونا پھیلنے کے لیے موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ وائرس جو پھیلا، یہ ان کی وجہ سے ہے، اگر شروع میں
فضائی سروس معطل کر دی جاتی یا سکریننگ کا طریقہ ہوائی اڈوں پر مہیا کر دیا جاتا تو ایسا نہ ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صرف کراچی ہوائی اڈے پر سکریننگ کے لیے 60 تربیت یافتہ افراد
تعینات کیے لیکن اس کی کوئی بات نہیں کرتا بلکہ تنقید کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو مشکلات پہنچنے پر معذرت کرتے ہیں لیکن پوری دنیا
کے، سندھ کے پاکستان کے ڈاکٹرز جو بات کر رہے ہیں، حکومت اس پر عمل کر رہی ہے۔