پاکستان: پہلی بار ایک دن میں 1300 سے زیادہ نئے مریض، کُل اموات 486

پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 486 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں پہلی مرتبہ 1300 سے زیادہ کورونا متاثرین ایک دن میں سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ڈاکٹر ظفر مرزا کی عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل

    کورونا، ظفر مرزا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کووِڈ-19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور ضوابط پر عمل کریں۔

    اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو بڑھایا جا رہا ہے اور اب تک ملک میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 94 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9164 کیے گئے جو کہ ایک دن میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی سے بڑی تعداد ہے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت مزید بڑھائی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ تعداد اس تیزی سے نہیں بڑھ رہی جو اندازے لگائے گئے تھے۔

  2. اسلام آباد: ضلعی انتظامیہ کی ٹائیگر فورس کے ساتھ پہلی باضابطہ میٹنگ

    کورونا، اسلام آباد،

    ،تصویر کا ذریعہICT Administration

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے آج کورونا وائرس سے متعلق رضاکارانہ سرگرمیوں کے لیے بنائی گئی ٹائیگر فورس کے اراکین کے ساتھ پہلی باضابطہ میٹنگ کی ہے۔

    ڈی سی آفس اسلام آباد کے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، ڈینگی کے خلاف سپرے، مساجد اور تجارتی مراکز میں سماجی دوری، کورونا وائرس کے متاثرین کی تلاش، مزدوروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے، راشن اکٹھا کرنے اور تقسیم کرنے، طبی رضاکاروں کی ہسپتالوں میں ڈیوٹیاں، یوٹیلیٹی سٹورز اور منڈیوں میں ڈیوٹی کی منصوبہ بندی کی گئی۔

  3. بریکنگ, خیبر پختونخوا: مزید 11 افراد ہلاک، 108 نئے متاثرین

    وزیرِ صحت خیبر پختونخوا تیمور خان جھگڑا کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب خیبرپختونخوا میں مزید 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی کُل تعداد 172 ہو گئی ہے۔

    صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 108 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور اب صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 2907 ہو گئی ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں اس مرض سے اب تک 728 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. پنجاب اسمبلی کا اجلاس 8 مئی کو طلب

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی نے 8 مئی کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس حزبِ اختلاف کی سفارش پر طلب کیا گیا ہے۔

    یہ 17ویں اسمبلی کا 21واں اجلاس ہو گا۔

  5. کاروبار اور صنعتوں کو کھولنے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کر رہے ہیں: عثمان بزدار

    عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہGovt. of Punjab

    لاہور میں ویڈیو لنک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے روڈ اور بلڈنگ سیکٹر کے علاوہ تعمیراتی صنعت سے متعلقہ دیگر صنعتیں اور درآمدات سے منسلک فیڈنگ انڈسٹری کو کھولنے کی سفارش کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اپنی لیبر کالونیاں رکھنے والی فیکٹریز، پاور لومز، آئرن اینڈ سٹیل اور ہوم اپلائسسز انڈسٹری کو کھولنے کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے۔

    انھوں نے بتایا احساس کفالت کے تحت 28 لاکھ خاندانوں میں 34 ارب روپے تقسیم کیے جبکہ انصاف امداد پیکیج کے تحت اگلے ہفتے سے25 لاکھ خاندانوں کو 12ہزار روپے فی کس ملیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ مزید 10 لاکھ خاندانوں کو رمضان پیکیج کے تحت تین ہزار روپے دیں گے۔ وزیر اعلی نے آگاہ کیا کہ اب تک صوبے میں 90 ہزار کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور زائرین او رتبلیغی جماعت کے 90 فیصد متاثرین صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    وزیر اعلی نے بتایا کہ مارکیٹوں اور بازاروں کو زونز میں تقسیم کر کے مختلف ایام میں کھولنے کی تجویز زیر غور ہے اور اس حوالے سے فیصلہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ نئے ایس او پیز کے تحت بیرون ملک سے آنے والے دوسرے صوبوں کے افراد کومتعلقہ صوبائی حکومتو ں سے رابطہ کر کے ایئرپورٹ سے ہی ان کے صوبوں میں بھیج دیا جائے گا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے اضلاع میں روانہ کیا جائے گا اورانھیں 48 گھنٹوں میں ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے کی صورت میں گھر بھیج دیا جائے گا۔

  6. بریکنگ, سعید غنی: 'اپوزیشن یکجہتی کی کوشش کر رہی ہے لیکن اٹھارہویں ترمیم کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے'

    سعید غنی

    ،تصویر کا ذریعہ@SaeedGhani1

    سندھ کے صوبائی وزیرِ تعلیم سعید غنی نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایسا موقع آیا جہاں قومی یکجہتی درکار تھی وہاں وفاقی حکومت اور وزرا کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرتے ہیں جس سے یکجہتی پیدا نہ ہو سکے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کوشش کر رہی ہے کہ یکجہتی پیدا ہو، تو یہ [وفاقی حکومت] اٹھارہویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ باتیں بعد میں بھی کی جا سکتی تھیں لیکن اس وقت جو صورتحال ہے اس سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو بنیادی مسائل کا ادراک نہیں ہے۔ انھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'یہ قوم کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں، کبھی امیر و غریب کی بات کرتے ہیں، کبھی لاک ڈاؤن پر اختلاف کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جس اجلاس میں نو مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کی منظوری دی گئی، اس اجلاس کی صدارت بھی وزیرِ اعظم عمران خان خود کر رہے تھے، کیا انھیں معلوم نہیں کہ اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا ہے۔

    انھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے دورے کیے لیکن انھوں نے سندھ کا دورہ نہیں کیا۔

  7. ناصر شاہ: 'جب ڈیٹا موجود تھا تو لوگوں کو گھروں پر پیسے کیوں نہیں پہنچائے گئے'

    سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت نہ کسی دیہاڑی دار کو، نہ مزدور کو نہ متاثر کو پیسے ملے ہیں، لیکن وفاقی حکومت نے نقد رقم کی تقسیم کے لیے جو مقامات بنائے ہیں، وہ وائرس پھیلنے کا سبب بن رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ پیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے تحت دیے جا رہے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ جب ڈیٹا موجود تھا تو کیا یہ پیسے ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے؟

    'یہ نئے لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جن کو پہلے پیسے ملتے رہتے ہیں۔'

    انھوں نے کہا کہ نقد رقم تقسیم کرنے والے بینک کے عملے میں وائرس پایا گیا، جو لوگ وہاں جمع ہوئے ان میں وائرس گیا، 'بجائے اس کے کہ اسے روکیں، یہ اسے بڑھا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان تمام سینٹرز میں بائیو میٹرک کروانے سے وائرس پھیل رہا ہے۔

    ناصر شاہ نے وزیرِ اعظم کی ٹائیگر فورس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فورس رقم کی تقسیم کے لیے کام آنی تھی، پھر اس سے یہ کام کیوں نہیں لیا جا رہا۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے دن وزیرِ اعظم سے کہا تھا کہ آپ ہم مشکل کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں۔

    'لیکن پارلیمانی میٹنگ میں وزیر اعظم اپنی بات کر کے اٹھ گئے، یہ خیال بھی نہیں کیا کہ دوسرے، سینیئر لوگوں کو سنیں جو وہاں موجود تھے۔‘

    انھوں نے وفاقی حکومت کو کورونا پھیلنے کے لیے موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ وائرس جو پھیلا، یہ ان کی وجہ سے ہے، اگر شروع میں فضائی سروس معطل کر دی جاتی یا سکریننگ کا طریقہ ہوائی اڈوں پر مہیا کر دیا جاتا تو ایسا نہ ہوتا۔

    انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صرف کراچی ہوائی اڈے پر سکریننگ کے لیے 60 تربیت یافتہ افراد تعینات کیے لیکن اس کی کوئی بات نہیں کرتا بلکہ تنقید کی جاتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو مشکلات پہنچنے پر معذرت کرتے ہیں لیکن پوری دنیا کے، سندھ کے پاکستان کے ڈاکٹرز جو بات کر رہے ہیں، حکومت اس پر عمل کر رہی ہے۔

  8. پاکستان کی تازہ ترین صورتحال: متاثرین 18 ہزار 600 سے زائد، ہلاکتیں 421

    کورونا

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 18 ہزار 669 ہوگئی ہے جبکہ اب تک اس مرض سے 421 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    پاکستان میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہے جہاں سات ہزار 102 افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا ہلاکتوں کے اعتبار سے آگے ہے جہاں اب تک 161 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اب تک اس مرض کے چار ہزار 762 متاثرین صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

  9. چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کا اعلان

    چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم عمران خان نے سنیچر کو چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کے لیے وفاقی حکومت 50 ارب روپے مختص کرے گی۔

    اس کاروباری پیکج کے تحت حکومت کمرشل اور صنعتی یونٹس کے 3 ماہ کے بجلی بل خود ادا کرے گی۔

    اس میں تین ماہ کے بجلی کے بل کا تخمینہ رقم کاروبار مالکان کے بل میں بھیج دی جائے گی۔

    چھوٹا کاروبار کرنے والے چھ ماہ کے اندر رقم کے مطابق بجلی مفت استعمال کرسکیں گے۔

    اس سے پانچ کلو واٹ بجلی استعمال کرنے والے 95 فیصد کمرشل بینک کنکشن ہولڈر مستفید ہوں گے۔

    70 کلو واٹ والے 80 فیصد صنعتی کنکشن ہولڈر مسفید ہوں گے اور پیکج سے ملک بھر میں 33 لاکھ چھوٹے یونٹس چلانے والے مستفید ہوں گے۔

    اس سلسلے میں مئی کے بل میں تفصیلات ساتھ آئیں گی۔

    وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کورونا ریلیف فنڈ مزدور کا احساس پروگرام بھی ساتھ ہی شروع ہوجائے گا جس میں اگر مخیر حضرات 1 روپے دیں گے تو حکومت ساتھ 4 روپے فنڈ میں جمع کرے گی۔ ’مزدور کا احساس پروگرام کے تحت لاکھوں بیروگار، دیہاڑی دار مستفید ہوں گے۔‘

  10. بریکنگ, عمران خان: اگلے چھ ماہ سے ایک سال کے لیے تیار رہنا پڑے گا

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے مستقبل میں کورونا وائرس کی ویکسین کب آئے گی۔

    انھوں نے چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کے اعلان کے دوران کہا کہ ’کسی اور حکومت نے ایسی مراعات نہیں دیں۔۔۔ ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو مراعات دے رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اگلے چھ ماہ سے ایک سال تک کورونا کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔‘

    ’عام آدمی کا بوجھ کم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ ٹیکس کی وصولی بھی 35 فیصد گِر گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے ان میں سے زیادہ تر کو کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ صرف 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

    ’مثبت ٹیسٹ والے افراد کو اپنے گھروں میں قرنطینہ کرنا چاہیے۔ لوگ قرنطینہ مراکز میں خوش نہیں ہوتے جب انھیں زبردستی لایا جاتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو خود ذمہ داری لینی پڑے گی اور خود فیصلہ کرنا ہوگا۔

  11. اسلام آباد ہائی کورٹ کے عملے میں کورونا کا پہلا مریض, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے عملے میں کورونا کا پہلا مریض

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے عملے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی رٹ برانچ میں کام کرنے والے ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ملازم میں کورونا وائرس کی علامات سامنے آنے کے بعد ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    سات ملازمین میں سے چھ کی رپورٹس ابھی آنا باقی جبکہ ایک کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    کورونا
  12. بریکنگ, عمران خان: سب سے بڑا مسئلہ روزگار کی فراہمی ہے

    عمران خان: سب سے بڑا مسئلہ روزگار کی فراہمی ہے

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    عمران خان نے سنیچر کو ایک خطاب کے دوران کہا ہے کہ پورے برصغیر میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔ ’ہم نے ایک ہی بار میں 30 روپے تک کم ہوئے ہیں۔‘

    ’پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول 81 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ انڈیا میں 153 روپے اور بنگلہ دیش میں اس کی قیمت 170 فی لیٹر ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے تمام سیکرٹریز کو ہدایات جاری ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد باقی چیزوں کی قیمتیں بھی کم کی جائیں۔‘

    ’ہم نے کیروسین آئل ایک ماہ میں 45 روپے سستا کردیا ہے۔۔۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہم نے قیمتیں برقرار رکھنے کی جگہ عوام کو ریلیف دیا ہے۔‘

    عمران خان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ’حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کیسے لوگوں کو روزگار دیں اور ان کی معاشی مشکلات دور کریں۔‘

  13. ایکسپو سینٹر: گندگی کورونا متاثرین کی صحت یابی میں رکاوٹ تو نہیں

  14. بریکنگ, عمران خان: لاک ڈاؤن سے بہت زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اکاسی ارب روپے بانٹے گئے ہیں۔ ’معاشی مشکلات کے پیش نظر ہم نے احساس پروگرام شروع کیا۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس میں ویب سائٹ کے ذریعے لوگ اپنی معلومات درج کرنے کے بعد رقم وصول کر سکیں گے۔

    ’میں گزارش کرتا ہوں کہ ٹائیگر فورس ان لوگوں کی مدد کریں تاکہ یہ لوگ ویب سائٹ پر اپنی معلومات درج کر سکیں۔ رجسٹر ہونے والوں کو جائزے کے بعد رقم ادا کی جائیں گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے کووڈ ریلیف فنڈ میں پیسے عطیہ کیے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ’امیر ملک بھی ہر متاثرہ انسان تک نہیں پہنچ پا رہے۔‘

    ’لاک ڈاؤن زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے۔ امیر ملکوں کو بھی احساس ہو رہا ہے اور وہ بحالی کی طرف جا رہے ہیں۔‘

    ’ہر ملک کی کوشش ہے کہ اب کاروبار دوبارہ شروع ہو۔۔۔ نیویارک نے بھی تعمیرات کا شعبہ کھول دیا ہے۔‘

    ’لاک ڈاؤن کے منفی اثرات بہت زیادہ ہیں۔‘

    انھوں نے تعمیرات کے شعبے کے لیے مراعات کا کا وعدہ کیا ہے۔

  15. سندھ: ’10 سال سے کم عمر کے 253 بچے کورونا کا شکار ہوچکے ہیں‘

    سندھ: ’10 سال سے کم عمر کے 253 بچے کورونا کا شکار ہوچکے ہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے اہم اعدا و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں خواتین میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے لگی ہے اور حالیہ دنوں میں خواتین میں کورونا کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مجموعی کیسز کا 26 فیصد خواتین مریض ہیں۔۔۔ معصوم بچے بھی کورونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔

    ’دس سال سے کم عمر کے 253 بچے کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ اعداوشمار بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کورونا ہمارے گھروں میں گھس چکا ہے کیونکہ ہم احتیاط نہیں کررہے۔‘

    دریں اثنا سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق صوبے میں اس وقت کورونا کے 5639 مریض زیر علاج ہیں۔

    ’4390 افراد گھروں میں 733 سینٹرز پر اور 516 اسپتالوں میں قرنطینہ کیے گئے ہیں۔ 54 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ان میں 18 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں نئے 427 مریضوں میں سے کراچی میں 376 کیسز آئے ہیں، سندھ ساؤتھ 131، سینٹرل 46، ایسٹ 65، کورنگی 54، ملیر 33، ویسٹ 47 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ’ گھوٹکی 4، حیدرآباد 6، خیرپور4 اور لاڑکانہ 6 میں کیسز رپورٹ ہوئے۔ بینظیرآباد 6، سانگھڑ 2، سکھر 5، ٹھٹہ اور سجاول 1، 1 کیسز آئے ہیں۔‘

    انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صحت کے اصولوں کا خیال رکھیں۔

  16. بریکنگ, ’سمارٹ لاک ڈاؤن کو ممکن بنانے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کیا جائے‘

    مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن صرف تب ممکن ہو سکے گا اگر حکومتی ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔

    انھوں نے سنیچر کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی طرف سے جاری مندرجہ ذیل ہدایات یا ایس او پیز سے متعلق بات کی ہے۔

    • رمضان میں مساجد کے حوالے سے 20 ایس او پیز دیے گئے ہیں
    • اگر آپ ایسے افراد سے ملے ہیں جن میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے تو گھر میں قرنطینہ کریں
    • اگر کووڈ 19 کی تشخیص ہوتی ہے تو علامات کم ظاہر ہونے کی صورت میں بھی گھر میں آئسولیٹ کیا جا سکتا ہے
    • ہسپتالوں کے اندر کووڈ 19 کے حوالے سے جراثیم کش سپرے اور ڈِس انفیکٹینٹ کیسے استعمال کرنے ہیں، اس سے متعلق ایس او پیز دی گئی ہیں
    • تدقین کے حوالے سے ہدایات
    • ہسپتالوں کی درجہ بندی، جیسے ریڈ زون میں صرف کووڈ 19 کے مریض
    • سماجی فاصلے کے حوالے سے ایس او پیز
    • کس کا ٹیسٹ ترجیحی بنیاد پر ہونا چاہیے
    • دکانوں میں ضروری اشیا کی دستیابی اور احتیاطی تدابیر
    • ضروری صنعتوں کو کھولنے کے حوالے سے ایس او پیز
    • کووڈ 19 کے مریضوں کی کلینیکل مینجمنٹ
    • تعمیرات کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ہدایات
  17. بلوچستان میں 86 فیصد متاثرین میں مقامی منتقلی ہوئی, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ

    بلوچستان میں 86 فیصد متاثرین میں مقامی منتقلی ہوئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کے متاثرین دیگر اضلاع سے بھی رپورٹ ہورہے ہیں لیکن اس کا سب سے بڑا مرکز کوئٹہ شہر ہے۔

    محکمہ صحت کی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یکم مئی تک بلوچستان سے رپورٹ ہونے والے مجموعی 1136 متاثرین میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 983 (86 فیصد) تھی۔

    جبکہ مقامی منتقلی کے مجموعی متاثرین میں سے 847 (86.2) کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے۔

    یہ کیسز کوئٹہ شہر کے متعدد علاقوں سے آئے ہیں لیکن بعض علاقوں سے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ شہر میں سب سے زیادہ کیسز خروٹ آباد سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 116 ہے۔

    یونین کونسل 5 اور 9 سے رپورٹ ہونے والے متاثرین کی تعداد 101 ہے جبکہ یونین کونسل 6 اور 7 سے 96، کینٹ سے 67، کلی احمد خانزئی سے 52، ہزارہ ٹاﺅن سے 46 اور او جی او آر کے علاقے سے رپورٹ ہونے والے متاثرین کی تعداد 37 ہے۔

  18. بریکنگ, ’10 سے 12 دنوں کے دوران آنے والے کئی مسافروں کے ٹیسٹ مثبت آئے‘

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ 9000 سے 9500 افراد ٹیسٹ کر رہے ہیں۔

    بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بااثر افراد کوشش کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کروا کر فوراً گھر چلے جائیں۔

    ’قرنطینہ میں پہنچنے سے گھر جانے تک منفی نتائج کی صورت میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے 10 سے 12 دن میں آنے والے کئی مسافروں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے نتائج کی وجہ سے ہر ہفتے 7000 سے 7500 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لا ہا رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عرب ممالک کے علاوہ افریقی ممالک میں بھی پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ’ہماری ویب سائٹ covid.gov.pk پر اس حوالے سے معلومات دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کسی پر یقین مت کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے عید سے پہلے لوگوں کو واپس لایا جائے گا۔

  19. بریکنگ, سندھ میں کورونا کے 427 نئے متاثرین, صوبے میں کل مصدقہ متاثرین 7102

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سندھ میں حکام کے مطابق مزید 427 افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد کل متاثرین کی تعداد 7102 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں چار اموات کے بعد صوبے میں کل اموات 122 ہوگئی ہیں۔

    اب تک سندھ میں 4,762 افراد کورونا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

  20. ’چاول کی برآمد کی اجازت ہے‘

    ’چاول کی برآمد کی اجازت ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@razak_dawood

    مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے وضاحت کی ہے کہ نئے حکومت اقدامات کے مطابق چاول کی برآمد کی اجازت ہے۔

    ایک ٹویٹ میں وہ کہتے ہیں کہ: ’چاول کی برآمد پر وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے اور ان کے دفتر نے وضاحت کی ہے کہ چاول کی برآمد کی اجازت ہے۔ پاکستان اس بحران میں قابل اعتماد سپلائر ثابت ہوا ہے۔‘

    ’دنیا میں ہمارا مارکیٹ شیئر بڑھانے کے لیے تیزی سے چاول برآمد کیے جائیں۔‘

    یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے موجودہ صورتحال میں عام آدمی کے استعمال کی تمام اشیا کی برآمد پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں دو ہفتے بعد نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔