آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان: پہلی بار ایک دن میں 1300 سے زیادہ نئے مریض، کُل اموات 486
پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 486 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں پہلی مرتبہ 1300 سے زیادہ کورونا متاثرین ایک دن میں سامنے آئے ہیں۔
لائیو کوریج
’وزیر اعظم صاحب کنٹینر سے اتریں‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ صوبے اپنی اپنی ذمہ داری پر کام کر رہے ہیں اور اپنے 90 فیصد تک اپنے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں مگر پھر بھی انھیں وفاق کی جانب سے تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافے، ریلیف آپریشن اور معیشت کو سہارے دینے کی غرض سے وفاق نے سندھ کو ایک پیسہ نہیں دیا ہے۔ ’وفاق کا سب سے زیادہ پیسہ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی میں جاتا ہے مگر ابھی نہ تو آپ نے کوئی جنگ لڑنی ہے اور نہ ہی قرضوں کی قسط واپس کرنی ہے مگر پھر بھی وفاق کسی صوبے کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘
بلاول کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی مدد کے بغیر صوبے اس وبا کا اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں نو مئی تک نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں توسیع پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سفارش پر کیا گیا جبکہ اس کا اعلان ایک وفاقی وزیر نے کیا تھا۔ ’یہ ہیں وہ ایلیٹ جنھوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم صاحب کنٹینر سے اتریں آپ وزیر اعظم ہیں۔‘ اس وبا سے نمٹنے میں حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوئی ہے۔
وزیر اعظم صوبوں کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں صوبوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جمعے کے روز کراچی میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں نے اس معاملے پر قومی یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وزیر اعظم نے حزب مخالف کی جماعتوں کے اس جذبے کا جواب ان پر تنقید کی صورت میں دیا۔
’وزیر اعظم اپنے ہر بیان اور ان کے وزیر اپنے ہر خطاب میں صوبہ سندھ کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے صوبہ سندھ کی مالی معاونت کرنے کی بجائے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے دعوی کیا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سب سے زیادہ کام صوبہ سندھ میں ہو رہا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ابھی تک کنٹینرز پر چڑھے ہوئے ہیں اور کوئی اُنھیں بتائے کہ اب وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نہ تو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کوئی عملی اقدامات کر رہی ہے اور نہ ہی ملکی معیشت کو بہتر بتانے کے لیے کوئی قدم اُٹھایا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان صرف اسلام اباد کے وزیر اعظم ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ حکومت کو کورونا وائرس کی روک تھام اور محکہ صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کورونا کے بحران کے دوران وزیر اعظم عمران خان اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پائے ہیں۔ ’بحران کے دوران پاکستان کی تاریخ میں کسی حکمراں نے ایسا کردار نہیں اپنایا جیسا وزیر اعظم اپنا کر بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم کو شاید اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان کے بیانات کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ مجھے یہ خوف ہے کہ وزیر اعظم کے بیانیے اور بیانات کی وجہ سے کیا اثر پڑ رہا ہے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے اور اگر کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے سپورٹ نہ ملی تو کہیں کراچی دوسرا نیویارک نہ بن جائے۔
وفاقی حکومت طبی عملے کے بنیادی مطالبات پورا کرنے میں ناکام رہی ہے: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت طبی عملے کے بنیادی مطالبات پورا کرنے میں ناکام نظر آئی ہے۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا طبی عملہ اگلے محاذ پر اس بیماری کے خلاف لڑ رہا ہے اور وہ خود بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بہت سے ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف اب تک ’شہید‘ بھی ہو چکے ہیں۔
’وفاقی حکومت کو ان لوگوں کے ساتھ نہ صرف اظہار یکجہتی کرنی چاہیے بلکہ ان کی حفاظت کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہییں۔‘ بلاول کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کے اب تک صرف دو ہی مطالبات سامنے آئے ہیں۔ اول یہ کہ انھیں حفاظتی طبی سامان فراہم کیا جائے اور دوسرا یہ کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھائے جن کی بدولت ہسپتالوں پر ان کی گنجائش سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ ’مگر حکومت ان بنیادی مطالبات پر پورا اترنے کو تیار ہی نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے کہ جنگ کے دوران آپ اپنے فوجیوں کو سرحد پر بھیجیں مگر ان کو یونیفارم، گولیاں اور دیگر سامان حرب نہ دیں تو وہ کیا کر پائیں گے؟‘
بلاول کا کہنا ہے کہ حکومت پر فرض ہے کہ طبی عملے کی جان کی حفاظت کرے اور حفاظتی سامان کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
کورونا وائرس: سٹیٹ بینک کی جانب سے صحت کے شعبے کو مزید تعاون کی فراہمی
بینک دولت پاکستان نے ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافے اور کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کورونا وائرس سے نمٹنے کی اپنی ری فنانس سہولت (RFCC) کے تحت سنگل ہاسپٹل/ میڈیکل سینٹر کی فنانسنگ حد کو 200 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دیا ہے۔
’پاکستان کے علاوہ اور کس ملک میں اس وبا کے دوران ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کیا گیا؟‘
بریکنگ, سندھ میں کورونا کے 622 نئے متاثرین، چھ ہلاکتیں
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 622 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔
جس کے بعد صوبے میں کووڈ 19 کے متاثرین کی مجموعی تعداد 6675 ہو گئی ہے۔
نئے مصدقہ متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد 446 کراچی کے شہریوں کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو مزید چھ مریض کورونا کے خلاف زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کورونا کے باعث مرنے والوں کی تعداد 118 ہو گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں اموات کی شرح 1.76 فیصد ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3384 ٹیسٹ کئے گئے جبکہ سندھ میں اب تک مجموعی طور پر 57761 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح 73 متاثرہ افراد صحت یاب ہوکرگھروں کو چلے گئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 1295 ہے۔
وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ اس وقت سندھ میں کل زیرعلاج مریضوں کی تعداد 5262 ہے۔ جن میں سے 45 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور 16 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟
تانیہ آئدروس: پاکستان ایک اور بڑا لاک ڈاؤن نہیں سہہ سکے گا
وزیر اعظم عمران خان کا نوجوانوں کو فراس الخطیب کی کتاب پڑھنے کا مشورہ
پاکستان کے وزیر اعظم نے عمران خان نے کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران نوجوانوں کو گھروں میں رہ کر اچھا وقت گزارنے کے لیے فراس الخطیب کی کتاب ’لاسٹ اسلامک ہسٹری‘ پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے نوجوانوں کے مطالعے کے لیے ایک لاجواب انتخاب ہے۔ یہ کتاب ان تاریخی عوامل کا نہایت خوبصورت مگر مختصر مجموعہ ہے جنھوں نے تمدنِ اسلامی کو اپنے دور کی عظیم ترین تہذیب کی شکل دی اوران عوامل سے پردہ اٹھاتی ہے جو اسکے زوال کی وجہ بنے ہیں۔‘
کورونا: لاک ڈاؤن کے باوجود کوئٹہ میں نماز جمعہ کے اجتماعات
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاک ڈاﺅن کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد کا رخ کیا۔
شہر کے مرکزی علاقوں میں کاروباری مراکز بند ہونے کے کی وجہ سے مساجد میں لوگوں کی تعداد عام دنوں کے مقابلے میں کم تھی لیکن نواحی علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نماز کی ادائیگی کے لیے پہنچی۔
نماز کی ادائیگی کے لیے آنے والے لوگوں نے سماجی فاصلوں اور دیگر احتیاطی تدابیر کا بھی زیادہ خیال نہیں رکھا۔تاہم وہ مساجد عام لوگوں کے لیے بند رہیں جوکہ سرکاری دفاتر کے اندر قائم ہیں۔
کورونا: سٹیٹ بینک کے کم شرح سود قرضہ سکیم کے تحت 65 ارب کی درخواستیں زیر غور
پاکستان میں کورونا کی وبا کے باعث متعدد کاروبار اور صنعتیں شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور متعدد اداروں نے اپنے ملازمین کو اس صورتحال میں نوکریوں سے فارغ کرنا شروع کیا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے انتہائی کم شرح سود پر مختلف صنعتوں اور کاروباری اداروں کو قرضہ دینے کا اعلان کیا تاکہ ملک میں بے روزگاری میں اضافے کو روکا جا سکے۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس قرضہ سکیم کے تحت اس وقت میں کے مختلف بینکوں میں 65 ارب روپے کے قرضوں کی درخواستیں زیر غور ہیں۔
جس کے تحت 700 کمپنیوں میں تقریباً 5 لاکھ افراد کے روز گار کو تحفظ ملے گا۔
ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے کاروبار کو سیل کیا جائے گا، اجمل وزیر
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ اگر نو مئی کے بعد نرمی دی گئی تو یہ اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن جن کاروبار کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی ان کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ اور اگر کوئی کاروبار کے دوران حکومت کے متعین کردہ اصول و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرے گا تو اس کے خلاف کوئی رعایت نہ برتتے ہوئے اس کے کاروبار کو سیل کیا جائے گا۔
بریکنگ, نو مئی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی ایس او پیز سے مشروط ہے، اجمل وزیر
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اجمل وزیر نے پشاور میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں نو مئی کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا ہے۔
نو مئی کے بعد صوبے میں نرمی مختلف کاروبار کے ایس او پیز کے ساتھ مشروط ہو گی۔
انھوں نے واضح کیا کہ صوبے میں کورونا کے پھیلاؤ کے متعلق حالات تشویشناک ہیں اور عوام کو گھروں میں رہنا ہو گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات اجمل وزیر کی پریس بریفنگ
خیبر پحتونخوا کے وزیر اطلاعات کورونا کے حوالے سے قائم صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔
خیبرپختونخواہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا حفاظتی کٹس کی فراہمی کا مطالبہ
خیبر پختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے ) نے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے گزارش کہ ضلعی اور سول انتظامیہ کو زخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں اور حفاظتی کٹس کی ڈاکٹرز کو فراہمی کو یقینی بنائیں۔
صوبائی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اب تک صوبے میں 67 ڈاکٹرز میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جبکہ ایک ڈاکٹر پروفیسر محمد جاوید اس کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
وائی ڈی اے کا کہنا ہے کہ صوبے کے ہسپتالوں میں سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد ڈاکٹرز کی ہے، جس کی وجہ مناسب حفاظتی کٹس کی قلت ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی تر جمان کے مطابق وافر مقدار میں کٹس مہیا کیئے جا رہے ہیں لیکن حقیقتاً کٹس موجود نہیں ہے جس کی جانچ پڑتال ضروری ہے تا کہ ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کے پاس این 95 ماسک ہیں جبکہ ڈاکٹرز کو یہ مہہیا نہیں کیے گئے۔
ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے الزام لگایا کہ ضلعی انتظامیہ کٹس اور ماسک کے ذخیر اندوزوں کو پکڑنے میں ناکام ہو چکی ہے یا قصدا انکھیں بند کی ہوئی ہیں۔
کٹس اور ماسک مہنگے داموں بک رہے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
زخیرہ اندوزوں نے کٹس اور ماسکس کا کاروبار آن لائن ویب سائٹس پر شروع کیا ہوا ہے، جس کے اشتہارات فیس بک پر چل رہے ہیں جس پر ضلع اور سول انتظامیہ کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہے۔
کٹس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وائی ڈی اے خیبر پختونخوا ڈاکٹرز سے چندا جمع کر رہی ہے اور دیگر متعدد این جی اوز اور ڈونرز کیساتھ رابطے میں ہے۔
پاکستانی شہری ہفتے میں دو دن افغانستان سے ملک واپس آ سکتے ہیں
افغانستان سے پاکستانی شہری ہفتے میں دو دن سنیچر اور منگل کو وطن واپس آسکتے ہیں لیکن ان کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق اب تک چمن بارڈر کے راستے افغانستان سے 166 پاکستانی واپس آئے ہیں جن کو چمن میں قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان 166 افراد میں سے 27 کا تعلق بلوچستان، 10 کا پنجاب، 15 کا سندھ اور 108 کا خیبر پختونخوا سے ہے۔
کورونا وائرس: بلوچستان میں 31 سے 44 سال کے افراد زیادہ متاثر
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کورونا سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد کی عمریں 31 برس سے 44 برس کے درمیان ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر متاثر ہونے والوں میں مردوں کی تعداد 78 فیصد ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جن 978 متاثرین کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے ان کے مطابق 31 سے 44 سال کی عمر کے متاثرین کی تعداد 318 یعنی (33.84فیصد ہے۔
اس کے بعد جس عمر کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے ان کی عمریں 15سے 29سال کے درمیان ہیں۔ ایسے مریضوں کی تعداد 255 ہے جو کہ 26.07 فیصد بنتی ہے۔
تیسرے نمبر پر متاثر ہونے والے افراد کی عمریں 46 برس سے 59 برس کے درمیان ہیں جن کی تعداد 181 ہے اور یہ 18.51 فیصد ہے۔
ایک سے 14سال کی عمر کے متاثرہ بچوں کی تعداد 89ہے جبکہ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے متاثرین کی تعداد 82 ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان 978 افراد میں سے متاثرہ مردوں کی تعداد 761 یعنی 78فیصد جبکہ خواتین کی تعداد 217 یعنی 22 فیصد ہے۔
پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال نے کورونا کے متعلق کارکردگی رپورٹ جاری کر دی
خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی ٹیم نے کورونا کے متعلق اپنی دوسری کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ٹیم کے ٹی ایچ کا جذبہ بلند ہے اور کورونا سے ڈرنا نہیں اسے شکست دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے 14 متاثرہ ملازمین کورونا کے مرض میں مبمتلا ہو کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ان میں چار ڈاکٹرز، چھ نرسسز، تین کلینکل ٹیکنیشن اور ایک کلاس فور کا اہلکار شامل ہے۔ جبکہ ہسپتال نے اب تک 271 مریضوں کے ٹیسٹ کے نمونے حاصل کیے۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 22 فروری کو پہلا کورونا کامشتبہ مریض داخل ہوا تھا۔
ہسپتال میں اب تک ٹیسٹ کے لیے حاصل کردہ نمونوں میں 71مثبت جبکہ 199 منفی آئے ہیں جبکہ ایک کا نتیجہ آنا باقی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں ابتک 108 مریض داخل کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 93 مریض کامیابی سے صحت یاب ہوئے جبکہ 15 افراد کورونا کے باعث زندگی ہار گئے اور 163 مریضوں کو شعبہ بیرونی مریضاں کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
ہسپتال انتظامیہ نے 20 پرائیویٹ کمرے پہلے ہی بطور آئسولیشن خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے تمامسٹاف کے لیے مختص کیں ہیں اور 17 بستروں پر مشتملطبی آلات سے لیس انتہائی نگہداشت آئسولیشن یونٹکورونا کے داخل مریضوں کے لئے مختص کیا گیا ہے۔
مشتبہ مریضوں کے لئے 46 بستروں پر مشتمل یونٹ فعال ہے,
بریکنگ, پنجاب میں کورونا وائرس کے 120 نئےمتاثرین، کل تعداد 6340 ہو گئی
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جمعہ کو کورونا وائرس کے 120 نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔جس کے بعد صوبے میں کووڈ 19 کے متاثرین کی مجموعی تعداد 6340 ہو گئی ہے۔
صوبائی محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے ترجمان کے مطابق ان متاثرین میں سے 768 زائرین ، 1926 رائے ونڈ کی تبلیغی جماعت سے منسلک افراد ، 3560 عام شہریوں سمیت صوبے بھر کی مختلف جیلوں میں بند 86 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔
محکمہ کے ترجمان کے مطابق سامنے آنے والے 120 نئے متاثرین عام شہری ہیں۔ عام شہروں میں سب سے ذیادہ 1820 متاثرین کا تعلق لاہور سے ہے۔
صوبے میں کورونا وائرس سے اب تک کل 106 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 1921 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ 27 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق پنجاب میں اب تک کل 82651 افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔