آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان: پہلی بار ایک دن میں 1300 سے زیادہ نئے مریض، کُل اموات 486

پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 486 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں پہلی مرتبہ 1300 سے زیادہ کورونا متاثرین ایک دن میں سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ممبر ممالک کا اجلاس طلب کرے‘

    پاکستان نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ وبائی امراض کی وجہ سے دنیا بھر کے مزدوروں کو درپیش مسائل کے حل اور اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ممبر ممالک کا ورچوئل اجلاس طلب کرے۔

    وزارت سمندر پار پاکستانی کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سید ذوالفقار عباس بخاری نے اس ضمن میں لیبر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل گے رائڈر کو درخواست بھجوا دی ہے۔

    اس درخواست میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کی وجہ سے پاکستان اور پوری دنیا میں کارکنوں کو مسائل درپیش ہیں۔

    انھوں نے مزدوروں پر کورونا وائرس کے باعث پڑنے والے معاشی اثرات کو کم سے کم کرنے میں مدد کے لیے عالمی سطح پر بات چیت شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

  2. کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ کووڈ-19 وائرس لیبارٹری سے خارج ہوا؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سفارتی مراسلے کے مطابق چین میں امریکہ سفارتخانے کے اہلکار چین کے شہر ووہان میں ایک لیب میں اختیار کی جانے والی بائیو سکیورٹی سے متعلق پریشان تھے۔

    یہ لیبارٹری اس شہر میں واقع ہے جہاں سب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تھی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اب ایسی غیر مصدقہ اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے کہ یہ وائرس ایک لیبارٹری سے نکل کر دنیا میں پھیلا۔

  3. اسلام آباد: سیکٹر آئی 10 میں کورونا کا پھیلاؤ نقشے میں

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے متاثرہ سیکٹر آئی 10 میں کورونا کا پھیلاؤ نقشے کی مدد سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

    یاد رہے کہ 30 سے زیادہ مصدقہ متاثرین سامنے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سیکٹر آئی 10/1 اور آئی 10/4 کو سیل کر دیا گیا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ علاقے کی زمینی نگرانی جاری ہے اور آئندہ دو روز تک اس علاقے وبا کے پھیلاؤ کی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

    انھوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  4. پاکستان میں اب تک 4431 افراد کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں

    پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 4431 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    صحت یاب ہونے والے سب سے زیادہ 1921 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

    صحت یاب افراد کی فہرست میں دوسرا نمبر صوبہ سندھ کا ہے جہاں اب تک 1295 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    اسی طرح خیبرپختونخوا میں 690، بلوچستان میں 183، گلگت بلتستان میں 255، اسلام آباد میں 44 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک 43 افراد وبا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح 24.6 فیصد ہے۔

    ملک بھر میں گذشتہ 24 گھمٹوں کے دوران 823 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

  5. ڈیجیٹل پاکستان کا کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کیا کردار ہے؟

    وزیراعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی اور ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ آئدروس پاکستان کی ان چند خواتین میں شامل ہیں جو ملک میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہیں۔

    ہمارے ساتھی شجاع ملک نے ان سے ملاقات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی ڈیجیٹل پاکستان کا کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کیا کردار ہے؟ آپ بھی دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  6. پاکستان میں کورونا وائرس کے مجموعی متاثرین اور فی ہزار اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تشخیص 28 فروری کو ہوئی۔ اس کے بعد بتدریج اس تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    26 مارچ تک سرکاری اعدادوشمار کے مطابق متاثرین کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔

    یکم مئی کو یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 17699 تک پہنچ چکی ہے۔

  7. کیا مصالحے واقعی ادویاتی خواص رکھتے ہیں اور ہمیں بیماریوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں؟

    ہزاروں سال سے مصالحے ہماری خوراک کا حصہ رہے ہیں۔ چِپس پر کالی مرچ چھڑکنا، ادرک والی چائے کی چُسکیاں لینا اور کھانے میں مرچ ڈالنا ہماری طبیعت کا حصہ بن چکا ہے۔ مگر حال ہی میں بعض مصالحوں کو ان کے ذائقہ سے بڑھ کر ان کے زبردست ادویاتی خواص کے لیے مشہور کرنے کی کوشش کی گئی۔

    سابق امریکی خاتونِ اوّل ہلری کلنٹن مبینہ طور پر اپنی صدارتی مہم کے دوران بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ ایک مرچ کھاتی تھیں۔

    ہلدی، جو ایشیا میں ہزار ہا برس سے استعمال میں ہے، اب دنیا بھر میں کافی شاپس پر ’گولڈن لاٹے‘ نامی مشروب میں استعمال ہوتی ہونے لگی ہے۔

    اب تو ایسے کئی پیغامات سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں جن میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ہلدی امراض کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام یا اِمیونیٹی کو بہتر بناتی ہے۔

  8. کوئٹہ: سول ہسپتال کے ڈسپنسر کورونا سے ہلاک

    صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں طبی عملے کے مزید اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک سینیئر ڈسپنسر اس مرض سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    نمائندہ بی بی سی محمد کاظم کے مطابق بلوچستان میں ہلاک ہونے والے ڈسپنسر کا نام حاجی منور خان ہے اور وہ چند روز قبل کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔

    چند روز قبل منور خان کے بھائی حاجی دلاور خان بھی کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ دلاور خان بھی سول ہسپتال میں ڈسپنسر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    پشاور سے نامہ نگار بی بی سی عزیر اللہ خان کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی دو خاتون جونیئر میڈیکل افسران بھی کورونا کا شکار ہو گئی ہیں۔ یہ دونوں افسران گائنی وارڈ میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ ان دونوں خواتین کو ان کے گھروں میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سدا کے ایمرجنسی وارڈ میں اپنے فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر رحیم بھی کورونا کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے یورالوجی وارڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نورمخمد کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔ اسی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کے دیگر اراکین کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں۔

  9. بلاول اشرافیہ کے نمائندے اور حقیقت سے نابلد ہیں: شبلی فراز

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے ثابت کیا کہ وہ اشرافیہ کے نمائندے ہیں، مزدوروں اور محنت کشوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے سندھ حکومت کی نااہلی وفاق پر تھونپنے کی بھونڈی کوشش کی ہے، کورونا ایک قومی مسئلہ ہے اور اس پر سیاست کرنے والوں کو قوم معاف نہیں کرے گی۔

    شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ دن میں سونے والے حقیقت سے نابلد ہیں اور بلاول صاحب کی لاعلمی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ احساس کیش ایمرجنسی پروگرام، لنگر خانے اور پناہ گاہیں عمران خان کی مزدوروں سے وابستگی اور احساس کا واضح اظہار ہیں، بلاول سیاست نہیں کام کریں کیونکہ یہ قوم کی خدمت کا وقت ہے۔

  10. گلگت بلتستان میں آج صرف ایک مریض کا اضافہ ہوا، سات مریض صحت یاب

    گلگت بلتستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کا صرف ایک نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد یہاں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 340 ہو گئی ہے۔

    جمعہ کو سامنے آنے والے نئے مریض کا تعلق گلگت شہر سے ہے۔ اس کے علاوہ یکم مئی کو گلگت بلتستان میں مزید سات مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور اب یہاں صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 255 ہو چکی ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق گلگت بلستان میں مریضوں کے صحت یاب ہونے کا تناسب 75 فیصد جبکہ ہلاکتوں کی شرح 0.88 فیصد ہے۔

    گلگت بلستان محکمہ صحت کے کوروونا کے لیے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہد کے مطابق صحت یاب ہونے والے مریضوں کا تناسب بہت ہی اچھا ہے اور اب ہم ممکنہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ شاید ساری دنیا میں اس وقت سب سے بہتر ہے۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مقامی افراد کی قوت مدافعت کافی اچھی ہے۔

  11. سعودی عرب کی جانب سے 20 ہزار راشن بیگز کی تقسیم

    اسلام آباد میں واقع سعودی مکتب الدعوۃ کی جانب سے 20 ہزار راشن بیگز تقسیم کیے گئے ہیں۔

    وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے سعودی ولی عہد نے پاکستان کا ہر حال میں ساتھ دیا ہے۔ یہ امداد رمضان پیکج کے تحت تقسیم کیے گئے ہیں۔

    راشن تقسیم کرنے کی تقریب میں سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری بھی موجود تھے۔

  12. بریکنگ, بلوچستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر 1136 ہو چکی ہے, صوبے میں دو نئی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کورونا کے 87 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد بلوچستان میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 1136 ہو گئی ہے۔

    جبکہ یکم مئی کو ہونے والی دو نئی ہلاکتوں کے بعد صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد 16 ہو چکی ہے۔

    سامنے آنے والے نئے مریضوں میں سے 86 کا تعلق کوئٹہ جبکہ ایک کا تعلق پشین سے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں مقامی منتقلی کے 985 کیسز موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے 80 کورونا ٹیسٹ یومیہ کی استعدادکار سے آغاز کیا تھا اور اب صوبے میں یومیہ 800 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    بلوچستان میں نئے کیسز کے بعد ملک بھر میں اب مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 11698 ہو چکی ہے۔

  13. حکومت ہمارے ساتھ انسانوں جیسا سلوک نہیں کر رہی: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

    خیبرپختونخوا کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے دعوی کیا ہے کہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے کورونا کے خلاف لڑ رہا ہے اور حکومت ان کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک نہیں کر رہی ہے۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ دو روز قبل بنوں میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ اس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ڈاکٹر رضا کے ساتھ کام کرنے والے ینگ ڈاکٹرز کو ان کے کمروں میں نظر بند کر کے دروازوں پر پولیس تعینات کر دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان ینگ ڈاکٹرز کے لیے کھانے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے اور یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف حالیہ اقدام کرنے والے سرکاری حکام کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے ورنہ احتجاج کیا جائے گا۔

  14. پاکستان میں شرح اموات 2.3 فیصد، صحت یابی کا تناسب 24.7 فیصد

    ملک میں ہونے والی حالیہ اموات کے بعد کورونا وائرس کے باعث شرح اموات 2.3 فیصد ہو چکی ہے جبکہ اس مرض سے صحت یاب ہونے والے افراد کا تناسب 24.7 فیصد ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 4 گھنٹوں کے دوران 794 نئے مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 21 مریض ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہے۔ لاہور میں مصدقہ متاثرین کی ملک بھر میں مجموعی تعداد کا 26.28 فیصد حصہ موجود ہے۔

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مجموعی متاثرین کا 13.99 فیصد مریض موجود ہیں جبکہ پشاور میں 7.27 فیصد، راولپنڈی میں 6.21 فیصد، ملتان میں 3.06 فیصد، کوئٹہ 2.84 فیصد، اسلام آباد میں 2.5 فیصد، سوات میں 2.44 فیصد جبکہ گجرات میں 1.96 فیصد مریض موجود ہیں۔

  15. طبی عملے کہ 444 اہلکار کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں

    ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف سمیت اب تک ملک بھر میں طبی عملے کے 444 اہلکار کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    وفاقی محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ یعنی 103 اہلکار صوبہ خیبرپختونخوا، 102 صوبہ پنجاب، 90 صوبہ بلوچستان، 86 سندھ، 41 اسلام آباد، 18 گلگت بلتستان جبکہ طبی عملے کے چار اہلکار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثر ہوئے ہیں۔

    ان 444 اہلکاروں میں سے آٹھ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 342 ہسپتالوں اور گھروں میں قرنطینہ کیے گئے ہیں۔ 94 اہلکار مکمل صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ اعدادوشمار 30 اپریل تک موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔

  16. بریکنگ, پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے

    پاکستان بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر 17611 ہو چکی ہے جبکہ اب تک اس وبا کے ہاتھوں 406 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

    اگر بات مصدقہ متاثرین کی کی جائے تو 6675 مریضوں کے ساتھ صوبہ سندھ سرِفہرست ہے۔ پنجاب میں 6340، خیبرپختونخوا میں 2799، بلوچستان میں 1049، اسلام آباد میں 343، گلگت بلتستان میں 339 جبکہ پاکستان کے زیر انتظآم کشمیر میں کُل 66 مصدقہ متاثرین موجود ہیں۔

    دوسری جانب سب زیادہ 161 اموات صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی ہیں۔ سندھ میں 118، پنجاب میں 106، بلوچستان میں 14، اسلام آباد میں چار اور گلگت بلتستان میں تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    مجموعی طور پر اب تک 4424 افراد اس مرض سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

  17. بریکنگ, خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 15 ہلاکتیں، 172 نئے متاثرین

    صوبہ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 172 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 15 مریض ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والے 15 افراد میں 10 کا تعلق پشاور، دو کا نوشہرہ جبکہ ایک، ایک مریض کا تعلق سوات، کوہاٹ اور بٹگرام سے ہے۔

    صوبے میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 2799 ہو چکی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 161 ہو چکی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں 36 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 690 ہو گئی ہے۔

  18. لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے مرتکب دو سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کے مرتکب ایک سرکاری افسر کو او ایس ڈی جبکہ ایک اہلکار کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے۔

    دریں اثنا غیر قانونی طریقے سے اس خطے میں داخل ہونے والے چھ افراد کو قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق گذشتہ دنوں ضلع بھمبر کے ایک اسسٹنٹ کمشنر اور ایک پٹواری نے لاہور سے جنازے میں شرکت کرنے کے لیے آنے والے چھ افراد کو اس خطے میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔

    حکام کے مطابق تحریری شکایت موصول ہونے پر اس معاملے کی مکمل انکوائری کی گئی جس میں انتظامیہ کے دونوں افراد ملوث پائے گے۔ مذکورہ افسر کو او ایس ڈی بنا دیا گیا جبکہ پٹواری کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے جبکہ خطے میں داخل ہونے والے چھ افراد کو قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے ٹیسٹوں کے علاوہ ان کی ٹریول ہسٹری مرتب کی جائے گی۔

    یاد رہے ہلتھ ایمرجنسی کے تحت پاکستان کے دیگر شہروں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مابین آنے جانے پر پابندی عائد ہے۔

  19. حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں صحت یاب افراد کے پلازمہ سے کورونا متاثرین کے علاج کا آغاز

    صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد میڈیکل کمپلیکس نے باضابطہ طور پر کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے پلازمہ کی مدد سے کورونا کے متاثرین کے علاج کا آغاز کر دیا ہے۔

    حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتطامیہ کے مطابق ان کا ہسپتال صوبے میں پلازمہ کی مدد سے مریضوں کا علاج کرنے والا پہلا ہسپتال بن گیا ہے۔

    اس سلسلے میں ایچ ایم سی نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیذیز کراچی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔ پلازمہ کا عطیہ دینے والے رضا کار ایچ ایم سی کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر سلمان ہیں جبکہ اس کے علاوہ ہسپتال کے اہلکار عالمگیر نے بھی پلازمہ عطیہ کیا ہے۔

    ہیماٹالوجی ڈیپارٹمنٹ کی انچارچ پروفیسر شاہ تاج خان کی سَربراہی میں اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی لیبارٹری میں پلازمہ پراسیس کرنے والی مشین اور اس سے متصل تمام تر انتظامات کو وسعت دے کر تمام سہولیات بروقت مہیا کرے گی۔

    ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پلازمہ عطیہ کرنے والوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ یاد رہے کہ پلازمہ کا ایک عطیہ دو مریضوں کی جان بچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  20. اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی متبادل تجاویز نہیں: فواد چوہدری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وزیر اعظم عمران خان پر کڑی تنقید کے جواب میں حکمران جماعت کے رہنماؤں نے اپنا اپنا ردعمل دیا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اپوزیشن کی سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر وہ وفاق سے چاہتے کیا ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی متبادل تجاویز نہیں، بلاول بھٹو بتائیں آخر آپ وفاق سے چاہتے کیا ہیں؟ ایک طرف آپ کہتے ہیں لاک ڈاؤن صوبائی معاملہ ہے، امداد صوبائی معاملہ ہے تو آپ فیصلے کریں وفاق پر تنقید سے سیاست پہلے بھی نہیں بچی آگے بھی امکان نہیں۔‘

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ ’بلاول کی پریس کانفرنس ان کی ناکامی کا اعلان ہے جس کا ذمہ دار وہ وفاق کو ٹھہرا رہے ہیں۔ لیاری سے لانڈھی تک کے عوام کی ذمہ داری فرزند زرداری آپ کی ہے اور آپ کے وزیر اعلی کی نہ کے وفاق کی۔‘

    شہباز گل کا مزید کہنا ہے کہ ’ہمیں آپ کی اصل تکلیف کا احساس ہے جو آپ نے بول دی کہ ہمیں کیش نہیں دیا۔ آپ کو کیش نہیں دیا جائے گا۔ آپ کو کیش دیں تاکہ آپ پاپڑ والے کے اکاونٹ سے منی لانڈر کر دیں۔ نہیں عمران خان آپ کو یہ چوری نہیں کرنے دیں گے۔ وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔‘