پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں کورونا وائرس سے بٹگرام اور چترال کے اضلاع میں بھی پہنچ گیا۔
دونوں اضلاع میں کورونا وائرس کے پہلے مریض گذشتہ روز پائے گے ہیں جس کے بعد دونوں اضلاع میں بھی لاک ڈاون میں سختی کردی گئی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے 34 میں سے اب 31 اضلاع میں کورونا وائرس کے مریض موجود ہیں۔
صرف کوھستان کے علاقے میں موجود تین اضلاع اپر، لوہر کوھستان اور کولائی پالس میں ابھی تک کوئی بھی کورونا کا مریضں نہیں پایا گیا ہے۔
ڈسڑکٹ ہیلتھ آفسیر بٹگرام ڈاکٹر منہاج الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع بٹگرام کے پہلے مریض میں کورونا کی تشخیص کی رپورٹ اس کی ہلاکت کے تیسرے روز اسلام آباد سے ہم تک پہنچی ہے۔ جس کے بعد محکمہ صحت کی ٹیم مذکورہ علاقے میں پہنچ گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مرحوم کے ساتھ رابطے میں رہنے والے تمام افراد کو قرنطنیہ میں ڈالا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کا علاج معالجہ کرنے والے بٹگرام ہسپتال کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر رحیم خود ہی قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔
ڈاکٹر منہاج الحق کہ مطابق مرحوم کو علاقے میں اہم مذہبی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ وہ اسلام آباد میں مقیم تھے اور چند روز قبل ہی اپنے آبائی علاقے میں آئے تھے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی تھی جبکہ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر حفاظتی اقدامات کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر منہاج الحق نے اس کو مسترد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے اہلکاروں نے تدفیق کے فرائض کے موقع پر حفاظتی اقدمات اختیار کیئے تھے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق افغانستان سے طورخم بارڈر کے راستے پاکستان واپس آنے والے 39 افراد میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ان افراد میں بڑی اکثریت پاکستان سے افغانستان فرائض انجام دینے والے ڈرائیوروں کی ہے۔
افغانستان سے واپس آنے والوں کے 95 ٹیسٹوں کا اب تک انتظار ہے جبکہ 64 میں وائرس نہیں پایا گیا ہے۔