کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا میں ٹرانسپورٹ پر 29 مارچ تک پابندی، تمام ہوٹل، ریستوران بھی بند رکھنے کا حکم

    peshawar

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل خان وزیر نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی بندش میں 29 مارچ تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی صوبے کے تمام ہوٹل، ریستوران بھی مکمل بند رکھے جائیں گے۔

    مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں کھانے کے مراکز کے علاوہ ہوم ڈلیوری بھی بند رہے گی اور صرف سبزی پھل, ادویات کی دکانیں اور جنرل سٹورز کھلے رہیں گے۔

    کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبے میں مریضوں کی تعداد 31 ہے جبکہ مشتبہ کیسز کی تعداد 275 ہو چکی ہے۔

    اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان سے آنے والے زائرین کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پشاور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور ان 132 زائرین کو پشاور موٹروے انٹرچینج کے قریب پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج انسٹیٹیوٹ میں قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

  2. بلوچستان میں سفر پر پابندی کی خلاف ورزی پر 400 زیرِ حراست

    quetta

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان کے ضلع مستونگ کی انتظامیہ نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر نقل و حمل پر پابندی کے باوجود غیر قانونی طورپر ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں میں سفر کرنے والے 400 مسافروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر مستونگ محبوب احمد اچکزئی کے مطابق کورونا وائرس کے ممکنہ خدشہ اور پھیلاو کو روکنے کے لیے صوبائی حکومت نے مسافر گاڑیوں کی بین الصوبائی اور بین الاضلاعی نقل وحرکت پر مکمل پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق اسی سلسلے میں کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی قومی شاہراہ پر کراچی سے کوئٹہ اور اندرون صوبہ سفر کرنے والے 19 ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں سے مستونگ کے حدود میں لیویز چیک پوسٹوں پر دوران چیکنگ 400 مسافروں کو حراست میں لیا گیا اور انھیں مزید کاروائی کے لیئے کوئٹہ میں انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, پنجاب میں بھی 14 دن کے لیے’لاک ڈاؤن‘ کا فیصلہ

    عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی صوبائی حکومت نے منگل 24 مارچ سے چھ اپریل کی صبح نو بجے تک دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ پیر کو کابینہ کی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ دو ہفتے کے عرصے کے لیے صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی دفاتر بند کر دیے جائیں گے جبکہ شاپنگ مال، ریستوران، ہوٹل، تفریح گاہیں اور دیگر عوامی مقامات بھی بند رہیں گے تاہم روزمرہ کی ضروریات اور اشیائے خوردنوش کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

    اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے دوران ڈبل سواری پر بھی پابندی ہو گی۔

    خیال رہے کہ پنجاب میں تحریکِ انصاف کی ہی حکومت ہے جس کے سربراہ اور ملک کے وزیراعظم عمران خان کہتے رہے ہیں کہ پاکستان لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وہ ملک لاک ڈاؤن نہیں کریں گے۔

  4. ’لوگ پریشانی کے عالم میں زیادہ خریداری نہ کریں‘

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ ملک میں اجناس کی وافر مقدار موجود ہے اور لوگ پریشانی کے عالم میں زیادہ خریداری نہ کریں۔

    اسلام آباد میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اس وقت 18 لاکھ ٹن گندم موجود ہے۔ ہمارے پاس چنے کا آٹھ ماہ کا ذخیرہ موجود ہے۔ دالوں کا دو ماہ کا ذخیرہ ہے۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دالوں کی اضافی ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے کیونکہ جن ممالک سے دالیں درآمد ہو رہی ہیں، وہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔‘

    ان کے مطابق لوگ مہنگے داموں اشیا خریدنے سے گریز کریں کیونکہ اپریل اور مئی میں اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پیاز کی پیداوار ضرورت کے لیے پوری ہے۔ برآمد کرنے پر پابندی لگانے پر غور کریں گے۔‘

    ادھر وزیرِاعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق سید مراد علی شاہ نے صوبے میں تنخواہوں اور پینشن کے علاوہ تمام ادائیگیاں روکنے کی ہدایت کی ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ گریجیوٹی، ایکیشمینٹ، ایل پی آر وغیرہ کی ادائیگیاں فی الحال روکنے کا حکم دیا گیا ہے اور مراد علی شاہ کی ہدایت ہر محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل کو خط لکھ دیا ہے۔

  5. سندھ میں مکمل اور کوئٹہ میں جزوی لاک ڈاؤن

    ،ویڈیو کیپشناتوار کو سندھ میں حکومتی احکامات پر مکمل جبکہ کوئٹہ میں جزوی لاک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے
  6. بریکنگ, تبلیغی جماعت کے چھ ارکان میں وائرس کی تصدیق کے بعد بھارہ کہو میں ’لاک ڈاؤن‘

    بھارہ کہو لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہICT

    اسلام آباد کے نواح میں بھارہ کہو کے علاقے کوٹ ہتھیال میں تبلیغی جماعت کے مزید پانچ ارکان میں کورونا کی تصدیق کے بعد علاقے کو ’لاک ڈاؤن‘ کر دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق یونین کونسل کوٹ ہتھیال کو پیر کی سہ پہر لاک ڈاؤن کیا گیا. بھارہ کہو تھانے کے 50 اہلکاروں کو اس علاقے میں تعینات کیا گیا ہے جو رہائشیوں کے علاوہ کسی کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کے علاقے کو سِیل کیا گیا ہے اور پولیس کے علاوہ محکمہ صحت کی ٹیمیں علاقے میں سکریننگ کر رہی ہیں۔

    علاقے کے ایک مکین زاہد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ تبلیغی جماعت کے اراکین بدھ کو مسجد بلال میں آ کر رکے تہے جن میں وسط ایشائی ملک کے باشندے بھی شامل تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ لوگ دیگر لوگوں سے بھی ملے اور ہم نے جمعے کی نماز ان کے ساتھ پڑھی تھی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز اسلام آبآد کے ڈپٹی کمشنر نے ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بھارہ کہو کی ایک مسجد میں تبلیغی جماعت اور خطیب نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جبکہ انھیںں معلوم تھا کہ ایک شخص میں کورونا وائرس کی علامات ہیں. ڈپٹی کمشنر کی جانب سے شائع کی جانے والی تصویر میں مسجد میں جراثیم کش سپرے کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

    اے ایس پی بھارہ کہو حمزہ امان اللہ کا کہنا ہے کہ کوٹ ہتھیال میں چھ غیرملکیوں سمیت 13 افراد کی جماعت تبلیغ پر تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے کرغزستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے مقامی مسجد کو سیل کر کے تبلیغی جماعت کے 11 افراد کو بھارہ کہو سے حاجی کیمپ منتقل کر دیا تھا۔

    حکام کے مطابق اس کے بعد جماعت میں شامل مزید پانچ افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔ ان پانچ افراد میں سے دو غیر ملکی جبکہ تین پاکستانی ہیں۔

    پولیس افسر کے مطابق یہ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد جہاں اس تبلیغی جماعت میں شریک باقی افراد کے بھی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں وہیں کوٹ ہتھیال کے خارجی و داخلی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ جبکہ علاقے میں دودھ، کریانہ اور بیکری کے علاوہ باقی دکانیں بند کروا دی گئی ہیں۔

    حمزہ امان اللہ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے احکامات کے بعد بھارہ کہو کے مرکزی بازار کو بھی بند کروایا جائے گا۔ ان کے مطابق تمام علاقے کو قرنطینہ میں بدل دیا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ اہل علاقہ کے بھی ٹیسٹ کروائے گی۔

  7. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جزوی لاک ڈاؤن کا دوسرا روز

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کے روز بھی جزوی لاک ڈاؤن جاری رہا۔ خطے کی حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل معطل کر دیا ہے جبکہ ہوٹلز بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

    میرپور میں مکمل لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے تحت تمام کاروباری مراکز بند رہے۔

    ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بدر منیر نے دارالحکومت مظفرآباد میں آج سے تین ہفتے کے لیے مزید لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انتظامیہ لاؤڈ سپکر کے ذریعے اعلانات بھی کر رہے ہیں۔

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    ،تصویر کا کیپشنلال چوک مظفرآباد جہاں قریب ہی مرکزی تجارتی مراکز اور جامعہ کشمیر واقع ہے
    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    ،تصویر کا کیپشندارالحکومت مظفرآباد میں تاجر برادری از خود دو دن لاک ڈاون کی اپیل کی تھی جس کے تحت بیشتر بازار بند رہے چند ضروری دکانیں کھلی رہیں۔
    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    ،تصویر کا کیپشناس لاک ڈاؤن کے تحت تمام پبلک ٹرانسپورٹ سمیت تجارتی مراکز بند رہیں گے
    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر مظفرآباد میں وزیراعظم ہاوئس جیسے قرنطینہ سنٹر میں تبدیل کیا ہے
  8. کراچی میں لاک ڈاؤن کا پہلا روز تصاویر میں!

    کراچی
    کراچی
    کراچی
    کراچی
    کراچی
    کراچی
    کراچی
    تصویر
  9. بریکنگ, بلوچستان میں دو نئے مریض، تعداد 110 ہو گئی, پاکستان میں متاثرین کی تعداد 805 تک پہنچ گئی

    کوئٹہ

    بلوچستان کے چیف سیکریٹری نے صوبے میں مزید دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اب صوبے میں متاثرین کی تعداد 110 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک صوبے میں ایک ہلاکت ہو چکی ہے

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر نے پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وائرس اب تک صرف کوئٹہ میں اثرانداز ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اگر کسی مخصوص کمیونٹی سے زیادہ کیس آئے تو سروے بھی کیا جائے گا۔ فضیل اصغر کا کہنا تھا کہ قرنطینہ کے لیے سریاب روڈ پر اراضی کا بندوبست کیا جا رہا ہے جہاں ایف ڈبلیو او کی مدد سے پری فیبریکیٹڈ کمرے بنائے جائیں گے اور وہاں ایک ہزار سے زائد افراد کو رکھنے کی گنجائش ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تفتان میں بھی مزید پانچ ہزار کمرے بنائے جا رہے ہیں اور یہ منصوبے اگلے تین ماہ میں مکمل کر لیے جائیں گے۔

    چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ’اگر ہم سب اپنے گھروں میں مقیم رہیں گے تو وائرس کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جن زائرین کے ٹیسٹ نیگٹیو آئے ہیں وہ بھی دو ماہ تک خاص طور پر احتیاط کریں۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ لوگ اب بھی اس وائرس کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور صوبے کے پسماندہ علاقوں میں آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کچھ عرصے کے لیے اکھٹے ہونا کا سلسلہ ترک کر دیں

  10. دوحہ اور متحدہ عرب امارات میں پھنسے پاکستانیوں کو اسلام آباد لانے کی اجازت

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے علاوہ دبئی اور ابوظہبی میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپسی کے لیے قطر ایئرلائنز اور فلائی دبئی کو خصوصی پرواز چلانے کی اجازت دی ہے۔

    سول ایوی ایشن کی وزارت کے مطابق قطر ایئرویز کی پرواز کیو آر 633، 72 پاکستانیوں کو لے کر پیر کی شب ایک بج کر 40 منٹ پراسلام آباد پہنچے گی جبکہ دبئی اور ابوظہبی کے ہوائی اڈوں پر پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے فلائی دبئی کی خصوصی پرواز بھی پیر کی شب رات بارہ بج کر دس منٹ پر 150 مسافروں کو لے کر اسلام آباد پہنچے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ان پروازوں سے پاکستان آنے والے مسافروں کو سخت طبی معائنے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر پھنسے پاکستانی آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ اور ترکی سے واپس آ رہے تھے اور پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی فضائی آپریشن معطل کرنے کی وجہ سے وطن واپس نہیں آ سکے تھے۔

    پاکستان نے ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 21 مارچ کی رات سے چار اپریل تک کے لیے ملک میں کسی غیر ملکی مسافر طیارے کی آمد پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

    تاہم اس پابندی سے سفارتی عملے کو استثنیٰ حاصل ہے اور امریکی سفارتخانے کے عملے کے متعدد ارکان 22 مارچ کو ایک خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان سے چلے گئے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں عملے کی روانگی کی تصدیق کرتے ہوئے تعاون کے لیے پاکستانی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

  11. بلوچستان میں تمام کورونا وائرس متاثرین ایران سے آئے تھے: ترجمان صوبائی حکومت, لیاقت شاہوانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی ایران سے مزید دو سے ڈھائی ہزار زائرین کی آمد متوقع ہے۔

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اب تک جتنے بھی لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں وہ سب ایران سے آئے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا تاحال بلوچستان میں کوئی ایسا کیس سامنے نہیں آیا جسے وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا ہو۔ لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر کے قریب قائم کیے گئے کوارنٹین سینٹر میں مجموعی طور پر ایران سے آنے والے زائرین سمیت 528 افراد کو رکھا گیا تھا ۔ ترجمان کے مطابق ان میں سے 78 کے کیسز پازیٹو آئے تھے جو کہ شیخ زید ہسپتال اور فاطمہ جناح جنرل اینڈ چیسٹ ہسپتال کے آئیسولیشن سینٹرز میں زیر علاج ہیں ۔ باقی 452 افراد وائرس سے متاثر نہیں تھے چناچہ ان کو اپنےگھر جانے دینے کے بعد اس مرکز کو خالی کر کے ڈس انفیکٹ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا سے متاثرہ 52 افراد کا تعلق کم آمدنی والے طبقات سے ہے جس کے باعث ان کے گھروں میں راشن پہنچا دیا گیا ہے ۔ لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ اب بھی ایران سے مزید دو سے ڈھائی ہزار زائرین کی آمد متوقع ہے ۔ ان کا کہنا تھا حکومت کی جانب سے مزید کوارنٹین اور آئسولیشن سینٹرز بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور کوئٹہ شہر میں آئیسو لیشن بیڈز کی تعداد تین ہزار تین سو کے قریب ہوگی۔ اس کے علاوہ ضلعی ہیڈ کوارٹر میں چالیس آئسولیش سینٹرز علاوہ کوارنٹین سینٹرز بھی بنائے جارہے ہیں تاکہ کسی بھی علاقے میں متاثرہ افراد کے لیے مقامی سطح پر سہولت دستیاب ہو۔ لیاقت شاہوانی نے دعوییٰ کیا کہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے دستیاب کٹس کی مجموعی تعداد 19 ہزار تک ہوجائے گی۔

  12. بریکنگ, اسلام آباد میں مزید چار مریض، پاکستان میں متاثرین 800 سے زیادہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید چار مریض سامنے آنے کے بعد یہاں کووڈ-19 کے متاثرین کی تعداد 15 ہو گئی ہے جن میں سے دو صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 13 زیرِ علاج ہیں۔

    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیر کو چار نئے مریضوں کی شناخت کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مریضوں کی حالت تسلی بخش ہے۔

    نئے مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 803 ہو گئی ہے۔ اب تک ملک میں اس وائرس سے چھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ چھ افراد ہی صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

    صوبہ سندھ بدستور ملک میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں اب تک 352 افراد میں یہ مرض پایا گیا۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 225، بلوچستان میں 108، گلگت بلتستان میں 71، خیبر پختونخوا میں 31، اسلام آباد میں 15 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک شخص میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی۔

  13. کورونا وائرس کا مقابلہ، ڈپٹی کمشنروں کو خصوصی اختیارات تفویض

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ڈپٹی کمشنروں کو خصوصی اختیارات تفویض کردیے گئے ہیں۔ نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان حکومت کے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وباء امراض ایکٹ 1958 کے تحت صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے صورتحال کے مطابق عوام کے مفاد میں کوئی بھی آرڈر جاری کر سکیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنروں کو آرڈرز کی خلاف ورزی کے مرتکب شخص کوتعزیرات پاکستان کے سیکشن 88 کے تحت سزا دینے کا اختیار بھی ہو گا۔

  14. ’ہم آپ کے لیے کام پر ہیں، آپ ہمارے لیے گھروں پر رہیں‘

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہSindh Police

    ،تصویر کا کیپشن’ہم آپ کے لیے کام پر ہیں، آپ ہمارے لیے گھروں پر رہیں‘

    سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اتوار کی رات 12 بجے سے صوبے بھر میں 15 روز کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رات میں ہی شہر میں گشت شروع کی گئی تھی۔

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہSindh Police

    ،تصویر کا کیپشنیہ کرفیو نہیں بلکہ آپ کی دیکھ بھال کے لیے ہے
  15. کراچی میں باہر نکلنے کے لیے قومی شناختی کارڈ لازمی شرط

    کراچی میں لاک ڈاؤن میں باہر نکلنے کے لیے قومی شناختی کارڈ کی موجودگی لازمی شرط رکھ دی گئی ہے۔

    کمشنر کراچی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق گھر کے ایک فرد کو قومی شناختی کارڈ دکھا کر 48 گھنٹے میں ایک بار کھانے پینے کی اشیا خرید نے کی اجازت ہو گی۔

    تمام پبلک ٹرانسپورٹ بس، ٹیکسی، رکشہ، کریم، اوبر ایس ڈبلیو وی ایل ائرلفٹ پر پابندی ہوگی۔ نجی گاڑیوں میں پیٹرول پمپ کو دس لیٹر سے زائد پیٹرول گاڑی میں بھرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہCommissioner Karachi

    موبائل فونز کی تمام مرمت کرنے والی دکانیں اور فرنچائز کی دکانیں بند رہیں گی۔ تمام گروسری کی دکانوں یا دیگر سہولت مراکز پر ایزی لوڈ کی سہولت حاصل ہو سکے گی۔ بنکوں کے سیکورٹی گارڈز اور سفارتی عملے کے پرائیویٹ گارڈز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ یونیفارم میں ہوں اور قومی اور دفتر کا شناختی کارڈ رکھیں۔ کمشنر کراچی ، تمام ڈپٹی کمشنرز اسسٹنٹ کمشنرز اور مختار کاروں کے دفاتر چوبیس گھنٹے کھلے ررہیں گے۔

  16. سندھ میں لاک ڈاؤن: صحافیوں کیلئے خصوصی استثنیٰ کا اعلان

    سندھ میں لاک ڈاؤن کے دوران صحافیوں کو صوبے بھر میں خصوصی استثنی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    سندھ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق میڈیا نمائندوں، ہاکرز اور کیبل آپریٹرز کو لاک ڈاؤن کے دوران استثنیٰ حاصل ہو گا تاہم انھیں شناختی کارڈ اور میڈیا کارڈ ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہInformation Department Sindh

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ تمام ادارے اپنے رپورٹرز، کیمرہ مین اور فوٹوگرافرز سمیت دیگر عملے کو آگاہ کریں کہ وہ اپنے ساتھ شناختی کارڈ اور ادارے کا کارڈ لازمی رکھیں کیونکہ شناخت کے بغیر کسی بھی شخص پر استثنیٰ کا اطلاق نہیں ہو گا۔

  17. بریکنگ, آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈر کانفرنس

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی ہے، جس میں تمام کور کمانڈرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کا ایجنڈا کورونا وائرس تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے تمام دستیاب دستوں اور طبی وسائل کو مختصر نوٹس پر سول انتظامیہ کی امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے تیار رہنے کا کام سونپا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ’ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو کچھ بھی شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستان کی فوج قومی کوششوں کا حصہ ہونے کے ناطے ایک مقدس فریضے کے طور پر قوم کی خدمت اور حفاظت کرے گی۔‘

  18. کورونا پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن لازم ہے: شہباز شریف

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوامی صحت کے ماہرین سے مشاورت اور عوامی رائے جاننے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کووڈ-19 کی وبا پر قابو پانے کے لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کا اعلان کرے اور اس سلسلے میں مزید تاخیر کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ہی قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ ملک کو لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے اور عوام کو چاہیے کہ وہ خود کو قرنطینہ کر لیں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس کا مطلب ملک میں کرفیو لگانا ہے۔

    عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کہ اگر پاکستان کے حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو وہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کر دیتے مگر ملک کے غریب طبقے کو دیکھتے ہوئے وہ ایسا نہیں کرسکتے۔

  19. سندھ میں لاک ڈاون: کن چیزوں پر مکمل پابندی ہو گی؟

    سندھ پولیس کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران مندرجہ ذیل چیزوں پر مکمل پابندی ہو گی:

    • ایک شہر سے دوسرے شہر اور شہر کے اندر بھی ایک مقام سے دوسرے مقام تک کسی بھی سماجی، مذہبی یا کسی اور ذاتی یا اجتماعی کام کے لیے نقل و حرکت پر پابندی ہو گی۔ شہر سے باہر جانے اور بیرون شہر سے آنے والی پبلک ٹراسنپورٹ بھی بند رہے گی۔
    • وہ ریستوران جہاں لوگ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں وہ بند رہیں گے۔ ان میں وہ ریستوران شامل نہیں جہاں ہوم ڈییلوری، کھانا یا مشروبات لے جانے کا انتظام ہو۔ چائے خانہ جہاں لوگ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، وہ بھی بند رہیں گے۔
    • الیکٹرونکس مارکیٹس، آٹو پارٹس مارکیٹس اور کارواش سروس سینٹر بند رہیں گے۔
    • تمام شاپنگ مالز اور شاپنگ سینٹرز بند رہیں گے۔ کپڑوں اور فرنیچر کی دکانیں بھی بند رہیں گی۔
    • ہر قسم کے بچت بازار بھی بند ہوں گے۔
    • باربر شاپ اور بیوٹی پارلر بھی بند رہیں گے۔
    • ساحل سمندر اور سوئمنگ پولز پر جانے پر پابندی ہو گی۔ تمام قسم کے کلب اور تفریح گاہیں بھی بند رہیں گی۔
    • تمام شادی ہالز، میرج لان، مارکیز بند رہیں گے اور فارم ہاؤس میں منعقدہ تقریبات مسوخ ہوں گی۔ گھروں کے اندر تقریبات اور اجتماعات پر بھی پابندی ہو گی۔
    • ہر نوعیت کے اجتماع اور تمام مذہبی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی تقریبات پر مکمل پابندی ہو گی۔
    • تمام تعلیمی ادارے اور مدارس بھی بند رہیں گے۔
  20. سندھ میں لاک ڈاؤن: عوام کو کن چیزوں کی اجازت ہو گی؟

    سندھ بھر میں لاک ڈاون پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور سندھ پولیس کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    سندھ پولیس کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے مطابق عوام کی سہولت کے لیے مندرجہ ذیل چیزوں کی اجازت ہو گی:

    • جنرل اسٹور کی دکانیں، اشیائے خوردونوش کی دکانیں، بیکریاں، سپر مارکیٹس، پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں، گوشت، مرغ اور مچھلی کی دکانیں، اور دودھ کی دکانیں کھلی رہیں گی اور ان سے منسلک کام کرنے اور ترسیل کے لیے ٹرانسپورٹ کی بھی اجازت ہو گی۔
    • مندرجہ بالا کاروبار کرنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکانوں پر رش نہیں ہونے دیں گے اور اگر زیادہ لوگ کسی ایک دکان پر جمع ہو گئے ہیں تو مناسب فاصلہ رکھنے کا انتظام کریں۔
    • آٹے کی دکانیں(چکی) اور تندور بھی کھلے رہیں گے۔
    • میڈیکل سٹورز اور ہسپتال بھی کھلے رہیں گے اور میڈیکل ایمرجنسی کے وقت نقل و حمل کی اجازت ہو گی تاہم ایمرجنسی کی صورت میں ایک گاڑی میں تین افراد سوار ہو سکتے ہیں۔
    • پیٹرول پمپس بھی کھلے رہیں گے تاہم لوگوں کو مناسب فاصلے پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    • نماز جنازہ کے لیے اجازت ہو گی مگر حکومت اور محکمہ صحت کی ہدایات پر عمل کرنا ہو گا اور متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او کو اطلاع دینا ہو گی۔