کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت
پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔
لائیو کوریج
عمران خان: ’ٹرمپ سے اپیل کرتا ہوں کے ایران سے پابندیاں ہٹا دیں‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر صدر ڈانلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران سے انسانی بنیادوں پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں ہٹائی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے لوگوں کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنے ہے اور ان پابندیوں کے باعث ایران کو کووڈ 19 کے خلاف جنگ نہیں لڑ پا رہا۔
’پاکستان سے کوئی کلورو کوئن برآمد نہیں کر سکتا‘
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائےصحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے ڈاکٹروں کا ایک پینل حکومت کو ہدایت فراہم کرے گا کہ آیا کورونا وائرس کے مریض کلورو کوئن کے استعمال سے اس کا علاج کر سکتے ہیں۔
’پاکستان سے کوئی بھی کلورو کوئن برآمد نہیں کر سکتا۔ اس کا تمام سٹاک درج کر لیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کا کتنا خام مواد موجود ہے۔ حکومت کی اس پر نظر ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب کوئی نسخے کے بغیر یہ دوا نہیں خرید سکے گا۔
بریکنگ, ’جب ہم سختی کریں گے تو مسئلے مسائل ہوں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم سختی کریں گے تو مسئلے مسائل ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر عوام نے ساتھ نہ دیا تو ہماری ساری محنت رائیگاں جائے گی۔
’اس میں آپ سب کی بہتری ہے‘
انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی علامات ہیں
انھوں نے کہا کہ اگر ہسپتال جانا ہے تو گاڑی میں صرف تین لوگوں کی اجازت ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ جب تک کسی متاثرہ شخص کے قریب نہ ہوں تو آپ کو یہ مرض نہیں لگے گا۔
انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہم اپنی طبی سہولیات مزید بہتر کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ کا پہلا علاج گھر میں، دوسرا علاج آئسولیشن سینٹر میں اور اگر زیادہ خراب طبیعت ہو گی تو ہسپتال میں ہو گا‘
انھوں نے بتایا کہ جس کا بجلی کا بل چار ہزار روپے تک ہے تو اس مہینے نہیں لیں گے اور دس مہینوں میں یہ بل وصول کیا جائے گا۔
گیس کا بل اگر دو ہزار یا اس سے کم کا ہے تو نہیں لیا جائے گا اور 10 مہینوں میں قسطوں میں وصول ہو گا۔
اگر کوئی بل ادا نہیں کر پاتا تو ان کی سہولیات یا کنکشن کاٹا نہیں جائے گا۔
کرایہ داروں سے میں درخواست کرتا ہوں کہ اپنے کرایہ داروں کا کرایہ ایک مہینے کے لیے مؤخر کیا جائے۔
وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ افواہیں بہت اڑیں گی ہمارا ایک فیس بک اور ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ ہو گا جس پر تمام معلومات رکھی جائیں گی۔
بریکنگ, سندھ میں آج رات سے لاک ڈاؤن, سندھ میں فوج بھی طلب کرلی گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے آج رات 12 بجے سے سندھ بھر میں 15 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں، علما اور دوستوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران تمام دفاتر، اور مصروف مقامات بند کر دیے جائیں گے جبکہ کسی خاص ضرورت کے بغیر کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ اس دوران ہم مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کو روکیں گے اور اگر کوئی شخص کسی کام سے باہر نکلتا ہے تو اس کے پاس شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔
انھوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور اور ایک اور شخص کی اجازت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ تمام ضروری سروسز اور کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی جاری رہے گی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ہسپتال جانا ہے تو گاڑی میں صرف تین لوگوں کی اجازت ہو گی۔
بریکنگ, عمران خان: میڈیا کا افراتفری سے بچانے میں اہم کردار ہے
،تصویر کا ذریعہPTV
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں افراتفری سے بچانے کے لیے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ عقل اور حکمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس مشکل سے جلد باہر نکل آئیں گے۔
بریکنگ, عمران خان: کاروبار اور انڈسٹری سے متعلق اقدامات کا اعلان پرسوں کروں گا
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں سب سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غذائی قلت نہیں آنے دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل اس وائرس کو قابو میں لانے سے متعلق سوچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ جس طرح چین نے کیا ہے، ہم اس طرح مشکل سے واپس نکل آئیں گے۔
بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان: صیحح طرح احتیاط کریں
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے اپنی قوم کو 2005 کے زلزے میں دیکھا ہوا ہے اور جب 2010 میں سیلاب آیا ہے تو میں نے انھیں دیکھا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی قوم نے مشکل وقت کا مل کر مقابلہ کیا ہے۔
بریکنگ, کورونا وائرس: لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین نے لاک ڈاؤن نے کیا تو وہ دنیا کا دوسرا بڑا امیر ملک ہے۔ انھوں نے لوگوں کو خود قرنطینہ میں جانے کا مشورہ دیا ہے۔ عقل اور حکمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب ہوتا ہے کرفیو لگانا۔
بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان: پاکستان میں اٹلی جیسے حالات نہیں
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن کی بحث چلی ہوئی ہے۔ لیکن اگر ایسا کیا تو سب محنت مزدوری کرنے والے گھروں میں بند ہو جائیں گے۔
تبلیغی جماعت اور امام مسجد کی لاپرواہی پر ڈی سی کا ٹویٹ
ڈپنی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ٹوئٹر پر تبلیغی جماعت اور مسجد امام کے انتہائی غیر زمہ دارانہ رویے اور لا پرواہی کا زکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ان کے ایک ساتھی میں کورونا کی علامات واضح ہیں اور وہ اس کے باوجود اسے ادھر ادھر گھماتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے صفائی کر دی گئی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’مالکان کرایہ داروں کے کرائے معاف کریں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے تمام گھروں میں 15 دنوں کا کھانا پہنچایا جائے اور ایسے لوگ جن لوگوں کی آمدنی 25 ہزار سے کم ہے، یہ کام حکومت کے اختیار میں ہے کہ ان کے بجلی اور گیس کا بل معاف کیا جائے۔
انھوں نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ گھروں کے مالکان کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اپنے کرایہ داروں کے کرائے معاف کر دیں۔
انھوں نے بتایا کہ میرے علم میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اس سے پہلے بھی ہماری اس تجویز پر عمل کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال میں موجود عملے کو حفاظتی سامان ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعلٰیٰ سندھ کی 5000 تک بجلی بل دس ماہ میں وصول کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو کیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کو ہدایت، جن لوگوں کا بل 5000 یا 2000 روپے تک ہے اُن سے مہینہ کا بل اگلے دس ماہ تک قسطوں میں لیں۔ یہ ہدایت سوئی سائوتھرن گیس کے لیے بھی ہے۔
مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ اگلے دو مہینوں میں کوئی بجلی یا گیس کنکشن کاٹے نہیں جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ
یہ گھروں یا چھوٹی دکانوں کے مالکان کو بھی ہدایت ہے کہ وہ کرائے کی وصولی میں رعایت دیں۔ وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کو درخواست کی ہے کہ وہ بھی پاور سپلائی اور گیس کمپنیوں کو گیس، فرنس آئل کی سپلائی جاری رکھے۔
وزیر اعلی پنجاب: صوبے میں فوج طلب کر لی
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبے میں فوج سے مدد طلب کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس دوران کسی قسم کی کوئی غذائی قلت نہیں ہوگی، انتظامیہ دستیاب رہے گی۔
کورونا وائرس: وزیر اعظم کے معاون کی ڈاکٹرز کو آلات فراہم کرنے کی یقین دہانی, پمز میں طبی سہولیات کا فقدان
،تصویر کا ذریعہPID
اتوار کو وزیر اعظم عمران خان کے صحت پر معاون خصوصی ڈاکٹر ظفرمرزا کی
زیر صدارت میں پمز ہسپتال میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس ہوا۔
ڈاکٹرز کی شکایات پر انھوں نے کہا کہ ہسپتال کی
انتظامیہ حفاظتی ماسک اور ضروری آلات کی لسٹفوری فراہم کرے، حفاظتی آلات کی فراہمی وافر مقدار میں یقینی بنارھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پمز
ہسپتال میں کرونا وائرس کے حوالے سے بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ھے۔ انھوں
نے یقین دہانی کرائی کہ 70 بیڈزکو مزیز اپ گریڈ کیا جارھے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ این ڈی ایم کے کے ساتھ مل
کر ایک مربوط سپلائی چین کا سسٹم بنا لیا ھے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا
تھا کہ پمز ہسپتال اسلام آباد کا سب سے بڑا ھسپتال ھے، سیفٹی آف ہیلتھ ورکرز حکومت
کی اولین ترجیح ھے اس سلسلے میں تمام تر ضروری اقدامات کر رھے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے
کہ فیڈرل جنرل ہسپتال چک شہزاد کو بھی کرونا وائرس کے حوالے سے مخصوص کیا جارہا ھے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسلام
آباد میں شہر کے مختلف ہسپتالوں کے نمائندوں جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف
شامل ہیں کی طرف سے کی گئی ایک پریس کانفرنس کا کلپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل
ہوا تھا جس میں ڈاکٹر اسفند یار خان خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے
خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔
اس ویڈیو میں انھوں نے انکشاف
کیا کہ اسلام آباد میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سہولیات ناکافی ہیں اور پمز ہسپتال
میں صرف 10 بستروں پر محیط آئسولیشن وارڈ ہے، جس میں صرف دو وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور
آئسولیشن وارڈ کے ہسپتال میں ہونے کے باعث وہاں آنے والے دیگر مریضوں کو اس سے خطرہ
ہے۔
ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن
آف پاکستان کے چیئرمین اسفند یار خان نے بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات
کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا
کہ یہ پریس کانفرنس دراصل ایک گھنٹے کی تھی جس میں سے صرف چھ منٹ کا ویڈیو کلپ عام
ہوا ہے۔
’ہمارا مقصد حکومت پر تنقید
کرنا نہیں بلکہ ان کی تصحیح کرنا ہے۔ اگر حکومت چاہے تو ہمیں تفتان بارڈر بھیج دے اور
ہم وہاں پر کام کر لیں گے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس
وقت ہسپتالوں کی او پی ڈی کو بند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا
کہ پمز ہسپتال میں ایک وقت میں 10 ہزار کے قریب مریض آتے ہیں اور ان سب کی سکریننگ
نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سوشل میڈیا پر پاکستان بھر سے لوگ لفظ ’کووڈیئٹ‘ (#COVIDIOT) استعمال کرتے ہوئے پوسٹ کر رہے ہیں مگر اس کا مطلب کیا ہے؟
ہم یہ تو جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کے ہونے والی بیماری کا نام کووڈ 19 رکھا گیا ہے اور یہ اصطلاح اب عام ہوچکی ہے۔
،تصویر کا ذریعہurbandictionary.com
اسی طرح کووڈیئٹ کا لفظ کووڈ 19 سے ہی اخذ کردہ ہے جسے ایسے لوگوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو صحت سے متعلق حفاظتی تنبیہ کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اور اپنی زندگی اُسی طرز پر گزارتے ہیں جیسے وہ پہلے گزار رہے تھے۔
اس ہیش ٹیگ کا مقصد بظاہر ان لوگوں کی توجہ حاصل کر کے انھیں کورونا وائرس کے خدشات سنجیدگی سے لینے پر مجبور کرنا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
تاہم اس کا ایک دوسرا مطلب بھی لیا جا رہا ہے۔ کوڈیئٹ کی اصطلاح ایسے افراد کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہے جو مصیبت کی اس گھڑی میں منافع خوری و ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں۔
اسی طرح اسے اس تناظر میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ: لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کے پاس لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔ میں آپ کی صحت اور زندگی کی خاطر ہر وہ فیصلہ کروں گا جو ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وہ ایک اہم اعلان آج شام کو کریں گے۔ ’یہ اعلان عوام کے حق میں کروں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سخت فیصلے اس لیے کرنے جارہے ہیں کہ عوام کو کورونا وائرس سے بچا سکیں؛ مجھے آپ کی صحت اور زندگی عزیز ہے۔ ’میں چاہتا ہوں تمام یوٹیلیٹی سروسز، پانی، بجلی، گیس، نکاسی آب اور دیگر سہولیات بلا تعطل شہریوں کوملتی رہیں۔
بریکنگ, خیبر پختونخواہ: کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی, پاکستان میں کورونا وائرس سے کل اموات چار ہو گئی ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کورونا وائرس سے صوبے میں ایک خاتون بھی ہلاک ہوئی ہیں، جس سے صوبے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔ صوبے میں 31 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جن میں سے پانچ افراد ایسے بھی شامل ہیں جو مردان میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارہ چنار سے تعلق رکھنے والی 65 برس کی خاتون کا ان کی ہلاکت کے بعد ٹیسٹ مثبت آیا۔
مشیر اطلاعات کے مطابق پشاور میں جو دو کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے ایک شخص کی عمر 39 جبکہ دوسرے کی 46 سال ہے، ان دونوں کی ٹریول ہسٹری ہے۔
کووڈ-19 کے خلاف پاکستان میں کیا اقدامات اٹھائے جارہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی حکومت نے کورونا وائرس خدشات کے پیشِ نظر بین الاقوامی پروازیں دو ہفتے کے لیے معطل کر دی ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو پہلے ہی پانچ اپریل تک بند کیا جا چکا ہے جبکہ ملک بھر میں یکم جون تک تمام امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
صوبہ سندھ کے اقدامات
کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ نے فوج کو طلب کرنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو درخواست کی ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط کے مطابق ’صوبے میں کووڈ-19 کی صورت حال کے پیش نظر صوبہ سندھ کو سول اختیارات میں مدد کے لیے آئین کی دفعہ 245 کے تحت مسلح افواج کی خدمات کی ضرورت ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’پاکستان کو لاک ڈاؤن کی جانب بڑھنا چاہیے۔ ہر گزرتا گھنٹہ، ہر دن اس وبا سے نمٹنے میں مزید مشکلات پیدا کر دے گا۔ ہمیں یہ بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا ہم پہلے ہی تاخیر کر چکے ہیں۔ ہم فیصلہ کن اقدامات اٹھانا ہو گے تاکہ ہم اس بحران سے نمٹ سکیں۔
بلوچستان میں فوج طلب
حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے کے بڑے شہروں میں شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کو تین ہفتوں کے لیے بند رکھنے کے فیصلہ پر کوئٹہ میں زیادہ عملدرآمد نظر نہیں آیا۔ بلوچستان حکومت نے بھی صوبے میں فوج طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایکشن ان ایڈ آف پاور قانون کے تحت فوج سول اداروں کی مدد کے لیے طلب کی گئی ہے۔
پنجاب میں شاپنگ مالز اور سیاحتی مقامات بند
پنجاب حکومت نے دو دن کے لیے صوبے میں تمام شاپنگ مالز اور سیاحتی مقامات کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر صوبے میں تمام شاپنگ مالز اور تمام سیاحتی مقامات کو منگل کی صبح 9 بجے تک مکمل بند کر رہے ہیں۔ تاہم میڈیکل سٹورز اور گراسری وغیرہ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام سے درخواست ہے کہ وہ گھروں میں رہیں۔ عثمان بزدار نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں شہریوں کو آئندہ دو روز تک اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
خیبر پختونخوا میں تین روز کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں میں اتوار سے تین روز کے لیے جزوی لاک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے تحت صوبے بھر میں ہوٹلز، شاپنگ مالز اور بڑے تجارتی مراکز کو بند رکھا جائے گا۔ جبکہ بین الاضلاع آمدورفت پر بھی جزوی پابندی لگائی گئی ہے۔
اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ
وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ، شاپنگ مالز، ریستوران رات دس بجے بند کرنے کا حکم
وفاقی دارالحکومت انتظامیہ نے 15 دنوں کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شہر کی تمام مارکیٹیں ، شاپنگ مالز اور رستوران رات 10 بجے تک بند کر دئیے جائیں گے۔
شہر میں صرف میڈیکل سٹورز، کریانہ سٹورز، دودھ دہی کی دکانیں وغیرہ کھلی رہیں گیں۔
پاکستان کورونا وائرس سے کیسے متاثر ہو رہا ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان
میں اب تک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 646 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سنیچر کے روز حکومت نے کورونا وائرس
خدشات کے پیش نظر بین الاقوامی پروازیں دو ہفتے کے لیے معطل کر دی ہیں۔
جمعے
کے روز کراچی میں اس سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں اس
مرض سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی تھی۔ اس وائرس سے متاثرہ پانچ افراد صحت یاب
بھی ہو چکے ہیں۔
ادھر عالمی
بینک اور ایشیائی بینک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے لیے بالترتیب
35 کروڑ اور 23 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
سندھ اب تک اس کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور اب تک کل 292 افراد میں اس کی تشخیص ہوئی ہے۔ صوبے میں اب تک ایک شخص ہلاک ہوا
ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق کراچی
میں کورونا وائرس کے 105 مریض جبکہ سکھر میں موجود ایران سے آنے والے187 افراد میں
وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
صوبہ
بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 104 بنتی ہے۔
صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ
عثمان بزدار کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے متاثریں کی تعداد 152 ہو گئی ہے۔
خیبر
پختونخوا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ دو اموات ہوئی ہیں جبکہ 31 افراد میں اس
وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اسلام
آباد میں 11 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ گلگت بلتستان میں کورونا
متاثرین کی تعداد 55 جبکہ کشمیر میں ایک بنتی ہے۔