کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت
پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, کراچی اور سکھر کے ہوائی اڈے 24 مارچ سے بند
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ سندھ میں اتوار کی شب سے 15 دن کے لیے لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سکھر اور کراچی کے ہوائی اڈے اندرونِ ملک پروازوں کے لیے بھی 24 مارچ سے چار اپریل تک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان ملک میں بین الاقوامی فضائی آپریشن پہلے ہی دو ہفتوں کے لیے معطل کر چکا ہے۔
بریکنگ, پنجاب میں 73، سندھ میں 60 نئے مریض، پاکستان میں متاثرین کی تعداد 799
پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے علاوہ گلگت بلتستان میں اتوار کو کورونا وائرس کے 153 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 799 ہو گئی ہے۔
اتوار کو سب سے زیادہ 73 مریض پنجاب میں سامنے آئے جہاں اب متاثرین کی کل تعداد 225 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کے مطابق مثاثرین میں سے 175 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جو ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ میں موجود ہیں جبکہ ان کے علاوہ لاہور میں 34، گجرات اور گوجرانوالہ میں چار چار، جہلم میں تین، راولپنڈی اور ملتان میں دو، دو جبکہ سرگودھا میں ایک مریض موجود ہے۔
محکمۂ صحت کے مطابق لاہور سے ایک مریض کو ملتان اور ایک کو سرگودھا منتقل کیا گیا ہے اور مصدقہ مریضوں کو دیگر افراد سے الگ آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سندھ میں اتوار کو 60 نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد وہاں مریضوں کی تعداد 352 تک پہنچ گئی ہے
نئے مریضوں میں سے 25 کا تعلق کراچی سے ہے جن میں چار بیرونِ ملک سے واپس آئے تھے جبکہ بقیہ میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔ اس کے علاوہ 34 مریضوں کا تعلق سکھر میں رکھے گئے زائرین سے ہے جبکہ ایک مریض کا تعلق دادو سے ہے۔
کراچی میں متاثرین کی کل تعداد 130 ہو چکی ہے جن میں سے چار صحت یاب اور ایک ہلاک ہوا ہے۔ ان 130 میں سے 83 مریضوں میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔
سکھر کے قرنطینہ میں موجود زائرین میں بھی اب تک 221 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیر قانون اور کورونا کے لیے فوکل پرسن محمد اورنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام تک گلگت بلستان میں کورونا وائرس کے پازئیٹو مریضوں کی تعداد 71 ہوچکی ہے۔
بلوچستان میں بھی اتوار کو چار نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 108 ہو گئی۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 31، اسلام آباد میں 11 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک متاثرہ فرد موجود ہے۔
بریکنگ, سندھ میں لاک ڈاؤن کا آغاز
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے اور کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے سندھ میں اتوار کی شب 12 بجے سے لاک ڈاؤن کے احکامات پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
صوبے میں کورونا کے 333 مریض سامنے آنے اور کراچی میں ایک ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ رات 12 بجے صوبے بھر کو دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا جائے گا۔
اس لاک ڈاؤن کے دورا کسی بھی شخص کو غیر ضروری گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم ضروری کام کے لیے جانے والے شخص کو بھی شناختی کارڈ ساتھ رکھنا ہو گا۔ اس کےعلاوہ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت ہو گی۔
لاک ڈاؤن کے دوران صوبے میں سارے دفاتر بند اور اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔
مراد علی شاہ نے بتایا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور اور ایک شخص کو جانے کی اجازت ہوگی، ضروری چیزیں جیسے کھانے پینے کی فراہمی جاری رہے گی لیکن احتیاطی تدایر اپنانی ہوں گی۔
صوبے میں اس وقت کورونا کے سب سے زیادہ مریض سکھر میں بنائے گئے اس قرنطینہ میں ہیں جہاں ایران سے آنے والے زائرین کو رکھا گیا ہے
تاہم لاک ڈاؤن کی بڑی وجہ صوبائی دارالحکومت کراچی میں اس وائرس کی مقامی منتقلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ کراچی میں اس وائرس کے جو 123 مریض سامنے آئے ان میں سے 77 میں یہ مقامی طور پر منتقل ہوا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, بلوچستان میں کورونا سے پہلی ہلاکت، کل تعداد چھ ہو گئی, پاکستان میں اب تک چھ افراد بشمول ایک ڈاکٹر کورونا سے وفات پا چکے ہیں
بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں کورونا کے زیر علاج مریضوں میں سے پہلا مریض وفات پا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ 65 سالہ مریض کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد تفتان سے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا اور اتوار کو تشویش ناک حالت میں اسے شیخ زید ہسپتال سے فاطمہ جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔
اس ہلاکت کے بعد پاکستان میں کورونا سے متعلقہ ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
ان میں سے تین مریض خیبر پختونخوا اور ایک ایک سندھ اور بلوچستان میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے چھٹے فرد گلگت بلتستان میں کورونا کے متاثرین کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر تھے۔
گلگت میں کورونا کے مریضوں کو بچاتے ہوئے جان دینے والا ڈاکٹر
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر ذوالفقار بخاری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ایک ہزار کے قریب پاکستانی زائرین سعودی عرب، ایران، عراق اور انڈیا میں موجود ہیں جنھیں واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے نجی ٹی وی بول نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے 15 ہزار معتمرین کو واپس لایا گیا جبکہ 500 کے قریب اب بھی وہیں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایران میں ڈھائی سے تین سو، عراق میں 70 کے قریب جبکہ انڈیا میں بھی اتنے ہی زائرین ہیں جو اجمیر گئے تھے۔
سندھ میں لاک ڈاؤن کے دوران کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, پنجاب میں 222 نئے مریض، پاکستان میں کل تعداد 761
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اتوار کو کورونا وائرس کے 115 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 761 ہو گئی ہے۔
اتوار کو سب سے زیادہ 70 مریض پنجاب میں سامنے آئے جہاں اب متاثرین کی کل تعداد 222 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب کے محکمۂ صحت کے مطابق مثاثرین میں سے 153 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جبکہ ان کے علاوہ لاہور میں 36، گوجرانوالہ میں چار، گجرات اور جہلم میں تین، تین، راولپنڈی میں دو جبکہ ملتان میں ایک مریض موجود ہے۔
سندھ میں اتوار کو 41 نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد وہاں مریضوں کی تعداد 333 تک پہنچ گئی ہے۔
نئے مریضوں میں سے 18 کا تعلق کراچی سے ہے جن میں چار بیرونِ ملک سے واپس آئے تھے جبکہ بقیہ میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔ اس کے علاوہ 23 مریضوں کا تعلق سکھر میں رکھے گئے زائرین سے ہے۔
بلوچستان میں بھی اتوار کو چار نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 108 ہو گئی۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا 31، گلگت بلتستان 55، اسلام آباد میں 11 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک متاثرہ افراد موجود ہیں۔
وزیر اعلی سندھ کا صوبے میں آج رات سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ
سندھ کے
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اتوار کی رات 12 بجے سے سندھ بھر میں 15 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن
کا اعلان کیا ہے۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ اس لاک ڈاؤن کے دورا کسی کو غیر ضروری گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا جائے گا کہ اگر کوئی ضرورت سے باہر نکلے تو اس کو اجازت ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران سارے دفاتر، اجتماع گاہیں بند ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 'جب ہم سختی کریں گے تو مسائل پیدا ہوں گے، اگر عوام نے ساتھ نہیں دیا تو ہماری پوری محنت رائیگاں جائے گی، اس میں سب کی بہتری ہے کہ گھر سے نہ نکلیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو ہسپتال جانا ہے تو اسے اجازت ہوگی تاکہ بیماروں کو ہسپتال منتقل کیا جاسکے
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور اور ایک شخص کو جانے کی اجازت ہوگی، ضروری چیزیں جیسے کھانے پینے کی فراہمی جاری رہے گی لیکن احتیاطی تدایر اپنانی ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت اپنی طبی سہولیات بہتر بنائے گی تاہم پہلا علاج گھر میں، دوسرا علاج آئسولیشن سینٹر میں اور زیادہ طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال میں علاج ہوگا۔
مراد علی شاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبے میں جس کا بجلی کا بل اگر چار ہزار ہے تو اس سے رواں مہینے بل نہیں لیں گے اور یہ بل 10 مہینوں میں لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سوئی گیس کا دو ہزار تک کا بل نہیں لے گی اور پھر اسے بھی آئندہ 10 ماہ میں قسطوں میں لیا جائے گا اور اگر کوئی بل ادا نہیں کر پاتا تو ان کنکشن بھی نہیں کاٹا جائے گا۔
عمران خان: صدر ٹرمپ سے گزارش ہے ایران پر سے پابندیاں ہٹائیں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ کہا کہ: ’میں انسانی بنیادوں پر صدر ٹرمپ سے ملتمس ہوں کہ کورونا کےانجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں۔
’ایرانی عوام کو ناقابل بیان مصائب کاسامنا ہے کیونکہ بندشیں کورونا کیخلاف ایران کی مدافعتی کاوشوں کو نہایت منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں۔
’اس وباء سےنمٹنے کے لیے انسانیت کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔‘
گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن جبکہ ’ایک ڈاکٹر وینٹی لیٹر پر‘, محمد زبیر خان، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلتستان میں اتوار رات بارہ بجے لاک ڈاون کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیر قانون اور کورونا کے لیے فوکل پرسن محمد اورنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام تک گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مثبت مریضوں کی تعداد 71 ہوچکی ہے جس میں بڑی تعداد میں مریض مقامی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
’حکومت کے پاس لاک ڈاون کے ذریعے وائرس روکنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے رینجرز، لیویز اور فوج کو مدد کے لیے خط لکھ دیا۔ لاک ڈاون کے ساتھ ساتھ اضلاع کے درمیان چلنے والی ٹریفک بھی بند رہے گئی۔
پورے گلگت بلتستان میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ لوگوں سے گزارش کی گئی ہے کہ گھروں میں رہیں اور غیر ضروری باہر نہ نکلیں ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سپرے کے لیے آرڈر دے دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان بھی منگوایا گیا ہے اور ٹیسٹنگ کٹس کی بھی ڈیمانڈ کی گئی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹ ہو سکیں۔
محمد اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ ’صورتحال توقعات کے برعکس زیادہ خراب ہوئی ہے جس کے بعد انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔‘
گلگت بلتستان میں ایک ڈاکٹر کے حوالے سے افواہیں سنی گئی تھیں کہ وہ کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ محمد اورنگ زیب نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ڈاکٹر وینٹی لیٹر پر ہیں۔ وہ قومی ہیرو ہیں۔ ان کا خاندان اور ڈاکٹرز رابطے میں ہیں۔‘
بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس کے 41 نئے مریض، کل تعداد 687
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار
کے روز پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے 41 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں
متاثرہ افراد کی تعداد 687 ہو گئی ہے۔
پاکستان
کا صوبے سندھ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے،پاکستان میں وفاقی اور صوبائی اعداد و شمار کے مطابق
سندھ میں 333، پنجاب 152،
بلوچستان 104، خیبرپختونخواہ 31،
گلگت بلتستان 55، اسلام آباد میں 11 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک متاثرہ افراد موجود
ہیں۔
کوئٹہ میں جزوی لاک ڈاﺅن کا دوسرا روز
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دوسرے روز جزوی لاک ڈاﺅن رہا کیونکہ شہر کے مرکزی علاقوں میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پہلے روز کے مقابلے لاک ڈاﺅن شاید اس لیے مؤثر تھا کہ تاجروں کی تنظیم مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے کاروباری مراکز کو بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اگرچہ ریستوراں کی بندش لاک ڈاﺅن کے فیصلے میں شامل نہیں تھا تاہم شہر کے مرکزی علاقوں میں زیادہ تر بند رہے۔
شہر کے مرکزی علاقوں میں لوگوں کا رش اور گاڑیاں بھی عام دنوں کی نسبت کم تھیں۔ تاہم شہر کے نواحی علاقوں میں دکانیں اور ہوٹل کھلے رہے۔
انجمن تاجران کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اللہ داد ترین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ لوگوں میں شعور اجاگر کرے تاکہ وہ گھروں میں رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ گھروں میں نہیں رہیں گے تو تاجر اپنا کاروبار بند کر کے کروڑوں روپے کا جو نقصان کر رہے ہیں اس کا فائدہ نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ تاجروں کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کے ازالے کے لیے حکومت یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسوں میں ان کو ریلیف فراہم کرے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ حکومت کا کورونا وائرس کی معلومات کے لیے نیا ٹوئٹر اکاؤنٹ
سندھ حکومت نے کورونا وائرس سے متعلق کسی بھی سرکاری تصدیق یا اطلاع کے لیے نیا ٹوئٹر اکاؤنٹ جاری کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’ایئرپورٹ کی طرف مت جائیں‘
پاکستان میں قومی سلامتی کے مشیرمعید یوسف نے کہا ہے کہ 4 اپریل تک تمام پروازیں معطل رہیں گی چنانچہ کوئی بھی مسافر ایئرپورٹ کی طرف مت جائے اور اپنے سفر کا آغاز مت کرے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ، ترکی اور متحدہ عرب امارات میں کچھ پاکستانی مسافر موجود ہیں۔ ’تمام ایئرلائنس کے ساتھ حکومت پاکستان رابطے میں ہے اور جتنے بھی مسافر ہیں ان کی مدد کی جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے والے مسافروں کو ملک آنے دیا جائے گا۔ انھوں نے زور دیا کہ پاکستان سے باہر موجود لوگ ان ممالک کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی پیروی کریں۔
’پاکستان میں کورونا وائرس کے 646 تصدیق شدہ کیسز‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا ہے کہ: