خیبر پختونخوا سے آنے والا قافلہ جلسہ گاہ کی جانب گامزن



اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔




مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ’آزادی مارچ‘ گوجر خان سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک تنازع کا شکار ہو گیا۔
اس مارچ میں شامل حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبل نے اعلان کیا کہ لیاقت پور میں ٹرین حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے ’آزادی مارچ‘ کے تحت جمعرات کی رات اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ جمعے کے روز تک ملتوی کیا جا رہا ہے۔
اس بیان کے فوراً بعد جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے ان اطلاعات کو ’افواہیں‘ قرار دے کر مسترد کیا اور کہا کہ مارچ اور جلسہ اپنے پروگرام کے مطابق ہو گا۔
تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ مارچ کے شرکا جمعرات کی رات اسلام آباد پہنچیں گے اور جمعے کی دوپہر طے شدہ پروگرام کے تحت جلسہ اسلام آباد میں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’نہ کانٹے دار تاریں نہ کنٹینرز ہمیں روک سکتے ہیں، چھوٹے چھوٹے راستے بھی بند ہیں، اس طرح تصادم بھی ہو سکتا ہے۔
’ہم نے ان سے کہا کہ اگر ہم پچھلے تین چار دن سے سہی چل رہیں تو اب ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAAJ TV
اسلام آباد پہنچتے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن ہی جلسہ ہو گا، ہر ایک کی اپنی مرضی ہے، جو فیصلے ایک مرتبہ ہو جاتے ہیں وہ تبدیل نہیں ہوتے۔‘
ان کا یہ بیان ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کے اس بیان کے پسِ منظر میں ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ رحیم یار خان کے قریب ہونے والے ٹرین حادثے کے باعث پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اس مارچ سے کل جمعے کی نماز کے بعد خطاب کریں گے۔
اسفند یار ولی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا کسی سے واسطہ نہیں، نہ ہی کوئی گلہ ہے۔ ہم خود آ پہنچے ہیں جب ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کروا لیں گے اور اپنی تقریر کر لیں گے تو ہم واپس چلے جائیں گے۔
’حزبِ اختلاف میں کوئی دراڑ نہیں ہے۔ تحریکوں اور جلسوں میں یہی ہوتا ہے کوئی آگے اور کوئی پیچھے ہوتا ہے۔‘






حزب اختلاف کی جانب سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراونڈ میں مختلف جماعتوں کے کیمپس لگ چکے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کیمپ میں پارٹی کارکن پشتون روایتی رقص اتن بھی کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا سے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے آنے والا عوامی نیشنل پارٹی کا قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔
اس قافلے کی قیادت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار ولی کر رہے ہیں۔ قافلہ اس وقت اسلام آباد کی شاہراہ ’کشمیر ہائی وے‘ سے گزر رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اے این پی پنڈال میں پہنچ کر پروگرام کے مطابق جلسہ کرے گی اور اسفندیار ولی خان طے کردہ پروگرام کے مطابق جلسے سے خطاب کریں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے جلسہ موخر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور مسلم لیگ ن نے بغیر مشاورت کے اس کا اعلان کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہANP

،تصویر کا ذریعہANP
عوامی نیشنل پارٹی کے قافلے کے شرکا اسلام آباد میں آذادی مارچ میں شرکت کے لیے ضلع نوشہرہ کے قصبے رشاکائی سے گزر رہے ہیں۔




،تصویر کا ذریعہبی بی سی

انتخابات کی نگرانی کرنے والے ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک سے وابستہ مدثر رضوی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان یہ نہیں معلوم ہونے دیتے کہ اگر انھیں اقتدار مل گیا تو وہ کس طرح کا نظام لے کر آنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے خیال میں جے یو آئی کے سربراہ کی تقاریر میں کسی نظام سے متعلق کچھ سننے کو نہیں ملتا۔
تاہم وہ دھرنوں، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کے قائل نہیں رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مولانا فصل الرحمان کی قیادت میں منعقد ہونے والے اس آزادی مارچ میں جہاں ایک طرف دسیوں ہزار لوگ شرکت کر ر ہے ہیں وہیں اس میں خواتین کی تقریباً مکمل غیر موجودگی بھی ایک حقیقت ہے۔
پڑھیے اس حوالے سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی چند کارکنان کیا کہتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہS.S. Mirza
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں حکومت نے کنٹینروں کی صورت میں آہنی دیواریں کھڑی کر دی ہیں تاکہ مولانا فضل الرحمان کی زیر قیادت اسلام آباد کی جانب گامزن مارچ کے شرکا کو مخصوص علاقوں تک محدود کیا جا سکے۔
یہ آہنی دیواریں وہ کنٹینر ہیں جو ٹرانسپورٹروں سے مبینہ طور پر جبراً لیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے لیے کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عوامی نیشنل پارٹی ایک ایسے وقت میں آزادی مارچ میں شرکت کر رہی ہے جب پارٹی کو بظاہر اندرونی اور بیرونی طور پر کئی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
پڑھیے ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی کی تحریر۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حساس مقامات کے قریبی راستوں پر کھڑے کیے گئے کنٹرینرز میں مٹی ڈالی گئی ہے تاکہ لفٹرز کے ذریعے انہیں ہٹایا نہ جا سکے۔
نامہ نگار فرحت جاوید کو پولیس حکام نے بتایا کہ شہر میں صرف ریڈ زون سیل کیا جائے گا اور شہر کے باقی راستوں پر صرف کنٹینر رکھے جائیں گے۔
تاہم اس کے برعکس جمعرات کی صبح سے ہی مری روڈ پر فیض آباد کے مقام پر کنٹینرز رکھ کر راستہ بلاک کردیا گیا۔
جبکہ سیکٹر آئی ایٹ میں آئی جے پی روڈ کے جانب سے داخل ہونے والے راستے کو بھی بند کردیا گیا۔ ساتھ ہی اسلام آباد ایکسپریس وے پر زیرو پوائنٹ انٹرچینج کے نزدیک بھی کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔
تاہم اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق: ’شہر میں پہنچنے والے مظاہرین نے اگر پہلے سے طے شدہ معاہدے یا این او سی کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف فورس کا استعمال کیا جائے گا۔‘
'ریڈ زون کی جانب آنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا جائے گا۔‘
انتظامیہ کے ایک اعلی اہلکار کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا کیونکہ یہ طے پا گیا ہے کہ وہ ایک مخصوص مقام یعنی ایچ نائن میں رکیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا ’آزادی مارچ‘ کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کو حزبِ اختلاف کی کتنی حمایت حاصل ہے؟
پڑھیے ہمارے ساتھی عمر دراز ننگیانہ کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولیس کے مطابق کسی بھی احتجاج، مظاہرے یا دھرنے کے موقع پر سب سے پہلے اس مقام کا تعین کیا جاتا ہے جہاں مظاہرین جمع ہوں گے، اس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لی جاتی ہے، اس کے ساتھ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اس علاقے کے شہریوں، ان کی املاک اور مظاہرین کی بھی جان و مال کی مکمل حفاظت کی جائے۔
'اگر مظاہرین معاہدے کے خلاف شہریوں کے جان و مال یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس صورت میں ان کے خلاف ایک متناسب پولیس فورس کا استعمال لازمی ہو جاتا ہے۔
'اس بار امید ہے کہ سیاسی روابط ہونے کی وجہ سے حالات کشیدہ نہیں ہوں گے، سنہ 2014 کے دھرنے میں سیاسی روابط کا فقدان اور ایک واضح مقصد کے تحت مظاہرین اسلام آباد پہنچے تھے اس لیے انھیں عوامی سطح پر کسی حد تک سپورٹ بھی حاصل تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کنٹینر رکھ مظاہرین کو روکنے کی روایت قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مقبول ہے تاہم مقامی شہری تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں کہ آخر ان کنٹینرز سے کیا فائدہ ہوتا ہے۔
ہماری نمائندہ فرحت جاوید نے اس سوال کا جواب لینے کے لیے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ اہلکار سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس فورس کے استعمال کے موقع پر انتظامیہ کو وقت مل جاتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کنٹینرز مکمل طور پر مظاہرین کو نہیں روک سکتے، ان کا استعمال تب ہی کارآمد ہے جب مظاہرین کو کسی ایک پوائنٹ پر روکنا ہو۔‘
اس حوالے سے سنہ 2015 میں اٹک پُل پر اس وقت کے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کو روکا جانا کنٹینرز کی کامیابی کے طور پر گنوائی جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا ’کنٹینرز کی وجہ سے پولیس کو اس وقت ’کور‘ یعنی اوٹ ملی جب شیلنگ کرنی تھی۔ اس لیے کنٹینررز کا فائدہ ایک ریڈ سپاٹ پر روکنے کے لیے بہت موثر ہے۔‘
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کے شرکا کے پہنچنے سے قبل چند شاہراہیں جزوی جبکہ بعض مکمل طور پر بند ہیں۔
عام شہریوں کو اس وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جانیے ہمارے ساتھی موسیٰ یاوری کی اس ویڈیو میں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہماری نمائندہ فرحت جاوید کے مطابق اسلام آباد میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا دھرنا نہیں ہے اس سے قبل حالیہ دو دہائیوں میں سب سے پہلے سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں 14 سے 17 جنوری کے دوران طاہرالقادری کی قیادت میں اسلام آباد کے بلو ایریا میں دھرنے کا انعقاد کیا گیا۔
اس احتجاج کو لانگ مارچ کا نام دیا گیا اور اس کا مقصد پاکستان میں مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج کرنا تھا، اس احتجاج کا اختتام حکومت اور طاہرالقادری کے درمیان ایک معاہدے سے ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی طرح 2014 میں عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ’آذادی مارچ‘ کیا اور دھرنا دیا۔ ساتھ ہی لاہور میں منہاج القران کے کارکنوں پر پنجاب پولیس کی مبینہ فائرنگ اور ان کی ہلاکت کے خلاف ایک بار پھر طاہر القادری کی قیادت میں بھی لاہور سے ایک اور لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا اور ڈی چوک پر دونوں پارٹیوں کے مظاہرین ساتھ ساتھ نظر آئے۔
عمران خان کا یہ دھرنا 14 اگست سے 17 دسمبر تک جاری رہا اور اس کا اختتام آرمی پبلک سکول، پشاو پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد ختم ہوا۔ اس دھرنے کے دوران اس وقت پولیس فورس اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جب مظاہرین نے پارلیمان اور دیگر عمارتوں میں گھسنے کی کوشش کی۔
اس کے علاوہ گذشتہ برس تحریک لبیک پاکستان نے بھی ارکان پارلیمان کے حلف میں مبینہ تبدیلی کے خلاف ایک دھرنا دیا اور کئی دنوں تک اسلام آباد بری طری محصور رہا، اور اس کے اختتام کے لیے پولیس فورس کا استعمال بھی کیا گیا۔ یہ دھرنا ایک متنازعہ معاہدے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔