بلاول بھٹو زرداری جلسہ گاہ پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images


،تصویر کا ذریعہANP media cell

،تصویر کا ذریعہANP media cell




سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی سے آج نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت رخصت نہ ہوئی تو ملک میں افراتفری ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ نہیں ہے کہ ہم سرینڈر ہو جائیں گے، ہم نے حتمی طور پر ان سے استعفیٰ لینا ہے اور لڑ کر لینا ہے آرام سے نہیں لینا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں دو تین روز انھیں اسلام آباد میں بیٹھ کر بھی مہلت دینی چاہیے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ دو تین کے بعد کیا ان کا مسکن ڈی چوک یا شاہراہ دستور ہو گا، مولانا کا کہنا تھا کہ: ’اس کا فیصلہ اب عوام نے کرنا ہو گا، شاید یہ اب میرے اختیار سے بھی باہر نکل گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAAJ TV
ہمارے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس وقت مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آزادی مارچ کا قافلہ اس وقت اسلام آباد ایکسپریس وے پر پی ڈبلیو ڈی سے گزر رہا ہے۔
دوسری جانب ہماری نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی جلسہ گاہ کے قریب ہی موجود ہیں اور وہ مولانا فضل الرحمان کے قافلے کے ساتھ ہی پنڈال میں داخل ہوں گے۔



اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ہمارے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اسلام آباد کے داخلی راستے پر مارچ میں شامل کچھ گاڑیاں مولانا کے کنٹیر سے آگے نکل گئیں۔ تاہم ٹی چوک کے مقام پر یہ گاڑیاں اس راستے پر نکل پڑیں جسے کنٹینرز کے ذریعے بند کیا گیا تھا۔
اس وجہ سے کچھ دیر کے لیے انتظامیہ گھبراہٹ کا شکار ہوئی تاہم مرکزی کنٹینرز سے واضح اعلانات کے بعد یہ گاڑیاں واپس آ گئیں اور اب ایک مرتبہ پھر یہ قافلہ جلسہ گاہ کی جانب گامزن ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آزادی مارچ کا قافلہ روات پہنچ چکا ہے۔
ہمارے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس موقع پر مولانا فضل الرحمان مارچ کے شرکا اور مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی استقبالی ٹولیوں سے خطاب کریں گے۔
ان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود ہے۔ اس خطاب کے بعد مولانا فضل الرحمان کا قافلہ جلسہ گاہ کی جانب بڑھے گا۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
پشاور موڑ دھرنا پنڈال کے اطراف میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔
نامہ نگار اعظم خان کے مطابق پی ٹی اے نے کہا ہے کہ مارچ کے شرکا کے لیے مختص جگہ کے اطراف میں چار کلومیٹر کے اندر اندر انٹرنیٹ سروس بند ہے۔
پی ٹی اے نے کہا ہے کہ جی نائن ,جی ایٹ ,ایچ ایٹ اور آئی ایٹ سیکڑز کے زیادہ تر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور دھرنے کے ارد گرد کےعلاقوں میں موبائل فون سروسز بھی بند رہیں گی۔
حکام کے مطابق انٹرنیٹ سروس سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بند کی گئی ہیں۔
قومی وطن پارٹی نے آزادی مارچ جلسے کی منسوخی سے متعلق پھیلائی جانی والی افواہوں کی مذمت کی ہے۔
قومی وطن پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کا قافلہ کچھ ہی دیر میں اسلام آباد پہنچ جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کے مطابق: ’مولانا فضل الرحمان کی درخواست پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 31 اکتوبر کا دن جلسے میں شرکت کیلئے مختص کیا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جیالوں و دیگر سیاسی کارکنان سے مختصر خطاب بھی کریں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

ہماری نامہ نگار سحر بلوچ نے قافلے کے شرکا سے بات کی۔ سوات سے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رکنِ صوبائی اسمبلی رحمت علی کا کہنا تھا کہ:
’ہمارا یہاں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ وطن ہماری ماں کی طرح ہے۔ ہماری عوام کے ساتھ دہشتگردی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کا تو ازالہ نہیں ہوسکتا، لیکن یہاں آنے سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اے این پی اب بھی قائم ہے۔‘

لورالائی سے تعلق رکھنے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن نعمت اللہ جلال زئی کا کہنا تھا کہ: “ہم میں ماضی میں اختلافات ضرور رہے ہیں لیکن اس وقت ہم ایک ساتھ، ایک نکتے پر بات کرنے جمع ہوئے ہیں۔ وہ نکتہ ہے سلیکٹڈ اور پشتون مخالف حکومت کو ہٹانا۔‘

چارسدہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن امجد خان کتوزئی کہتے ہیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پشتون عوام کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی ہیں ان کا کسی طرح ازالہ بھی ہو جائے اور اس حکومت کے خلاف ہمارا احتجاج بھی ریکارڈ ہوجائے۔‘

حزب اختلاف کی جانب سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراونڈ میں آزادی مارچ کے جلسے سے پہلے مختلف جماعتوں کے کیمپس لگ چکے ہیں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کیمپ میں پارٹی کارکن پشتون روایتی رقص اتن بھی کر رہے ہیں۔