بریکنگ, بلاول بھٹو: ’دہشتگردوں کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، سابق صدر کا انٹرویو نہیں چل سکتا‘

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ’عمران خان آپ نے ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی عوام صرف جمہوری نظام مانگتی ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال بھی سٹیج پر موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارچ میں شریک حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے خطاب کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان عصر کی نمار کے بعد مارچ کے شرکا سے خطاب کریں گے۔

افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ہم نے جتنے بندوں کے ساتھ دھرنا کیا تھا آپ اس کے آدھے بھی لے آئے تو میں مستعفی ہو جاؤں گا، تو پھر اب تو اس سے سو گنا زیادہ لوگ آ گئے ہیں اب آپ مستعفی کیوں نہیں ہو رہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’منصفانہ ، غیر جانبدارانہ اور فوج کی مداخلت سے پاک انتخابات منعقد ہونے چاہیں۔‘
قائد حزبِ اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف نے موجودہ حکومت کا موازنہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت سے کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی بدولت تاجر، ڈاکٹر اور طلبا سراپا احتجاج ہیں جبکہ ہمارے دور میں خوشحالی تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پرانا پاکستان نئے پاکستان سے بہت بہتر ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر سیلیکٹڈ وزیرِ اعظم کو پہا لے جائے گا۔‘

قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر انھیں موقع دیا جائے تو وہ مولانا کے ساتھ مل کر اس معیشت کو چھ مہینے میں ٹھیک کر دیں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا ’اگر یہ شخص کچھ اور دیر اس ملک پر قابض رہا تو پھر میرے منہ میں خاک لیکن ’اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔‘

،تصویر کا ذریعہGeo News
شہباز شریف کا شرکا سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ’اگر اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دے تو چھ مہینے میں معیشت ٹھیک کر دیں گے۔‘
شہباز شریف کا آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم سے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہباز شریف کا جلسے کا شرکا سے خطاب میں کہنا تھا کہ: ’عمران خان، تم نے کنٹینر کی سیاست کا آغاز کیا تھا، آج تمہاری سیاست یہاں دفن ہو گی۔‘
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر سندھ راشد سومرو نے مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ڈی چوک تو بہت چھوٹی سی بات ہے، ہم وزیرِ اعظم ہاؤس جائیں گے۔‘
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم پورے پاکستان کو جلسہ گاہ میں تبدیل کر دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمران خان نے گلگت میں جلسہ عام سے جارحانہ خطاب کرتے ہوئے آزادی مارچ میں شریک قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کا میڈیا جلسے کے شرکا سے پوچھے کہ یہ لوگ کس سے آزادی چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ ان میں سے بہت سارے یہ کہیں گے کہ اسلام آباد پر یہودیوں کا قبضہ ہو چکا ہے اور یہ کوئی یہودی سازش ہو رہی ہے۔ فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کا میڈیا فضل الرحمان کو دکھا دکھا کر جتنا خوش ہے ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان انڈیا کا شہری ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا مولانا فضل الرحمان کو دیکھ کر نوجوان یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کا ٹھیکے دار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اسلام کی طرف تو کوئی نہیں آئے گا فضل الرحمان کو دیکھ کر۔ یہ جو لوگ اسلام کے نام پر پیسہ بناتے ہیں، ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے یہاں سوشل میڈیا پر کچھ نہیں چھپتا۔’
انھوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی بھی بلوچستان سے اس میں شرکت کے لیے آتے ہیں جو ان پر تنقید کیا کرتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلاول بھی ان کے ساتھ شامل ہوتا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے ’وہ لبرلی کرپٹ ہے‘
عمران خان نے حزبِ اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو این آر او نہیں ملے گا۔‘
آزادی مارچ میں اب سے کچھ دیر بعد مولانا فضل الرحمان کی امامت میں نماز جمعہ پڑھی جائی گی جس کے بعد مولانا شرکا سے خطاب بھی کریں گے۔
ساتھ ہی قائدِ حزبِ اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف بھی جلسہ گاہ پہنچ چکے ہیں۔


