-
مولانا فضل الرحمان بمقابلہ ڈی جی آئی ایس پی آر
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور اس وقت آمنے سامنے آئے جب جمعے کی شام اپنی تقریر میں ’اداروں‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس تقریر کے ردِ عمل میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا کو فوج پر الزام تراشی کرنے کے بجائے الیکشن میں شفافیت سے متعلق اپنی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا۔
ان کے اس بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ 'انھوں (آصف غفور) نے اپنے بیان سے فوج کو جانبدار بنانے کی کوشش کی ہے، جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
-
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا ردِ عمل
اس حوالے سے وزیرِ دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو نقصان پہنچا تو ذمہ داری اپوزیشن کی ہو گی (اور یہ سب) ان کے گلے پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’اداروں پر اپوزیشن نے تنقید کی اب اپوزیشن ملک دشمنی کی بات نہ کرے، ادارے ہم سب کے ہیں۔‘
-
مرکزی شوریٰ کے اجلاس کا احوال
جمعیت علماء اسلام ف کی مرکزی شوری کے رکن کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعیت علماء اسلام ف کی مرکزی شوریٰ (سنٹرل کمیٹی) کے اجلاس میں شاہراہ کشمیر سے آگے بڑھنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شوریٰ کے کئی ارکان نے اپوزیشن کے بغیر آگے بڑھنے کی مخالفت کی ہے تاہم مرکزی شوریٰ میں طے کیا گیا کہ صورتحال پر غور کے لیئے چار نومبر بروز سوموار دوبارہ اجلاس ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آگے بڑھنے کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا مزید آگے بڑھنے میں تعاون سے انکار تھا۔‘
-
آزادی مارچ پر تجزیہ کاروں کی رائے؟
بی بی سی کی نامہ نگار ہدیٰ اکرام نے اس دھرنے پر نظر رکھنے والی دو سینیئر صحافیوں عاصمہ شیرازی اور منیزے جہانگیر سے بھی گفتگو کی ہے۔
سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ فی الوقت سیاسی حل نکالنے کی جانب کسی کا رجحان نظر نہیں آ رہا، اس وقت اعصابی جنگ لڑی جا رہی ہے کہ پہلے پیچھے کون ہٹے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاست کا جوا کھیلا ہے 'پہلے یہ تاثر تھا کہ شاید وہ اور وزیراعظم عمران خان انفرادی طور پر آمنے سامنے ہیں لیکن اب ایسا نہیں لگ رہا ہے۔‘
صحافی منیزے جہانگیر نے کہا کہ اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے آزادی مارچ کے لیے مولانا فضل الرحمان نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی پوری طرح اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’شاید یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کے جماعتیں اس طرح مارچ میں شریک نہیں ہو سکیں جیسے ہونا چاہتی تھیں۔‘
-
مولانا کا اتوار کا خطاب: ’ہماری فوج متنازع ہوتی جا رہی ہے‘
مولانا فضل الرحمان نے اتوار کے روز اپنے خطاب میں ایک بار پھر اتنخابی دھاندلی پر بات کی اور فوج کو اس عمل سے دور رہنے کا مشورہ بھی دیا۔
انھوں نے کہا کہ ہر الیکشن میں مداخلت کی جاتی ہے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔
فوج کے کردار کو زیر بحث لاتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ کے لیے ہماری فوج، جو ہمارے لیے محترم ہے، وہ ہر حال میں اس بات کو طے کرے گی کہ پاکستان کے عام انتخابات سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔‘