آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت دھرنے جاری

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’آزادی مارچ سے اسرائیل سب سے زیادہ پریشان ہے‘

    فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ تم نے آج تک کیا کیا ہے؟ ہمارے آزادی مارچ سے آج سب سے زیادہ پریشان اسرائیل ہے۔ قوم کی قسمت کے ساتھ مت کھیلیں۔ آنے والا مستقبل عوام کا ہے اور پارلیمان کی حاکمیت تسلیم کرنے کا ہے۔

  2. مولانا فضل الرحمان: یہ مارچ انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو گا

    پارلیمنٹ کی حاکمیت تسلیم کیے بغیر کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

  3. مولانا فضل الرحمان: آج کشمیر کو بیچ دیا گیا

    جب تک کشمیر کمیٹی ہمارے ہاتھ میں تھی کوئی ماں کا لعل اس کی طرف دیکھ نہیں سکا۔ آج کشمیر کو بیچ دیا گیا اور اب آنسو بہا رہے ہیں۔ جو کچھ انڈیا نے کیا وہی آپ کا ایجنڈہ تھا۔

  4. مولانا فضل الرحمان: حکومت نے انڈیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے کشمیر پر انڈیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب آنسو بھی بہائے جارہے ہیں۔

  5. مولانا فضل الرحمان: حکومت نے کشمیر کا سودا کر لیا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے کشمیر کے زریعے بھی استحصال کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے دہشتگردی کو اپنی جنگ قرار دے کر کشمیر کو پس پشت ڈال دیا۔ انھوں نے کہا ہمارا دشمن اندرونی ہے۔ انھوں نے تو کشمیر کا سودا ہی کر لیا۔

  6. مولانا فضل الرحمان: اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خود مختاری ہمارا منشور ہے

    بلوچستان صوبے کو اپنے اختیارات پر کنٹرول نہیں ہے۔ تم نے ان ذخائر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ تھر کا غریب آج بھی بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔ ہمارا منشور صوبائی خود مختاری رہا ہے۔ لوگ توقع نہیں کررہے تھے کہ ایک مذہبی جماعت اور اس کا وژن اتنا ترقی پسند ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اکابرین نے رجعت پسندی نہیں بلکہ ترقی کے لیے آج بھی بہترین راستہ اور مشعل راہ ہے۔

    تحریک انصاف کی حکومت کے دوران پیداواری اضافہ گر کر واپس ڈھائی فیصد رہ گیا۔

  7. ’مولوی کے بارے میں تاثر ہے کہ یہ رجعت پسند ہیں‘

    مولانا کا کہنا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مولوی اور مذہبی جماعتیں رجعت پسند ہوتی ہے، مگر ہمارا منشور ترقی پسند ہے، لوگ اس کی امید نہیں کر رہے تھے۔

  8. ’احتساب نے پاکستان کو جمود کا شکار کر دیا‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جس کو آپ احتساب کہہ رہے ہیں اس نے پاکستان کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ افسران فائلوں پر سائن نہیں کر رہے، کیونکہ ہر شخص خوف محسوس کر رہا ہے۔

  9. ’احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ اب نہیں چلے گا‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آپ (آزادی مارچ کے شرکا) نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمود کو توڑا ہے اور مایوسیوں کو ختم کیا ہے۔ آپ نے دنیا کو باور کروا دیا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ اب نہیں چلے گا۔ آج ہم داخلی اور خارجی طور پر غیر مستحکم ہو چکے ہیں۔ چین، ایران اور دیگر دوست ممالک اب ہم سے ناراض ہیں۔ اس حکومت نے چین کی سرمایہ کاری کو غارت کر دیا۔ آج ہم چین کا اعتماد بھی کھو بیٹھے ہیں اور وہ مزید سرمایہ کاری پر تیار نہیں ہیں۔ آج فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں، اشیائے ضروریہ ناپید ہیں اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بجلی، گیس مہنگی کر دی گئیں ہیں، یہ (پی ٹی آئی) جب سے آئے ہیں ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جتنا وقت ان کو مزید ملے گا ہم مزید نیچے جائیں گے۔

  10. 126 دن کے دھرنے پر اعتراض نہیں تو ہمارے مارچ پر کیوں؟

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کئی روز سے آزادی مارچ اپنے مطالبات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے جاری ہے۔ ڈی چوک میں ہوئے 126 دن کے دھرنے پر اعتراض نہیں تھا تو اس مارچ پر کیوں اعتراض کیا جا رہا ہے۔ ڈی چوک والے اس وقت بھی تنہا تھے اور آج بھی تنہا ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں آج بھی اکٹھی ہیں۔

  11. مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب شروع

    جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرنے کے لیے کنٹینر پر آ گئے ہیں۔

  12. ’مذاکرات کا آغاز وزیرِ اعظم کے استعفی اور نئے انتخابات سے ہو گا‘, محمد زبیر خان، صحافی

    جمعیت علمائے اسلام ف صوبہ پنجاب کے امیر ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مذاکرات کا آغاز ہی وزیر اعظم کے استعفی اور نئے انتخابات سے ہو گا، جن سے ہم لوگ ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے ریاست کے ادارے اپنے آئینی حدود میں رہیں گے اور آئینی اختیارات سے تجاوز نہیں کریں گے۔ایک دفعہ اگر وزیر اعظم استعفی دے دیں تو پھر اس کے بعد ریاست کے اداروں کے کردار کے حوالے سے بات ہو گئی۔

    ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات سے ہم کوئی زیادہ پرامید نہیں ہیں کیونکہ جن وزرا کی ٹیم مذاکرات کر رہی ہے وہ بےاختیار ہے۔ اس کے پاس بات کرنے کا محدود مینڈیٹ ہے جس کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔

  13. حکومتی ٹیم ایک مرتبہ پھر مشاورت کے لیے وزیر اعظم کے پاس, محمد زبیر خان، صحافی

    حکومت اور رہبر کمیٹی کے درمیاں جاری ڈیڈ لاک میں حکومتی ٹیم ایک مرتبہ پھر مشاورت کے لیے وزیر اعظم کے پاس پہنچ چکی ہے۔ ممکنہ طور پر کل بروز بدھ بات چیت کا دوبارہ آغاز ہو گا۔

    مذاکرات میں شریک ایک اہم رہنما نے بتایا ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے رہبر کمیٹی کو مطلع کیا ہے کہ وزیرِ اعظم کے استعفی اور نئے انتخابات کے علاوہ تمام مطالبات کو حکومت کی جانب سے تسلیم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے اور ان مطالبات پر عملی کام کے لیے ٹائم فریم پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی نے حکومتی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے جس کے بعد پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  14. معاملہ وہیں پر رکا ہوا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا, شہزاد ملک نمائندہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان معاملہ وہیں پر ہی رکا ہوا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔

    ان مذاکرات میں رہبر کمیٹی کا پہلا مطالبہ وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا ہے جبکہ حکومتی کمیٹی کا موقف ہے کہ نا تو عمران خان مستعفی ہوں گے اور نا ہی اسلمبلیاں تحلیل کی جائیں گی۔

    رہبر کمیٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت اسی وقت ہو گی جب وزیر اعظم مستعفی ہوں گے۔

    حکومت کی طرف سے قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ وہ رہبر کمیٹی کے ہر قانونی اور جائز مطالبے پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

    فریقین کے درمیان مذاکرات کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ ڈیڈ لاک برقرار رہنے سے بہتر ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی مشاورت سے متعلق مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے شرکا کو آگاہ کریں گے۔

    حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالنے سے متعلق تجویز دیں جو فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

    ملاقات کے بعد پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کی ملاقات بہتری کی طرف ایک اور قدم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اچھی پیش رفت اور مزید مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے حوالے سے جب چیزیں طے ہوں گی تو ایک ایک چیز میڈیا کو بتا دی جائے گی۔

  15. حکومت، اپوزیشن ڈیڈلاک برقرار

    حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے ہم نے کچھ مطالبات سامنے رکھیں ہیں، اکرم درانی اپنی لیڈرشپ سے رائے لے کر ہمیں اس حوالے سے آگاہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مسائل پر ڈیڈلاک ہے اس کی تفصیلات ابھی میڈیا کو نہیں بتا سکتے۔

  16. پرویز خٹک: ہمارا کئی چیزوں پر اتفاق ہے، درمیانی راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں

    حکومتی وفد کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ فریقین کے درمیان کچھ معاملات پر اتفاق ہوا ہے تاہم ابھی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کا اپنا اور ہمارا اپنا موقف ہے تاہم درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے‘۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایسا راستہ نکالنے پر مذاکرات جاری ہیں جس میں اپوزیشن کی عزت بھی برقرار رہے اور حکومتی موقف بھی متاثر نہ ہو‘۔

  17. پرویز خٹک: ڈیڈلاک ختم ہونے تک مذاکرات جاری رہیں گے

  18. اکرم درانی: ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں

    اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا ہے کہ نو جماعتی رہبر کمیٹی کا موقف اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا اور اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے۔

  19. حکومت، اپوزیشن مذاکراتی ٹیموں کی ملاقات ختم، پریس کانفرنس جاری

  20. ’شہریوں کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘

    آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان کا ایس ایس پی ٹریفک کے ہمراہ اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں کا دورہ، ٹریفک کی روانی کا جائزہ لیا۔ اُنھوں نے ایس ایس پی ٹریفک کو ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔

    آئی جی کا کہنا تھا کہ شہریوں کی مشکلات کا ہمیں بخوبی احساس ہے، کچھ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں مشکلات درپیش ہیں۔ تاہم ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔