حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان معاملہ وہیں پر ہی رکا ہوا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔
ان مذاکرات میں رہبر کمیٹی کا پہلا مطالبہ وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا ہے جبکہ حکومتی کمیٹی کا موقف ہے کہ نا تو عمران خان مستعفی ہوں گے اور نا ہی اسلمبلیاں تحلیل کی جائیں گی۔
رہبر کمیٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت اسی وقت ہو گی جب وزیر اعظم مستعفی ہوں گے۔
حکومت کی طرف سے قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ وہ رہبر کمیٹی کے ہر قانونی اور جائز مطالبے پر بات کرنے کو تیار ہیں۔
فریقین کے درمیان مذاکرات کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ ڈیڈ لاک برقرار رہنے سے بہتر ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی مشاورت سے متعلق مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے شرکا کو آگاہ کریں گے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالنے سے متعلق تجویز دیں جو فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
ملاقات کے بعد پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کی ملاقات بہتری کی طرف ایک اور قدم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اچھی پیش رفت اور مزید مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے حوالے سے جب چیزیں طے ہوں گی تو ایک ایک چیز میڈیا کو بتا دی جائے گی۔