آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت دھرنے جاری

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. آزادی مارچ میں دوپہر کے کھانے کی تیاری

    آزادی مارچ کے شرکا مرکزی جلسے سے قبل دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف عمل دکھائی دے رہے ہیں۔

    آزادی مارچ کے شرکا اپنے ساتھ بڑی تعداد میں کھانے پینے کی اشیا اور ضروری سامان لے کر آئے ہیں۔ آزادی مارچ کا مرکزی جلسہ جمعے کے روز بعد از دوپہر شروع ہو گا۔

  2. مولانا عبد الغفور حیدری: خاتون صحافیوں کو کوریج سے روکا نہ جائے

    جمعیت علمائے اسلام (فضل) کے سیکریٹری جنرل اور سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے آزادی مارچ کے رضاکاروں اور انصار الاسلام کے کارکنان سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون صحافیوں کو کوریج سے روکا نہ جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خواتین کا احترام کیا جائے اور یہ کہ خاتون صحافیوں کے آزادی مارچ میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

    اس سے قبل متعدد خاتون صحافیوں کو آزادی مارچ کی کوریج سے روکنے کی اطلاعات آئی ہیں۔

  3. انصار الاسلام کے دستے جلسہ گاہ میں نظم وضبط قائم کرتے ہوئے

    ان تصاویر میں انصار الاسلام کے دستوں کو آزادی مارچ کے لیے مختص کی گئی جلسہ گاہ میں نظم وضبط قائم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کا کام فقط انتظام و انصرام قائم رکھنا ہے۔ یہ تنظیم جمعیت کے ماتحت اور اس کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے حزبِ اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چاروں صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے وفاقی حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ انصار الاسلام ’ایک فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ جو کہ آئین کے آرٹیکل 256 کی خلاف ورزی ہے۔

    تاہم رواں ہفتے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوالات اٹھائے ہیں اور حکام کو تاحکمِ ثانی اس تنظیم کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

  4. اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے یکم نومبر کا ٹریفک پلان جاری

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے پیش نظر سوشل میڈیا پر بھی یکم نومبر کا ٹریفک پلان جاری کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد شہریوں کو محفوظ سفر کے ساتھ ساتھ آزادی مارچ کی وجہ سے بند راستوں پر آگاہ کرنا ہے۔

  5. ’واپس چلی جائیں کیونکہ آپ خاتون ہیں‘

    ایک خاتون صحافی نے ٹوئٹر پر جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کی کوریج سے روکے جانے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں کچھ عرصے سے ملکی سیاست کو کور کر رہی ہو لیکن مجھے کبھی کسی سیاسی جلسے کی کوریج سے نہیں روکا گیا۔ آج صبح جب میں جے یو آئی کے آزادی مارچ کی کوریج کے لیے گئی تو مجھے جے یو آئی ف کے سکیورٹی اہلکاروں نے کہاں آپ واپس چلی جائیں کیونکہ میں خاتون ہوں۔‘

  6. آزادی مارچ کے شرکا ہلکی پھلکی بھوک مٹاتے ہوئے۔۔۔

    بی بی سی کے نامہ نگار موسیٰ یاوری کے مطابق آزادی مارچ کے لیے مختص ایچ ایٹ گراؤنڈ میں جہاں شرکا آج کے ہونے والے جلسے کے لیے بھرپور پرجوش دکھائی دیتے ہیں وہی وہ پنڈال میں موجود مختلف ریڑھی بانوں سے کھانے کی مختلف اشیا خرید کر ہلکی پھلکی بھوک مٹاتے بھی نظر آ رہے ہیں۔

    کہیں کوئی چٹخارے دار پاپڑ خرید رہا ہے تو کہیں کوئی ٹھنڈی ٹھنڈی قلفی کے مزے لیتا دکھائی دیا۔

  7. حامد میر: ’مولانا نے نوٹوں سے بھرا بریف کیس واپس کر دیا تھا‘

    سوشل میڈیا پر آزادی مارچ کے حوالے سے سینیئر اینکر پرسن حامد میر نے اپنے ایک ٹویٹ میں سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کی حکومت کے وزیر قانون جسٹس (ر) سید افضل حیدر کی کتاب کا حوالہ دیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ 2008 میں ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان نے ’ نوٹوں سے بھرا بریف کیس واپس کر دیا‘ تھا۔

  8. آزادی مارچ میں میڈیکل کیمپز بھی موجود

    اسلام آباد کے ایچ ایٹ گراؤنڈ میں آزادی مارچ کے شرکا کے لیے میڈیکل کیمپز بھی لگائے گئے ہیں۔

    یہ میڈیکل کیمپز مختلف نجی فلاحی اداروں کے ساتھ ساتھ آزادی مارچ کے منتظمین کے زیر انتظام لگائے گئے ہیں۔

    جمعے کے صبح ہی سے ان پر شرکا کا رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان میڈیکل کیمپز میں معمولی نوعیت کے طبی مسائل کے لیے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

  9. کشمیر ہائی وے پر آزادی مارچ کے شرکا کی گاڑیوں کا رش

  10. اسد عمر کی آزادی مارچ پر تنقید: ’ان کے پاکستان میں خواتین کی کوئی جگہ نہیں‘

    آزادی مارچ پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ایسے لگتا ہے جیسے اپوزیشن کے پاکستان میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

    کچھ ایسے ہی سوال بی بی سی کی عالیہ نازکی نے کچھ دن قبل چند پاکستانی خاتون صحافیوں کے سامنے بھی رکھے تھے۔ پڑھیے ان کی تحریر آزادی مارچ، مگر خواتین کے بغیر!

  11. آزادی مارچ: اسلام آباد کے کون سے راستے کھلے ہیں؟

    اسلام آباد میں ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق:

    • آزادی مارچ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایچ 8 بازار یعنی جلسے کے مقام پر پہنچی تھی۔
    • فیض آباد سے زیرو پوائنٹ تک ٹریفک بند ہے۔
    • فیض آباد کو کنٹینرز کی مدد سے بند کیا گیا ہے۔
    • آئی جے پی روڈ، مری روڈ اور پشاور روڈ ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔
    • مارگلہ روڈ اور سیونتھ ایونیو بھی ٹریفک کے لیے کھلے ہیں۔
    • مولانا فضل الرحمان جمعے کی نماز کے بعد جلسے کا آغاز کریں گے۔
    • آئی جے پی روڈ سے پولیس لائن سے جی 11 سگنل تک راستہ کھلا ہوا ہے اور اسے ای او بی آئی ہاؤس تک کھولا گیا ہے۔
    • کاک پل سے کھنہ پل اور پھر ترامڑی چوک تک راستہ صاف ہے اور ٹریفک بھی معمول کے مطابق ہے جبکہ اس راستے پر کوئی کنٹینر نہیں لگایا گیا۔
    • اپنا سفر طے کرتے ہوئے اضافی وقت رکھیں اور باحفاظت سفر کریں۔
  12. مارچ کے شرکا کا غسل!

    نامہ نگار موسیٰ یاوری کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا صبح سویرے کھانے پینے اور غسل کے غرض سے کشمیر ہائی وے کے گردو نواح میں گھومتے نظر آئے۔

    لوگوں کو جہاں پانی ملا، انھوں نے وہیں نہانا شروع کر دیا۔

  13. کشمیر ہائی وے، اسلام آباد ایکسپریس وے جزوی طور پر ٹریفک کی لیے بند

  14. مولانا فضل الرحمان کا آج مطالبات پیش کرنے کا اعلان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے 27 اکتوبر کو سندھ سے شروع ہونا والا ’آزادی مارچ‘ آج نصف شب اپنی منزل مقصود یعنی اسلام آباد کے سیکٹر H-9 میں واقع جلسہ گاہ پہنچ گیا ہے۔ شرکا سے اپنے انتہائی مختصر خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کا طویل سفر طے کر کے اسلام آباد آنے پر شکریہ ادا کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج جمعے کی نماز پنڈال ہی میں ادا کی جائے گی اور اس کے بعد آزادی مارچ کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ مارچ کے باقاعدہ آغاز کے بعد وہ اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

  15. آزادی مارچ: مولانا فضل الرحمان جلسہ گاہ پہنچ گئے

  16. بلاول بھٹو جلسہ گاہ سے روانہ ہو گئے

    اگرچہ ابھی مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آنے والا جمعیت علمائے اسلام کا مرکزی قافلہ جلسہ گاہ نہیں پہنچا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریر کر کے جلسہ گاہ سے روانہ ہو گئے ہیں۔

  17. جمعیت کا خیبر پختونخوا سے آنے والا قافلہ جلسہ گاہ پہنچ گیا

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کا صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والا ایک بڑا قافلہ مرکزی رہنما اکرم درانی کی سربراہی میں اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے سے ہوتا ہے جلسہ گاہ پہنچ چکا ہے۔ پنڈال میں موجود جے یو آئی کارکنان اب مرکزی قافلے کی آمد کے منتظر ہیں جو نمائندگان بی بی سی کے مطابق اس وقت اسلام آباد کی حدود میں ہے اور کچھ ہی دیر میں مرکزی جلسہ گاہ پہنچ جائے گا۔

  18. بلاول بھٹو: ’عام آدمی، تاجروں اور کسانوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے‘

    حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ہدف تنفید بناتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عام آدمی، تاجر اور کسانوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پورے ملک کا اب بس ایک ہی نعرہ ہے ’گو سلیکٹڈ گو‘۔ انھوں نے پنڈال میں موجود حاضرین سے بھی یہ نعرہ لگوایا۔

  19. بلاول بھٹو: ’حکومت ووٹ سے نہیں سازش سے بنی ہے‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے اسلام آباد میں جمع ہو کر ثابت کر دیا کہ وہ کسی کٹھ پتلی حکمران کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ موجود حکومت معیشت پر حملہ آور ہے اور عام آدمی کی زندگی بد سے بدتر ہو گئی ہے۔ جمہوری نظام اور جمہوریت پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ کٹھ پتلی حکومتیں ووٹ سے نہیں سازش کے نتیجے میں طاقت میں آتی ہیں۔ بلاول کے خطاب کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنان نعرے بھی بلند کرتے رہے۔

  20. بلاول بھٹو: ’کٹھ پتلی حکمرانوں کو اب گھر جانا ہو گا‘

    جلسہ گاہ میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے اس ملک میں کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نا ہو بلکہ ڈنڈا ہو۔ یہ وہی قوتیں ہیں جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا لیکن پی پی پی نے نہ پہلے سر جھکایا نہ اب جھکائیں گے۔ جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں، عوام کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، الیکشن میں دھاندلی کروا کر حقیقی عوامی نمائندوں کا مینڈیٹ چھینا جاتا ہے اور کٹھ پتلیوں کو حکومت میں لایا جاتا ہے۔