نواز شریف پنجاب ہاؤس سے باہر آگئے
نواز شریف اپنے لاہور واپسی کے سفر کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پنجاب ہاؤس سے باہر آگئے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نواز شریف نے لاہور واپسی کے سفر کے دوران گجرات، گوجرانوالہ اور مریدکے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ سے اپنی نااہلی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
نواز شریف اپنے لاہور واپسی کے سفر کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پنجاب ہاؤس سے باہر آگئے ہیں۔
پنجاب ہاؤس راولپنڈی کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر دیا گیا تاکہ نواز شریف وہاں سے گزر کر جی ٹی روڈ کی جانب روانہ ہو سکیں۔
نواز شریف اپنا لاہور کا سفر آج دوبارہ پنجاب ہاؤس راولپنڈی سے شروع کر رہے ہیں۔ ان کی ریلی میں شریک ہونے کے لیے پنجاب ہاؤس کے قریب ایک اسستقبالیہ کیمپ میں مسلم ن کی خواتین کارکن موجود ہیں۔
کیا ریلی نواز شریف کا سیاسی سٹنٹ ہے؟ پڑھیے ہمارے ساتھی عارف شمیم کا تجزیہ۔
فیض آباد چوک میں استقبالیہ کیمپ سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ گرین بیلٹ پر اکٹھا ہونا شروع ہو جائیں تاکہ میاں نواز شریف کا استقبال کیا جائے۔
راولپنڈی کے کچہری چوک جہاں پر سابق وزیر اعظم کا پہلا خطاب متوقع ہے اس حلقے سے مسلم لیگ نواز کے ملک ابرار کامیاب ہوئے تھے۔ راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر یہ ریلی 15 حلقوں سے گزرے گی جن میں سے 14 حلقوں میں حکمراں جماعت کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
اسلام آباد پولیس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس سے کچھ دیر قبل ریلی کا اگلا سرا گارڈن ایونیو پر جبکہ پچھلہ سرا زرچی ترقیاتی بینک کی عمارت کے قریب ہے۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ریلی میں تقریباً 7000 شرکا اور 800-850 گاڑیاں شامل ہیں۔
اے آر وائی کے بیورو چیف صابر شاکر کے مطابق ان کے ادارے کا عملہ اور ڈی ایس این جی گاڑی فیض آباد انٹر چینج پر کھڑی تھی کہ اس ریلی میں شامل متعدد افراد وہاں پر اگئے اور اُنھوں نے سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں سنگین تنائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ وہاں پر موجود پولیس اہلکار کے بقول حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکن نجی ٹی وی کے عملے پر تشدد کے لیے آگے بڑھے لیکن وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاو کروادیا۔
نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور کا سفر شروع کر دیا ہے۔ ان کی آمد کے لیے لاہور میں ابھی سے ہی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور شہر کے مختف مقامات پر بینرز اور پوسٹرز لگا دیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ کا ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی قیادت کی کوشش ہے کہ جمعے کے روز تک لاہور پہنچ جائیں۔
ریلی میں شامل صفدر نامی ایک شخص پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے والی ٹوپیاں فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک 1500 کے قریب ٹوپیاں فروخت کر چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ’ایک ٹوپی سو روپے کی فروخت کر رہے ہیں۔‘
پاکستان میں سوشل میڈیا میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے جلوس کے حق اور مخالفت میں بیان بازی کی جا رہی ہے۔
نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق اس بحث میں ٹاپ ٹرینڈ #نواز_چور_مچائے_شور پر ایک جانب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حکمراں جماعت اپنی ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہے تو دوسری جانب #GTroadRally ٹرینڈ پرنواز شریف کے دفاع میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ نون اور اسٹبلشمنٹ دو ہی سیاسی جماعتیں باقی ہیں سب پریشر گروپ ہیں۔
#نواز_چور_مچائے_شور پر مریم نواز کی 20 اگست 2014 کو کی گئی اس ٹویٹ کو دوبارہ شیئر کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ آپ ساری زندگی کنٹینر پر گزار دیں نواز شریف مستعفیٰ نہیں ہوں گے۔
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پنجاب ہاوس سے لاہور راونگی سے قبل پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس کے بعد اُنھوں نے وہاں پر موجود پارٹی کے سینیر رہنماوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اپنی تمام تر توجہ پنجاب پر ہی مرکوز رکھیں گے۔ اس اعلان کے بعد وہاں پر موجود لوگ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو مبارک باد دینے لگے۔ حکمراں جماعت کے رہنماوں کے بقول شاہد خاقان عباسی باقی ماندہ مدت کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم رہیں گے۔ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں دس ماہ باقی ہیں۔ ماں نواز شریف لاہور روانہ ہونے سے قبل سب سے پہلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملے تھے، اس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی سابق وزیر اعظم کو الوداع کہا تھا۔
ریلی میں شریک ہونے کے لیے فیض آباد کے مقام پر موجود کچھ لوگ بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو یہاں کے مناظر براہ راست دکھا رہے ہیں۔