آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لاہور نزدیک آتے ہی جوش و خروش میں اضافہ

نواز شریف نے لاہور واپسی کے سفر کے دوران گجرات، گوجرانوالہ اور مریدکے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ سے اپنی نااہلی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’باپ کا حکم‘

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے والد کے ہمراہ اس قافلے میں شریک نہ ہونے کی وجہ کچھ یوں بتائی: ’میں ان کے ساتھ آنا چاہتی تھی جس کی درخواست بھی کی، لیکن انھوں نے منع کر دیا۔ ان کے الفاظ میرے لیے حرف آخر ہیں۔ باپ کا حکم‘

  2. نواز شریف بھی کنٹینر پر

    نواز شریف لاہور تک کے سفر کے دوران کنٹینر کا استعمال کریں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل ان کی جماعت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو کنٹینر کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

  3. نواز شریف کے لیے 1200 سکیورٹی اہلکار

    اسلام آباد پولیس کے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے فیض آباد تک پولیس کے 2,500 اہلکار ریلی کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کریں گے جبکہ 1200 پولیس اہلکار نواز شریف کی سکیورٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔

  4. ریلی روکنے کی درخواست مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو عوامی ریلی کی صورت میں لاھور جانے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو مسترد ہونے والی یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

  5. خواتین اور بچے بھی منتظر

    مسلم لیگ کے کارکنوں میں خواتین اور بچوں کی بھی بری تعداد موجود ہے جو ڈی چوک پر نوام شریف کا انتظار کر رہے ہیں، تاکہ وہ بھی ان کے قافلے میں شریک ہو سکیں۔

  6. ریلی کہاں کہاں سے گزرے گی

    نواز شریف کی ریلی ڈی چوک سے شروع ہو کر اسلام آباد کے بلیو ایریا، زیرو پوائنٹ اور پھر فیص آباد سے ہوتی ہوئی مری روڈ پر آئے گی جہاں سے یہ قافلہ براستہ جی ٹی روڈ لاہور پہنچے گا۔

  7. فضائی نگرانی

    سابق وزیراعظم کے قافلے کے روٹ کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے اور فضا میں ہیلی کاپٹرز پرواز کر رہے ہیں۔

  8. سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا

    نواز شریف کی ریلی کے لیے سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔

    ٹریفک پلان کے مطابق نواز شریف کی ریلی کے دوران 600 ٹریفک پولیس اہلکار جن میں ایس ایس پی، ایس پی ٹریفک، چار ڈی ایس پیز اور 23 انسپیکٹرز شامل ہیں کو تعینات کیا گیا ہے۔

  9. ’منزل داتا کی نگری ہوگی‘

    سابق وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکریٹری آصف کرمانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابھی واضح طور پر نہیں بتایا جا سکتا کہ نواز شریف کا لاہور کا سفر کتنا وقت لے گا تاہم منزل داتا کی نگری ہی ہوگی۔

  10. بریکنگ, وزیراعظم نے سابق وزیر اعظم کو رخصت کیا

    پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کے ہمراہ نواز شریف کو پنجاب ہاؤس سے رخصت کیا۔ جہاں ان کا پہلا پڑاؤ اسلام آباد کا ڈی چوک ہوگا۔

  11. ڈی چوک اور مسلم لیگی کارکن

    بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق اس وقت ڈی چوک پر مسلم لیگ کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہیں جہاں وہ نواز شریف کا انتظار کر رہے ہیں۔

  12. موٹر وے سے جی ٹی روڈ

    طے شدہ پروگرام کے مطابق سابق وزیر اعظم کو اتوار کے روز موٹر وے کے ذریعے لاہور پہنچنا تھا۔

    تاہم مری سے اسلام آباد پہنچے کے بعد مسلم لیگی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد نواز شریف نے بدھ کے روز جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔

  13. لاہور کے سفر کا آغاز

    سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نا اہل ہونے کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    روانگی سے قبل وزیراعظم خاقان عباسی اور ان کی کابینہ کے متعدد اراکین نے پنجاب ہاؤس میں ان سے ملاقات کی اور انھیں الوداع کیا۔