آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا ریلی نواز شریف کا سیاسی سٹنٹ ہے؟
- مصنف, عارف شمیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پاکستان میں آج کل ججوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر کوئی جج ہے۔ ٹی وی اینکر سے لے کر سیاستدانوں تک سبھی کالے کوٹ پہنے نظر آتے ہیں، بلکہ ایک ریٹائرڈ جنرل بھی اب تو فیصلے صادر فرما رہے ہیں۔
وہ چاہے نواز شریف ہوں جنھیں ججوں نے نااہل قرار دے کر ناصرف وزیرِ اعظم کے عہدے سے چلتا کیا بلکہ ان کو کوئی سیاسی عہدہ رکھنے سے بھی روک دیا یا وہ ٹی وی اینکر جو پی ٹی آئی سے علیحدہ ہو کر عمران خان اور پارٹی پر الزامات لگانے والی عائشہ گلالئی کو اپنے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان سے فوراً سچ اور مکمل سچ سننا چاہتے ہیں۔ اور ہر بات پر کہتے ہیں کہ یا تو ہمارے سوال کا جواب دیں نہیں تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہوں جائیں گے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ ہمیشہ دل چاہتا ہے کہ کوئی انھیں یہ کہہ دے کہ بھئی تم کون ہو، کیوں تمہارے سوال کا جواب دوں؟ پر افسوس کوئی یہ نہیں کہتا۔
عمران خان اور ان کی پارٹی کی پہلے رٹ تھی کہ ہم نے الزام لگایا ہے اب نواز شریف ان الزامات کا جواب دیں اور اب رٹ ہے کہ جس نے الزام لگایا ہے وہی جواب دے۔
اسی طرح نواز شریف کو ہی دیکھیے کہ ان سے سابق وزیرِ اعظم کہلوانا ہضم ہی نہیں ہو رہا۔ ویسے ہضم تو کسی سے وزیرِ اعظم نہ کہلوانا بھی نہیں ہو رہا۔ لیکن اس وقت بات نواز شریف کی ہو رہی ہے۔
بھئی تیس پینتیس سال حکومت کر لی اب اگر کہا جا رہا ہے کہ چلے جاؤ تو کیا مضائقہ ہے۔ جب ہر چیز کا ایک آخر ہوتا ہے تو پھر کرسی کا کیوں نہیں۔ اور اگر آپ کو نا اہل کر ہی دیا گیا ہے تو پھر کس کے پاس اور کیا لینے جا رہے ہیں۔ اور اگر آپ خود اپنے بقول عوام کے پاس جا رہے ہیں تو بھئی کیا لینے، وہ کیا دیں گے آپ کو سوائے چند گھنٹے یا چند دن دھوپ میں کھڑے رہنے کے، سکیورٹی کا رسک پیدا کرنے یا نعرے لگا لگا کر اپنے گلے خراب کرنے کے۔ آپ اگر عوامی لیڈر تھے تو گذشتہ چار سال سے زیادہ کہاں تھے، کیوں عوام سے ملنے کے بجائے غیر ملکی دوروں کو زیادہ ترجیح دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور اگر اس کے پیچھے کوئی اور سیاست ہے تو وہ بھی بتا دیں۔ پہلے تو آپ اپنے خلاف لگائے الزامات کا سامنا کریں۔ نیب نے اگر ابھی آپ کو نہیں بلایا تو بالآخر اس نے بلانا ہی ہے تو اس کی تیاری کریں۔ لوگوں نے تو نہیں جواب دینے اور نہ ہی عوامی طاقت آپ کے کردہ ناکردہ گناہوں کا ازالہ کرے گی۔
چلیں آپ پنڈی سے نکل کر لاہور پہنچ گئے اور ہزاروں لاکھوں نے آپ کا درشن بھی کر لیا تو پھر کیا۔ کیا آپ کی عوام صرف پنڈی سے لاہور تک ہے اور اس کے آگے کچھ نہیں۔
ایک بات تو اب آپ کو مان لینی چاہیے کہ آپ اب وزیرِ اعظم نہیں رہے، سپریم کورٹ کے ججوں نے آپ کو نا اہل قرار دے دیا ہے۔ آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو ججوں کے فیصلے کے خلاف قانونی راستہ اپنائیں یا پھر اسے رضائے الٰہی سمجھ کر مان لیں۔ عوام کے پاس تو اُسے جانا چاہیے جو عوامی لیڈر ہو اور آپ کو تو کوئی بھی سیاسی عہدہ رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
پتہ نہیں کیوں مجھے اس وقت ماضی کے سٹنٹ مین سلطان گولڈن یاد آ رہے ہیں۔
یاد ہے وہ اسی اور نوے کی دہائی کا سنہرے بالوں والا ہیرو جو گاڑی لے کر گاڑیوں کے اوپر سے اڑتا چلا جاتا تھا۔ وہ میرا پہلا پاکستانی سُپر مین تھا۔ سلطان گولڈن کو ایک ریکارڈ بنانے کا شوق تھا اور وہ تھا الٹی گاڑی چلانے کا ریکارڈ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اسے دیکھنے سٹیڈیم گیا تھا تو وہ اپنا گاڑیوں والا سٹنٹ پورا نہیں کر سکا تھا۔
میاں صاحب بھی گاڑی لے کر نکلے ہیں بس مشورہ یہ ہے کہ الٹی گاڑی نہ چلائیں۔ نہ ان کی سلطان گولڈن بننے کی عمر ہے اور نہ ہی شاید اب اس کی ضرورت۔
کبھی کبھی سٹنٹ کو نا مکمل چھوڑ دینا چاہیے، اسی میں ہی عزت ہے۔