آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور نزدیک آتے ہی جوش و خروش میں اضافہ
نواز شریف نے لاہور واپسی کے سفر کے دوران گجرات، گوجرانوالہ اور مریدکے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ سے اپنی نااہلی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
لائیو کوریج
ریلی بھی مزدوری بھی
ریلی میں موجود بعض لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا فروخت کر رہے ہیں۔
نواز شریف کا قافلہ فیض آباد کے قریب
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق نواز شریف کا قافلہ فیض آباد کے قریب پہنچ گیا ہے جہاں سے وہ مری روڈ کے راستے جی ٹی روڈ کی جانب روانہ ہوں گے۔
کیا چوہدری نثار علی خان روات میں ریلی کا استقبال کریں گے؟
سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سابق وزیر اعظم کو لاہور کے لیے الوداع کرنے پنجاب ہاؤس نہیں پہنچے۔ اس سے پہلے نواز شریف کی ریلی سے متعلق انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے چوہدری نثار حکمراں جماعت کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں موجود رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے ذرائع کے مطابق اس بات کے امکانات ہیں کہ چوہدری نثار علی خان روات کے قریب سابق وزیر اعظم کا استقبال کریں گے کیونکہ روات سے ملحقہ کلرسیداں سابق وفاقی وزیر داخلہ کا حلقہ انتخاب بھی ہے۔
رانجھا رانجھا کردی۔۔۔
پی ٹی آئی کی جانب سے میاں نواز شریف کی ریلی اور کنٹینر کی تیاری اور متوقع طور پر اسے استعمال کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ پی ٹی ائی کے رہنما اسد عمر نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا۔ رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی۔
دانیال عزیز پیش پیش
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم کی عوامی ریلی میں پیش پیش رہے اور میڈیا پر آکر اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔ دانیال عزیز کو شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں وزیر مملکت کا عہدہ دیا گیا تھا لیکن اُنھوں نے اپنے عہدے کا حلف نہیں اٹھایا تھا۔
�
’شیر پھر آگیا‘
بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق فیض آباد پر اس وقت 300 سے 500 کے درمیان ن لیگ کے کارکن موجود ہیں جو ’ہمارا وزیر اعظم نواز شریف اور شیر پھر آگیا کے نعرے لگا رہے ہیں۔‘ وہاں موجود کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاہے جتنے دن بھی لگیں وہ نواز شریف کے ساتھ ہی رہیں گے۔
ن لیگ کے جیالے
اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر ن لیگ کے جیالے رنگ برنگے پلے کارڈز اور بینرز لیے نواز شریف کے قافلے کے منتظر ہیں۔
’عوام کے ساتھ رابطہ ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے‘: شہباز شریف
استقبالیہ کیمپ
اسلام آباد میں فیص آباد کے مقام پر ن لیگ کے کارکنوں کی جانب سے استقبالیہ کیمپ بنایا گیا ہے جہاں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کارکنوں سے مختصر خطاب کریں گے۔
ریلی کے شرکا کا جوش و خروش
نواز شریف کا قافلہ ڈی چوک پر
نواز شریف کا قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا ہے جہاں سے وہ اب اسلام آباد کے بلیو ایریا سے ہوتے ہویے زیرو پوائنٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔
کنٹینر، ’جسے سازش کہا گیا‘
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی جانب سے ٹوئٹر پر نواز شریف کی ریلی کے حوالے سے لکھا: ’اور پھر ’نااہل وزیراعظم‘ نے کنٹینر پر قدم رکھا، جسے ن لیگ والے ’سازش‘ قرار دیتے تھے۔‘
کارکنوں کی ٹولیاں
نواز شریف کی ریلی میں شریک ہونے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر مسلم لیگ کے کارکنان کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں موجود ہیں۔
ایمرجنسی سروس کے 130 اہلکار 47 گاڑیاں
پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں موجود ایمرجنسی سروس، ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق کسی بھی حادثے کی صورت میں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کل 130 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
1122 کے مطابق ادارے کی کل 47 گاڑیوں جن میں 33 ایمبولینسز، نو فائر برگیڈ اور پانچ موبائل وینز شامل ہیں نواز شریف کے قافلے کے روٹ پر ڈیوٹی کے لیے موجود ہیں۔
میڈیا کے نمائندے
براستہ جی ٹی روڈ نواز شریف کی روانگی کی کوریج کے لیے میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی ڈی چوک میں موجود ہے۔
’عدالتی جنگ ہاری مگر دلوں کی جنگ جیت لی‘
مسلم لیگ کے رنما خواجہ آصف نے ٹویٹ کی : ’نواز شریف کی جی ٹی روڈ سے گھر واپسی ثابت کرے گی کہ وہ عدالتی جنگ ہارنے کے باوجود دلوں کی جنگ جیت گئے۔ ان کے دشمن سپریم کورٹ میں جیت کے باوجود رو رہے ہیں اور خوفزدہ ہیں۔‘
نواز شریف کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست
سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست حلقہ این اے 120 کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب ٹکٹ حاصل کرنے والی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے میاں نواز شریف کے خلاف الیکشن کمیشن میں پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے سیکشن فائیو کے تحت پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نااہلی کے باوجود نواز شریف مسلم لیگ ن کے صدر کی کرسی پر براجمان ہیں۔
بدھ کو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حلقہ این ایے 120 میں ضمنی انتخاب سے قبل ہی دھاندلی شروع ہو گئی ہے۔
, ’میرے باپ دادا کی کمپنیوں کو ٹٹولا گیا‘
گذشتہ روز نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'میرے باپ دادا کی کمپنیوں کو ٹٹولا گیا لیکن کرپشن ثابت نہیں ہوئی جبکہ ثبوت تو دور کی بات ہے مجھ پر کرپشن تک کا الزام تک نہیں۔'