آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لاہور نزدیک آتے ہی جوش و خروش میں اضافہ

نواز شریف نے لاہور واپسی کے سفر کے دوران گجرات، گوجرانوالہ اور مریدکے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ سے اپنی نااہلی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سعد رفیق کو خفیہ پیغام؟

    نواز شریف کے ساتھ تعینات پولیس سکواڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ وفاقی وزیر سعد رفیق جب کچہری چوک پر پہنچے تو چند افراد ان سے ملنے آئے اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔

    کچھ دیر بعد سعد رفیق واپس آئے اور جا کر سابق وزیرِ اعظم کی گاڑی میں بیٹھے اور اس کے بعد ان کا قافلہ اس قدر تیز رفتاری سے گزر گیا کہ راستے میں منتظر استقبالی پارٹیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔

    پولیس اہلکار کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سعد رفیق کی وساطت سے نواز شریف کو کوئی پیغام دیا گیا ہے۔

    ابھی تک اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کے کسی رہنما کا ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

  2. قافلے کو جیسے پر لگ گئے ہیں

    • کچہری چوک سے نکلنے کے بعد اس قافلے کو جیسے پر لگ گئے اور قافلہ بہت تیزی سے آگے بڑھتا چلا گیا
    • مندرہ کے ٹول پلازہ میں قافلے کی جو گاڑیاں ہم نے دیکھیں، وہ ٹول ادا کیے بغیر آگے بڑھ گئیں
    • راستے میں اکادکا استقبالی کیمپ نظر آئے جہاں کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہمارے ساتھ اب بھی قافلے میں پیچھے رہ جانے والے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن اصل قافلہ تیزی سے آگے رواں دواں ہے۔

    قافلے کے ہمراہ چلتے ہوئے ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کی رپورٹ

  3. گوجر خان عبور کر لیا

    ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف گوجر خان سے آگے نکل گئے ہیں۔

  4. ’عمران خان کی نواز شریف کو تجویز‘

  5. ’ہم قائد کے ساتھ ہیں‘

  6. ریلی رواں دواں، روز مرہ معمولات بھی جاری

    مسلم لیگ ن کی ریلی ایوب پارک سے گزر رہی ہے اور وہاں سڑک کی دوسری جانب سے آنے والی ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔ علاقے کے بازار بھی کھلے ہیں تاہم بازاروں میں رش معمول سے کم ہے۔

  7. ’آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے‘

    مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ کا کہنا ہے کہ ریلی میں موجود کارکن نواز شریف کو بتانا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

  8. ریلی میں گھوڑوں کا رقص

    نواز شریف کی ریلی میں لیگی کارکنوں کے علاوہ گھوڑے بھی رقص کر رہے ہیں۔

  9. قافلہ کچہری چوک پہنچ گیا

    نواز شریف کچہری چوک پہنچ گئے ہیں اور کچہری روڈ دونوں جانب سے بند ہے۔ شہر میں دوسرے شہروں کے لیے جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔

  10. ’ہم اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں‘

  11. وکلا کا استقبالیہ کیمپ

    ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی نے نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے لیے سواں روڈ پر اسقتبالیہ کیمپ لگایا ہوا ہے، جس میں وکلا کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  12. قافلہ چل پڑا

    نواز شریف نے گذشتہ دوپہر پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے اپنے لاہور کے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ آج جمعرات کو وہ راولپنڈی میں واقع پنجاب ہاؤس سے اپنے کارکنوں کے ہمراہ جی ٹی روڈ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

  13. لیگی رہنما کارکنوں کے ہمراہ

    لیگی رہنما ملک ابرار اور سینیٹر چوہدری تنویر بھی اپنے ساتھ کارکنوں کی بڑی تعداد لے کر ریلی میں شامل ہو چکے ہیں۔

    اب تک کی اطلاعات کے مطابق روات کے قریب چوہدری نثار علی خان اس ریلی کا استقبال کریں گے۔

  14. نواز شریف کی سکیورٹی

    نواز شریف کے پنجاب ہاؤس کے باہر آتے ہی ان کی سکیورٹی پر معمور اہلکار فوراً حرکت میں آئے اور انھوں نے اپنی پوزیشنز سنبھال لیں۔

  15. ’عوام نے فیصلہ قبول نہیں کیا‘

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ شب راولپنڈی کے کمیٹی چوک پر کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ عوام نے نواز شریف کے خلاف فیصلے کو قبول نہیں کیا ہے۔ پاناما لیکس کا فیصلہ عوام اور تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔

    انھوں نے کہا 'کروڑوں لوگ وزیراعظم منتخب کرتے ہیں اور چند لوگ ختم کردیتے ہیں، مجھے تیسری بار حکومت سے نکالا گیا، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا نواز شریف نے قومی خزانہ لوٹا، اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے فارغ کر دیا گیا، ہمیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ کیا یہ آپ کے ووٹ کی توہین نہیں؟ عوام نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ قبول نہیں کیا ہے۔‘

  16. موبائل ہسپتال

    حکومت پنجاب کی جانب سے نواز شریف کی ریلی کے لیے ایک موبائل ہسپتال بھی فراہم کیا گیا ہے جو ریلی کے ساتھ ساتھ موجود ہے۔

  17. کارکنوں کی تعداد میں کمی تاخیر کی وجہ

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی روانگی میں تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ ریلی کے لیے شرکا کی تعداد قدرے کم تھی تاہم اب لیگی رہنمائوں کے ساتھ بہت سے کارکن پنجاب ہاؤس کی جانب رواں دواں ہیں۔