یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
13 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ پیر کی صبح تک حماس کی قید سے تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کی صورت میں اسرائیل نے عمر قید کی سزا کا سامنے کرنے والے 250 فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے 1,722 قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان قیدیوں میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
13 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر آج مصر میں ہونے والے غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مصر پہنچ گئے ہیں۔
سٹارمر چند اُن عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جو ساحلی شہر شرم الشیخ میں اس اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے گے، جس میں غزہ تنازعے کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوگی۔
اس سے قبل ڈاوننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم اجلاس میں اہم علاقائی ثالثوں مصر، قطر اور ترکی کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔
وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی خصوصی خراجِ تحسین پیش کریں گے جو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اس اجلاس کی مشترکہ میزبانی کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر کے جنوبی شہر شرم الشیخ میں آج یعنی پیر کے روز ہونے والے غزہ امن سربراہی اجلاس کی تیاریوں جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی ان مذاکرات کی میزبانی کریں گے، تاہم اُن کے ساتھ ساتھ ان مذاکرات میں اور کون سے عالمی رہنما اس میں شرکت کریں گے۔
شرکت کرنے والے رہنماؤں میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی اور ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز شامل ہیں۔
تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی پیر کے روز مصر کا دورہ کریں گے اور غزہ کی سنگین صورتحال کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
ادارے کی جانب سے مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔
اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ بھی اس اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔
انھیں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مدعو کیا ہے جو اس اجلاس کی میزبانی شرم الشیخ شہر میں کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ شہر میں حماس کی سکیورٹی فورسز اور دغمش قبائل کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں اس علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اختتام کے بعد سے ہونے والے سب سے پرتشدد تصادم میں شمار کی جا رہی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حماس کے نقاب پوش جنگجوؤں کا جنوبی غزہ شہر میں اردن کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتال کے قریب عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق سکیورٹی یونٹس نے شہر کے اندر ایک مسلح ملیشیا کو گھیرے میں لے لیا اور اس کے ارکان کو گرفتار کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی۔ تاہم وزارت کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار اس کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔
مقامی طبی ذرائع کے مطابق سنیچر کے روز شروع ہونے والی اس لڑائی میں دغمش قبیلے کے 19 ارکان اور حماس کے آٹھ جنگجو ہلاک ہوئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جھڑپیں تل الحوا کے مقام پر اُس وقت شروع ہوئیں کہ جب حماس کے 300 سے زائد جنگجوؤں نے ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا جہاں دغمش قبیلے کے مسلح افراد مورچہ زن تھے۔
رہائشیوں نے بتایا کہ شدید فائرنگ کے دوران درجنوں خاندان خوف و ہراس میں اپنے گھروں سے فرار ہو گئے، جن میں سے بہت سے پہلے ہی جنگ کے دوران کئی بار بے گھر ہو چکے تھے۔
ایک رہائشی نے کہا کہ ’اس بار لوگ اسرائیلی حملوں سے نہیں بھاگ رہے تھے، وہ اپنے ہی لوگوں سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔‘
واضح رہے کہ دغمش قبیلہ غزہ شہر کا ایک بااثر اور مسلح قبیلہ ہے، جو اپنی خودمختاری اور طاقت کے لیے مشہور ہے۔ اس قبیلے کے کچھ افراد مختلف مسلح گروہوں، بشمول حماس اور القاعدہ سے منسلک تنظیموں، سے وابستہ رہے ہیں۔ دغمش قبیلے کا ماضی میں غزہ میں حماس کی حکومت کے ساتھ متعدد بار تصادم بھی ہو چکا ہے، خاص طور پر کنٹرول اور اثر و رسوخ کے معاملات پر۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ نے کہا کہ ان کی فورسز ’علاقے میں نظم و ضبط بحال کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہیں اور خبردار کیا کہ کسی بھی مسلح سرگرمی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
فریقین نے ایک دوسرے پر جھڑپوں کے آغاز کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیاعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی ایک حالیہ تقریر کا آغاز اس بیان سے کیا کہ ’یرغمالیوں کی رہائی ایک تاریخی واقعہ ہے اور ہماری اس کامیابی کا کُچھ لوگوں کو یقین ہیں نہیں تھا وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ہم کبھی بھی اپنے لوگوں کو واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘
یرغمالیوں کے خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم آپ کے پیاروں کو واپس لائیں گے۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے درمیان ’بہت سے اختلافات موجود ہیں۔‘ لیکن انھوں نے یہ اُمید بھی ظاہر کی کہ اسرائیل کے عوام مستقبل میں ’ان اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جہاں جہاں ہم نے جدو جہد کی دشمن کے خلاف لڑائی کی وہاں وہاں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔‘ لیکن انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’ہمارا مقصد ابھی حاصل نہیں ہوا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ آگے اسرائیل کو ’بہت بڑے سکیورٹی چیلنجز‘کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ نے یرغمالیوں کے خاندانوں سے کئی بار ملاقات کی اور انھوں نے ان کے ’انتظار اور درد‘ کو قریب سے محسوس کیا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنی مختصر تقریر کا اختتام ملک کے ان شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا ’جو اس مُشکل وقت میں اُن کے ساتھ کھڑے رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پیر کے روز ایک نئے دن کا آغاز ہوگا اور وہ دن ہم سب کے لیے بے انتہا خوشی اور اطمینان کا باعث ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطی کے دورے دوران پیر کی صبح تک حماس کی حراست میں یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے عمر قید کی سزا کا سامنے کرنے والے 250 فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے 1,722 قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے جنھیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان قیدیوں میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی جیل سروس نے کل کہا ہے کہ اس نے قیدیوں کو اوفر اور کیٹزیوٹ جیلوں میں منتقل کرنے کے لیے منتقلی کی تیاری شروع کردی ہے۔ جیل حکام کے مطابق ’ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ قیدیوں کو کب رہا کیا جائے گا، لیکن یہ غزہ میں حماس کے زیر حراست 48 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہوگا۔
اسرائیل کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے اہل خانہ کو بلایا گیا ہے اور جشن منانے کے خلاف متنبہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی فلاح و بہبود کی نگرانی کرنے والے کمیشن کے سربراہ رائد ابو الحموس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فہرست میں شامل کچھ ناموں پر حیران ہیں۔
ابو الحموس کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ کچھ کو تین اور چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست کی سزا سنائی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید اور عمران خان افغانستان سے چار سے پانچ ہزار بندے لے کر آئے۔ ان کے مطابق اس کے بعد دو سال تک ان لوگوں کی سہولت کاری کی جاتی رہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ’قومی اسمبلی میں سوالات ہوئے کہ آپ نے کن لوگوں کو لا کر بسا دیا ہے، یہ تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے سوات میں قتل عام کیا ہے اور انھیں ’سوات کے قصائی‘ کہا جاتا ہے۔‘
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں اس خطے میں ’جو جنگیں ہم نے لڑی ہیں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔ ہم ان کے بغیر بھی رہ سکتے تھے۔ ہم ان میں کود پڑے اور آج ان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو باقاعدہ ضابطے میں لانا ہوگا کیونکہ یہاں سے شدت پسند، جرائم پیشہ اور ڈرگ سمگلر بھی آ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ غیرقانونی مقیم افغانوں کو اب واپس چلے جانا چاہیے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے مذاکرات سے متعلق تجویز پر کہا کہ ’ایک صوبے کو وفاق کے ساتھ اپنی پالیسی میں مطابقت لانا ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہTLP's Youtube Channel
پاکستان تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے کہا ہے کہ انھیں کل حکومت کی طرف سے احتجاجی مارچ روکنے کا کہا گیا مگر 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا اور ابھی تک کوئی مذاکرات کے لیے واپس نہیں آیا ہے۔
ان کے مطابق ’کچھ شخصیات نے اپنے طور پر رابطہ کیا ہے مگر حکومت کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔‘
سعد رضوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’مفتی منیب الرحمان ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور انہوں نے ہمیں مارچ ختم کرنے کو کہا تھا لیکن ہر کام کا اور معاملہ ختم کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، اس بارے میں حکومت کی طرف سے ہم سے ایسی بات کہی گئی جوکہ ہمیں ناقابل قبول تھی۔‘
ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کے لیے کھلے ہیں۔‘
سعد رضوی نے کہا کہ ’ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے بلکہ ہم فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مارچ کرنا چاہتے ہیں اور یہ بالکل اس طرح کا ہی احتجاجی مارچ ہے جس طرح آسٹریلیا اور سوئٹرز لینڈ کے دارلحکومتوں میں ہوا ہے۔‘
احتجاجی مارچ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم پرامن ہیں اور پرعزم ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے لوگوں کو مارا گیا ہے اور زخمی کیا گیا ہے جبکہ نو لوگوں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ مارچ ختم کر کے واپس آ جائیں۔‘
سعد رضوی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ’آپ کے اقدامات یہ بتاتے ہیں کہ آپ اسرائیل کو تسلم کر چکے ہیں، وعدے وعید کر چکے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اب ’آپ اسرائیل کے خلاف مضبوط آواز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘ سعد رضوی نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کے حق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس اس احتجاجی مارچ کے لیے تحریری اجازت نامہ تک موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں جنگ بندی سے متعلق تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ ابھی ٹی ایل پی کے کارکنان لاہور کے قریب مریدکے پر موجود ہیں اور اپنی قیادت کے اگلے لائحہ عمل کا انتظار کر رہے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ٹی ایل پی سے مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں اس احتجاج سے نمٹنے کے لیے لپنجاب اور وفاقی پولیس کا پلان مرتب کیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے پنجاب حکومت نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کا امکان ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کی وزارت داخلہ کی درخواست پر وفاق سے بھی پولیس نفری لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اہلکار کے مطابق وفاق سے پانچ سو پولیس اہلکار و افسران پنجاب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاق سے آٹھ بکتر بند گاڑیاں مظاہرین سے نمٹنے کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
’وفاقی پولیس کی نفری کو ضروری آلات سمیت پولیس ہیڈ کوارٹر میں لاہور بھیجنے کے لیے الرٹ بھیج دیا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA

تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ ابھی تک وسطی پنجاب کے شہر مریدکے میں رکا ہوا ہے اور تحریک لبیک پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات تاحال کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ جبکہ حکومت کی طرف سے اس بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا گیا۔
تحریک لبیک پاکستان لاہور ڈویژن کے ترجمان حافظ عرفان قادری نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ان کی جماعت کی قیادت اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اور ان کی جماعت کی قیادت نے مریدکے میں چھے بجے ہنگامی پریس کانفرنس کا بھی اعلان کیا ہے۔‘
احتجاجی مارچ کے کنٹینر کے ساتھ سوشل میڈیا کی ٹیم کے ارکان بھی سفر کر رہے ہیں، جنھوں نے تصدیق کی کہ ٹی ایل پی کی قیادت کے ساتھ حکومتی ٹیم کے مذاکرات چل رہے ہیں اور جب تک ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اعلان نہیں ہوتا اس وقت تک احتجاجی مارچ کے آگے بڑھنے یا نہ بڑھنے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کا جو بھی فیصلہ آئے گا اس کا اعلان کر دیا جائے گا، فی الحال مذاکرات کرنے والے قائدین کا سٹیج پر انتظار کیا جا رہا ہے اور نعروں نے ماحول کو گرما رکھا ہے۔‘
گذشتہ رات مرید کے میں قیام کرنے کے بعد آج اتوار کے روز ٹی ایل پی کا قافلہ اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے کو تیار تھا اور ٹی ایل پی کے کارکن دن گیارہ بجے تک جی ٹی روڈ پر آ چکے تھے اور سٹیج سے کارکنوں کو ضروری ہدایات بھی دی گئیں، لیکن آج شام پانچ بجے تک قافلہ روانہ نہیں ہوا تھا اور شرکا مذاکرات کرنے والے راہنمائوں کا انتظار کررہے تھے۔
ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے میڈیا پر یہ باتیں چل رہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، خواجہ سلمان رفیق اور علامہ طاہر اشرفی بات چیت کر رہے ہیں اور مذاکرات کے دوران اچھی پیش رفت بھی ہو رہی ہے، لیکن اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا رہا۔
’فریقین کچھ مطالبات پر آگے بڑھے ہیں اور کچھ مطالبات پر بات چیت جاری ہے، حکومتی نمائندگان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ احتجاجی مارچ فی الفور ختم کیا جائے کیونکہ ملکی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے اور افغانستان کے ساتھ بھی ایشو بنا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے قافلہ 10 اکتوبر جمعہ کے روز جب لاہور سے روانہ ہوا تھا تو اس کے ساتھ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد تھی، تاہم پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اور اشیائے خورونوش کی کمی کی وجہ سے کارکنوں کی تعداد کچھ کم ہوگئی تھی۔
ٹی ایل پی کے میڈیا سیل سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ جوں جوں ہم آگے بڑھیں گے، اگلے شہروں سے بڑی تعداد میں لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔
ٹی ایل پی کی طرف سے اس بات پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ امیر تحریک لبیک سعد رضوی کے گھر چھاپے کے دوران مبینہ طور پر ان کے گھر کی کچھ خواتین کو حراست میں لیا گیا۔
تاہم مسلم لیگ نون کی رکن پنجاب اسمبلی اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چئیرپرسن حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں اس کی وضاحت کی اور کہا کہ مذہبی جماعت (ٹی ایل پی) کی خواتین کو جب گرفتار کیا گیا تو وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔
مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ایکس پر لکھا کہ حکومت، ریاستی اداروں اورتحریک لبیک کے اکابرین سے گزارش ھے کہ بات چیت سے مسئلے کا حل نکالیں، آپسی جھگڑا حل نہیں ہے، کافی نقصان ہوچکا، مزید نقصانات سے بچا جائے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ’ہمیں معلوم نہیں کہ ٹی ایل پی کی ریلی سے پہلے حکومت اور ٹی ایل پی کی کس سطح پر بات چیت ہوئی؟ کچھ طے پایا یا نہیں؟ لیکن طاقت کا دو طرفہ استعمال نفرت اور تلخی بڑھا رہا ہے، اسرائیل یا امریکی حکومت کی مذمت کا مطلب آپس میں لڑ کر پاکستان کو میدان جنگ بنانا بالکل بھی نہیں ہے، غیر جانبدار علمائے کرام درمیان میں آکر اپنا کردار ادا کریں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سنیچر کی شب افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی میں طالبان کی پوسٹوں، کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور شدت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہا تھا۔ پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ سرحد کے قریب افغانستان میں ’21 دشمن پوزیشنز اور دہشتگردوں کی ٹریننگ کے کئی کیمپس پر قبضہ کیا گیا اور انھیں غیر فعال بنایا گیا۔ انھیں پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’پاکستان کی مسلح افواج پاکستان کے عوام کی علاقائی سالمیت، جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ پاکستان کی علاقائی سالمیت کے دفاع اور ہماری سلامتی کے لیے خطرہ بننے والوں کو شکست دینے کا ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام تشدد اور جنگ بندی پر تعمیری سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں اور ’ہم پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے غدارانہ استعمال کو برداشت نہیں کریں گے۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں یہ تشویش ہے کہ یہ سنگین اشتعال طالبان کے وزیر خارجہ کے دورہ انڈیا کے دوران پیش آیا ہے جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ’سپانسر‘ ہے۔‘
پاکستان کی فوج نے اپنے بیان میں طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں جن میں تحریک طالبان پاکستان اور داعش شامل ہیں کے خاتمے کے لیے فوری اور قابل تصدیق اقدامات کرے۔ بصورت دیگر، پاکستان دہشت گردی کے اہداف کو مسلسل بے اثر کرکے اپنے عوام کے دفاع کے اپنے حق کا استعمال جاری رکھے گا۔
بیان کے مطابق طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کے ناجائز تصورات سے پرہیز کرے اور غیر ذمہ دارانہ ہنگامہ آرائی پر افغان عوام کی بھلائی، امن، خوشحالی اور ترقی کو ترجیح دے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ رات کا واقعہ پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت شدت پسندوں کی سہولت کاری کر رہی ہے۔ ’اگر طالبان حکومت خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ مل کر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی تو پاکستان کے عوام اور ریاست اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘

،تصویر کا ذریعہPTV
وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے کی گئی بھرپور اور مؤثر کارروائی پر پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر پوری قوم کو فخر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاکستانی فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف منھ توڑ جواب دیا بلکہ متعدد افغان پوسٹس کو تباہ کر کے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا۔‘ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا ہے۔ پوری قوم پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان نے کئی بار افغانستان کو وہاں موجود فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں موجود عناصر کی حمایت حاصل ہے اور پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان نگران حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کے استعمال میں نہ آئے۔‘
اپنے ردعمل میں شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنا رہے: اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’پاک افغان سرحد پر پیش رفت پر گہری تشویش ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’طالبان حکومت کی طرف سے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ اور چھاپے ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان کا مناسب جواب اور حملے طالبان کے بنیادی انفراسٹرکچر کے خلاف ہیں اور افغان سرزمین سے سرگرم فتنہ خوارج اور فتنہ ہند دہشت گرد عناصر کے خاتمہ کرنے کے لیے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے دفاعی ردعمل میں امن پسند افغان شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنانا شامل نہیں ہے۔ طالبان فورسز کے برعکس، ہم شہریوں کی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے اپنے دفاعی ردعمل میں انتہائی احتیاط برت رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم طالبان کی حکومت سے دہشت گرد عناصر اور ان کے مجرموں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی توقع رکھتے ہیں جو پاک افغان تعلقات کو پٹڑی سے اتارنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین، خود مختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بعد بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں واقع بابِ دوستی کو آمدورفت کے لیے تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جھڑپوں کے بعد چمن سرحد کو ہر قسم کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان سے جو افغان پناہ گزین رضاکارانہ طور پر واپس جارہے ہیں یا جنھیں بے دخل کیا جا رہا ہے، ان کی اکثریت چمن کے راستے افغانستان جا رہی ہے۔
چمن سرحد کی بندش کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق سوال پر محکمہ داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی کا عمل روکنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
چمن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال میں اندازاً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بلوچستان کے جن سات اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے لگتی ہیں ان میں چمن پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت کا سب سے بڑا راستہ ہے۔
افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار اور اس کے جنوب مغربی صوبوں کے علاوہ وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان تجارت کے لیے بھی چمن اہم گزرگاہ ہے۔
بلوچستان کے جن سات اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے لگتی ہیں ان میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن نوشکی اور ضلع چاغی شامل ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی کے سرحدی علاقے برابچہ میں بھی دونوں ممالک کے افواج کے درمیان گزشتہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ ان جھڑپوں کے بعد پاکستان کی جانب سے بلوچستان سے تمام سرحدی علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@FitratHamd
افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک دھڑا افغانستان کی بہتر ہوتی سکیورٹی صورتحال اور اس کی ترقی سے خوش نہیں ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مخصوص گروپ اب افغانستان کے خلاف سازشیں رچا رہا ہے۔
طالبان ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے ’ایکس‘ پر ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس کا متن جاری کیا گیا ہے۔
اس متن کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ معلومات کی بنیاد پر ’ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج کی اکثریت، سیاست دان، علمائے کرام اور عوامی حلقے اس مخصوص گروپ کے افغانستان مخالف ایجنڈے سے متفق نہیں ہیں۔‘
اُنھوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج کے اندر موجود یہ مخصوص گروپ اپنے سلسلہ وار اقدامات کے ذریعے افغانستان میں انتشار پھیلا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ گروپ عالمی پلیٹ فارمز پر طالبان حکومت کا منفی تاثر اُبھارنے اور غلط معلومات پھیلانے میں سرگرم رہتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج ماضی میں طالبان حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی حکام ملک میں ہونے والے بیشتر حملوں کا ذمہ دار تحریکِ طالبان پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔ تاہم افغان طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغانستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان عوام کی مدد جاری رکھے گا تاہم قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اتوار کے روز ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی حدود سے انڈیا کے حمایت یافتہ شدت پسندوں کے حملے ایک مسلم حقیقت ہیں جن کی تصدیق بارہا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں ہوئی ہے۔
صدر زرداری نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں سرگرم پاکستان مخالف شدت پسند عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کرے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخی سرحدی جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کی سرپرستی میں کام کرنے والے شدت پسند عناصر علاقائی امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے اور اس کا بوجھ کسی ایک ملک پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی تاہم افغان شہریوں کی باوقار واپسی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔
صدر زرداری نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان افغان عوام کی تعلیمی اور انسانی بنیادوں پر مدد جاری رکھے گا تاہم پاکستان کی قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ برادرانہ تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، سکیورٹی تعاون اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ عزم پر ہونی چاہیے۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گی اور اس بات پر زور دیا کہ صرف مشترکہ اور عملی اقدامات ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے افغانستان پر مختلف حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائیوں میں پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے ہیں۔
اتوار کو کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ ’جوابی کارروائی‘ کے دوران پاکستان کی 20 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا، لیکن لڑائی ختم ہونے کے بعد یہ واپس کر دی گئیں۔
بی بی سی ذبیح اللہ مجاہد کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنے سے قاصر ہے اور تاحال پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے ترجمان کے دعوؤں پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے جھڑپوں کے دوران نو طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور 18 کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ داعش کے سربراہ پاکستان میں ہیں اور یہ تنظیم اب بھی پاکستان کے صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فعال ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان سے داعش کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں اس کے تربیتی مراکز قائم ہیں۔ لہذا عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں ہونے والے حملے میں بھی داعش ملوث تھی اور اس کے جنگجو پاکستان سے آئے تھے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان وزیر خارجہ کا انڈیا کا دورہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ کسی ملک کو بھی اس پر تحفظات نہیں ہونے چاہییں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ مریدکے میں موجود ہے اور اتوار کو یہ اپنی منزل اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گا۔
ٹی ایل پی کے کارکن جی ٹی روڈ پر آ چکے ہیں اور سٹیج سے کارکنوں کو ضروری ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔ یہ قافلہ 10 اکتوبر کو لاہور سے روانہ ہوا تھا، تاہم پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی وجہ سے کارکنوں کی تعداد کچھ کم ہوئی ہے۔
ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ جی ٹی روڈ پر آنے والے شہروں سے مزید کارکن قافلے میں شامل ہوں گے۔
مقامی صحافی عبدالناصر شیخ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گزشتہ رات سے حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور اطلاعات یہی ہیں کہ شاید آج فریقین کے مابین معاملات طے پا جائیں۔
احتجاجی مارچ کے پیش نظر مریدکے سے 18 کلو میٹر آگے سادھوکی کے قریب جی ٹی روڈ مکمل بند کردی گئی ہے، جہاں کھدائی کر کے 30 فٹ گہری اور 20 فٹ چوڑی خندق بنائی گئی ہے جس سے گاڑیوں کا گزرنا مشکل ہے۔
سادھوکی کے قریب پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ سادھوکی سے ضلع گوجرانوالہ کی حدود شروع ہوتی ہے جہاں خندق کے دونوں اطراف کنٹینرز لگائے گئے ہیں اور بظاہر ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے لوگوں کا یا گاڑیوں کا گزرنا ممکن نہ ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی، انس رضوی سمیت ٹی ایل پی کی مرکزی قیادت کے خلاف ’غیرقانونی جلوس نکال کر لوگوں کو اشتعال دلانے، نقص امن پیدا کرنے اور پولیس ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنانے‘ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت شیخوپورہ کے تھانہ فیروز والا میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمے میں 27 دفعات لگائی گئی ہیں جن میں سے دو دفعات انسداد دہشت گردی کی دفعہ چھ اور سات بھی شامل ہیں جن میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید دی جاسکتی ہے۔
یہ مقدمہ گوجرانوالہ کے ایس ایچ او عمران نسیم بٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر ٹی ایل پی کے کارکنوں کے حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ٹی ایل پی کے جلوس میں ایک ٹرالر تھا جس کے اوپر لاؤڈ اسپپیکر اور ڈیک لگے ہوئے تھے اور اسٹیج پر سعد رضوی مائیک کے ذریعے لوگوں کو اشتعال دلا رہے تھے۔‘ مقدمے میں ٹی ایل پی کے دیگر 16 رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ’شرکا جلوس کی تعداد دو ہزار سے زائد تھی جس میں شامل لوگوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے، پتھر وغیرہ پکڑ رکھے تھے، کچھ لوگوں کے پاس آتشیں اسلحہ بھی تھا اس دوران لگ بھگ 30 سے 35 لڑکوں کے ایک گروپ نے اچانک پولیس پر حملہ آور ہو کر مارکٹائی شروع کردی۔‘
واضح رہے کہ ٹی ایل پی نے لاہور سے اسلام آباد کی جانب ’غزہ ملین مارچ‘ کا اعلان کر رکھا ہے، تاہم انتظامیہ نے لاہور اور اسلام آباد کے مختلف مقامات کو کنٹینر لگا کر بند کر رکھا ہے۔
ٹی ایل پی نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا ہے، تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر تشدد اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔