ٹرمپ کی مشرق وسطی کے دورے کی تیاری، اسرائیل کو پیر کی صبح تک تمام یرغمالیوں کی رہائی کی توقع

جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ پیر کی صبح تک حماس کی قید سے تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کی صورت میں اسرائیل نے عمر قید کی سزا کا سامنے کرنے والے 250 فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے 1,722 قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان قیدیوں میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔

خلاصہ

  • پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی پیر کے روز مصر کا دورہ کریں گے
  • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سنیچر کی شب افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
  • اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
  • افغان طالبان کا سرحدی جھڑپوں میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ، شہباز شریف کا 'اشتعال انگیزی' کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
  • پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بعد بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں واقع بابِ دوستی کو آمدورفت کے لیے تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
  • تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور سے اسلام آباد تک ’فلسطین ملین مارچ‘ اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ مذہبی جماعت کا کہنا ہے کہ مارچ روکنے کا کہہ کر ابھی تک حکومت نے مذاکراتی عمل شروع نہیں کیا۔

لائیو کوریج

  1. ربوہ میں احمدی عبادت گاہ پر حملہ: چار افراد زخمی، ایک حملہ آور مارا گیا

    Jamaat Ahmadiyya

    ،تصویر کا ذریعہJamaat Ahmadiyya

    صوبہ پنجاب کے شہر ربوہ میں ایک احمدی عبادت گاہ پر حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی پر تعینات افراد کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا ہے۔

    پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق ربوہ کے گول بازار میں واقع احمدی عبادت گاہ ’بیت المہدی‘ پر مسلح افراد کی جانب سے حملہ اُس وقت کیا گیا جب ان کی کمیونٹی کے افراد عبادت میں مصروف تھے۔

    جماعت احمدیہ کے مطابق مسلح حملہ آور نے عبادت گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی پر موجود اہلکاروں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا، اس موقع پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    چنیوٹ کے تھانہ چناب نگر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا اُس وقت عبادت گاہ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جب ایک گاڑی میں سوار چار افراد وہاں پہنچے اور اُن میں سے ایک مسلح شخص گاڑی سے اُترا اور پستول نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔

    پولیس اہلکار کے بقول احمدیوں کی عبادت گاہ کے باہر اُن کی سکیورٹی کے رضا کاروں نے اُس مسلح شخص کو اینگیج کیا اور فائرنگ کے نتیجے میں مسلح شحص ہلاک ہو گیا ہے۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کی ہلاکت کے بعد گاڑی میں موجود اس کے دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے لیکن ابھی تک ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔

    ڈی پی او چنیوٹ عبداللہ احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ احمدی عبادت گاہ پر حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

    پولیس کے مطابق گول بازار اور اردگرد کے علاقوں کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

  2. ہم لاہور سے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے تک لانگ مارچ کریں گے: ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی

    TLP

    ،تصویر کا ذریعہTLP

    تحرِیکِ لبِیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر سعد حسین رضوی نے لاہور کی جامع مسجدِ رحمۃ العالمین میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت لاہور سے امریکی سفارتخانے تک لانگ مارچ کرے گی۔

    سعد رضوی نے کہا کہ اس مارچ میں وہ خود سب سے آگے چلیں گے، اس کے بعد ان کی شوریٰ اور پھر کارکنان پیش قدمی کریں گے۔ انھوں نے کہا ’گرفتاری، گولی اور شیل کوئی مسئلہ نہیں ہیں، شہادت ہمارا مقدر ہے۔‘

    ٹی ایل پی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آپ کے لیے سفارتخانے مقدس ہیں تو ہمارے لیے بیت المقدس افضل ہے۔ اپنے مال، اپنے خون اور اپنی اولاد سے بھی بیت المقدس ہمیں افضل ہے۔‘

    انہھوں نے مزید کہا کہ جماعت نے کوئی پہل نہیں کی مگر ناموسِ رسالت کے دفاع کے لیے اور اس مرتبہ بیت المقدس کے سبب قدم اٹھایا گیا ہے۔

    اُنھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ٹرمپ سے کونسا ہاتھ ملا کر آئے ہیں کہ پاکستان میں فلسطین کے حق میں بات بھی نہیں کرنے دے رہے۔‘

    سعد رضوی نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے یومِ وفات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو چاہیے تھا کہ محسن پاکستان کے بنائے ہوئے میزائلوں سے اسرائیل کو جواب دیتے اور اُنھیں خراج تحسین پیش کرتے۔‘

    امیرِ ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ میں ابھی بھی ایسے نوجوان موجود ہیں جو قربانی کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں تو اپنا انجام پتہ ہے مگر گولی چلانے والوں کو اپنا انجام پتہ ہوتا تو وہ گھروں سے نہ نکلتے۔‘

  3. بریکنگ, دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور قوم کو اس سیاست میں الجھایا گیا: پاکستانی فوج کے ترجمان

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں ’بدقسمتی سے‘ دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو سپیس دی گئی جس کا عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نقصان ہوا۔

    جمعے کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ان عوامل کو جاننا ضروری ہے جن کی وجہ سے دہشتگردی اب بھی موجود ہے۔‘

    انھوں نے اس کی پانچ وجوہات بیان کیں:

    1۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا

    2۔ دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو سیاست میں الجھانا

    3۔ انڈیا کا افغانستان کو بیس کے طور پر استعمال کرنا

    4۔ افغانستان میں دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور ہتھیاروں کی موجودگی

    5۔ دہشتگردی کے پیچپھے ایک ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسے سیاسی پشت پناہی حاصل ہے

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ افغان شہری پاکستان میں شدت پسندی میں ملوث ہیں۔

    کور کمانڈر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ افغان سرزمین کو دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا تاہم امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ہتھیار چھوڑے گئے جو شدت پسندوں کے پاس پہنچ گئے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین ماہ میں شدت پسندی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جہاں اس معاملے پر ’سیاست کی جا رہی ہے۔۔۔ ایک کنفیوژن اور ابہام پیدا کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسر و جوان، پولیس کے افسر، ہمارے ادارے اور بچے گورننس کے گیپ اپنے خون سے پورے کر رہے ہیں۔‘

  4. 2025 کا نوبل امن انعام وینزویلا کی کارکن مرِیا کوررنا مَچَڈو کے نام

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    2025 کا نوبل امن انعام ونزیویلا کی مرِیا کورِنا مَچَڈو کو دیا گیا ہے۔

    کمیٹی نے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ مرِیا کورِنا مَچَڈو کو نوبل انعام برائے امن اس لیے دیا گیا ہے کہ انھوں نے وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے انتھک محنت کی اور آمریت سے جمہوریت کی جانب انصاف پسند اور پرامن تبدیلی کے لیے جدوجہد کی۔

    2025 کا نوبل انعام برائے امن ایک ایسی ’خاتون کو دیا گیا ہے جو بڑھتی ہوئی تاریکی کے باوجود جمہوریت کی شمع کو جلائے رکھے ہوئے ہیں۔‘

    مرِیا کورِنا مَچَڈو کو نوبل انعام برائے امن اس لیے مل رہا ہے کیونکہ وہ حالیہ وقتوں میں لاطینی امریکہ کی سب سے ’غیر معمولی مثالوں‘ میں سے ایک ہیں۔

    کمیٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ مَچَڈو ایک متحد کرنے والی شخصیت رہی ہیں۔

    یہ کوئی راز نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام برائے امن چاہتے تھے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ان چند عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنھوں نے امریکی صدر کو ناروے میں انعام کمیٹی کے سامنے نامزد کیا تھا۔

    لیکن اگر ڈونلڈ ٹرمپ یہ جاننا چاہیں کہ اس کمیٹی کے دروازے کے پیچھے کیا ہوا، تو ان کے لیے مسئلہ ہوگا کیونکہ کاغذات 50 سال کے لیے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔

  5. انڈیا کا کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دوبارہ اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

    یہ اعلان انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جمعہ کو نئی دہلی میں طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ عامر خان متقی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے دوران کیا۔

    شنکر نے متقی سے کہا کہ ’میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ انڈیا کے کابل میں تکنیکی مشن کو انڈیا کے سفارت خانے کے درجے پر ترقی دی جا رہی ہے۔‘

    انڈیا نے اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ جے شنکر نے طالبان کے وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’آپ کا دورہ انڈیا اور افغانستان کے تعلقات کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ افغانستان کے عوام کے خیر خواہ کے طور پر انڈیا ان کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ہم اپنی طویل المدتی شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد افغانستان کی حمایت کو ہم سراہتے ہیں۔ انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ افغانستان میں کان کنی کے لیے انڈین کمپنیوں کو مدعو کرنا بھی قابلِ تعریف اقدام ہے۔‘

    واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ متقی کو نو اکتوبر سے 16 اکتوبر تک انڈیا کے دورے کی اجازت دی ہے۔ متقی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کی جانے والی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

  6. حماس اور اسرائیل کے درمیان ’امن معاہدہ‘ ہو جانے کے باوجود غزہ کے مخلتف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنگ بندی کا مقصد یہ تھا کہ اسے اسرائیلی حکومت کی جانب سے گزشتہ رات منظور کیے جانے کے فوراً بعد نافذ کیا جائے۔

    لیکن عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی غزہ کی پٹی کے اہم علاقے خان یونس میں رات بھر اسرائیلی فضائی حملے ہوئے۔

    نیٹزاریم کوریڈور کے نزدیک لوگوں نے توپوں کی گولہ باری اور گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی ہیں۔

    بی بی سی نے اسرائیلی دفاعی فوج سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تاہم اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان معلومات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    سُہا شاتھ ایک فارماسسٹ ہیں جو اس وقت خان یونس کے نزدیک المواسی میں ایک خیمے میں رہ رہی ہیں۔

    انھوں نے جمعے کی صبح بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹُوڈے‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ میں بہت سے مقامات پر فضائی حملے جاری ہیں۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سُہا شاتھ نے مزید کہا کہ وہ بنیادی طور پر ڈبے میں بند کھانوں پر وقت گُزار رہی ہیں کیونکہ یہاں گوشت، انڈے یا مچھلی دستیاب نہیں۔ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ہر چیز ’انتہائی مہنگی‘ ہو چُکی ہے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’اس معاہدے کا واحد فائدہ یہ ہے کہ یہ قتل و غارت کو روک دینے کی ایک اُمید لے کر آیا ہے۔‘

    تاہم حماس کے زیرِ انتظام فلسطینی انتظامیہ نے غزہ کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں جہاں اسرائیلی فوج موجود رہی ہے۔

    ٹیلیگرام پر ایک پیغام میں فلسطینی انتظامیہ کے ترجمان نے کہا کہ خاص طور پر غزہ سٹی کے سرحدی علاقوں کی جانب جانے سے احتیاط برتی جائے، اُس وقت تک کے لیے کہ جب تک اسرائیلی فوج کے باقائدہ انخلا کا اعلان نہ ہو جائے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس وارننگ کی خلاف ورزی آپ کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘

  7. اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 30 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک کارروائی کے دوران اورکزئی حملے میں ملوث تمام 30 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سات اکتوبر کو ضلع اورکزئی میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ضلع اورکزئی کے علاقے جمال مایہ میں کی جانے والی کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ’انڈیا کے سپانسرڈ‘ 30 دہشتگردوں‘ کو ہلاک کر دیا۔

    دو روز قبل شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی شدت پسندوں کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے ’انڈیا کے سپانسرڈ دہشتگردوں‘ کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم اور ثابت قدم ہیں۔‘

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی اورکزئی میں ’انڈیا کے سپانسرڈ دہشتگردوں‘ کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو مبارک باد پیش کی گئی ہے۔

    ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور مُلک دشمن عناصر کو پاکستان میں کسی بھی جگہ چھپنے نہیں دیں گے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستانی فوجی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دو روز قبل بتایا تھا کہ سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں انٹیلی کی بنیاد پر کارروائی کی گئی جس میں ’انڈیا کے سپانسرڈ 19 دہشتگردوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

  8. حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سنیچر سے نافذ العمل ہوگی, ہوگو بچیگا، بی بی سی کے یروشلم میں مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار کا تجزیہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں جنگ بندی سنیچر کی صبح نافذ ہونے والی ہے یعنی اسرائیلی حکومت کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے 24 گھنٹے بعد۔

    جنگ بندی کے آغاز کے بعد یرغمالیوں کی رہائی 72 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے۔ اندازہ ہے کہ ان میں سے 20 افراد زندہ ہیں۔ اس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔

    ووٹنگ سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو، جن پر سیاسی مقاصد کے لیے جنگ کو طول دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا معاہدے میں مدد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب حماس کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا کہ انھیں امریکہ اور ثالثوں کی جانب سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی افواج ایک ایسی لکیر یا حد تک پیچھے ہٹیں گی جو غزہ کی پٹی کے53 فیصد حصے پر اسرائیل کو کنٹرول دے گی۔ یہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلا کے تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود اپنے 200 تک فوجیوں کو اسرائیل منتقل کر رہا ہے تاکہ جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔

  9. اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے صدر ٹرمپ کے منصوبے کی منظوری دے دی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حکومت نے زندہ بچ جانے والے اور ہلاک ہو جانے والے تمام یرغمالیوں کی رہائی کے فریم ورک کو منظور کر لیا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں حکومتی وزرا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک نہایت اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ دو برسوں میں ہم نے اپنے جنگی مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی ہے اور ان میں سے ایک مرکزی مقصد یرغمالیوں کی واپسی ہے۔ اب ہم اپنے اس ہدف کے حصول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کی غیر معمولی مدد پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے آج کئی برسوں بعد اسرائیلی میڈیا کو اپنا پہلا انٹرویو دیا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں پُرامید ہیں اور پائیدار امن چاہتے ہیں۔

    انھوں نے اسرائیل کے چینل 12 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج جو کچھ ہوا وہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ہم امید کرتے رہے ہیں اور اب بھی امید کرتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین پر جاری خونریزی کو ختم کر سکیں، چاہے وہ غزہ کی پٹی میں ہو، مغربی کنارے میں، یا مشرقی یروشلم میں۔‘

    فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ ’آج ہم بہت خوش ہیں کہ خونریزی رک گئی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اسی طرح رہے اور ہمارے اور اسرائیل کے درمیان امن، سلامتی اور استحکام قائم رہے۔‘

    عباس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کچھ اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کچھ اصلاحات مکمل ہو چکی ہیں اور دیگر پر کام جاری ہے تاکہ فلسطینی اتھارٹی ایک ایسے نمونے کے طور پر اُبھرے جو فلسطینی عوام کی قیادت جاری رکھنے کے قابل ہو۔‘

  10. اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستے بند، اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک ایڈوائزری جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    تحریکِ لبیک پاکستان کی جانب سے فیض آباد سے امریکی سفارت خانے تک اقصیٰ مارچ کے نام پر احتجاجی ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں کو مختف مقامات سے بند کردیا گیا ہے۔

    چھبیس نمبر چونگی سے اسلام آباد روات ٹی چوک سے اسلام آباد اور مری سے فیض آباد کی جانب آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ٹریفک ڈائیورژن پلان بھی جاری کیا ہوا ہے۔

    موٹروے اور نیشنل ہائی وے پولیس کی ہیلپ لائن کے مطابق اسلام آباد سے لاہور تک کے لیے موٹروے اور جی ٹی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔

    راولپنڈی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس (144) کا نفاذ کیا ہوا ہے جبکہ اسلام آباد میں پہلے ہی سے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے۔ جڑواں شہروں کی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان نہیں کیا تاہم مختلف شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے طالب علموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم حفاظتی نقطہ نگاہ سے جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو سروس کو معطل کردیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد کے مختلف روٹس پر چلنے والی الیکٹرک بس بھی سڑکوں پر نظر نہیں آرہی۔

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے جمعرات کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے 10 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ فیض آباد کے چاروں اطراف سے ٹریفک کے لیے متبادل راستے استعمال کیے جائیں گے۔ راول ڈیم چوک سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے متبادل راستے دیے جائیں گے۔

    بہارہ کہو، مری اور اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے حضرات راول ڈیم چوک سے پارک روڈ، کیپٹن نعیم طفیل چوک (تر امری چوک)، لہتراڑ روڈ کھنہ اور ایکسپریس ہائی وے آنے جانے کے لیے استعمال کریں۔ جبکہ ائیر پورٹ جانے والے براستہ کشمیر چوک، سری نگر ہائی وے استعمال کریں گے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    گارڈن فلائی اوور سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہو گی۔ آئی ایٹ کے رہائشی زیرو پوائنٹ، سری نگر ہائی وے، کلب روڈ، راول ڈیم چوک سے پارک روڈ استعمال کریں گے۔

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق کھنہ پل سے بجانب فیض آباد ایکسپریس ہائی وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہوگی۔ کورال سے اسلام آباد آنے والے کھنہ پل سے لہتراڑ روڈ، کیپٹن نعیم طفیل چوک (ترامری چوک) پارک روڈ اور راول ڈیم چوک استعمال کریں۔

    آئی ٹی پی کے مطابق نائنتھ ایونیو آئی جے پی روڈ سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف سے ٹریفک کیلئے ڈائیورشن ہوگی۔

    آئی جے پی روڈ سے براستہ گوہر چوک (گندم گودام چوک سے فقیر ایپی روڈ سے سری نگر ہائی وے استعمال کریں، سی ڈی اے ڈبل روڈ سے آئی ٹین سروس روڈ سے ہوتے ہوئے نائینتھ ایونیو اور سری نگر ہائی وے پر جا سکتے ہیں اور اسی طرح آئی جی پی روڈ سے براستہ نائینتھ ایونیو، سری نگر ہائی وے استعمال کریں گے۔

    جمعے کے روز صبح سے ہی قانون نافز کرنے والے اداروں کی جانب سے شہر بھی کی فضائی نگرانی بھی جاری ہے۔

  11. تحریکِ لبیک کا اسلام آباد میں احتجاج: وفاقی دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستے بند، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

    BBC

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی اور سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے مارچ کے پیشِ نظر شہر کے داخلی اور خارجی راستے اور موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    ٹی ایل پی کی اس کال کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے لیے پی ٹی اے کو مراسلہ جاری کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی منظوری دی گئی اور یہ مراسلہ گزشتہ شب پی ٹی اے کو بھیجوایا گیا تھا۔

    پی ٹی اے کو بھیجے جانے والے مراسلے کے مطابق جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات 12 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل رہے گی۔

    BBC

    واضح رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں 11 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ شہر میں 11 اکتوبر تک ہر قسم کے احتجاج، دھرنے، جلسے جلوس اور ریلیوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ چار روز کے لیے کیا گیا ہے۔ اس دوران شہر میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد رہے گی۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفلیشن میں کہا گیا ہے موجودہ صورتحال میں حساس اور اہم تنصیبات کے قریب پر تشدد کاروائیوں کا خدشہ ہے۔

    ٹی ایل پی کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر وفاقی پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ نے مظاہرین سے نمٹنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور شہر کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور صرف متعلقہ افراد کے لیے مارگلہ روڈ کھولا جائے گا۔

  12. کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی، ابھی تک کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی: ذبیح اللہ مجاہد

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغان طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گزشتہ شب تصدیق کی کہ کابل شہر میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ابھی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کسی نقصان کے بارے میں اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ پریشان نہ ہو۔

  13. حکومت اور فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے: خواجہ آصف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کی شب ایک بیان میں کہا کہ حکومت اور فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو اب نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا تذکرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے وفاقی اور صوبائی تمام حکومتوں کو یک زبان ہو کر فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

    جمعرات کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک تجویز یہ کہ اگلے ایک دو روز میں ایک وفد کابل بھیجا جائے اور افغان حکمرانوں کو بتایا جائے کہ یہ اب ناقابلِ بداشت ہو گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیانی شب اورکزئی میں ہونے والے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ اس آپریشن میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر سمیت 11 اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

    وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر ان لوگوں جواب دینا ہوگا جو ان شدت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں۔

    ’اگر کسی گاؤں یا پناہ گاہ سے نکل کر شدت پسند ہمارے فوجی قافلے پر حملہ آور ہوں [گے] تو ہو سکتا ہے کہ اس کے جواب میں [دیے جانے والے ردِ عمل کے نتیجے میں] عام افراد کا نقصان بھی ہو۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جہاں ان کی پناہ گاہیں ہوں گی وہاں کے لوگوں کو بھی بھگتنا پڑے گا، اور جو لوگ انھیں پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں ان کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

    ’بہت ہو چکا، پاکستان کی حکومت اور فوج کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ اب بھی ان شدت پسندوں کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، ’یہ قابلِ قبول نہیں۔‘

    ’یا تو آپ اُن کے ساتھ ہیں یا پمارے ساتھ۔۔ دہشتگردوں کے لیے کسی بھی قسم کی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ تین سال قبل افغانستان گئے تھے تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر بھی ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ’ہم نے ان [افغان حکام] سے برملا کہا کہ آپ کے ملک سے ہمارے ملک کے کم از کم دو صوبوں میں دہشتگردی ہو رہی ہے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انھوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہاں موجود چھ، سات ہزار افراد کو کنٹرول کریں اور ان کی پناہ گاہوں کو بند کریں۔

    ’انھوں [افغان حکام] نے کہا کہ آپ ہمیں 10 ارب روپے دے دیں تو ہم ان کو اپنے مغربی صوبوں میں لے جا کر بسا دیں گے۔ ہم انھیں یہاں سے منتقل کر دیں گے اور آپ کی سرحد کے نزدیک ان کی پناہ گاہیں ختم ہو جائیں گی۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ افغان حکام اس بات کی ضمانت دینے کے تیار نہیں تھے کہ یہ افراد واپس نہیں آئیں گے اور اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

  14. یرغمالیوں کو پیر یا منگل کو رہا کر دیا جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس میں بات کرتے ہوَئے کہا ہے کہ ہم نے غزہ میں جنگ ختم کروا دی ہے اور بہت بڑے پیمانے پر امن قائم کر دیا ہے۔

    ’میرے خیال میں یہ دیرپا امن ہو گا، اور امید ہے کہ ہمیشہ رہے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یرغمالیوں کو پیر یا منگل کے روز رہا کر دیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے موقع پر وہاں موجود ہوں۔

    غزہ کے متقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے کے دیگر امیر ممالک آہستہ آہستہ غزہ کی تعمیر نو کریں گے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر کیا جانے والا حملہ بہت اہم تھا اور اب ایران نے بتایا ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

    ’اور انھوں نے یہ بات مانی ہے کہ وہ اس ڈیل کے حق میں ہیں، ان کے خیال میں یہ بہت اچھی چیز ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کام کریں گے۔

  15. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔