ٹی ایل پی کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں، ریاست جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی: طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ’جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘ ادھر پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر چھاپے میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرنسی، پرائز بانڈز، سونا اور چاندی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • ’گورنر خیبر پختونخوا کل شام چار بجے تک نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لیں‘: پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
  • فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے: شاہ عبداللہ
  • پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر دوسروں کے مشوروں کی ضرورت نہیں: دفترِ خارجہ کا افغان طالبان کے ٹی ایل پی سے متعلق بیان پر ردِعمل
  • ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام کے اصل حقدار ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف
  • ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن معاہدے پر دستخط: ’سب لوگ خوش ہیں‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    15 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. وعدے کے باوجود تمام یرغمالیوں کی لاشیں اب تک واپس نہیں کی گئیں: ٹرمپ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ حماس نے تمام 20 یرغمالی اسرائیل کو واپس کر دیے ہیں اور وہ توقعات کے مطابق ٹھیک ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بڑا بوجھ ختم ہو گیا ہے لیکن کام ابھی پورا نہیں ہوا۔ وعدے کے مطابق لاشیں واپس نہیں کی گئیں۔‘

    اب تک اسرائیل کو 28 لاشوں میں سے صرف چار واپس کی گئی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’دوسرا مرحلہ ابھی شروع ہو رہا ہے۔‘

    معاہدے کے اگلے مراحل کے دوران کئی اختلافات کا امکان ہے۔ اس میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ امکان ہے کہ حماس یہ مطالبہ مسترد کر چکا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیل بدھ کو رفح بارڈر کراسنگ کو بند رکھے گا۔ یہ کراسنگ غزہ اور مصر کی سرحد پر ہے اور یہ فلسطینی علاقے سے نکلنے کا سب سے جنوبی علاقہ ہے۔

    7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے رفح کراسنگ زیادہ تر بند رہی ہے۔ اس کراسنگ کا ذکر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں بھی کیا گیا تھا۔

  3. ٹی ایل پی کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں، ریاست جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی: طلال چوہدری

    ٹی ایل پی، مریدکے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ’جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ٹی ایل پی نے (ہمارے دور میں) دو بار احتجاج کی کوشش کی۔ ماضی میں ان کے ساتھ معاہدے ریاست کے لیے کوئی اچھی بات نہیں تھی۔

    ’یکم مئی کو بھی ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور اس بار بھی ان کا کوئی مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔ یہ ریاست پاکستان کا فیصلہ ہے کہ جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے دھرنے ’ناقابل برداشت ہیں۔ اس پر کارروائی ویسے ہی ہوگی جیسے نو مئی پر ہوئی۔ مقدمات کے فیصلے ہوتے نظر آئیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے جن کارکنان نے پولیس پر حملے کیے اور جنھوں نے کروائے سبھی کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انھوں نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے۔ ’ہر آپشن دی گئی تھی، بیک ڈور چینل سے رابطے کیے گئے تھے۔۔۔ دو دن تک جب وہ مریدکے رُکے رہے تو انھیں واپسی کا راستہ دیا گیا تھا۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ ٹی ایل پی کا ’فلسطین سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں تھا۔‘

    وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی نے مارچ کے دوران ہونے والے اخراجات مانگے تھے اور گھر سے ضبط سونا اور نقدی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ گرفتار کیے گئے افراد واپس کیے جائیں۔

    طلال چوہدری نے پنجاب پولیس کی جانب سے سعد رضوی کے گھر پر چھاپے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’انھوں نے ملک اور دین کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ ریاست سب سے پہلے ہے، اس نے فیصلہ کیا ہے کہ پچھلی غلطیوں کو درست کیا جائے۔‘

  4. اقوام متحدہ کا حماس اور اسرائیل سے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ

    اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ ٹام فلیچر نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اسے امداد کی منتقلی کے لیے غزہ کی کراسنگ کھلی رکھنی ہو گی۔

    بدھ کو ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح کراسنگ کو نہیں کھولے گا اور اس سے خطے میں اس راستے سے امداد نہیں پہنچ سکے گی۔ یہ اقدام حماس کی جانب سے پیر کو 28 کی بجائے صرف چار لاشیں دینے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    ٹام فلیچر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں فریقین پوری طرح معاہدے پر عملدرآمد کریں۔‘

    ’اس کا مطلب ہے کہ حماس کو وعدے کے مطابق لاشیں واپس دینی ہوں گی۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اسرائیل کو کراسنگ کھلی رکھنی ہوگی تاکہ وسیع پیمانے پر امداد منتقل کی جا سکے۔‘

    ’ہم اس معاہدے کو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔‘

    خیال رہے کہ اسرائیلی میڈیا اور روئٹرز کی خبروں کے مطابق بدھ کے روز اسرائیل نے مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح کراسنگ نہیں کھو لی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حماس کو تمام یرغمالی اور لاشیں گذشتہ روز اسرائیل کے حوالے کرنا تھیں۔

  5. پنجاب پولیس کا سعد رضوی کے گھر چھاپہ اور حکومت کا سوال: ’آخر اتنا مال اور پیسہ کہاں سے آیا؟‘

    سعد رضوی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں پولیس نے لاہور میں واقع تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر سے ایک چھاپے میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرنسی، پرائز بانڈز، سونا اور چاندی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سادہ کاغذ پر لکھی گئی تفصیلات شیئر کی گئی ہیں۔ اس کاغذ کے مطابق یہ برآمدگیاں پنجاب پولیس کے انسپیکٹر عمر ڈوگر نے گواہان این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے اہلکاروں کی موجودگی میں کی ہیں اور ان تینوں اہلکاروں کے دستخط موجود ہیں۔

    تاہم پولیس کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ضبط کی گئی اشیا کی قانونی حیثیت کیا ہے اور ان تفصیلات کو سوشل میڈیا پر کیوں شیئر کیا گیا ہے۔

    بی بی سی اردو نے اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ٹی ایل پی کی جانب سے بھی اب تک اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم دو روز قبل ٹی ایل پی کے متعدد اراکین کی جانب سے سعد حسین رضوی کے گھر پر چھاپے کی تصدیق کی گئی تھی۔ ٹی ایل پی کے سوشل میڈیا سے منسلک کارکنوں نے ان کلپس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے کر یہ دعویٰ کیا تھا کہ پولیس چھاپے سے پہلے یہ اشیا ’خود اپنے ساتھ لائی تھی۔‘

    پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ٹی ایل پی کے سربراہ کے گھر سے 1922 گرام سونا اور 898 گرام چاندی برآمد ہوئی ہے۔

    پولیس کے مطابق ٹی ایل پی کے سربراہ کے گھر سے 50 ہزار انڈین روپے، 2885 یورو، 8592 سعودی ریال، 4250 پاؤنڈز، 2500 ہانگ کانگ ڈالر، 200 کینیڈین ڈالر، 1440 درہم، 5200 شامی کرنسی، 84 ملیشین رنگٹ، ایک امریکی ڈالر اور 25 عراقی دینار برآمد ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے مطابق سعد حسین رضوی کے گھر سے 11 کروڑ 41 لاکھ سے زیادہ پاکستانی روپے بھی ملے ہیں۔

    ’آخر یہ اتنا مال اور پیسہ آیا کہاں سے؟‘

    حکومت پنجاب نے سعد حسین رضوی کے گھر سے رقوم، سونا اور چاندی کی برآمدگی پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر بھی کیے گئے ہیں۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے پوچھا گیا ہے کہ: ’آخر سعد رضوی کا کاروبار کیا ہے؟ کیا یہ پیشہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا فراہم کردہ ہے؟‘

    پنجاب حکومت کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اِن اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں اور آیا یہ ’صدقات اور خیرات کا پیسہ تھا؟‘۔ پنجاب حکومت نے کہا کہ ’ایک مدرسے کے مولوی کے گھر سونے کی اینٹیں کہاں سے آئیں؟‘

    تاحال سعد رضوی یا ٹی ایل پی کی جانب سے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  6. ’گورنر خیبر پختونخوا کل شام 4 بجے تک نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لیں‘: پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لینے کے بارے میں محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے اور گورنر خیبر پختونخوا سے کہا ہے کہ کل شام 4 بجے تک وہ نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لیں۔

    اس فیصلے میں انھوں نے مزید کہا ہے کہ اگر گورنر حلف نہیں لیتے تو پھر سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لیں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے استعفے پر گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے وضاحت طلب کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    چیف جسٹس نے گزشتہ روز بھی اس درخواست پر سماعت کی تھی۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا نے کل کہا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے بطور وزیر اعلی استعفیٰ دے دیا، جس کی تصدیق اسمبلی فلور پر بھی کر دی گئی۔

    انھوں نے کہا تھا کہ نئے وزیر اعلی کا انتخاب بھی ہو گیا اور آئین کے تحت چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں۔

    آج چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے اس درخواست پر دوبارہ سماعت کی اور پھر فیصلہ محفوظ کر دیا تھا، جسے شام چار بجے سنایا گیا۔

    واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی شہر سے باہر ہیں اور اب سے تھوڑی دیر پہلے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ آج پشاور پہنچ رہے ہیں۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ انھوں نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ وہ حلف نہیں لیں گے بلکہ انھوں نے تو ہمیشہ آئین پر عملدرآمد کی بات کی۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں سہیل آفریدی کے وزارت اعلی کے انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ان کی حلف برداری نہ ہونے کی وجہ سے ابہام کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

    گورنر کی جانب سے تاخیر اور صوبائی حکومت کی جانب سے علی امین گنڈا پور کے استعفے کے بعد کابینہ کی تحلیل کا نوٹیفیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے مختلف سوالات سامنے آرہے تھے۔

  7. پاکستان میں سونا نئی بلند ترین سطح پر، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 35 ہزار تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    سونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان میں منگل کے روز سونے کی قیمت 6,900 روپے فی تولہ اضافے کے بعد نئی بلند ترین سطح یعنی 4 لاکھ 35 ہزار 100 روپے پر پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 4,35,100 روپے ہو گئی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

    اسی طرح 10 گرام سونا بھی 5,916 روپے اضافے کے بعد 3,73,028 روپے تک پہنچ گیا۔

    بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت فی اونس 69 ڈالر کے اضافے سے 4,140 ڈالر پر جا پہنچی، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    مقامی منڈی میں عام طور پر عالمی قیمتوں سے 20 ڈالر کا فرق رکھا جاتا ہے تاکہ درآمدی ڈیوٹی اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھا جا سکے۔

  8. ٹی ایل پی کا مریدکے میں سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کارکنوں کی لاشیں لینے کے لیے عدالت سے رجوع

    تحریک لبیک پاکستان نے مریدکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر ہونے والی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کی لاشیں لینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ میں دائر اس درخواست میں وفاقی حکومت اور لاہور پولیس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    خیال رہے پیر کی صبح کیے گئے آپریشن میں پنجاب پولیس کے ایک ایس ایچ او ہلاک جبکہ 48 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ پنجاب پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 17 اہلکار ایسے ہیں جنھیں گولیاں لگی ہیں۔

    پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران ٹی ایل پی سے تعلق رکھنے والے تین مظاہرین اور ایک راہگیر بھی ہلاک ہوئے جبکہ آٹھ عام شہری زخمی ہوئے۔

    تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دائر درخواست میں جماعت کے سربراہ علامہ سعد رضوی کو بھی عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریدکے میں ٹی ایل پی کے پر امن مارچ کرنے والے کارکنوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آپریشن کیا گیا۔

    درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مریدکے میں ٹی ایل پی کی لیڈر شپ نے 26 گھنٹے مذکرات کے لیے انتظار کیا لیکن حکومت کی جانب سے کوئی بھی نہیں آیا۔

    درخوات میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ حکومتی ایما پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آپریشن سے متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ متعقلہ حکام کو ہدایات دیں کہ وہ ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کریں۔

    درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں کروانے کے احکامات دیے جائیں۔

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران غلط معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے متعلق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

    وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم اتھارٹی کو حکم دیا ہے کہ فیک نیوز نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں کی فہرست تیار کی جائیں تاکہ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جا سکیں۔

    حکومت نے اپنے موقف کو دہرایا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز جھوٹ پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔

  9. خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلی کی حلف برداری کا معاملہ: ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلی کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رُکن سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا تھا تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کی کارروائِی کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ابھی تک علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ بھی قبول نہیں کیا۔

    آج دوران سماعت گورنر خیبرپختونخوا کے وکیل بیرسٹر عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ کل گورنر سے کئی بار ٹیلی فون پر بات ہوئی، درخواست ہے کہ کل تین بجے تک انتظار کیا جائے، گورنر کل آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 کے تحت کسی قسم کی منظوری لازمی نہیں، کیا آپ یہ یقین دہانی کروا سکتے ہیں کہ کل گورنر موجود ہوں گے اور وہ حلف لیں گے؟

    چیف جسٹس نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے جاری کیا گیا الیکشن کا شیڈول چیلنج کیا گیا؟ جس پر وکیل عامر جاوید نے کہا کہ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی تھی اس لیے الیکشن شیڈول کو چیلنج نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے عدالت کو یہ بھی کہا کہ درخواست ہے کہ گورنر کے لیے ہیلی کاپٹر کراچی بھیج دیں تاکہ وہ شام تک آ جائیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بالکل بالکل ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ ہیلی کاپٹر کا بندوست کریں۔

    بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور گورنر خیبرپختونخوا کے وکیل بیرسٹر عامر جاوید کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  10. 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد پریس کانفنس سے خطاب کر رہے ہیں جبکہ پیچھے امریکی صدر ٹرمپ بھی موجود ہیں

    ،تصویر کا ذریعہPak PM Office

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا۔

    شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری ایک پیغام میں وزیراعظم نے غزہ کے معاملے پر ہونے والی اس بڑی پیش رفت کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ میں نسل کشی کو فوری طور پر روکنا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ہمارا شکریہ اس بات کی بنا پر ہے کہ وہ اس نسل کشی کو روکیں گے اور اس وعدے کو پورا کریں گے۔

    ’ہم امن کے لیے صدر ٹرمپ کے منفرد کردار کی تعریف کرتے رہیں گے۔‘

    وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی آزادی اور خوشحالی پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

    ’1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو پاکستان کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا۔‘

  11. سعد رضوی سمیت تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں کے خلاف مریدکے میں مزید تین مقدمات درج، پولیس کی 108 ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق, احتشام شامی، مریدکے

    ایک میونسپل اہلکار ٹی ایل پی کے اجتکجاج کے بعد سڑک سے ایک موٹر سائیکل کو ہٹا رہا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی سمیت جماعت کی مجلس شوریٰ کے ارکان اور مظاہرین کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مزید تین مقدمات تھانہ سٹی مریدکے میں درج کر لیے گئے ہیں جس کے بعد تھانہ سٹی مریدکے میں درج مقدمات کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

    چاروں مقدمات میں سعد رضوی، انس رضوی اور سٹیج پر موجود ٹی ایل پی کی مرکزی قیادت کو اشتعال انگیزی پھیلانے، لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے، تشدد کرنے اور حکومت، ریاستی اداروں، پولیس و انتظامیہ کو برا بھلا کہنے اور عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا ہونے پر اکسانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

    نئے درج ہونے والے تین مقدمات میں پولیس نے مزید ایک سو چار ملزمان کو گرفتار کر لینے کا دعوی کیا ہے۔ اس سے پہلے درج ہونے والی ایف آئی آر میں چار ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، یوں اب پولیس کے دعوے کے مطابق مجموعی طور پر گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد ایک سو آٹھ ہو گئی ہے۔

    چاروں ایف آئی آرز پولیس اہلکاروں کی مدعیت میں درج کی گئی ہیں۔

    پولیس نے ایف آئی آرز میں کہا ہے کہ ’گرفتار ہونے والے ملزمان سے پٹرول بم، پستول، ڈنڈے، سوٹے اور پتھر برآمد ہوئے ہیں۔‘

    نئی درج ہونے والی تینوں ایف آئی آرز میں اقدام قتل، پولیس مقابلہ، شڑک بلاک کرنے، سرکاری و نجی املاک جلانے سمیت سنگین جرائم کی 30 دفعات لگائی گئی ہیں۔ ان ایف آئی آرز میں انسداد دہشت گردی کی دو دفعات 6 اور 7 بھی شامل ہیں جن میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    دریں اثنا، موٹروے پر گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے اور ایک سرکاری گاڑی کا شیشہ توڑنے کے الزام میں تحریک لبیک پاکستان کے دو سو کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے تھانہ صدر میں درج کیا گیا ہے جبکہ مقدمے میں جلاؤ گھیراؤ، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر الزامات کی 12 دفعات لگائی گئی ہیں۔

  12. امریکہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    ایک بحری جہاز سے ٹوما ہاک میزائل داغا جا رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناگر یوکرین کو ٹوماہاک میزائل مل جاتے ہیں تو وہ ماسکو کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک کروز میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    اتوار کے روز ایئر فورس ون پر صحافیوں کی جانب سے سوال پر کہ آیا وہ کیئو کو ٹوماہاک میزائل فراہم کریں گے، ٹرمپ کا کہنا تھا: ’ہم دیکھیں گے... میں شاید کر دوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان میزائلوں سے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ان کے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان گذشتہ ہفتے ہونے والی ایک فون کال کے بعد سامنے آیا ہے۔ زیلنسکی روس کے خلاف جوابی حملوں کے لیے مضبوط فوجی حمایت پر زور دے رہے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کی جمعہ کے روز واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات ہو گی جس میں فضائی دفاع اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں پر بات ہو گی۔

    ٹرمپ نے رپورٹرز کی جانب سے سوال پر زیلنسکی کے دورے کی تصدیق کی۔ یہ رواں سال یوکرینی صدر کا وائٹ ہاؤس کا تیسرا دورہ ہوگا۔

    ماسکو اس سے قبل واشنگٹن کو کیئو کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کے خلاف خبردار کرچکا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس سے تنازع میں اضافہ ہوگا اور امریکہ اور روس کے تعلقات پر بھی تناؤ پڑئے گا۔

    ٹوماہاک میزائل 2,500 کلومیٹر (1,500 میل) مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یوکرین کو ٹوماہاک میزائل مل جاتے ہیں تو وہ ماسکو کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

  13. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 7000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور کاروباری دن کے آغاز کے بعد سے اب مارکیٹ میں 7000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 165000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے۔

    یاد رہے گذشتہ روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ دیکھا گیا تھا جب مارکیٹ کا انڈیکس 4654 پوائنٹس کمی کے ساتھ بند ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں ایک مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک کی جانب سے لانگ مارچ اور اس کے خلاف حکومتی ایکشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال تھی۔

    تاہم منگل کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق مارکیٹ میں گذشتہ روز کے علاوہ گذشتہ ہفتے بھی مندی دیکھی گئی تھی جس کی وجہ پرافٹ سیلنگ تھی تاہم گذشتہ روز افغانستان پاکستان کشیدگی اور اندرونی طور پر کشیدہ صورتحال تھی۔

    انھوں نے کہا تاہم اندرونی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے جس کا مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور آج مارکیٹ میں کاروبار میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

  14. سعد رضوی اور انس رضوی کہاں ہیں؟ معمہ 28 گھنٹے بعد بھی برقرار, احتشام شامی، مریدکے

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہTLP

    تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی اور اُن کے چھوٹے بھائی انس رضوی سمیت جماعت کی قیادت کے چند اراکین اِس وقت کہاں ہیں یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور آئی جی پنجاب کے ترجمان کو اس ضمن میں سوالات بھیجے گئے تاہم تادم تحریر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    یاد رہے کہ پنجاب کے شہر مریدکے میں پیر کی علی الصبح پولیس اور سکیورٹی اداروں کی کارروائی کے نتیجے تحریک لبیک کے ’غزہ مارچ‘ کے شرکا کو منتشر کر دیا گیا تھا، اس کارروائی کے دوران پنجاب پولیس کے مطابق ایک ایس ایچ او اور تین مظاہرین سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    تاہم اس احتجاج میں موجود سعد رضوی اور انس رضوی اس وقت کہاں ہیں، اس حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کچھ نہیں بتایا گیا ہے جس کے باعث چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    دوسری جانب لاہور سے گرفتار ہونے والے تحریک لبیک کے 70 کے قریب کارکنوں کو پیر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالتوں میں پیش کرنے کے بعد اُن کا 11 روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج منظرعلی گل نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔

    ٹی ایل پی کارکنوں پر توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور انھیں زخمی کرنے جیسے الزامات ہیں۔

    ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ ناصرف سعد رضوی اور انس رضوی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا بلکہ جماعت کی مرکزی مجلس شوری کے چند ارکان، جو سٹیج پر موجود تھے، ان کے حوالے سے بھی کچھ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

    گذشتہ روز کیے گئے آپریشن سے قبل بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی سٹیج پر موجود تھے۔ اس موقع پر سعد رضوی نے کنٹینر پر لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پولیس فورس کو درخواست کی تھی کہ ’شیلنگ روک دیں کیونکہ ہم کوئی غلط کام کرنے نہیں جارہے ہم تو مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے اسلام آباد جانا چاہ رہے ہیں۔‘

    اس کے بعد کے کچھ کلپس بھی موجود ہیں تاہم بی بی سی ان کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    پیر کی رات مریدکے میں ہونے والے پولیس آپریشن کے بعد پولیس نے جو مقدمہ درج کیا ہے اس میں سعد رضوی کے متعلق الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’سٹیج پر موجود سعد رضوی نے اپنے قریب پڑا ہوا پستول اٹھا کر ایس ایچ او فیکٹری ایریا پر جان سے مار دینے کی نیت سے سیدھی فائرنگ کی جس سے ایس ایچ او کو پیٹ میں فائر لگے اور وہ زخمی ہو کر گر گئے اور بعدازاں زخموں کو تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔‘

    ایف آئی آر میں انس رضوی پر بھی اقدام قتل جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’انس رضوی نے بھی اپنی رائفل سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس افسران کو فائر لگے اور وہ زخمی ہو گئے۔‘

    ایف آئی آر میں سعد رضوی اور انس رضوی کی گرفتاری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور موقع سے چار ملزمان کو حراست میں لیے جانے کا لکھا گیا جن کے نام شاہد علی، رضون، زین کھوکھر اور مدثر لکھے گئے ہیں۔

  15. خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلی سہیل افریدی کا انتخاب پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج

    سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلی سہیل افریدی کے انتخاب کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

    جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر لطف الرحمان نے سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

    درخواست دائر کرنے سے قبل لطف الرحمان نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی طور پر ہوا ہے اس لیے نو منتخب وزیر اعلیٰ کی تعیناتی چیلنج کرنے ائے ہیں۔

    انھوں نے موقف اپنایا کہ پچھلے وزیر اعلیٰ کا استعفی ابھی منظور نہیں ہوا ہے اور صوبے کے گورنر نے انھیں تصدیق کے لیے بلایا ہے۔

    ’پتہ نہیں انکو کیوں جلدی ہے۔‘

    لطف الرحمان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے سپیکر کے کہنے پر ہم نے کاغذات جمع کروائے لیکن اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب گورنر کا خط ایا تب ہمیں معلوم ہوا کہ استعفیٰ تو منظور نہیں ہوا۔

    ’ہم چاہتے ہیں کہ پچھلے وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ منظور ہو جائے پھر نیا وزیر اعلیٰ منتخب ہو۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رُکن سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کی کارروائِی کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا

    سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے مطابق سہیل آفریدی کو 145 رُکنی ایوان میں 90 ووٹ ملے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ کے رکن ڈاکٹر عباد اللہ نے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کا اعلان کیا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق، گذشتہ روز جے یو آئی کے سربراہ مولوی فضل الرحمن اور پاکستان مسلم لیگ کی مقامی قیادت بشمول انجینیئر امیر مقام کی ملاقات ہوئی تھی جس میں وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب چیلنج کرنے کا فیصلیہ کیا گیا تھا۔

  16. پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر دوسروں کے مشوروں کی ضرورت نہیں: دفترِ خارجہ کا افغان طالبان کے ٹی ایل پی سے متعلق بیان پر ردِعمل

    کالی پگڑی پنے ہوئے افغانستان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد ہریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان کے تحریکِ لبیک سے متعلق بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان ترجمان افغانستان سے متعلق مسائل پر توجہ دیں اور پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر بیرونی مشوروں کی ضرورت نہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’ہم افغان ترجمان پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان سے متعلق مسائل پر توجہ دیں اور اپنے دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔‘

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کی پاسداری کی جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں۔

    ’ہم طالبان حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ دوحہ میں بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کرے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان حکومت کا مزید کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو بے بنیاد پروپیگنڈے میں الجھنے کے بجائے ایک جامع اور حقیقی نمائندہ حکومت کی تشکیل پر توجہ دینی چاہیے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز افغانستان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی میں مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں پر اپنی حکومت کے جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو معاملات بات چیت سے حل کرنے کو کہا ہے۔

    سماجی رابطی کی سائٹ ایک سپر ایک بیان میں ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا کہ ’ہم پاکستانی حکومت اور اس کے حکمران حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کے خلاف تشدد کی مزید کارروائیوں کو بند کریں اور بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں۔‘

  17. انڈیا کے وزیرِ اعظم مودی مدعو کیے جانے کے باوجود شرم الشیخ کانفرنس میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    مصر کے تاریخی شہر شرم الشیخ میں غزہ میں جاری جنگ کو بند کرنے کے لیے دنیا بھر کے رہنما یکجا ہوئے اور ایک امن معاہدہ ہوا۔

    اس امن معاہدے پر امریکی صدر سمیت ثالث ممالک قطر، ترکی اور مصر کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان کے سمیت دنیا کے اہم ممالک کے سربراہان شامل تھے۔

    اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی تاہم انھوں نے اس میں شرکت نہیں کی اور انڈیا کی جانب سے وزیر مملک برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ وہاں پہنچے۔

    وہاں سے انھوں نے ٹویٹ کیا کہ وہ وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے کے طور پر وہاں موجود ہیں۔

    لیکن معاہدے کے بعد وزیر اعظم مودی نے ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر لکھا: ’ہم دو سال سے زائد قید کے بعد تمام یرغمالیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان کی آزادی ان کے اہل خانہ کی ہمت، صدر ٹرمپ کی غیر متزلزل امن کوششوں اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے مضبوط عزم کے لیے خراج تحسین ہے۔ ہم صدر ٹرمپ کی خطے میں امن قائم کرنے کی مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔'

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شرم الشیخ میں غزم امن اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں جبکہ پیچھے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور یونان کے وزیرِ اعظم بھی دکھائی دے رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بہر حال ایسے موقعے پر جہاں دنیا بھر کے اہم رہنما جمع ہوں پی ایم مودی کی کنارہ کشی سے کچھ سوال اٹھ رہے ہیں۔

    مڈل ایسٹ انسائٹس پلیٹ فارم کی بانی ڈاکٹر شُبھدا چودھری نے اس کی توجیہ یہ پیش کی کہ پی ایم مودی پہلے سے ہی کئی اہم پروگراموں میں مصروف ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی کے نمائندے چندن کمار ججواڑے سے بات کرتے ہوئے کہا: 'انھیں مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور صدر ٹرمپ نے مشترکہ طور پر مدعو کیا تھا، لیکن یہ دعوت نامہ بہت تاخیر سے11 اکتوبر کو دیا گيا۔ کسی بھی سفارتی معاملے میں سربراہ مملکت کو مدعو کرنے کے معاملے میں 48 گھنٹے کا وقت بہت کم ہے۔'

    شُبدھا چودھری کا کہنا ہے کہ 'شرم الشیخ معاملے کے بارے میں کچھ چیزیں بہت عجیب ہیں۔ اسرائیل اور حماس دونوں ہی اس میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اسرائیل نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیا ہے، جب کہ حماس نے معاہدے کی بعض شرائط کی وجہ سے تقریب کا بائیکاٹ کیا ہے۔'

    بظاہر شرم الشیخ میں جن دو فریقین کو معاہدے پر بات چیت کرنی تھی وہ شریک نہیں ہو رہے اور یہ ایک بڑا سوال ہے۔

    دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی پروفیسر ریشمی قاضی نے شرم الشیخ کانفرنس میں پی ایم مودی کی غیر حاضری کو وقت کی کمی بتایا ہے۔

    ریشمی قاضی نے چندن کمار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پی ایم مودی کو آخری لمحات میں مدعو کیا گیا تھا، جو سفارتی اور پروٹوکول کے نقطہ نظر سے درست نہیں ہے۔'

    دریں اثنا، انڈیا اور امریکہ کے درمیان ٹیرف کے بارے میں بات چیت جاری ہے، اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تنازع کا ایک بڑا نقطہ سمجھا جاتا ہے۔

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان بہت اچھے تعلقات سمجھے جاتے تھے۔ دونوں رہنما ایک دوسرے کو ’مائی فرینڈ‘ کہہ کر مخاطب بھی کر چکے ہیں۔

    تاہم ٹرمپ کے امریکی صدر کے طور پر دوسری مدت کے بعد ان تعلقات کے ’اچھے ہونے‘ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر محصولات عائد کرنے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مودی اور ٹرمپ کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔

    دریں اثناء ٹرمپ نے انڈیا کے ’آپریشن سندور‘ اور پہلگام حملے کے بعد شروع ہونے والے پاکستان کے ساتھ تنازع کو ختم کرنے کا بار بار دعویٰ کیا، لیکن انڈیا کھبی صدر ٹرمپ کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔

    ٹرمپ کے یکطرفہ دعوے کو ان کے اور پی ایم مودی کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کے طور پر بھی دیکھا گیا۔

    حال ہی میں، انڈیا اور امریکہ کے درمیان ٹیرف بات چیت کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک ایچ-1بی ویزا فیس کو کئی گنا بڑھا کر 100,000 امریکی ڈالر سالانہ کر دیا ہے۔

    ایسے میں کیا پی ایم مودی یہ مسئلہ حل ہونے سے پہلے ٹرمپ سے ملنا نہیں چاہتے تھے؟

    ریشمی قاضی کا کہنا ہے کہ 'ٹرمپ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس کانفرنس میں موجود ہوں گے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ان دونوں ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات ماضی قریب میں انتہائی مشکل دور سے گزرے ہیں۔

    'ایسی صورتحال میں، پی ایم مودی کے لیے ان لیڈروں سے ملنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔ کبھی کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا ملک کے مفاد میں ہوتا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ یہ ایک بہت ہی دانشمندانہ اقدام ہے۔'

  18. غزہ جنگ بندی معاہدہ: یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہو گا؟, ٹام بینیٹ، یروشلم

    حماس کے نقاب پوش مسلح افراد کھڑے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیر کے روز مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں ہونے والے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت ثالث ممالک بشمول قطر، ترکی اور مصر نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کر دیے۔

    اس سے قبل حماس کی جانب سے 20 یرغمالیوں رہا کیے جانے کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی حراست سے 1968 فلسطینیوں کو رہا کر دیا ہے۔

    یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی امن معایدے کے پہلے مرحلے کے تحت ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے کے مکمل ہونے پر آگے کے لیے مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

    اب آگے کیا ہو گا؟

    یرغمالیوں کی رہائی سے قبل اسرائیلی فوج غزہ میں پیچھے ہٹ گئی ہے جس کے بعد اب ان کے پاس غزہ کے 53 فیصد حصے کا کنٹرول رہ گیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق یہ غزہ سے اسرائیلی انخلا کے تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ ہے۔

    ایک سینیئر امریکی اہلکار کے مطابق، امریکی فوج کے زیرِ نگرانی لگ بھگ 200 فوجیوں پر مشتمل ایک کثیر الملکی فورس جنگ بندی کی نگرانی کرے گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس فورس میں مصر، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہیں۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی غزہ میں تعینات نہیں کیے جائیں گے۔

    20 نکاتی منصوبے کے تحت اگر دونوں فریق، اسرائیل اور حماس، اس معاہدے پر راضی ہو جاتے ہیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ غزہ کو غیر فوجی زون بنایا جائے گا اور ہر طرح کی ’عسکری اور دہشتگردی کی تنصیبات‘ تباہ کر دی جائیں گی۔

    غزہ میں ایک ٹیکنوکریٹک، غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی کی عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی، جو غزہ میں عوامی خدمات اور بلدیاتی ادارے چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔ یہ کمیٹی اہل فلسطینیوں اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہو گی۔ اس کمیٹی کی نگرانی ایک نیا بین الاقوامی عبوری ادارہ ’بورڈ آف پیس‘ کرے گا، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

    غزہ کی تعمیر نو اور اصلاحات کے بعد غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیا جائے گا جو ابھی مغربی کنارے پر حکومت کر رہی ہے۔

    حماس جو کہ 2007 سے غزہ میں بر سرِ اقتدار ہے اس کا غزہ کی حکمرانی میں براہ راست، بالواسطہ یا کسی بھی صورت میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

    حماس کے وہ ارکان جو پرامن بقائے باہمی کا وعدہ کریں گے اور اپنے ہتھیار ڈال دیں گے انھیں عام معافی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے وہ ایسا کرنے کے لیے آزاد ہوں گے اور وہاں واپس آنے کے لیے بھی۔

    غزہ کی تعمیر نو کے لیے ٹرمپ کے اقتصادی ترقی کا منصوبہ ایسے ماہرین کا پینل تیار کرے گا جنھوں نے مشرق وسطیٰ میں ترقی پذیر جدید شہروں میں سے کچھ کو بنانے مدد دی تھی۔

    غزہ کا نقشہ حس میں اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کے بارے میں بتایا گیا ہے

    امن معاہدے کے وہ نکات جن پر اختلاف ہو سکتا ہے

    غزہ امن معاہدے میں کئی ایسے نکات شامل ہیں جن پر آنے والے دنوں میں مذاکرات کے دوران اختلاف کا امکان ہے ان میں سے ایک حماس کے غیر مسلح ہونے کی شرط ہے۔

    حماس پہلے بھی ہتھیار ڈالنے سے انکار کر چکی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

    فلسطینی تنظیم نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں غزہ منصوبے کے بارے میں اپنے ابتدائی ردعمل میں غیر مسلح ہونے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے جس نے اس قیاس آرائی کو ہوا دی ہے کہ اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

    اگرچہ اسرائیل نے ٹرمپ کے منصوبے سے مکمل اتفاق کیا ہے تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو جنگ کے بعد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کے حق میں نظر نہیں آتے۔

    حماس نے بھی کہا ہے کہ مستقبل میں غزہ میں ان کا بھی کچھ کردار ہونا چاہیے۔

    ایک اور اہم نکتہ اسرائیلی فوج کا انخلا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ انخلا کے پہلے مرحلے کے بعد وہ غزہ کے تقریباً 53 فیصد حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ وائٹ ہاؤس کے منصوبے کے مطابق، اسرائیلی کنٹرول بتدریج 40 فیصد اور پھر 15 تک محدود کر دیا جائے گا۔

    انخلا کا آخری مرحلہ ایک ’سیکیورٹی حصار‘ کے طور پر ہوگا جو ’اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ غزہ سے دوبارہ کسی بھی دہشتگرد حملے کا خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔

    معاہدے کا یہ نکتہ واضح نہیں اور اسرائیل کے مکمل انخلا کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دیتا ہے اور سس پر حماس وضاحت چاہے گا۔

  19. فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے، اردن کے شاہ عبداللہ کا بی بی سی کو انٹرویو

    اردن کے شاہ عباللہ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران بات کر رہے ہیں
    ،تصویر کا کیپشنشاہ عبداللہ کا کہنا ہے دو ریاستی حل ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

    اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایسا امن عمل شروع نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو، مشرق وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے۔

    یہ بات انھوں نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن اجلاس سے قبل بی بی سی پینوراما کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کہی۔

    شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم اس مسئلے کو حل نہیں کرتے، اگر ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مستقبل اور اسرائیل کے ساتھ عرب اور مسلم دنیا کے تعلقات قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، تو ہماری تباہی یقینی ہے۔

    شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس خطے میں امن کے لیے کئی کوششیں کی گئی جو ناکام ہوئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دو ریاستی حل جس میں اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس کا واحد حل ہے۔

    شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ سیاسی بصیرت کے ساتھ صورتحال کو واپس پہلے کی پوزیشن پر واپس لے سکیں گے۔ ’کیونکہ اگر ہم اس مسئلے کو حل نہیں کرتے ہیں، تو ہمیں دوبارہ اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  20. ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام کے اصل حقدار ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف

    شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ میں جاری امن اجلاس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے عالمی رہنماؤں سمیت پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ پاکستانی فیلڈ مارشل ان کے ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ ہیں انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ان تک خصوصی شکریہ پہنچانے کو کہا۔

    اس سے پہلے اس تقریب سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کو امن کا داعی قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنی امن کوشش کی وجہ سے نوبل انعام کے اصل حق دار ہیں۔

    امن کے نوبل انعام کے لیے نامزدگی کی سفارش

    پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن عظیم ترین دنوں میں سے ایک ہے کیونکہ امن صدر ٹرمپ کی قیادت میں انتھک کوششوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، جو حقیقی طور پر امن پسند آدمی ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے دن رات انتھک محنت کی ہے، تاکہ اس دنیا کو امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کی جگہ بنایا جا سکے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’میں یہ کہوں گا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو ان کی شاندار اور غیر معمولی شراکت کے لیے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا جنھوں نے پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکا تھا اور آج پھر، میں اس عظیم صدر کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا چاہوں گا کیونکہ میں حقیقی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ وہ امن انعام کے لیے سب سے حقیقی اور شاندار امیدوار ہیں کیونکہ انھوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن لایا ہے، لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں، اور آج یہاں شرم الشیخ میں، غزہ میں امن حاصل کیا اور مشرق وسطیٰ میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔‘

    اس سے پہلے شرم الشیخ میں اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت ثالث ممالک جیسے قطر، ترکی اور مصر نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس موقعے پر پاکستانی کے وزیر اعظم شہباز شریف، برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر، فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد رہنما مصر میں موجود تھے۔

    معاہدے پر دستخط سے پہلے ہی حماس نے اسرائیل کے 20 زندہ یرغمالیوں کو بھی رہا کیا تھا۔