ٹرمپ کی مشرق وسطی کے دورے کی تیاری، اسرائیل کو پیر کی صبح تک تمام یرغمالیوں کی رہائی کی توقع
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ پیر کی صبح تک حماس کی قید سے تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کی صورت میں اسرائیل نے عمر قید کی سزا کا سامنے کرنے والے 250 فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے 1,722 قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان قیدیوں میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔
خلاصہ
پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی پیر کے روز مصر کا دورہ کریں گے
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سنیچر کی شب افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
افغان طالبان کا سرحدی جھڑپوں میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ، شہباز شریف کا 'اشتعال انگیزی' کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بعد بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں واقع بابِ دوستی کو آمدورفت کے لیے تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور سے اسلام آباد تک ’فلسطین ملین مارچ‘ اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ مذہبی جماعت کا کہنا ہے کہ مارچ روکنے کا کہہ کر ابھی تک حکومت نے مذاکراتی عمل شروع نہیں کیا۔
لائیو کوریج
طورخم سرحد آمدورفت کے لیے بند، کرم کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے کرم میں رات دیر تک پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے بعد اب علاقے میں خاموشی ہے۔
ضلع کرم میں سول ہسپتال پاڑہ چنار میں ایک شخص کی لاش اور ایک زخمی کو لایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔
ہسپتال میں موجود ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق رات کے وقت پاکستان، افغانستان سرحد پر جھڑپوں سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک کو زخمی حالت میں پاڑہ چنار ہسپتال لایا گیا تھا۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان نے بتایا کہ وہ اور ان کا عملہ ساری رات ڈیوٹی پر موجود تھے ۔ کرم کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی تھی اور تمام عملے کو ہسپتال حاضر ہونے کا کہا گیا تھا۔
ادھر ضلع خیبر میں طورخم کے مقام پر جھڑپ یا حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے لیکن طورخم کے مقام پر سرحد آج صبح سویرے بند کر دی گئی ہے۔
پاکستان پر ماضی میں افغانستان کے اندر کارروائیوں کے الزامات، کب کیا ہوا؟
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا آغاز افغانستان کے دارالحکومت کابل اور پاکستان، افغانستان سرحد کے قریبی علاقوں میں تین روز قبل ہونے والے مبینہ حملوں کے بعد ہوا۔
افغانستان کی وزراتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کابل سمیت دو مقامات پر فضائی حملوں کا الزام عائد کیا گیا۔
اس دوران یہ اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں کہ کابل میں ہونے والی کارروائی میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود مارے گئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
تاہم جمعے کی سہ پہر پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے اس بارے میں سوالات کیے گئے توانھوں نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ 'پاکستانی عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔'
افغانستان میں سنہ 2021 میں افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں بتدریج سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ اور ماضی میں پاکستان کی جانب سے افغانستان اور سرحدی علاقوں میں کارروائیاں کی گئی ہیں۔
پاکستان کو یہ گلہ رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور یہ سرحد پار پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔
پاکستان کے سکیورٹی حکام ملک میں ہونے والے بیشتر حملوں کا ذمہ دار تحریکِ طالبان پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔ تاہم افغان طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغانستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ برس دسمبر میں 'پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں' میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن کی تصدیق کی تھی۔
افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فوج نے افغان صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں 'فضائی حدود' کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن پاکستان کی طرف سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کیا گیا۔'
افغان طالبان حکومت نے اس 'فضائی کارروائی' پر اسلام آباد سے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور اور خبردار کیا تھا کہ افغانستان کی علاقائی خودمختاری حکمران اسلامی امارت کے لیے سرخ لکیر ہے اور وہ اس کا جواب دے گا۔
اس سے قبل اپریل 2022 میں بھی افغان طالبان نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ کنڑ اور خوست میں پاکستان اِیئر فورس کی کارروائی میں 20 بچے مارے گئے تھے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
اس الزام کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دہشتگرد افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان نے گذشتہ چند ماہ میں بارہا افغانستان کی طالبان حکومت سے پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنانے کی درخواست کی ہے۔
خوست میں مقامی ذرائع نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ 16 اپریل سنہ 2022 کی صبح سپیرا ضلع کے چار دیہات میں ہونے والے حملوں میں متعدد خاندانوں کے کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ بعد ازاں یونیسیف نے ان حملوں میں 20 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں، اس وقت کیا صورتحال ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ڈیورنڈ لائن پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔
افغان وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد اب کارروائی ختم کر دی گئی ہے۔
طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی علاقوں میں پاکستانی فوج کی متعدد چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ایک سیکیورٹی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان افغان سرحد کے ساتھ کئی مقامات پر فائرنگ کی گئی، جن میں انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارمچہ شامل ہیں۔
ضلع کرم میں زیرو پوائنٹ کے قریب تعینات ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی رات 10 بجے کے لگ بھگ افغانستان کی جانب سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہوئی۔
اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں سرحد کے ساتھ متعدد مقامات سے شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’افغانستان آگ اور خون سے کھیل رہا ہے۔‘ اُن کے بقول افغان فورسز کی شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بھی انڈیا کی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔
افغانستان کے صوبے کنڑ کے ضلع ناری کے علاقے ڈوکلام میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کے وقت طالبان فورسز نے پاکستانی جانب ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد فریقین کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی۔
پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق اس فائرنگ کا پاکستانی فوج کی جانب سے ’بھرپور اور شدید جواب‘ دیا گیا۔
عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران متعدد افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کے ضلع کرم میں سرحد سے چند کلومیٹر دور موجود ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے سے فائرنگ کی جا رہی ہے جس میں اب تک دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
مقامی افراد کے مطابق افغانستان سے ضلع کرم پر تین اطراف سے حملے کیے گئے ہیں۔
کرم کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار سے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک زخمی لایا گیا تھا جن کا علاج جاری ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع چاغی کے سرحدی علاقے برابچہ میں بھی پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
رخشان ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ افغان فورسز کی جانب سے سینیچر اور اتوار کی شب پاکستانی پوزیشنز پر فائرنگ کی گئی۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مقامی وقت صبح 11 بجے ایک نیوز کانفرنس میں اس کارروائی کی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر شدید فائرنگ کا تبادلہ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
سنیچر کی شب افغان وزارت دفاع
کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ ڈیورنڈ لائن پر کئی مقامات پر پاکستانی عسکری پوزیشنز پر
مربوط حملے کیے گئے ہیں۔
افغان طالبان
کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی جانب سے جمعرات کی شب کابل سمیت دو
علاقوں میں ہونے والی کارروائی کا جواب ہے۔
پاکستان کے عسکری
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے کیے گئے حملوں کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا گیا ہے
اور ردعمل میں ٹینک اور توپ خانے کے علاوہ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں۔
چند گھنٹے جاری رہنے والی فائرنگ کے بعد افغان وزیر دفاع کی جانب سے اہداف کو
نشانہ بنانے کے دعوے کے ساتھ کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔
پاکستانی حکومت
کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم وزیر داخلہ محسن
نقوی نے افغان فوج کی جانب سے شہریوں پر فائرنگ کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
قرار دیا ہے۔
سعودی عرب اور
قطر نے پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین سے تحمل
کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
قطر کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر اظہارِ تشویش
،تصویر کا ذریعہ@MofaQatar_EN
پاکستان اور افغانستان کے
درمیان سنیچر اور اتوار کی شب پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر قطر نے تشویش کا
اظہار کیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے
جاری ہونے والے بیان میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں بڑھتی
ہوئی کشیدگی اور تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے خطے کی سلامتی و استحکام
پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے فریقین سے اپیل
کی ہے کہ وہ مکالمے، سفارت کاری اور تحمل کو سے کام لیں اور اختلافات کو ایسے
طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں جو تناؤ میں کمی اور کشیدگی سے بچاؤ میں مددگار ہو،
تاکہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو قائم رکھا جا سکے۔
قطری وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ قطر بین الاقوامی امن و
سلامتی کے فروغ کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور
برادر پاکستانی اور افغان عوام کے لیے سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے اپنی
کوشش جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ سنیچر اور اتوار
کی شب پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات
پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان میں عسکری ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے
ہوئے افغان حملوں کا بھرپور جواب دینے اور متعدد افغان چوکیاں تباہ کرنے کا دعویٰ
بھی کیا۔
تاہم افغان طالبان حکومت کے
وزیر دفاع نے کہا کہ افغان افواج کی جانب سے سرحد پار پاکستان میں کی جانے والی
کارروائیاں اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد روک دی گئی ہیں۔
سعودی عرب کا پاکستان اور افغانستان سے کشیدگی سے گریز کرنے اور تحمل سے کام لینے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہ@KSAMOFA
سعودی عرب نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جاری
تناؤ اور جھڑپوں پر شدید تشویش ظاہر کیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد
پر متعدد مقامات پر سنیچر کی شب شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور اسی تناظر میں سعودی
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور افغانستان کے درمیان
سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جھڑپوں پر تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔
سعودیہ عرب نے بیان میں فریقین
سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور خطے کی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے
کے لیے تحمل سے کام لیں، مزید کشیدگی سے گریز کریں اور بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح
دیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ہی پاکستان
اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع
کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا ہے جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں
ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘
افغان فوج کی شہری آبادی پر فائرنگ عالمی قوانین کی خلاف ورزی: پاکستانی وزیر داخلہ
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ افغان فوج کی پاکستان میں شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج نے فوری طور پر موثر جواب دے کر ثابت کیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ “افغانستان آگ و خون کا جو کھیل کھیل رہا ہے اس کے تانے بانے ہمارے ازلی دشمن سے ملتے ہیں۔”
اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد کارروائی ختم، پاکستان نے دوبارہ سرحد کی خلاف ورزی کی تو سخت جواب دیا جائے گا: افغان وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنافغان طالبان حکومت کے وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد
افغان طالبان حکومت کے وزیر دفاع
نے کہا ہے کہ افغان افواج کی جانب سے سرحد پار پاکستان میں کی جانے والی کارروائیاں
اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد اب روک دی گئی ہیں۔
محمد یعقوب مجاہد کی جانب سے سنیچر
کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے افغانستان کی مسلح افواج نے ڈیورنڈ لائن
پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی پوسٹوں پر کامیاب جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا
کہ ’یہ کارروائیاں افغانستان کی سرزمین کی بار بار خلاف ورزیوں اور پاکستانی فوج کی
جانب سے افغان زمین پر چند روز قبل ہونے والے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
افغان وزیرِ دفاع کا اپنے بیان
میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب اپنے اہداف کو
نشانہ بنانے کے بعد روک دی گئی ہیں۔ تاہم اگر دوسری جانب(پاکستان) سے دوبارہ افغانستان
کی سرزمین پر حملے یا سرحد کی کی خلاف ورزی کی گئی تو افغان مسلح افواج اس کے دفاع اور جوابی کارروائی کے لیے
تیار ہیں اور ایسے کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ سنیچر اور اتوار کی
شب پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ
کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان میں عسکری ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان حملوں
کا بھرپور جواب دینے اور متعدد افغان چوکیاں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
بریکنگ, افغان وزارت دفاع کے پاکستانی فوجی پوزیشنز پر حملوں جبکہ پاکستانی فوج کے ’بھرپور‘ جواب دینے کے دعوے، سرحد پر شدید فائرنگ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج
کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغان
سرزمین پر پاکستانی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے ردعمل میں سرحد پار پاکستانی فوج پر
بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں عسکری ذرائع نے اس کارروائی
کی تصدیق کرتے ہوئے افغان حملوں کا بھرپور جواب دینے اور متعدد چوکیاں تباہ کرنے کا
دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان کی وزراتِ دفاع کی جانب سے جمعے
کو پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کابل سمیت دو مقامات پر فضائی حملوں کا
الزام عائد کیا گیا تھا۔
طالبان کی وزراتِ دفاع کا کہنا تھا کہ
ان اقدامات کے بعد اگر صورتِحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری پاکستانی
فوج پر عائد ہو گی۔
طالبان کی وزارت دفاع نے کابل میں بی بی
سی کو بتایا کہ سنیچر کی رات افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ، جنوب مشرقی خوست، پکتیا،
پکتیکا اور جنوبی ہلمند میں ڈیورنڈ لائن پر پاکستانی فوجی چوکیوں پر مربوط حملے کیے
گئے۔
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان
فورسز نے شام کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور اس کے بعد فریقین کے درمیان
شدید لڑائی شروع ہوگئی۔
پاکستان میں عسکری ذرائع نے بھی افغانستان
سے کیے گئے حملوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ افغان افواج نے انگور اڈہ، باجوڑ، کرم،
دیر، چترال کے علاوہ بلوچستان میں بارام چاہ کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی۔
عسکری ذرائع کے مطابق اس فائرنگ کا پاکستانی
فوج کی جانب سے ’بھرپور اور شدید جواب‘ دیا گیا اور کارروائی ابھی جاری ہے۔
پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق اس فائرنگ
کا پاکستانی فوج کی جانب سے ’بھرپور اور شدید جواب‘ دیا گیا اور کارروائی ابھی جاری
ہے۔
عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے
دوران متعدد افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کے ضلع کرم میں سرحد سے چند کلومیٹر دور موجود ایک پولیس
اہلکار نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے سے
فائرنگ کی جا رہی ہے جس میں اب تک دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
مقامی افراد کے مطابق افغانستان سے ضلع
کرم پر تین اطراف سے حملے کیے گئے ہیں۔
کرم کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار سے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک زخمی لایا گیا تھا جن کا علاج جاری ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع چاغی
کے سرحدی علاقے برابچہ میں بھی پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
ہوا ہے۔
رخشان ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک سینیئر
اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ افغان فورسز کی
جانب سے سینیچر اور اتوار کی شب پاکستانی پوزیشنز پر فائرنگ کی گئی۔
اہلکار نے بتایا کہ فائرنگ سے تاحال کسی
نقصان کی اطلاع نہیں۔
برابچہ ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر سے اندازاً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے جبکہ چاغی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ
سے مغرب میں افغانستان اور ایران سے متصل آخری سرحدی ضلع ہے۔
شمال میں اس کی سرحدیں افغانستان کے دو
صوبوں ہلمند اور نیمروز سے لگتی ہیں۔
بلوچستان کے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد
لگتی ہے جس پر سات اضلاع واقع ہیں جن میں ضلع چاغی کے۔
ٹی ایل پی کا دو کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ، پولیس کی تردید
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے پولیس سے جھڑپوں میں اپنے دو کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جن کی نمازِ جنازہ شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے میں ادا کی گئی ہے۔ تاہم شیخوپورہ پولیس نے شہریوں کی ہلاکت کے اس الزام کی تردید کی ہے۔
منگل کی شب ٹی ایل پی نے سوشل میڈیا پر اپنے دو کارکنان کی نماز جنازہ کی ادائیگی کی ویڈیوز شیئر کیں۔ ٹی ایل پی کے مطابق نماز جنازہ کے بعد نجی ایمبولینسوں کے ذریعے دونوں میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
تاہم شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے اس بات کی تردید کی کہ پولیس کے ساتھ تصادم میں کوئی شہری ہلاک ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شہری ہلاک ہوا ہو تو اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال لایا جاتا ہے۔ پولیس کو کسی شہری کے بارے میں علم نہیں کہ اس کی لاش کو ہسپتال لایا گیا ہو۔‘
دریں اثنا کالا شاہ کاکو کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پولیس نے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے جنھیں مختلف تھانوں میں بند کیا گیا۔ اب تک پولیس حکام کی طرف سے گرفتار ہونے والے کارکنوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
شیخوپورہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بلال ظفر شیخ کا کہنا ہے کہ جن مظاہرین نے ’قانون کو ہاتھ میں لیا، ان کی نشاندہی سی سی ٹی وی کیمروں، موبائل فوٹیجز اور عینی شاہدین کے بیانات سے کی جا رہی ہے اور جو قصوروار پائے گئے انھیں حراست میں لے لیا جائے گا۔ پولیس کی چھاپہ مار ٹیمیں کارروائی کررہی ہیں۔‘
اسرائیلی سکیورٹی سروس نے 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی مخالفت کر دی، ٹرمپ کو سوموار تک یرغمالیوں کی واپسی کی اُمید
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشن’دو لاکھ فلسطینی شمالی غزہ لوٹ آئے ہیں‘
اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد غزہ کی پٹی پر فلسطینی شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے جبکہ صدر ٹرمپ کو اُمید ہے کہ سوموار تک یرغمالیوں کی واپسی ہو جائے گی۔
دوسری جانب اسرائیل کی ولا نیوز ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ شن بیٹ(اسرائیلی داخلہ سکیورٹی سروس) نے تقریباً 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کر دی ہے جس کے بعد حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں ان قیدیوں کی رہائی کا عمل روک دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق رائے ہوا تھا۔
مصر میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ پہلے مرحلے پر اتفاق رائے کا مطلب ہے کہ تمام یرغمالی جلد رہا ہو جائیں گے اور اسرائیل اپنے فوجی واپس بلا لے گا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ تقریباً 20 یرغمالی زندہ ہو سکتے ہیں۔ حماس نے تقریباً 28 دیگر کی لاشیں واپس کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی ہے۔
یرغمالیوں کے بدلے میں اسرائیل نے عمر قید کی سزا کاٹنے والے 250 قیدیوں اور 1700 زیر حراست افراد کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے جنھیں آئی ڈی ایف نے گذشتہ دو سالوں کے دوران غزہ سے حراست میں لیا ہے۔
ان میں 22 نابالغ بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فہرست میں حماس کے 60 قیدیوں سمیت 195 تاحیات قیدی شامل ہیں۔
قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں حماس کے رہنماؤں یحییٰ سنور اور محمد سنوار کی لاشیں شامل نہیں ہوں گی۔
دوسری جانب حماس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ کو تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر رہا نہیں کیا جائے گا۔ حسم ابو صفیہ کو گزشتہ سال اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔
حماس کے اہلکار نے سی این این کو مزید بتایا ہے کہ غزہ میں فیلڈ ہسپتالوں کے ڈائریکٹر مروان الحمس کو بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔
’سب ہی لڑائی سے تھک چکے ہیں امید ہے جنگ بندی قائم رہے گی۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ اسرائیل جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کے اگلے مراحل کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم رہے گی۔
،تصویر کا ذریعہEPA
صدر ٹرمپ کے مطابق ’سب ہی لڑائی سے تھک چکے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کو پیر کو واپس کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ حماس اس وقت یرغمالیوں کو اکھٹا کر رہی ہے کیونکہ ان میں سے کچھ بہت مشکل مقامات پر رکھے گئے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’زیادہ تر معاملات پر اتفاقِ رائے ہے کہ اُن کے منصوبے کے اگلے مراحل کیسے آگے بڑھیں گے تاہم کچھ تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔‘
’دو لاکھ فلسطینی شمالی غزہ لوٹ آئے‘
غزہ میں شہری دفاع نے اطلاع دی ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے تقریباً 200,000 شہری شمالی غزہ کی پٹی میں واپس آ چکے ہیں۔
غزہ میں اندرونی جھڑپوں کا ممکنہ خدشہ، حماس نے سات ہزار جنگجو طلب کر لیے, رشدی ابوعلوف ،نامہ نگار برائے غزہ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
حماس نے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد غزہ کے اُن علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے اپنے تقریباً 7,000 اہلکاروں
کو واپس طلب کرلیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق حماس نے فوجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے پانچ نئے گورنر بھی تعینات کیے ہیں جن میں سے کچھ
حماس کے عسکری وِنگ کے سابق بریگیڈ کمانڈربھی رہ چکے ہیں۔
جنگجؤوں کی واپسی سے متعلق حکم فون کالز اور پیغامات کے ذریعے دیے گئے جن میں کہا گیا ہے کہ ’ہم
قومی اور مذہبی فریضے کے تحت تمام اہلکاروں کی واپسی کا اعلان کرتے ہیں تاکہ غزہ کو
غداروں اور اسرائیل کے ہمنواؤں سے پاک کیا
جا سکے۔‘
پیغام میں کہا گیا کہ ’آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی مقررہ جگہ پر سرکاری کوڈ
کے ساتھ رپورٹ کریں۔‘
غزہ سے موصول اطلاعات کے مطابق حماس کے مسلح اہلکار کئی علاقوں میں تعینات
ہو چکے ہیں جن میں سے کچھ سادہ کپڑوں میں اور
کچھ نیلے رنگ کی پولیس وردی میں موجود ہیں۔
حماس کے یہ اقدامات غیر متوقع نہیں کیونکہ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ ایک بڑا اور متنازع سوال بن چکا ہے
کہ غزہ پر حکومت کون کرے گا۔
اور یہی مسئلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ
بن سکتا ہے جس میں حماس کو غیر مسلح ہونے کی شرط شامل ہے۔
بیرون ملک موجود حماس کے ایک
رہنما نے اس پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز
کیا تاہم بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ
’ہم غزہ کو چوروں اور اسرائیلی حمایت یافتہ
ملیشیاؤں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمارے ہتھیاروں کا جواز جائز ہے، یہ (اسرائیل کے) قبضے کے خلاف مزاحمت کے لیے ہیں، اور
جب تک قبضہ رہے گا، یہ ہتھیار بھی رہیں گے۔‘
غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کئی
برس تک خدمات انجام دینے والے ایک ریٹائرڈ فلسطینی سکیورٹی افسر نے کہا کہ انھیں خدشہ
ہے کہ یہ علاقہ اندرونی خونریزی کے ایک اور دور کی طرف پھسل رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’حماس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اب
بھی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اسلحہ اور تشدد ہی اس کی تحریک کو زندہ رکھنے کا واحد
ذریعہ ہے۔ جنگ بندی کے بعد سے ہونے والی ان پیشرفتوں نے غزہ کے باشندوں میں گہری تشویش
پیدا کردی ہے جو پہلے ہی دو سال سے جاری تباہ کن تنازع سے تھک چکے ہیں۔‘
لاہور سے اسلام آباد جانے والے راستے تین روز سے بند, محمد زبیر خان، صحافی
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق لاہور سے جڑواں شہروں راولپنڈی
و اسلام آباد جانے والے تمام راستے تین روز سے بند ہیں۔
جی ٹی روڈ کو کئی مقامات پر کنٹینر لگا کر اور خندقیں کھود
کر بند کیا گیا ہے جبکہ ایم ٹو موٹروے پر بھی رکاوٹیں رکھی گئی ہیں۔
مظاہرین کے ساتھ تصادم میں لاہور پولیس کے 112 افسران و اہلکار زخمی ہوئے، متعدد لاپتہ ہیں: ڈی آئی جی آپریشنز
،تصویر کا ذریعہAFP
صوبائی دارالحکومت لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران کا کہنا ہے کہ مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرین کے ساتھ تصادم میں لاہور پولیس کے 112 افسران اور اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد اہلکار لاپتہ ہیں۔
سنیچر کی شام ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد فیصل کامران کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ لاپتہ ہونے والے پولیس اہلکاروں کو مظاہرین نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
دوسری جانب تحریک لبیک کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی جانب سے کی گئی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باعث ان کے درجنوں کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ تحریک لبیک نے چند ہلاکتوں کا دعویٰ بھی کیا ہے تاہم بی بی سی اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کر پایا ہے۔
فیصل کامران کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ (ٹی ایل پی کارکن) سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اُن کے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں کہ جن میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اُن کی جانب سے زخمی پولیس اہلکاروں کو ایک لائن میں بٹھا کر جشن منایا جا رہا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ پرتشدد جھڑپوں کے دوران مظاہرین کی جانب سے بڑی تعداد میں ’سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ بڑی تعداد میں عام شہریوں نے بھی 15 پر کال کر کے شکایات درج کروائی ہیں کہ اُن سے نقدی، گاڑی اور گاڑی میں موجود قیمتی اشیا چھینی گئی ہیں۔‘
دوسری جانب پنجاب پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق ان جھڑپوں میں لاکھوں روپے مالیت کی پولیس گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔
ٹی ایل پی کا مارچ روکنے کے لیے خندقوں کی کھدائی, احتشام شامی، صحافی
وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں ایک حکمت عملی کے تحت انتظامیہ نے ٹی
ایل پی کے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے جگہ جگہ سڑکوں پر خندقوں کی کھدائی کی ہے۔
گوجرانوالہ پولیس کی ایک ٹیم نے سادھوکی کے مقام پر ناکہ بندی کر رکھی
ہے جہاں آج کھدائی کر کے جی ٹی روڈ کو توڑا گیا ہے اور خندق بنائی گئی ہے۔
گذشتہ شب قافلے نے شاہدرہ پل پر قیام کیا تھا اور اس کے بعد اگلا پڑاؤ گوجرانوالہ میں چند دا قلعہ کے مقام پر متوقع تھا۔ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ نے چند
دا قلعہ چوک سے پہلے جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کھدائی کر کے بڑی خندقیں کھود دی ہیں
جس سے اس مقام سے جی ٹی روڈ سے گاڑی کا گزارنا ناممکن ہوگیا ہے۔
اسی طرح کی خندقیں وزیر آباد اور گجرات کو ملانے والے دریائے چناب کے
پل کے دونوں اطراف، کھاریاں میں جی ٹی روڈ پر اور دریائے جہلم کے پل کے دونوں اطراف
بھی کھودی گئی ہیں۔
کھدائی کرنے کے لیے محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ انہار اور محکمہ ہائی ویز
کی کرینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔
مگر خندقیں کھودنے اور کنٹینرز لگنے سے وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع کا
آپس میں رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا
اطلاعات ہیں کہ گوجرانوالہ اور کھاریاں میں ہیوی کرینوں سے جو خندقیں
کھودی گئی ہیں ان کی وجہ سے پی ٹی سی ایل کی ٹیلی فون کی تاروں کو نقصان پہنچا اور
سرکاری عملہ تاروں کی مرمت کرتا دکھائی دیا۔
ادھر سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایئرپورٹ کا
فضائی آپریشن مکمل طور پر فعال ہے اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
تحریک لبیک کا مارچ مریدکے پہنچ گیا، پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی, احتشام شامی، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب گامزن ٹی ایل پی کا احتجاجی مارچ پنجاب کے شہر لاہور سے نکلنے کے بعد مریدکے پہنچ چکا ہے۔
کالا شاہ کاکو کے قریب پنجاب پولیس اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان جھڑپوں میں پولیس کے مطابق دو ایس ایچ اوز
سمیت 13 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ ٹی ایل پی نے بھی کئی مظاہرین کے زخمی ہونے
کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے قبل پیر کی شب لاہور کے قریبی علاقے شاہدرہ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بارے میں وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا تھا کہ ’کیمیکل، شیشے کی گولیاں، ٹینس کی بال کو کیلوں سے لیس ٹی ایل پی کی جانب سے پولیس اور رینجرز پر حملے کیے گئے جن میں ایک درجن سے زیادہ پولیس والے اور رینجرز زخمی ہو گئے ہیں۔‘
منگل کو کالا شاہ کاکو کے مقام پر ٹی ایل پی کے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے پولیس
نے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ کارکان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی طرف سے مظاہرین کو روکنے کی کوششیں بظاہر ناکام رہیں اور لگ
بھگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد مظاہرین آگے بڑھنے میں کامیاب
ہوگئے۔
ٹی ایل پی کے سوشل
میڈیا پر بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس موقع پر پولیس نے ’پُرامن مظاہرین‘ پر اندھا دھند شیلنگ کی ہے اور اس کے درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر پولیس کے مطابق مظاہرین کے حملوں سے زخمی اہلکاروں کو کالا شاہ کاکو اور
مریدکے کے سول ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔
سول ہسپتال کالا شاہ کاکو میں تعینات ڈاکٹر مظفر نے بی بی سی اُردو کو
بتایا کہ زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو سر، بازو، سینے اور کمر پر چوٹیں آئی ہیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’زخمی پولیس اہلکاروں کو ڈنڈوں سے پیٹا گیا ہے، پتھر مارے گئے ہیں
اور کچھ اہلکاروں کو تیز دھار آلے سے زخمی کیا گیا ہے۔‘
مقامی
صحافی شیخ سفیان علی نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ مریدکے میں داخلے سے قبل پولیس نے
جی ٹی روڈ پر واقع تمام دکانوں، مارکیٹوں اور پیٹرول پمپس کو بند کروا دیا تھا۔ اسی
طرح شام پانچ بجے کامونکی میں پولیس کی مختلف ٹیموں نے اعلانات کروائے کہ تمام دکاندار
اپنے دکانیں بند کر دیں تاکہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کے میڈیکولیگل حاصل
کیے جا رہے ہیں جس کے بعد حملہ آور ہونے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے
گی اور مقدمہ درج ہو گا۔
’سہیل آفریدی کو ہر صورت خیبر پختونخوا کا نیا وزیر اعلی بنائیں گے‘: تحریک انصاف کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس
،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر کا کہنا ہے کہ جماعت کی قیادت ہر صورت سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا نیا وزیر اعلی بنائے گی۔
ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’سہیل آفریدی کو جیسے ہی وزیر اعلٰی نامزد کیا تو اس کی کردار کشی شروع ہوگئی۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کا ماضی صاف ستھرا ہے۔ ہم سہیل آفریدی کو ہر صورت وزیر اعلٰی بنائیں گے۔ ہم پوری جماعت اس کے ساتھ ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں ان عناصر کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ غلط فہمی میں نہ رہیں۔ ہم نے 8 فروری کو خیبرپختونخوا میں اپنے ووٹ کا تحفظ کیا تھا ہم آج اپنی حکومت کا بھی تحفظ یقینی بنائیں گے اس کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے۔‘
’صوبے میں وزیر اعلٰی تبدیل کرنا ہمارا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے۔ صوبے کا مینڈیٹ ہمارے پاس ہے اور عمران خان کو صوابدید حاصل ہے کہ وہ جب مرضی تبدیلی کریں۔‘
دریں اثنا اس پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے بیانات کا ردعمل بھی دیا۔ احمد شریف چوہدری نے گذشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کی بڑھتی کارروائیوں کی ایک وجہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے اور ’اگر کوئی پارٹی یا شخص سمجھتا ہے اس کی سیاست ریاست سے بڑی ہے تو پھر ہمیں یہ قبول نہیں۔‘
اس پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’یہ کہنا کہ ہم کسی دہشتگرد کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یہ غلط بیانی ہے۔ عمران خان صاحب پچھلے تیس سال سے ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ صرف گولے بارود اور عسکری طاقت سے آپ دہشتگردی کا دیر پا حل نہیں کر سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ دہشتگردی ایک دن کی پیدوار نہیں، اس کا الزام کسی ایک جماعت کو نہیں دیا جاسکتا۔‘
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں پارٹی کے فیصلے کے مطابق سیاسی تبدیلی آ رہی ہے مگر اس تبدیلی کو روکنے کے لیے ’غیر آئینی کوشش کی جائے گی۔‘
جبکہ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’سٹوڈنٹ لائف سے سہیل آفریدی کا فاٹا خیبر ایجنسی سے تعلق ہے۔ اس کا سیاست سے تعلق ہے۔ آئی ایس ایف کا صوبائی صدر رہا، پشاور یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس کیا ہے۔ ایم فل کی ڈگری مکمل ہونے والی ہے۔ ایک انتہائی شریف قابل لڑکا ہے۔ جن لوگوں نے اس کے خلاف پراپیگنڈا کیا قابل افسوس ہے۔‘
پشاور کے تھانہ حسن خیل پر شدت پسندوں کا حملہ، جوابی کارروائی میں دو شدت پسند ہلاک: پولیس
خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کی پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے سنیچر کو تھانہ حسن خیل پر حملہ کیا گیا جس پر پولیس اہلکاروں نے دو گھنٹے تک آپریشن مقابلہ کر کے حملے کو ناکام بنایا۔
ترجمان کیپٹل سٹی پولیس پشاور کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جوابی کارروائی میں دو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ ’حسن خیل پولیس نے دو گھنٹے شدت پسندوں کا دلیری، بہادری اور جرات مندانہ مقابلہ کر کے حملہ کو پسپا کر دیا۔‘
’پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، آپریشن کلیئرنس جاری ہے۔ حسن خیل پولیس کی جانب سے جدید اسلحہ سنائپر گن وغیرہ کا استعمال کیا گیا۔‘
ٹی ایل پی کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد میں ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات
اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں مذہبی جماعت ٹی ایل پی کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا ہے۔
ایک بیان کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے علاوہ رینجرز، ایف سی اور پنجاب پولیس کو بھی تعینات کیا جائے گا۔ ’مجموعی طور پر ساڑھے 5 ہزار سے زیادہ اہلکار و افسران ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔‘
پولیس کے سکیورٹی پلان کے مطابق اس وقت رینجرز کے 500، پنجاب پولیس کے 600 اور ایف کے ایک ہزار اہلکار و افسران وفاق کو سونپے گئے ہیں۔
اس دوران وفاقی پولیس کے ’ساڑھے 3 ہزار سے زائد اہلکار و افسران‘ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر تعینات ہوں گے۔ ’احتجاج کے دوران نفری کے ساتھ پانچ ایس ایس پیز اور 6 ایس پیز بھی تعینات ہوں گے۔‘
گورنر کے پی کو علی امین گنڈاپور کا استعفی موصول
،تصویر کا ذریعہX
خیبر پختونخوا کے گورنر
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ انھیں علی امین گنڈاپور کا استعفی موصول ہو گیا۔
ایک
بیان میں ان کے دفتر نے بتایا کہ ’وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اپنے ہاتھ سے تحریر و دستخط
شدہ استعفی گورنر خیبرپختونخوا کو بجھوایا گیا۔‘
’استعفیٰ آج بروز ہفتہ دوپہر
2:30 بجے گورنر ہاؤس موصول ہوا ہے۔ استعفے
سے متعلق آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔‘